Global Editions

پاکستانی سائنسدانوں نے جھلسنے والے افراد کے لئےکم قیمت مصنوعی جلد متعارف کر ادی

مارکیٹ میں دستیاب زيادہ تر جلد کے متبادل اکثر عام سٹوریج کے دوران غیرمستحکم ثابت ہونے کے علاوہ خون کی نئی نالیوں کی تشکیل کرنے سے بھی قاصر ہیں۔

پاکستانی سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے ایک ایسا کم قیمت نینوذرہ تیار کیا ہےجو جھلسی ہوئی جلد کے علاوہ ہر قسم کے دائمی السر کے علاج میں بھی معاون ثابت ہوسکتا ہے۔

کام سیٹس انسٹی ٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی (COMSATS Institute of Information Technology) کے انٹرڈسپلنری ریسرچ سنٹر ان بائیومیڈیکل میٹیریلز (Interdisciplinary Research Centre in Biomedical Materials - IRCBM) سے وابستہ ڈاکٹر محمد یار اور ان کی ٹیم نے اس تکنیک کو مرغی کے انڈوں کے چھلکوں اور چوہوں کی جلد پر کامیابی سےٹیسٹ کرلیا ہے۔ جلد کا یہ متبادل ایک ایسے ہائيڈروجیل سے تیار کیا گيا ہے جس میں جھلسی ہوئی جلد کے علاج کے لیے ضروری خون کی نالیوں کی تخلیق میں معاون ثابت ہونے والے زنک آکسائيڈ اور زنک پرآکسائيڈ کوٹ کوٹ کر بھرے ہوئے ہيں۔

اس تحقیق کے نتائج حال ہی میں میٹیریلز اینڈ ڈیزائن (Materials and Design) نامی بین الاقوامی سائنٹیفیک جرنل میں شائع ہوئے ہيں۔
2016ء میں شا‏‏ئع ہونے والی عالمی ادارہ صحت کی ایک رپورٹ کے مطابق ہر سال 2.65 لاکھ افراد جھلس کر جاں بحق ہوتے ہیں، جن کی بھاری اکثریت کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں پائی جاتی ہے۔

اس وقت دکانوں میں ایف ڈی اے سےمنظور شدہ جلد کا صرف ایک ہی مبتادل موجود ہے۔ انٹیگرا (Integra) نامی اس جلد کی ری جنریشن کرنے والے ٹیمپلیٹ کے چار مربع سنٹی میٹر کے ایک ٹکڑے کی قیمت 80,000 پاکستانی روپے ہے، جو زيادہ تر پاکستانیوں کی پہنچ سے باہر ہے۔

اس کے علاوہ مارکیٹ میں جلد کے دوسرے متبادل بھی موجود ہيں، لیکن یہ اتنے ہی مہنگے ثابت ہونے کے علاوہ عام سٹوریج کے دوران اکثر عدم استحکام کا بھی شکار ہوجاتے ہیں۔ ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ ان میں سے بیشتر مصنوعات میں اینجیو جینیسس (angiogenesis)، یعنی جلد کے متاثرہ حصے میں خون کی نئی نالیوں کی تشکیل، کی گنجائش موجود نہيں ہے۔ انجیو جینیسس گہرے زخموں کے علاج میں اس وجہ سے اہم کردار ادا کرتا ہے کیونکہ یہ آکسیجن کے قدرتی راستوں کی پیدائش اور سیلز تک غذائی اجزاء کی فراہمی کو ممکن بناتا ہے، جو ٹشو کے ری جنریشن کا باعث بنتا ہے۔ اس وجہ سے یہ مصنوعات جھلسنے والے افراد کو جلد کی موثر ری جنریشن فراہم کرنے میں کامیاب ثابت نہيں ہو پاتی ہیں۔

