Global Editions

عالمی کوششیں ناکام ۔۔۔ سال 2016 ءگرم ترین سال قرار

شائد آپ نے نوٹس نہ لیا ہو کہ یہاں درجہ حرارت بڑھ رہا ہے۔ ’’یہاں‘‘ سے مراد کرہ ارض ہے۔ رواں برس جولائی اور اگست کے مہینوں نے گرم موسم کے ریکارڈ بنا دئیے ہیں اور سال 2016 ءکے بارے میں یہ یقینی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ اس نے تاریخی طور پر گرم ترین سال ہونے کا ریکارڈ قائم کر لیا ہے۔ اس کے باوجود ہم خود کو خوش نصیب سمجھتے ہیں کہ سخت موسمیاتی تبدیلیوں کے باوجود عالمی سطح پر عالمی درجہ حرارت میں اضافے کو روکنے کے لئے عالمگیر سطح پر کوششوں کے آغاز کا فیصلہ کیا گیا۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکاء کے لئے بھی یہی پیغام تھا جب سیکرٹری جنرل بانکی مون نے یہ اعلان کیا کہ پیرس معاہدے پر دستخط کرنے والے ممالک کے علاوہ مزید اکتیس ممالک نے ماحولیات کی بہتری کے لئے کئے جانے اس معاہدے پر دستخط کر دئیے ہیں اس طرح اس معاہدے پر دستخط کرنے والے ممالک کی تعداد اب ساٹھ ہو گئی ہے اور اس طرح 48 فیصد گرین ہاؤس گیسز خارج کرنے والے ممالک اس معاہدے کی توثیق کر چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کی گزشتہ برس ہونے والی COP 21 میٹنگ کے دوران یہ طے پایا تھا کہ اس ماحولیات کے عالمی معاہدے پر عمل درآمد کے لئے ضروری ہے کہ عالمی سطح پر وہ 55 ممالک اس معاہدے پر دستخط کریں جو مشترکہ طور پر 55 فیصد گرین ہاؤس گیسز خارج کرتے ہیں۔ اس مرحلے پر سیکرٹری جنرل بان کی مون کا کہنا تھا کہ عالمی برادری نے ایک اہم سنگ میل عبور کر لیا ہے اور ہم بہت پر امید ہیں کہ اقوام متحدہ کی نومبر میں ہونے والی موسمیات کے بارے میں میٹنگ سے پہلے ہی دیگر ممالک بھی اس معاہدے کی توثیق کر دینگے۔ اگرچہ یہ ایک بہت اہم کامیابی ہے کہ عالمی برادری عالمی درجہ حرارت میں دو ڈگری سینٹی گریڈ کم کرنے کے لئے مشترکہ کاوشوں پر متفق ہو چکی ہیں اور درجہ حرارت کی کمی کی متفقہ حد وہی ہے جو صنعتی دور کے آغاز سے پہلے تھی تاہم درجہ حرارت کو اس سطح پر واپس لانے کے لئے صبرآزما کوششوں کی ضرورت ہے۔ اگرچہ اس ضمن میں کوششوں کا آغاز ہو چکا ہے اور عالمی درجہ حرارت میں معمولی کمی بھی دیکھنے میں آئی ہے تاہم ترقی پزیر ممالک کی جانب سے گیسز کے اخراج کی شرح اگلی دہائی میں بھی بڑھتے رہنے کی توقع ہے۔ اقوام متحدہ کی جانب سے حال ہی کی جانیوالی ایک سٹڈی کے مطابق عالمی درجہ حرارت میں دو ڈگری سینٹی گریڈ کمی کا ہدف حاصل کرنے کے لئے آئندہ پندرہ برسوں میں 90 ٹریلین ڈالرز کی لاگت آئیگی۔ اب اگر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون درست ہیں اور پیرس معاہدہ جلد ہی قابل عمل ہو جائیگا تو یہ ہمارے کرہ ارض کو خطرات سے محفوظ رکھنے کے لئے عالمی عزم کی علامت ہے تاہم عالمی عزم کی اس علامت کو عالمی کوششوں سے ہی تقویت مل سکتی ہے۔

تحریر: جیمی کونڈیلفی (Michael Reilly)

Read in English

Authors
Top