Global Editions

پاکستان پانی کے عدم تحفظ کے شکنجے میں

آبی وسائل میں سرمایہ کاری اور بہتر انتظام ملک بھر میں پانی کے تحفظ کے ضامن ہو سکتے ہیں۔

کراچی میں کئی سال بارش نہيں ہوتی، اور جب ہوتی ہے تو اکثر زحمت بن کر برستی ہے۔ اس سال بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ مون سون کی بارشیں ایسی برسیں کہ گھروں کے اندر گھٹنوں تک پانی کھڑا ہوگیا۔ شہر کی سب سے بڑی بجلی فراہم کرنے والی کمپنی کے الیکٹرک نے ہاتھ کھڑے کردیے، جس کے بعد کراچی کے شہری گھپ اندھیرے میں گھروں کے اندر جمع ہونے والا پانی نکالنے میں مصروف ہوگئے۔ دوسری طرف، حال ہی میں اختتام پذیر ہونے والی عید قرباں کے بعد جانوروں کی آلائش گھروں کے باہر گل سڑ رہی تھیں اور سڑکوں پر کھڑا پانی خون سے سرخ ہوگیا۔ کچھ روز بعد کراچی کے صنعتی علاقے کورنگی سے گزرنے والی ملیر ندی میں سیلابی ریلے کے باعث مسافرین قریبی کورنگی کازوے پر بدترین ٹریفک جام میں کئی گھنٹوں تک پھنسے رہے۔

ان موسلا دھار بارشوں سے پہلے سندھ اور بلوچستان کئی سال تک خشک سالی کا سامنا کررہے تھے۔ فصلیں تباہ ہونے اور جانوروں کے مرنے کے باعث  کسانوں کی روزی روٹی کے ذرائع ختم ہوگئے، اور غذائی عدم تحفظ کی وجہ سے دونوں صوبوں میں کل ملا کر چالیس لاکھ افراد غذائیت کی کمی اور دیگر امراض کا شکار ہوگئے۔

ان دو متضاد صورتحالوں سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ پاکستان میں یا تو بہت زیادہ پانی ہوتا ہے یا بہت کم۔ تاہم اکثر سننے میں یہی آتا ہے کہ پاکستان میں پانی کی قلت ہے۔ عالمی بینک کے گلوبل واٹر پریکٹیس (Global Water Practice) کے ڈاکٹر ولیم ینگ (William Young) کے مطابق پاکستان میں پانی کی بہتات ہے۔ (صرف 16 ممالک ایسے ہيں جن کے پاس پاکستان سے زيادہ قابل تجدید پانی ہے۔) ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کو پانی کی قلت نہيں بلکہ پانی کے عدم تحفظ پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ لیکن اس مسئلے کے حل سے پہلے پاکستان کو کئی رکاوٹیں پار کرنی ہوں گی۔

مطلق العنان شہری ترقی کے نقصانات

کراچی میں کنکریٹ کی عمارتیں اس قدر زيادہ ہوچکی ہيں کہ اب ہریالی صرف گنے چنے پارکس تک ہی محدود ہے۔ تیز بارشوں کے دوران حد سے زيادہ ترقی کراچی جیسے شہروں کے لیے عذاب ثابت ہوتی ہے۔ سبزے کے بجائے کنکریٹ لگانے کے با‏عث بارش کا پانی زمین میں جذب نہيں ہوپاتا اور سڑکوں پر اکثر کئی دنوں تک کھڑا ہی رہتا ہے۔ ایسے موقعوں پر سیوریج کی لائنیں بھی جواب دے جاتی ہیں۔

بعض دفعہ طویل خشک سالی کے بعد ہونے والی بارش زحمت ثابت ہوتی ہے۔ برسات کے بعد اگنے والا سبزہ اکثر ٹڈیوں کے حملوں کی وجہ سے تباہ ہوجاتا ہے تصویر: ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان

تیز بارشوں کے بعد کراچی کا ایسا ہی حال ہوتا ہے۔ لیکن اس سال کھڑے پانی میں خون اور جانوروں کی آلائش شامل ہونے کے باعث کراچی میں مکھیوں کی ایسی بھرمار ہوئی کہ شہریوں کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنی پوری زندگی میں ایسی یلغار کبھی نہیں دیکھی تھی۔ اور یہ مکھیاں اپنے ساتھ بیماریاں بھی لے کر آئيں۔ ان کے بدولت تین ہفتوں کے اندر اندر کراچی کے ہسپتالوں میں پیچش، معدے کے امراض، ہیپاٹائٹس اے اور ہیپاٹائٹس ای کے 10,000 کیسز سامنے آئے۔