ڈاکٹر یار کے تیار کردہ جلد کے متبادل سے ان مسائل کا حل ممکن ہے۔ اس میں نہ صرف خون کی نالیوں کی تشکیل کی صلاحیت موجود ہے، بلکہ اس کا دوسرا فائدہ یہ ہے کہ اس میں مقامی طور پر دستیاب مواد کے استعمال کے باعث لاگت بھی کم ہے۔ یہ ہائيڈروجیل دو قدرتی طور پر موجود بائیوپولیمرز کو آپس میں جوڑ کر تیار کیا گیا ہے۔

مرغی کے انڈوں اور چوہوں پر کامیاب تجربات

ریسرچ کی ٹیم نے یہ ہائيڈروجیلز آٹھ روز پرانے فرٹلائیزڈ مرغی کے انڈوں میں، جن میں سے بچے نکالنے کے لیے ایک انکیوبیٹر کا استعمال کیا گیا تھا، متعارف کرنے کی کوشش کی۔ انھوں نے ان جیلز کے انجیوجینک خصوصیات کی تحقیق کرنے کے لیے انڈوں کے چھلکوں کو چیر کر اس جیل کو ان کے کوریوایلینٹوئيک (chorioallantoic) جھلی پر لگایا۔ اس کے بعد ان انڈوں کو احتیاط سے بند کرکے انکیوبیٹر میں 37 ڈگری سنٹی گریڈ کے درجہ حرارت اور 55 فیصد نمی کے تناسب پر رکھ دیا گیا۔ چودھویں روز، روشنی کی مائیکروسکوپ سے کھینچی جانی والی تصویروں کی مدد سے اینجیوجینیسس کی پیمائش کی گئی، جس کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی کہ جن ہائيڈروجیلز میں زنک پرآکسائيڈ کے نینوذرات شامل کیے گئے تھے، ان کی اینجیوجینک سرگرمی بہتر رہی، اور ان میں خون کی نالیوں کی تشکیل کی شرح بھی بہتر تھی۔

اس کے بعد اس مواد کو ایک گہرے زخموں کے شکار چوہے کی جلد پر لگایا اور اس صورت میں بھی کافی امیدافزا نتائج سامنے آئے۔

ہائيڈروجیلز کی زخم بھرنے کی صلاحیتیں

یہ ہائيڈروجیلز بائیوپولیمرز اور نینوذزرات کے ایک میٹرکس سے تیار کیے گئے تھے۔ ان میں استعمال کیے جانے والے پولیمرز اپنی مادی خصوصیات کی وجہ سے وافر مقدار میں پانی جمع کرنے کی صلاحیت رکھتے ہيں۔ نیز، ریسرچ کی ٹیم نے نباتاتی سیلولوز سے بھی فائدہ اٹھایا، جو ایک غیرزہریلا اور کم قیمت پولیمر ہے۔ اس کے علاوہ، ان ہائيڈروجیلز کی تیاری میں سیپیوں سے حاصل کردہ ایک ایسا بائیوپولیمر کا بھی استعمال کیا گیا، جسے عام طور پر پاکستان میں فضلہ سمجھا جاتا ہے۔

آخر میں ان ہائيڈروجیلز میں زنک آکسائيڈ اور زنک پرآکسائيڈ کے نینوذرات بھر دیے گئے، جس کے بعد اس مصنوعی گرافٹ پر متعدد اقسام کے کیمیائی اور حیاتیاتی ٹیسٹس کیے گئے۔

گرافٹ میں استعمال ہونے والے ذرات کا سائز محض کچھ نینومیٹرز تھا، جس کی وجہ سے ان کے لیے ایک وسیع رقبے کی فراہمی کی وجہ سے بہتر بائيوسرگرمی کا مظاہرہ کرنا ممکن ہوا۔

