Global Editions

پاکستان کرونا وائرس کے مالی نقصانات کا مقابلہ کس طرح کر سکتا ہے؟

بین الاقوامی تعاون کے بغیر اس کساد بازاری کا مقابلہ نہیں کیا جاسکتا۔

کرونا وائرس کے باعث نافذ کردہ لاک ڈاؤنز سے دنیا بھر کی مالی سرگرمی میں کمی ہوئی ہے، جس سے عالمی معیشت تہس نہس ہوچکی ہے۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ڈيٹا کے مطابق، عالمی معیشت جلد ہی کساد اعظم (Great Depression) کے بعد سب سے بڑی کساد بازاری کی بھینٹ چڑھنے والی ہے۔ ورلڈ ایکنامک آؤٹ لک (World Economic Outlook) کی اپریل 2020ء کی رپورٹ کے مطابق، مالی سال 2019ء-2020ء کے درمیان عالمی معیشت کے حجم میں تین فیصد کمی ہوگی، جو مالی سال 2008ء-2009ء کی عالمی کسادبازاری سے تین فیصد کم ہے۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے مطابق، اگر یہ بحران کسی نہ کسی طرح 2021ء کی آمد سے پہلے ختم ہوجائے تو کئی ممالک اپنے پیروں پر دوبارہ کھڑے تو ہوجائيں گے لیکن ان کی خام ملک پیداوار پہلے سے کم ہی رہے گی۔

تاہم ایسے کئی عناصر ہیں جو اس بحالی کو متاثر کریں گے۔ کرونا وائرس کب تک اور کتنی تيزی سے پھیلے گا؟ اس پر قابو پانے کی کتنی کوشش کی جائے گی؟ حکومتی پالیسیاں کس حد تک کامیاب ثابت ہوں گی؟ صارفین کی مانگ میں کس حد تک تبدیلی آئے گی؟ اب تک ہمارے پاس ان سوالات کے جوابات موجود نہيں ہیں، جس کی وجہ سے بحالی کی پیشگوئیوں کی درستی کے متعلق ایک بہت بڑا سوالیہ نشان کھڑا ہے۔

یہ ’ لاک ڈاؤن عظیم‘ دنیا بھر کے کئی ممالک کی معیشتوں کو طویل عرصے تک متاثر کرنے کے علاوہ عدم مساوات کو بھی اجاگر کررہا ہے۔ اگر covid-19 کی انفیکشنز اسی طرح پھیلتی رہیں تو معیشت کی بحالی میں اتنی ہی تاخیر ہوگی، جس سے صورتحال مزید بگڑتی جائے گی۔

پاکستان کا شمار کمزور معیشت رکھنے والے ترقی پذیر ممالک میں ہوتا ہے اور جب سے یہاں کرونا کا پہلا کیس سامنے آیا ہے، حکومت اسی کشمکش میں مبتلا ہے کہ معیشت کو بچایا جائے یا عوام کو۔ صوبائی حکومتوں نے ملک بھر میں جزوی لاک ڈاؤنز نافذ کیے، لیکن کیسز میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ دہاڑی پر کام کرنے والے اور غربت کے شکار افراد کا گزربسر مشکل ہوگیا ہے اور یہ صرف ابتدا ہے۔

غربت اور بے روزگاری

کاروباروں کی آمدنی ختم ہورہی ہے اور بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں، بلکہ نقل و حمل کا پورا نیٹورک، بند ہونے کی وجہ سے برآمدات کا سلسلہ بھی رک گیا ہے۔ نجی سرمایہ کاری، گھریلو اخراجات، اور آمدنی میں کمی کی وجہ سے نہ صرف معیشت بلکہ ہماری پوری زندگی ڈرامائی انداز سے تبدیل ہوگی۔

کسی بھی دوسرے بحران کے طرح، کرونا وائرس سے سب سے زيادہ متاثر وہی افراد ہوں گے جن کا پہلے ہی بہت مشکل سے گزارہ ہورہا تھا۔ پاکستان میں سب سے زيادہ نقصان دہاڑی پر کام کرنے والوں اور چھوٹے یا درمیانے سائز کے کاروباروں کے ملازمین کو ہورہا ہے۔