مینگروو کی واپسی

کیٹی بندر کے ماہی گیروں اور دریائے سندھ کے ڈیلٹا کے مینگروو جنگلات کا آپس میں بہت گہرا تعلق ہے۔کراچی سے 150 کلومیٹر دور واقع اس قصبے میں کسی زمانے میں زراعت عام تھی لیکن سمندری پانی کے ڈیلٹا میں تجاوز کرنے کے بعد کسانوں نے اپنا آبائی پیشہ ترک کرکے ماہی گیری شروع کردی۔ آج کیٹی بندر کے 90 فیصد رہائشی نمکین پانی کے ماہی گیر ہیں اور ماضی کے پھلتے پھولتے گاؤں کا شمار پاکستان کے پسماندہ ترین علاقہ جات میں ہوتا ہے جس کی 48 میں سے 28 آبادیاں سمندری پانی کی نذر ہوچکی ہيں۔

غربت کے چنگل سے نکلنے کے لیے کئی ماہی گیروں نے کراچی میں اپنی قسمت آزمانے کی کوشش کی۔ تاہم کراچی کے مینگرووز بھی لکڑی اور ریئل ایسٹیٹ کے مافیاؤں کے علاوہ کورنگی ندی میں پھینکے جانے والے صنعتی آلودگی کی بھینٹ چڑھ چکے تھے اور ان ماہی گیروں کے ہاتھ کچھ نہ آسکا۔ کورنگی ندی میں نئے مینگرووز اگانے کی کوششیں تو کی جارہی ہيں لیکن لیڈ پاکستان کے ایک مطالعے کے مطابق یہ ندی اس قدر آلودہ ہوچکی ہے کہ اب اس میں نئے درخت پروان نہيں چڑھ سکتے۔ اس کے علاوہ، کیمیائی فضلے کے باعث اس ندی کی مچھلیاں بھی ختم ہورہی ہيں۔ تعلیم اور صلاحیتوں کی کمی کے باعث کیٹی بندر کے ماہی گیروں کے پاس صرف دو ہی راستے بچے تھے: اپنے گاؤں واپسی یا کراچی کی کسی کچی بستی میں بغیر ذریعہ آمدنی گزارہ کرنا۔

کیٹی بندر میں پانی کے عدم تحفظ میں کچھ خاص کمی تو نہيں ہوسکی ہے لیکن وہاں کے رہنے والوں نے اپنی زندگیوں کو بہتر کرنے کی لیے اقدام کرنا شروع کردیے ہیں۔ ماہی گیر اب ایسے مینگرووز کی اقسام اگانے کی کوشش کررہے ہيں جو نمکین پانی میں بھی پروان چڑھ سکتے ہیں اور اب آہستہ آہستہ جنگلات کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ اس کے علاوہ ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان (WWF Pakistan) کی مدد سے بجلی کی فراہمی کے لیے ہوائی ٹربائنز بھی لگائے جارہے ہیں اور ٹینکرز کے ذریعے پینے کے صاف پانی کے انتظامات کیے جاچکے ہيں۔ کیٹی بندر میں غربت ختم کرنے میں بہت وقت لگے گا لیکن کم از کم خوشحالی کی جانب پہلا قدم اٹھایا جاچکا ہے۔

خشک سالی، قحط اور آفات

پانی کی اس ناقابل اعتبار دستیابی کی وجہ سے زرعی پیداوار میں کمی ہوتی ہے جس سے غذا میں کمی کے علاوہ دیگر امراض جنم لیتے ہيں۔ سیلابی ریلوں سے جانی نقصان اور فصلیں تباہ تو ہوتی ہی ہیں، ساتھ میں طبی سہولیات بھی تہس نہس ہوجاتی ہيں، جس کے باعث کسان زندہ بچنے والے جانوروں اور خود کا علاج معالجہ کروانے سے قاصر رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ، سیلابوں سے زرخيز زمین کے اختتام، زمین میں سیم اور نمکیات میں اضافے، اور زرعی اور ماہی گیری کے آلات کی تباہی کے باعث کسانوں کے لیے مستقبل میں فصلیں اگانا بھی مشکل ہوجاتا ہے۔

اسی طرح کم بارش بھی کسانوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔ جنوری 2019ء تک مسلسل خشک سالی سے  سندھ اور بلوچستان کے کل ملا کر 26 اضلاع میں چالیس لاکھ رہائشی متاثر ہوئے۔ یونیورسٹی آف بلوچستان کے ڈیپارٹمنٹ اف کامرس اینڈ لائیوسٹاک اینڈ ڈیئری ڈویلپمنٹ (Department of Commerce and Livestock and Dairy Development) کی ایک رپورٹ کے مطابق مسلسل کئی سال لمبی خشک سالی کے باعث بلوچستان میں چرنے کے لیے دستیاب زمین میں کمی آچکی ہے جس کی وجہ سےمویشیوں کے دودھ اور گوشت کی پیداوار میں کمی ہوئی ہے، بیماریاں پھیل رہی ہیں، اور شرح اموات میں اضافہ ہوا ہے۔

