Global Editions

پاکستانی ریسرچرز نینو اینٹی بائیوٹکس کے پیٹنٹس حاصل کرنے میں کامیاب

سپروفلوکساسین اور سی ایچ ایل کے نینو ورژنز مارکیٹ میں دستیاب اقسام سے زيادہ موثر ثابت ہورہے ہيں۔

اس خاکے میں وہ میکانزم دکھایا گیا ہے جس کے تحت سی ایچ ایل نینوکمپوزٹ کے ساتھ انٹریکٹ کرتا ہے۔ بیس NaOH کا OH- گروپ پولیمر کے الیکٹرون کی کمی کے شکار مرکز، یعنی N+-H پر حملہ کرتا ہے، جس کے نتیجے میں +H علیحدہ ہوجاتا ہے اور پولیمر کے N میں الیکٹرون کا صرف ایک جوڑا رہ جاتا ہے۔ یہ تنہا جوڑا فولاد یعنی Fe کو اپنی طرف کھینچتا ہے، جس کے نتیجے میں ایک کورڈینیٹ کوویلنٹ (coordinate-covalent) جوڑ قائم ہوجاتا ہے، جس کی تصدیق Fe-N کے کھینچاؤ کے وائبریشن کی FTIR کی چوٹی سے کی جاسکتی ہے۔ سی ایچ ایل کے کاربونل گروپ میں موجود آکسیجن بھی Fe کی طرف کھنچتا ہے، جس کے باعث دونوں ایٹموں کے درمیان ایک عارضی جوڑ قائم ہوجاتا ہے۔ پولیمر کی شکل کی تبدیلی کے دوران اس جوڑ میں شگاف پڑنے سے نینوکمپوزٹ سے دوا کے اخراج کی برقراری ممکن ہوتی ہے۔

اینٹی بائیوٹکس اکثر اوقات بیکٹیریل انفیکشنز کے علاج میں توقعات کے مطابق کامیاب نہیں ثابت ہوپاتے ہيں۔ روایتی ڈرگ تھیراپی سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ان ادویات کی کارکردگی کئی عناصر پر منحصر ہے، جن میں جسم میں دوا کی بے قاعدہ تقسیم، ریشوں کی کم نفوذپرستی (permeability)، حیاتیاتی طور پر فعال مواد میں ترسندگی (hydrophobicity) میں اضافہ، اور گردش خون کے نظام میں زہرآلودگی میں اضافہ شامل ہيں۔

ن عناصر کے جواب میں دنیا بھر کے محققین ادویات کی ٹارگیٹنگ کی تکنیکوں پر کام کررہے ہيں۔ ان میں سے ایک تکنیک نینو ٹیکنالوجی استعمال کرنے والی تھیراپی ہے، جس کے ذریعے نینو اینٹی بائیوٹکس یعنی اینٹی بائیوٹکس کے نینو ورژنز، تیار کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

نینواینٹی بائیوٹکس کے ذرات کا سائز ایک سے لے 100 نینومیٹرز کے درمیان ہے، اور ان کے روایتی اینٹی بائیوٹکس کے مقابلے میں منفی اثرات کم ہیں اور اثراندازی زیادہ ہے۔
اس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی (Government College University) سے وابستہ ریسرچرز کی ایک ٹیم نے ٹائیفائیڈ، ہیضہ، اور پیچش جیسے امراض، اور آنکھوں، کانوں، جلد اور تنفساتی اور پیشاب کے ٹریکٹس کو متاثر کرنے والے بیکٹیریل انفیکشنز کے علاج کے لیے استعمال ہونے والے دو اینٹی بائیوٹکس، کلورم فینیکول (chloramphenicol - CHL) اور سپروفلوکساسین (ciprofloxacin)، کے نینوورژنز تیار کرلیے ہيں۔

