Global Editions

پاکستانی سائنسدان کی کینسر کے علاج کی جانب اہم پیش رفت

اس تحقیق میں جسم کے متاثرہ حصوں تک دوا کے نینو ذرات کے زيادہ موثر نفوذ کے لیے خون کے سرخ خلیات کا استعمال کیا گيا ہے۔

کراچی کے علاقے لیاری سے تعلق رکھنے والے سائنسدان محمد وقاص عثمان ہنگورو نے کینسر کے علاج کے لیے ادوایات کی فراہمی کا زيادہ موثر طریقہ کار دریافت کیا ہے ۔

“Efficient RNA drug delivery using red blood cell-extracellular vesicles” نامی یہ تحقیق 15 جون 2018ء کو بین الاقوامی جریدے نیچر کمیونیکیشن میں شائع ہوئی تھی۔

بین الاقوامی کینسر بائیولوجسٹس کی ایک ٹیم کے ساتھ شراکت سے مکمل ہونے والی اس تحقیق کے مطابق انسانی جسم کے خون کے سرخ خلیات میں، جنہيں ایکسٹرا سیلولر ویسیکلز (Extracellular Vesicles - EV) کہا جاتا ہے، جسم کے متاثرہ حصوں تک آر این اے، پروٹین یا ڈی این اے کی شکل ميں ادویات کے نفوذ کی صلاحیت موجود ہوتی ہے، جو کینسر کے علاج میں معاون ثابت ہوسکتی ہے۔

اس تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ پروگرام ایبل رائبونیوکلیک ایسڈ استعمال کرنے والی تھراپیاں اثراندازی کی کمی اور سائٹوزہرآلودگی کی وجہ سے غیرموزوں ہیں۔ تاہم EV خلیات کے درمیان رابطے کا قدرتی طریقہ کار ثابت ہوسکتے ہيں، جس کی وجہ سے ان مسائل کا حل ممکن ہے۔

ریسرچرز کو یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ بلڈ بینکس میں با‎آسانی دستیاب ہونے اور ڈی این اے کی غیرموجودگی کی وجہ سے او خون کے گروپ کے سرخ خلیات کو EV کی وسیع پیمانے پر تخلیق کے لیے عالمگیر ڈونرز کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس پیپر میں بیان کردہ طریقہ کار کو وسیع پیمانے پر آر این اے پر مشتمل ادویات، بشمول اینٹی سینس آلیگونیکلوٹائيڈز (antisense oligonucleotides، Cas9 mRNA) اور رہنما آر این اے، کے نفوذ کے لیے خون کے سرخ خلیات سے حاصل کردہ EV تخلیق کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

ہنگورو نے 2010ء میں کراچی کے زيڈ اے سکول آف میڈيکل ٹیکنالوجی سے کلینیکل لیباریٹری میں بیچلرز کی ڈگری حاصل کی، جس کے بعد انہوں نے آغا خان یونیورسٹی ہسپتال میں شمولیت اختیار کرکے ڈاکٹر جاوید یعقوب کی زیرنگرانی اپنی تحقیق جاری رکھی اور متعدد بین الاقوامی سائنسی جریدوں میں اپنے مقالے شائع کیے۔

2013ء میں انہيں حکومت چین کی جانب سے ماسٹرز پروگرام کے لیے سکالرشپ آفر کی گئی، اور بعد ازاں فل برائٹ پی ایچ ڈی پروگرام کے لیے مایہ ناز یونیورسٹی آف ہانگ کانگ میں داخلہ مل گيا، جہاں انہوں نے ڈاکٹر من لی (Minh Le) کی زیرنگرانی اپنی تحقیق مکمل کی۔

محمد وقاص کی تحقیقی کاوشوں کے اعتراف میں انہیں 16 جون 2018ء کو منعقد ہونے والے بین الاقوامی سمپوزیم آف گریجویٹ سٹوڈنٹس میں دنیا بھر سے شریک ہونے والے 150 سے زائد امیدواروں میں سے اول انعام سے نوازا گيا۔

تحریر: ٹی آر پاکستان

Read in English

Authors
Top