لیکن بعض دفعہ طویل خشک سالی کے بعد ہونے والی بارش بھی زحمت ثابت ہوتی ہے۔ اس سال، مون سون کے بعد ایران سے پہلے بلوچستان اور پھر سندھ میں داخل ہونے والے وسیع و عریض ریگستانی ٹڈیوں کے جھنڈ کے باعث کئی فصلیں تباہ ہوگئيں اور کسان ہاتھ ملتے رہ گئے۔ ادارہ برائے خوراک و زراعت کی ایک تنبیہہ کے مطابق ریگستانی ٹڈیوں کا سب سے زیادہ خطرہ ایران اور بھارت کے سرحدی علاقہ جات کو لاحق ہے اور اگر ان کیڑوں پر قابو نہ پایا گیا تو مستقبل میں بھی اسی طرح فصلوں کا نقصان ہوتا رہے گا۔

پانی کی ناقابل اعتبار دستیابی انسانی ہجرت میں بھی بہت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ کئی لوگ یہ سمجھتے ہيں کہ پناہ گزین صرف اور صرف تصادم کے باعث ہی اپنا گھر بار چھوڑتے ہيں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس نقل مکانی کے پیچھے سیاسی عدم استحکام سے زيادہ پانی کے عدم تحفظ کا ہاتھ ہے۔ 2016ء میں اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق 2050ء تک طویل خشک سالی کے باعث پیدا ہونے والی دشت شدتی (desertification) کی وجہ سے نقل مکانی کرنے پر مجبور افراد کی عالمی تعداد 20 کروڑ تک پہنچ جائے گی۔

پاکستان کے بڑے شہر اس قسم کی ہجرت کے اثرات کے لیے بالکل بھی تیار نہيں ہیں۔ کراچی کی مثال لے لیں۔ اس شہر کے حکام کو پہلے ہی سے یہاں رہائش پذیر دیڑھ کروڑ افراد کو بجلی، کم قیمت رہائش، پانی، ہسپتالوں، تعلیم، نقل و حمل اور روزگار فراہم کرنے میں کڑی مشکلات کا سامنا ہے، جس کے باعث کراچی میں خطرناک حد تک آلودگی، جرائم، پانی کی قلت، غلاظت اور غربت عام ہيں جبکہ آسمان کو چھونے والی عمارتیں جان لیوہ گرمی کی لہروں کی وجہ بنتی ہيں۔ 2017ء کی مردم شماری کے مطابق پاکستان کے دوسرے سب سے بڑے شہر لاہور میں آبادی کے اضافے کی شرح سب سے زیادہ تھی، اور اگر یہاں بھی شہری منصوبہ بندی کی شرح میں آبادی کے لحاظ سے اضافہ نہ ہوا تو لاہور کا بھی وہی حال ہوگا جو آج کراچی کا ہے۔ لاہور میں ابھی سے ہی اونچی عمارتوں کی تعمیر کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے اور اس کا شمار دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں کیا جاتا ہے۔ اس سب کو دیکھ کر یوں لگتا ہے کہ وہ دن دور نہيں ہے جب لاہور بھی اپنی ترقی کے بوجھ تلے دب جائے گا۔

پاکستان کے شمالی علاقہ جات کے پہاڑوں میں گلیشیئل لیک آؤٹ برسٹ فلڈز کا بہت زيادہ خطرہ لاحق ہے، جس میں کئی لاکھ مکعب میٹر پانی اور ملبہ پہاڑوں سے بہتے ہوئے نیچے واقع آبادیوں کو تہس نہس کردیتے ہيں۔ تصویر: ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان

پہاڑی سلسلوں سے لے کر سمندر تک

پاکستان کا اہم ترین اور سب سے بڑا دریا، دریائے سندھ ہمالیہ کے پہاڑوں سے شروع ہوتا ہے اور پورے ملک سے گزرتا ہوا بحیرہ عرب میں جا گرتا ہے۔ پاکستان کی زرعی صنعت کی ترقی دریائے سندھ سے جڑی ہوئی ہے۔ لیکن اس کے پانی کو اتنی بے دردی سے استعمال کیا جاتا رہا ہے کہ اب یہ دریا خشک ہونا شروع ہوگیا ہے۔ بحیرہ عرب تک کے سفر میں آخری بیراج، یعنی کوٹری بیراج پہنچنے تک دریائے سندھ کے پانی کی مقدار بہت کم ہوجاتی ہے جس کے باعث یہ دریا سمندر تک نہيں پہنچ پاتا اور دریائے سندھ کے ڈیلٹا کی تمام ندیاں اب خشک پڑ گئی ہیں۔

ایک طرف تو دریائے سندھ کے ڈیلٹا میں پانی نہيں ہے اور دوسری طرف ماحولیاتی تبدیلی کے باعث سمندر کی سطح میں اضافہ ہورہا ہے۔ ڈیلٹا میں موجود مینگروو (mangrove) جنگلات کے ماہی گیروں کے لیے یہ دونوں صورتحال نہایت تباہ کن ثابت ہو سکتی ہيں۔ جب تک دریائے سندھ بحیرہ عرب کے قریب پہنچتا ہے میٹھے پانی کی کمی کے باعث اس کا زور کم ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے سمندر کا نمکین پانی بہت آسانی سے ڈیلٹا میں داخل ہو کر اسے بھر دیتا ہے۔ میٹھا پانی ختم ہونے سے نہ صرف زراعت کے لیے استعمال ہونے والی زمین بے کار ہوجاتی ہے بلکہ ڈیلٹا میں موجود مینگروو کے جنگلات بھی تباہ ہوجاتے ہیں۔ لیڈ پاکستان (LEAD Pakistan) کے ایک مطالعے کے مطابق سمندر ڈیلٹا میں 54 کلومیٹر تک تجاوز کرنے میں کامیاب ہوچکا ہے اور مزید آگے بڑھ رہا ہے۔