مالی سال 2019ء تا 2020ء کے درمیان پاکستان کی خام ملک پیداوار کا اضافہ منفی 1.3 فیصد ہوگا۔ سابق وزیر خزانہ حفیظ پاشا اور سابق گورنر بینک دولت پاکستان شاہد کردار کے سیمولیشنز کے مطابق 2020ء کے آخری تین مہینے کے دوران پاکستان کی خام ملکی پیداوار میں 13.6 فیصد یعنی 2،075 ارب روپے کی کمی ہونے کا امکان ہے۔

انہوں نے حساب لگایا کہ لاک ڈاؤنز میں سختی اور خام ملکی پیداور میں کمی کے باعث عارضی بنیاد پر 1.15 کروڑ اور مستقبل بنیاد پر 0.65 کروڑ افراد بے روزگار ہوں گے، جس سے مجموعی بے روزگاری پاکستان کی تاریخ کی اعلی ترین شرح یعنی 16 فیصد تک پہنچ جائے گی۔ اس کے علاوہ، ڈيڑھ سے دو کروڑ افراد غربت کا شکار ہوں گے، جس سے پاکستان میں غرباء کی تعداد 10.3 کروڑ تک جا پہنچے گی۔ مزيد تخمینوں کے مطابق، 1.5 کروڑ افراد کے مالی حالات بگڑنےکا بھی امکان ہے، جس کے نتیجے میں انہيں حکومتی امداد کی ضرورت پیش آئے گی۔

معیشت کا لاک ڈاؤن

جب پاکستان میں کرونا وائرس پھیلنا شروع ہوا، اس وقت حکومت کافی کچھ کرسکتی تھی۔ تاہم انہوں نے پاکستان کی غیرمستحکم معیشت کو دیکھتے ہوئے لاک ڈاؤن نافذ نہيں کیا۔ صوبائی حکومتوں نے اپنی طرف سے سخت جزوی لاک ڈاؤنز نافذ کرنا شروع کردیا، لیکن وزيراعظم عمران خان اپنے موقف پر قائم رہے۔ لاک ڈاؤنز کے نتیجے میں پاکستان میں مالی سرگرمیاں تھم گئيں، جس کے کچھ عرصے بعد حکومت نے غرباء کی امداد کے لیے ریلیف پیکیجز کا اعلان کردیا۔

سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ پالیسی انسٹی ٹیوٹ (Sustainable Development Policy Institute) کے سینیئر ریسرچ فیلو اور پالیسی سولیوشنز لیب کے سربراہ ڈاکٹر ساجد امین جاوید ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو پاکستان کو بتاتے ہیں کہ لاک ڈاؤن کے دوران نقد رقم کی کمی بھی بہت بڑا مسئلہ ثابت ہوا۔ وہ کہتے ہیں کہ پاکستان میں کئی چھوٹے کاروبار اپنے قرض لوٹانے کے علاوہ ملازمین کو تنخواہوں کی ادائيگی کرنے سے قاصر ہيں، جس کی وجہ سے ان ملازمین کو فارغ کرنا پڑا۔

ان کی ریسرچ کے مطابق، نقد رقم نہ ہونے کی وجہ سے دس لاکھ کے قریب چھوٹے کاروبار بند ہوگئے اور اپریل میں ان کی آمدنی میں 50 فیصد کمی نظر آئی۔ حال ہی میں بینک دولت پاکستان نے قرض لینے کی شرائط میں تبدیلی کا اعلان کیا ہے، جس کے مطابق اپنے ملازمین کو فارغ نہ کرنے والے چھوٹے کاروبار مالی اداروں سے قرضے حاصل کرسکتے ہيں۔ تاہم کئی کاروبار اس سہولیت کی اہلیت نہيں رکھتے۔

ڈاکٹر جاوید بتاتے ہيں کہ پچھلے چند سالوں سے مالی ترقی کی رفتار سست ہونے کی وجہ سے پاکستان دوسرے ترقی پذیر ممالک کے مقابلے میں زیادہ مشکلات کا شکار ہے۔ پاکستان کو آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرنے کے لیے چند مشکل فیصلے لینے پڑ رہے تھے، لیکن کرونا وائرس کی وجہ سے حکومت کو نئی پالیسیاں متعارف کرنے کی ضرورت پیش آئی۔

