Global Editions

کاغذ کا مسئلہ

کیش اب پرانا ہوگیا ہے لیکن ڈيجیٹل پیسوں سے آپ کو ٹریک کرنا زیادہ آسان ہوگیا ہے۔

کسی شخص کی نجی معلومات کے تحفظ کا حق کہاں ختم ہوتا ہے؟ حکومت کا ٹیکس لاگو کرنے اور قواعد و ضوابط اور قانون نافذ کرنے کا حق کہاں شروع ہوتا ہے؟ یہ آج کل معاشرے کا بہت بڑا چیلنج ہے۔ اس کی ایک بہت اچھی مثال ہمارا پیسے خرچ کرنے کا طریقہ ہے۔

ہمارے کاروباری معاملات ڈیجیٹل ہوتے جارہے ہیں (اور اس طرح آپ کو زيادہ آسانی سے ٹریک بھی کیا جاسکتا ہے) بلکہ چین جیسے کئی ممالک میں کمپنیاں شناخت کے لیے بائیومیٹرک (جیسے کہ انگلیوں کے نشانات یا آنکھوں کے سکین) بھی استعمال کرنے لگی ہیں۔ بھارت میں حکومت نے 1.1 ارب افراد کا بائیومیٹرک ڈيٹا حاصل کرلیا ہے لیکن اس سب میں کاغذی کرنسی کے ساتھ کیا ہونے والا ہے، اس سوال کا کوئی جواب موجود نہیں ہے۔

معیشت کے اس حصے میں جو قانون کے تابع ہے اور جس میں باقاعدگی سے ٹیکس ادا کیا جاتا ہے کیش کی مانگ کم ہوگئی ہے لیکن غیرروایتی معیشت میں اب بھی کیش ہی کا راج ہے۔ امریکہ میں 95 فیصد افراد کہتے ہیں کہ انھوں نے کبھی بھی100 ڈالر کے نوٹ کو ہاتھ نہیں لگایا ہے (باقی کہتے ہیں بعض دفعہ ان کے سامنے سے ایسے نوٹ گزرے ضرور ہیں) لیکن اس کے باوجود ملک میں ہر ایک مرد، عورت اور بچے کے لیے 100 ڈالر کے 34 نوٹ موجود ہیں۔ دوسرے ترقی یافتہ ممالک میں بھی کچھ اسی طرح کی صورتحال ہے۔ تو پھر یہ کیش آخر جا کہاں رہا ہے؟ پہلی نظر میں تو یہ لگتا ہے کہ اس کیش کو ٹیکس بچانے اور جرائم اور بدعنوانی کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔

اگر یہ بات ہے تو کیش کے مکمل خاتمے سے بہت فائدہ ہوگا لیکن یہ اتنی آسان بات نہیں ہے۔ عوام کیش اپنے نجی معاملات کے تحفظ کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ جب طویل عرصے تک بجلی نہیں ہوتی ہے، اس وقت بھی کیش بہت کام آتا ہے۔ اس مسئلے کا ایک حل یہ ہوسکتا ہے کہ100 امریکی ڈالر کے نوٹ، 500 یورو کے نوٹ، اور 1,000 سوئس فرانک کے نوٹ جیسے دوسرے بڑے نوٹوں کو آہستہ آہستہ ختم کردیا جائے۔ (لیکن بھارت میں جو ہوا، میں اس کا بھی مشورہ نہیں دوں گا۔ بھارت میں ایک ہی دن کے اندر 85 فیصد کرنسی ختم کردی گئی، جس کے کافی تباہ کن اثرات سامنے آئے)۔

ہم مکمل طور پر کیش کا خاتمہ نہیں کرسکتے ہیں اور ہمیں ایسا کرنا بھی نہیں چاہیے۔ بٹ کوائن (Bitcoin) جیسی نئی ٹیکنالوجیز میں کافی تیزی سے ترقی تو ہوئی ہے لیکن کاغذی کرنسی سے عام شہریوں کو تحفظ کا احساس ہوتا ہے جو کہ بہت ضروری ہے۔ حکومت کو ٹیکس کی بچت اور بدعنوانی کی روک تھام میں کمی کے بدلے عام آدمی کے نجی معاملات میں بے جا مداخلت سے گریز کرنا چاہیے اور موجودہ سہولت مکمل طور پر ختم نہیں کرنی چاہیے۔ معیشت میں کیش رکھنے سے اب بھی کافی فائدہ ہے اور مکمل طور پر کیش کے خاتمے میں زیادہ نقصان ہے۔

کینیتھ روگ آف ہارورڈ یونیورسٹی میں اکنامکس کے پروفیسر ہیں اور کتاب دی کرس آف کیش (The Curse of Cash) کے مصنف بھی ہیں۔

تحریر: کینیتھ روگ آف

Read in English

Authors
Top