پاکستان کے شمالی حصے میں پانی کا عدم تحفظ ایک مختلف شکل میں سامنے آتا ہے۔ تیز بارش یا گلیشیئر کے پگھلنے کی وجہ سے دریاؤں میں پانی کی مقدار میں اضافے کے باعث پہاڑی علاقہ جات اکثر و بیشتر سیلاب زدگی کا شکار رہتے ہيں۔ چینی، نیپالی، بھارتی اور بنگلا دیشی ماہرین ارضیات کی ایک مشترکہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگر ماحولیاتی تبدیلی کی شرح اسی طرح برقرار رہی تو 2100ء تک ہندوکش اور ہمالیہ کے پہاڑی سلسلوں کی دو تہائی برف ختم ہوجائے گی۔ بلکہ پچھلی چار دہائیوں میں ہمالیہ کی برف میں 25 فیصد کمی آچکی ہے۔ ان پگھلتے ہوئے گلیشیئرز کا پانی سوراخوں میں جمع ہوتا رہتا ہے لیکن جب اس کی مقدار لاکھوں مکعب میٹر تک پہنچ جاتی ہے تو ایک وقت ایسا آتا ہے جب پہاڑ پھٹ پڑتا ہے اور یہ پانی گلیشیئل لیک آؤٹ برسٹ فلڈز(glacial lake outburst floods – GLOFs) کی شکل میں پہاڑی ملبہ سمیت بہتا ہوا نیچے آتا ہے اور جانی اور مالی نقصان کی وجہ بنتا ہے۔

آلودگی سے شفافیت تک کا سفر

فیکٹریوں کو دریاؤں اور ندیوں میں صنعتی فضلے کی نکاسی کے باعث اکثر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ایجنسی برائے تحفظ ماحول کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں نکاسی سے پہلے صرف ایک فیصد صنعتی فضلے کا ٹریٹمنٹ کیا جاتا ہے۔ گنے کی فیکٹریاں ایک ہی دن میں کئی لاکھ مکعب میٹر گندے پانی کی دریائے سندھ میں نکاسی کرتی ہيں۔ اس فضلے سے نہ صرف سمندری حیات کو نقصان پہنچتا ہے بلکہ آلودہ پانی پینے والے انسانوں کو بھی سنگین خطرات کا سامنا ہے۔

کپڑوں کے رنگ اور کیمیکلز بنانے والی کمپنی آرکروما پاکستان (Archroma Pakistan) کی

جام شورو میں دریائے سندھ کے مغربی کنارے پر واقع فیکٹری صنعتی آلودگی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے اقدام کررہی ہے۔ یہ کمپنی پانی کی بچت اور ری سائیکلنگ کی تحقیق پر سرمایہ کاری کررہی ہے اور انہوں نے دریا کے پانی میں فضلے کی نکاسی کو مکمل طور پر ختم کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اس مقصد کے تحت جام شورو کی فیکٹری میں نصب ٹریٹمنٹ پلانٹ 80 فیصد گندے پانی کو صاف کرکے اسے پینے کے قابل بناتا ہے جس کے بعد اطراف کی کمیونٹی کو روزانہ 540,000 لیٹر پانی فراہم کیا جاتا ہے۔ اگر دوسری کمپنیاں ایسا کرنا چاہیں تو وہ بھی آرکروما کے نقش قدم پر چلتے ہوئے مقامی کمیونٹیز اور ماحول کو فائدہ پہنچا سکتی ہيں۔

نااہلی اور بے پرواہی کا نتیجہ

پاکستانی حکومت کی پالیسیوں کو دیکھ کر لگتا ہے کہ پانی کے تحفظ میں اضافے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ 2014ء میں منصوبہ بندی کمیشن نے ”Pakistan 2025: One Nation, One Vision“ نامی 100 صفحوں پرمشتمل ایک دستاویز جاری کیا جس میں پاکستان کو 2025ء تک دنیا کی 25 سب سے بڑی معیشتوں میں اور 2047ء تک 10 سب سے بڑی معیشتوں میں شامل کرنے کا منصوبہ پیش کیا گيا تھا۔ اس رپورٹ میں پانی کے تحفظ کو اس خواب کو پورا کرنے کے لیے ایک اہم ستون قرار دیا گیا۔ 2017ء میں قومی قانون برائے ماحولیاتی تبدیلی متعارف کیا گيا جس کے نتیجے میں وزارت ماحولیاتی تبدیلی کی بنیاد رکھی گئی۔ اگلے سال، ایک دہائی لمبی تاخیر کے بعد، پاکستان کی پہلی قومی آبی پالیسی منظور کی گئی۔