ہیلتھ کیئر کے اس نئے بحران پر قابو پانے اور غربت کے شکار افراد کی مالی امداد کے لیے متعارف کیے جانے والے پروگراموں کے باعث حکومت کے بوجھ میں بہت زيادہ اضافہ ہوگیا ہے۔ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ اب تک پاکستان میں امداد کے پروگرامز ان لوگوں کو فائدہ پہنچانے سے قاصر رہے ہيں جنہیں ان کی سب سے زيادہ ضرورت ہے۔

لاک ڈاؤن کے بعد زندگی کیسی ہوگی؟

ہوسکتا ہے کہ لاک ڈاؤن کے بعد ہماری زندگیاں پہلی کی طرح نہ رہیں۔ ہمیں خود کو اس نئے صورتحال کے مطابق ڈھالنے کے لیے نئے سرے سے زندگی شروع کرنی ہوگی۔ ماہرین معیشیات کے مطابق، لاک ڈاؤن ختم ہوتے ہی معیشت فوری طور پر بحال نہيں ہوگی۔

ڈاکٹر جاوید کہتے ہيں کہ ”ہم یہ سمجھ رہے ہيں کہ لاک ڈاؤن کے بعد معیشت فوراً ہی پہلے کی طرح ہوجائے گی، لیکن حقیقت میں ایسا نہيں ہوگا۔“ لاک ڈاؤن کے بعد دوسرا مرحلہ شروع ہوگا، جس میں وائرس کو محدود کرنے کی کوشش جاری رہیں گی، لیکن ساتھ ہی معیشت کو مستحکم کرنے کی بھی پوری کوشش کی جائے گی۔ اس مرحلے میں کاروباروں کے سپلائی چینز کو بھی دوبارہ بحال کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

تیسرے مرحلے میں صارفین کی مانگ کم کرنے کی کوشش کی جائے گی، جس کے بعد معیشت بحال ہونا شروع ہوگی۔ ڈاکٹر جاوید کہتے ہيں کہ ان تمام مراحل کے لیے پالیسیاں تیار کرنا بہت ضروری ہوگا۔

ڈاکٹر جاوید مزید بتاتے ہيں کہ لاک ڈاؤن کے بعد زندگی پاکستانی معیشت کے علاوہ بین الاقوامی عناصر کی وجہ سے بھی متاثر ہوگی۔ مثال کے طور پر عرب ممالک میں کساد بازاری کی وجہ سے پاکستانی افراد قوت کی بیرون ملک ملازمتیں بری طرح متاثر ہوں گی۔

ڈاکٹر جاوید مزید کہتے ہیں کہ کاروباروں کو بھی کئی مسائل درپیش ہيں، جنہيں اس وقت نظر انداز کیا جارہا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ”اس وقت ہم سمجھ رہے ہيں کہ لاک ڈاؤن کے باعث کاروباروں کو صرف مالی مسائل درپیش ہيں۔ لیکن ایسا نہيں ہے۔ کاروبار اس کے علاوہ بھی کئی مسائل کا شکار ہيں اور حکومت کو ان کی مدد کرنی چاہیے۔“ ان مسائل میں ملازمین کو تحفظ کی عدم فراہمی، محفوظ ماحول کی عدم فراہمی، اور حکومت کے نافذ کردہ ضوابط کی تعمیل کرنے کے دوران مشکلات سرفہرست ہیں، اور یہ ویکسین ایجاد ہونے تک قائم رہيں گے۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے مطابق، اگر دنیا کو مالی بحران سے بچانا ہے تو تمام ممالک کو ایک ساتھ کام کرنا ہوگا۔ کرونا وائرس وبا کسی ایک ملک تک محدود نہيں ہے، اور اسی لیے اس مسئلے کے حل کی ذمہ داری بھی کسی ایک ملک تک محدود نہيں ہوسکتی۔

کرونا وائرس کے منفی مالی اثرات پر قابو پانے کے لیے موثر اور مخصوص مالی پالیسیوں کی اشد ضرورت ہے، اور اس کے لیے پالیسی سازوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

تحریر: عروج خالد

Read in English

Authors

*

Top