یہ دونوں دھات کے آکسائيڈز تخلیق کاری سے لے کر دواسازی تک، مختلف قسم کے شعبہ جات میں استعمال کیے جارے ہيں۔ زنک آکسائيڈ ایک اینٹی بیکٹیریل ایجنٹ ہے، جس کے نینوذرات زخم بھرنے میں مدد فراہم کرنے کے لیے بائیومیٹیریلز میں استعمال کیے جاچکے ہیں اور اب ان پر ٹشوانجنیئرنگ میں استعمال کے حوالے سے وسیع پیمانے پر تحقیق کی جارہی ہے۔ اس کے مقابلے میں زنک پرآکسائيڈ زیادہ آسانی سے دستیاب ہے، جس کی وجہ سے ٹشو انجنیئرنگ کے لیے ضروری کم قیمت مواد کی تیاری میں اس کا استعمال ممکن ہے۔

تحقیق سے استعمال تک کا سفر

اگلے مرحلے میں مصنوعی جلد کے متبادل کے گرافٹ کے انسانوں پر کلینکل ٹرائلز منعقد کیے جائيں گے۔ اس کے علاوہ، ریسرچ کی ٹیم اسے مارکیٹ میں متعارف کروانے کے لیے سرمایہ کاروں کی بھی تلاش میں ہے۔ ایم آئی ٹیکنالوجی ریویو پاکستان کے ساتھ ایک انٹرویو کے دوران ڈاکٹر محمد یار بتاتے ہيں ،’’ریسرچ کا سب سے مشکل مرحلہ جھلسنے والے افراد کے لیے ایسی مصنوعی جلد کی تیاری تھی، جو کم قیمت ہونے کے علاوہ موثر بھی ثابت ہوسکے، لیکن ایسا صرف مقامی مواد کے استعمال ہی کی وجہ سے ہی ممکن ہوا ہے۔‘‘

ان کے مطابق ان کی ٹیم اپنے نتائج کے متعلق مزید تحقیق کرنے کے لیے چند پلاسٹک سرجنز کے ساتھ بھی کام کررہی تھی۔ وہ کہتے ہيں ’’جب ہم نے اسے جانوروں کے ماڈلز پر ٹیسٹ کیا، تو اس وقت تو کارکردگی بہت اچھی رہی، لیکن اب ہمیں انسانی ٹرائلز میں کامیاب ہونا ہے۔‘‘

لاہور کے میو ہسپتال کے ایسوسی ایٹ پروفیسر اور پلاسٹک اینڈ برن یونٹ کے سربراہ ڈاکٹر مستحسن بشیر کہتے ہيں کہ اس ریسرچ کا ایک معتبر جرنل میں شا‏‏ئع ہونا ہی اس کے نتائج کے امیدافزا ہونے کا سب سے بڑا ثبوت ہے، لیکن وہ اس بات کا بھی اعتراف کرتے ہيں کہ انسانوں پر کلینیکل ٹرائلرز شروع کرنے سے پہلے مزید کئی ٹیسٹس باقی ہيں۔

کام سیٹس انسٹی ٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی میں IRCBM کے سربراہ اور ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر عاقف انور چودھری کہتے ہيں ’’ڈاکٹر محمد یار کی ٹیم میں IRCBM کے مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے 20 سے زیادہ بین الاقوامی سائنسدان شامل ہیں، جو ہڈیوں کی مرمت، نرم ٹشو کی ری جنریشن، دانتوں میں استعمال ہونے والے مواد،سنسرز اور بائیوسنسرز پر کام کررہی ہے۔ اگر انھیں تعاون اور سرمایے کی شکل میں امداد حاصل ہوجائے تو وہ اپنی تحقیق کو عملی جامہ پہنچانے میں کامیاب رہیں گے۔‘‘

محمد یار کی ٹیم پیٹنٹ حاصل کرنے کے لیے پاکستانی اور امریکی حکام کو درخواستیں جمع کرواچکے ہيں۔ یہ ریسرچ ہائیر ایجوکیشن کمیشن (Higher Education Commission - HEC) کے ٹیکنالوجی ڈویلپمنٹ فنڈ (Technology Development Fund) سے حاصل ہونے والے 1.4 کروڑ روپے کے عطیے کے باعث ممکن ہوئی ہے۔

تحریر: سہیل یوسف

Read in English

Authors
Top