ان اقدام کے باوجود پاکستان میں پانی کے عدم تحفظ میں اضافہ ہوتا گیا۔ 2015ء میں پانی کی فی کس دستیابی 1,306 مکعب میٹرز تھی جو 2019ء تک کم ہو کر محض ایک ہزار مکعب میٹر رہ گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ 2040ء تک یہ شرح 500 مکعب میٹر ہوجائے گی۔

پاکستان میں پانی کا عدم تحفظ اب تک کیوں برقرار ہے؟ اس کے پیچھے کئی وجوہات ہیں جن میں سب سے نمایاں وجہ عوام الناس، کمپنیوں اور حکومت کی بے پرواہی ہے۔

پاکستان واٹر پارٹنرشپ پروگرام (Water Partnership Program) کے ڈائریکٹر اور وزیراعظم کی ٹاسک فورس برائے ماحولیاتی تبدیلی کے رکن ڈاکٹر پرویز عامر کا خیال ہے کہ حکومت پانی کے عدم تحفظ کے معاملے میں سنجیدہ نہیں ہے۔ ان کی نظر میں یہ بات ”نہایت ناقابل قبول“ ہے کہ پاکستان کی دونوں بندرگاہوں، یعنی کراچی اور گوادر، میں پانی کی اس قدر تنگی ہے کہ رہائشیوں کو ہر مہینے کئی ہزار روپے دے کر ٹینکروں سے پانی خریدنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔

ڈاکٹر عامر کا کہنا ہے کہ لفاظی کے باوجود پانی کا تحفظ کبھی بھی پاکستانی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہی نہيں تھا۔ وہ کہتے ہيں کہ ”اس وقت ہمارے پاس ایسا کوئی بھی ماہر نہيں ہے جو صورتحال کا تجزیہ کرکے کوئی حل پیش کرسکے۔ یہ مسئلہ ہمارا خود کا کھڑا کیا ہوا ہے لیکن ہم صرف بھارت پر الزام تراشی میں لگے ہوئے ہیں۔“ ان کے مطابق ناقص تجزیے کے باعث حکومت غلط مسئلے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ وہ کہتے ہيں کہ ”یہ کہنا درست نہيں ہے کہ پاکستان میں پانی ختم ہوجائے گا۔ پاکستان میں آج بھی تقریبا ًاتنا ہی پانی ہے جتنا 1947ء میں تھا۔ مسئلہ پانی کی فی کس دستیابی ہے جس میں آبادی کے بے تحاشہ اضافے کی وجہ سے کمی ہوئی ہے۔ کوئی بھی آبادی میں اضافے کے متعلق بات کرنے کو تیار نہيں ہے۔“

الائنس فار واٹر سٹیورڈشپ (Alliance for Water Stewardship) کی رابطہ کار ماہین ملک نے اپنے پراجیکٹس کے سلسلے میں سرکاری دفاتر میں بہت دھکے کھائے ہيں۔ وہ بتاتی ہیں کہ فائلوں کو صرف ایک میز سے اٹھا کر دوسری میز پر رکھ دیا جاتا تھا اور اکثر رابطہ کار افراد تبدیل کردئے جاتے تھے جس کی وجہ سے انہيں ہر بار نئے سرے سے کام شروع کرنے کی ضرورت پیش آتی۔ پراجیکٹس کے لیے این او سی کے حصول کا مرحلہ حکومتی نااہلی کی ایک بہت اچھی مثال ہے۔ ماہین کہتی ہيں کہ ”اس درخواست کا مطلب صرف اور صرف یہی ہوتا ہے کہ این او سی حاصل کرنے کے لیے اپنا مدعا بیان کرنا۔ ہمیں پہلے سے بتا دیا جاتا ہے کہ ہمیں این او سی حاصل کرنے کے لیے اپنے پرپوزلز میں کونسی باتیں شامل کرنی چاہیے اور کن باتوں کا تذکرہ کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔“

سسٹین ایبل پالیسی ڈيولمپنٹ انسٹی ٹیوٹ (Sustainable Policy Institute – SDPI) کے عمران ثاقب خالد کا بھی کچھ اسی قسم کا تجربہ رہا ہے۔ وہ بتاتے ہيں کہ حکومت کی طرف سے پراجیکٹس کا تخمینہ کرنے والے افراد کے پاس نہ تو پرپوزل سمجھنے کی صلاحیت تھی اور نہ ہی وہ سائٹس پر جا کر زمینی حقائق کا معائنہ کرنے کی تکلیف اٹھانا چاہتے تھے۔ وہ کہتے ہيں کہ ”فائل پر صرف  ‘ماحول پر کوئی قابل قدر اثرات نہيں’ لکھ دیا جاتا تھا جس کے بعد پراجیکٹس کو فوری طور پر منظوری مل جاتی تھی۔ اعتراضات اٹھانے والوں کو خاموش کروا دیا جاتا تھا۔“

پالیسی کا ناقص نفاذ

حکومت کے غیرسنجیدہ رویے کا اندازہ قومی آبی پالیسی کے مشمولات سے لگایا جاسکتا ہے جس کی غلطیوں کو دیکھ کر یہ لگتا ہے کہ یا تو اسے کسی دوسرے دستاویز کی نقل کرکے بنایا گيا ہے یا کسی نے اس کی نظرثانی نہيں کی۔ مثال کے طور پر، ایک طرف تو پانی کے ضیاع کے سبب سیلابی آبپاشی (flood irrigation) پر پابندی عائد کرنے کی بات

کی گئی ہے لیکن دوسری طرف اسی نظام کے فروغ کے لیے ترجیحی بنیاد پر سرمایہ کاری کا ذکر بھی کیا گيا ہے۔ اس کے علاوہ، اس پالیسی کے 33 اہداف میں کسی ایک کے لیے بھی کوئی مقررہ مدت بیان نہيں کی گئی ہے، جس کے باعث پیش رفت اور کارکردگی کی نگرانی بہت مشکل ثابت ہوگی۔

ریاستی وزير برائے ماحولیاتی تبدیلی زرتاج گل اعتراف کرتی ہيں کہ موجودہ اور سابقہ حکومتوں نے بہت بے پرواہی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان دریائے سندھ اور دیگر دریاؤں کی تقسیم کے لیے بنائے گئے سندھ طاس معاہدے (Indus Waters Treaty) پر دستخط کرنے کے بعد پاکستان نے پانی کے ذخائر میں اضافہ کرنے کی کوشش نہيں کی۔ وہ کہتی ہيں کہ ”سندھ طاس معاہدے کا ذکر صرف مطالعہ پاکستان کی کتابوں میں ملتا ہے۔“

ایک اور مسئلے کا تعلق حکومت کی اناج کی قیمتوں کا تعین ہے۔ حکومت کم پانی استعمال کرنے والی فصلوں (جیسے کہ بادام اور کینو) کے بجائے اناج جیسی فصلوں کو فروغ دے رہی ہے جن کے لیے وافر مقدار میں پانی کی ضرورت پیش آتی ہے۔

اسلام آباد اور راول پنڈی میں کیپیٹل ڈيولمپنٹ اتھارٹی (Capital Development Authority – CDA) کے ضوابط کے تحت گھروں کے ڈیزائنز میں بارش کے پانی کی جمع کاری اور دوبارہ استعمال کا نظام شامل کرنا ضروری ہے۔ خالد کے مطابق ایک وجہ تو یہ ہے کہ سی ڈی اے اپنے قوانین کا نفاذ نہیں کرتی۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ عوام الناس اس سسٹم کی ضرورت کے متعلق آگاہی نہيں رکھتی۔ ماحولیاتی وکیل احمد رافع عالم کے مطابق ایک اور وجہ پانی کی ناقص بلنگ ہے۔ مثال کے طور پر، صوبہ بنجاب میں پانی کی قیمت کا تعین استعمال کے بجائے گھروں کے کرایے کے حساب سے کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ، پانی کے بل محض چند ہزار روپوں سے زیادہ نہیں ہوتے، جس وجہ سے دولت مند گھرانے کھل کر پانی استعمال کرتے ہيں۔

قانون کے ناقص نفاذ کا ایک اور نتیجہ ٹیوب ویلز اور سکشن پمپس کا بے تحاشہ استعمال ہے جس کے باعث زیرزمین پانی کی سطح میں بہت تیزی سے کمی ہوتی ہے۔ خالد بتاتے ہيں کہ لاہور میں زیرزمین پانی کی سطح میں کئی سو فٹ کی کمی آچکی ہے۔ گل کا کہنا ہے کہ حکومت اب لاہور میں مزید فیکٹریاں لگانے کا مشورہ نہيں دیتی، لیکن فیکٹری کے مالکان کسی نہ کسی طرح اجازت حاصل کر ہی لیتے ہيں۔ ڈاکٹر عامر کے مطابق بلوچستان میں بھی یہی حال ہے۔

تصویر: ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان، سائمن راؤلز

پانی کے تحفظ کے لیے انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کی اہمیت

پاکستان جیسے ملک کے لیے پانی کا تحفظ نہایت اہم ہے لیکن اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کے بغیر پانی تک رسائی اور پانی کے معیار کی بہتری ممکن نہيں ہیں۔ پاکستان میں زیراستعمال آبپاشی کے کچھ نظام برطانوی سامراج کے زمانے سے استعمال کیے جارہے ہيں۔ پانی کے عدم تحفظ کے مسئلے کا حل اسی وقت ممکن ہوگا اگر میڈیا، تحقیقی ادارے، اور نجی شعبہ معلومات اور سرمایہ کاری فراہم کرکے حکومت کا ساتھ دیں گے۔

ماہرین کی مشترکہ رائے یہ ہے کہ پالیسی ساز افراد اور ادارے سائنسی اور تکنیکی معلومات سمجھنے کی صلاحیت نہيں رکھتے۔ اب سوال یہ کھڑا ہوتا ہے کہ انہيں یہ معلومات کس طرح سے پیش کی جائے؟ خالد کے مطابق پاکستان میں عدم تحفظ کے مسئلے کو اجاگر کرنے کے لیے تقریبات اور ورک شاپس کی تعداد میں اضافہ کرنے اور حکومتی افسران کو ان میں مدعو کرنے کی ضرورت ہے۔ گل کا خیال ہے کہ حکومت کو سیاسی اور ذاتی اختلافات کو نظر انداز کرکے پاکستانی اور بین الاقوامی ماہرین کی تجاویز سننے کی صلاحیت میں اضافہ کرنا چاہیے۔

خالد یہ بھی کہتے ہيں کہ حکومتی اداروں کو اپنی اندرونی ہم آہنگی بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ اس طرح، سیکریٹریاں تبدیل ہونے کی صورت میں بھی کام جاری رہے گا اور اپنے پراجیکٹس کے سلسلے میں سرکاری دفاتر کے چکر لگانے والوں کو ہر دفعہ نئے سرے سے محنت کرنے کی ضرورت نہيں رہے گی۔ ساتھ ہی وہ یہ بھی کہتے ہيں کہ نجی شعبے کو سرکاری محکموں کے کام کرنے کے طریقے کو سمجھ کر اس کے مطابق کام کرنے کی ضرورت ہے۔

اس سلسلے میں میڈیا کا کردار بھی بہت اہم ہے۔ مکالموں اور مباحثوں کو فروغ دینے، آراء تبدیل کرنے، اور لوگوں کو اقدام کرنے پر آمادہ کرنے کے لیے عوام الناس اور فیصلہ سازوں کو مسائل کے متعلق آگاہی کی فراہم کرنے کے لیے مختلف ذرائع ابلاغ سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ، خالد کے مطابق، ماہرین اور سیاسی ترجمانوں کو بھی میڈیا پر اپنی بات آسان الفاظ میں بیان کرنے کی تکنیک سیکھنے کی ضرورت ہے۔

پانی کے عدم تحفظ کے مسئلے کے لیے نجی شعبے اور حکومت کے درمیان تعاون کس طرح ممکن ہے؟ پاکستان میں قطراتی آبپاشی (drip irrigation) کے فروغ کے سلسلے میں مختلف نجی کمپنیوں کی پاکستان زرعی ریسرچ کونسل اور اس کے مختلف ذیلی محکموں کے ساتھ شراکت داری اس کی بہترین مثال ہے۔

صحرا کے تربوز

دریائے جہلم اور دریائے سندھ کے درمیان واقع پنجاب کے سطح مرتفع پوٹھوہار کے قریب 190 میل لمبے اور 70 میل چوڑے صحرائے تھل کا تین چوتھائی حصہ ریت کے ٹیلوں پر مشتمل ہے اور آبادیاں بہت کم نظر آتی ہيں۔ تھل کا شمار پاکستان کے پسماندہ ترین علاقوں میں ہوتا ہے جہاں صرف برائے نام بجلی، گیس، پانی، علاج معالجے اور تعلیمی سہولیات دستیاب ہيں۔ یہاں کے رہائشیوں کی گزر بسر کا انحصار زراعت، خصوصی طور پر چنے کی فصل، پر ہے لیکن غربت کے باعث بیشتر فارمز کا سائز پانچ ایکڑ سے زيادہ نہيں ہے۔ خشک سالی کی صورت میں چنے کی فصل کو بہت زیادہ نقصان ہوتا ہے اور کسان قرضے لینے یا نقل مکانی پر مجبور ہوجاتے ہيں۔

لیکن اب قومی زرعی ریسرچ سینٹرکی کوششوں کے بعد کچھ کسانوں نے قطراتی نظام آبپاسی کا استعمال شروع کردیا ہے۔ شمسی توانائی پینلز کے باعث ناقابل اعتبار بجلی کے باوجود بھی ٹیوب ویلز چلتی رہتی ہيں اور ڈیزل کی ضرورت ختم ہوگئی ہے جس سے کسانوں کے اخراجات کافی حد تک کم ہوگئے ہیں۔ قطراتی نظام آبپاشی کی بدولت کسان سٹرس پھل، کھجور اور فالسے اگا سکتے ہيں جن کی مارکیٹ میں قیمتیں چنے سے کئی گنا زیادہ ہيں۔

پاکستان زراعتی ریسرچ کونسل کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر غلام محمد علی بتاتے ہيں کہ کچھ کسانوں نے اس مٹی میں موجود نمی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ان پھلوں کے بیچ میں تربوز اگانے کا طریقہ ڈھونڈ نکالا ہے۔ عام حالات میں قطراتی کے نظام سے نفع کمانے میں چار سے پانچ سال لگتے ہیں لیکن تربوز کی کاشت کی وجہ سے یہ کسان پہلے ہی سال میں منافع کمانے میں کامیاب ہوگئے۔ ڈاکٹر علی کو امید ہے کہ قومی زرعی ریسرچ سینٹر دوسرے علاقوں کے کسانوں کو بھی اسی طرح سے فصلیں اگانے کی تربیت فراہم کرسکیں گے تاکہ وہ زیادہ جلدی نفع کما سکیں۔

پانی کے ہر قطرے سے بھرپور فائدہ اٹھانا

سیلابی آبپاشی کے روایتی طریقے میں پانی کا موثر استعمال نہيں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ قومی زرعی ریسرچ سینٹر (National Agricultural Research Center – NARC) کا ادارہ برائے موسمیات، توانائی اور پانی کے وسائل (Climate, Energy

and Water Resources Institute – CEWRI) ایسی ٹیکنالوجیز پر کام کررہے ہيں جن کی مدد سے کم پانی استعمال کرتے ہوئے زیادہ زرعی پیداوار ممکن ہوسکے۔ یہ ادارہ 1991ء سے قطراتی آپپاسی پر کام کررہا ہے، جس میں پائپوں، نالیوں اور والوز کی مدد سے فصلوں کی جڑوں میں آہستہ آہستہ پانی اور کھاد متعارف کیے جاتے ہيں۔ اس تکنیک سے نہ صرف پانی کے محض حسب ضرورت استعمال کو یقینی بنایا جاتا ہے بلکہ بخارات کی شکل میں پانی کے نقصان کی بھی روک تھام ممکن ہے۔

قومی زرعی ریسرچ سینٹر قطراتی آبپاشی کے فروغ کے لیے کیوں کوشاں ہے؟ اس ادارے کے ڈائریکٹر ڈاکٹر بشیر احمد کے مطابق اس ٹیکنالوجی سے پانی کے استعمال میں 30 سے 60 فیصد کمی اور اثراندازی میں 80 سے 90 فیصد اضافہ ممکن ہے۔ وہ مزید بتاتے ہيں کہ سیلابی آبپاشی کے لیے زمین کا مسطح ہونا ضروری ہے، لیکن قطراتی نظام کے باعث صحرائے تھل جیسے پتھریلے اور ریتی علاقہ جات میں بھی زراعت ممکن ہے۔

تاہم قطراتی آبپاشی کے فوائد کے باوجود کسان اس تکنیک کو اپنانے سے کتراتے ہيں اور اس وقت صرف 0.1 فیصد فصلوں کے لیے اس تکنیک کا استعمال کیا جارہا ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجوہات میں آگاہی کی کمی اور اس سسٹم کی زیادہ لاگت شامل ہیں۔ قومی زرعی ریسرچ سینٹر کسانوں کو قطراتی آبپاشی کے متعلق تربیت فراہم کرکے پہلے مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کررہا ہے اور شمسی توانائی استعمال کرنے والے سسٹمز کے باعث اخراجات کم کرنے کی کوششیں کی جارہی ہيں، لیکن ابھی بھی یہ سسٹم کئی کسانوں کی پہنچ سے باہر ہے۔

قومی زرعی ریسرچ، اسلام آباد میں واقع نیسلے پاکستان کے ایک ماڈل فارم میں شمسی توانائی استعمال کرنے والے ٹیوب ویلز کے ذریعے عملیاتی اخراجات کا خاتمہ کیا جاتا ہے، جس سے قطراتی آبپاشی کسانوں کے لیے زيادہ منافع بخش ثابت ہوگی۔ تصویر: ٹی آر پاکستان

کسانوں کو قطراتی آبپاشی سے فائدہ اٹھانے میں معاونت فراہم کرنے کے لیے حکومت پنجاب نے 60 فیصد اخراجات برداشت کرنے کی پیشکش کی ہے، جبکہ باقی رقم کی ذمہ داری کسان یا سرمایہ کار تنظیم کی ہوگی۔ قومی زرعی ریسرچ سینٹر کے مطابق آج پنجاب میں 10,000 سے زیادہ کسان اپنے کھیتوں میں قطراتی آبپاشی کا استعمال کررہے ہيں۔ قومی زرعی ریسرچ سینٹر کے صدر ادارے پاکستان زرعی ریسرچ کونسل کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر غلام محمد علی بتاتے ہيں کہ حکومت سندھ نے بھی اس پراجیکٹ پر عملدرآمد کرنا شروع کردیا ہے۔

پانی کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے بہت رقم درکار ہوگی اور بہت زیادہ وقت لگے گا لیکن اس ہدف کا حصول ناممکن نہيں ہے۔ اگر حکومت، نجی اداروں، تعلیمی اداروں، میڈیا اور عوام الناس کو درست معلومات فراہم کی جائے اور ان میں مسئلے کو حل کرنے کا جذبہ ہو تو پاکستان میں ماحولیاتی تبدیلی اور پانی کے عدم تحفظ سے نمٹا جاسکتا ہے۔

مصنفہ سٹاف کی ممبر ہيں۔

تحریر و ترجمہ: صوفیہ ضمیر

Read in English

Authors

*

Top