2017ء میں یہ دونوں نینواینٹی بائیوٹکس امریکہ میں پیٹنٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ کلورم فینیکول کا نینوذرہ پیٹنٹ نمبر US 9,393,313 B2 کے تحت اور سپروفلوکساسین کا نینو ذرہ پیٹنٹ نمبر US 9,393,313 B2 کے تحت شائع کیے گئے ہیں۔ اب ان نینو ذرات پر ریسرچ کرنے والی ٹیم کلینکل ٹرائلز شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جس کے لیے وہ پارٹنرشپ قائم کرنے کے لیے پاکستانی یونیورسٹیوں کی تلاش میں ہے۔ اس مرحلے کے بعد ان اینٹی بائیوٹکس کو مارکیٹ میں متعارف کردیا جائے گا۔

کلورم فینیکول (سی ایچ ایل - CHL) کے نینو ورژن کے ذریعے ادویات کو جسم کے متاثرہ حصوں تک بہتر طور پر پہنچانا ممکن ہوگيا ہے، جس کی وجہ سے وہ مارکیٹ میں دستیاب سی ایچ ایل کے مقابلے میں، جو نہ صرف گیسٹروانٹسٹائنل ٹریکٹ میں مکمل طور پر گھل نہيں پاتا ہے، بلکہ اس کی قبل از وقت شکل بھی تبدیل ہوجاتی ہے، زيادہ موثر ثابت ہوسکتا ہے۔

ٹیسٹنگ کے دوران، ریسرچ ٹیم نے سونوکیمیکل (sonochemical) طریقے، یعنی کیمیائی ردعمل پر الٹراساؤنڈ لہروں کے استعمال کے ذریعے اینٹی بائیوٹک کا نینوورژن تیار کیا تھا۔ اس عمل میں ڈائی ایتھائل امینوایتھائل سیلولوز (diethylaminoethyl-cellulose) جیسے بائیوڈی گریڈ ایبل اور بائیو کمپیٹیبل پولیمرز کو فولاد کے ساتھ ملایا گیا، جس کی وجہ سے نتیجے میں حاصل ہونے والے نینوکمپوزٹ میں مقناطیسی صلاحیت پیدا ہوئی اور دوا کی طویل عرصے تک مستقل فراہمی بھی ممکن ہوئی۔

اس امتزاج میں اینٹی بیکٹیریل سرگرمی کی جانچ کے نتیجے میں ثابت ہوا کہ جس نینوکمپوزٹ میں سی ایچ ایل شامل کیا گيا تھا، وہ مارکیٹ میں دستیاب سی ایچ ایل سے0.5 فیصد زيادہ موثر تھا۔ نیز، 48 گھنٹوں کی ٹیسٹنگ کے دوران سی ایچ ایل کے نینو ورژن کی اینٹریپمنٹ ایفیشنسی (ای ای) (entrapment efficiency - EE)، یعنی انسانی جسم میں دوا کے کامیاب طور پر جذب ہونے کا تناسب، بھی مارکیٹ میں دستیاب سی ایچ ایل سے بہتر رہا۔ مارکیٹ میں دستیاب سی ایچ ایل کا ای ای پہلے گھنٹے کے بعد 91 فیصد، دوسرے گھنٹے کے بعد 94 فیصد، اور تیسرے اور چوتھے گھنٹے دونوں کے بعد 97 فیصد رہا۔ اس کے برعکس، اسی دوران نینو ورژن کا ای ای 91 فیصد کی سطح پر برقرار رہا۔

اس ٹیسٹ کے ذریعے یہ بات سامنے آئی کہ مارکیٹ میں دستیاب سی ایچ ایل جسم میں تین سے چار گھنٹوں کے دوران تقریباً مکمل طور پر خارج ہوگیا۔ اس کے برعکس، دوا کا نینو ورژن دو مرحلوں میں خارج ہوا۔ پہلے تین گھنٹوں کے دوران اس کا صرف 52 سے 71 فیصد خارج ہوا، لیکن اس کے بعد پولیمر کے نفوذ اور اس کی شکل کے بگاڑ کے باعث اگلے 48 گھنٹوں کے دوران دوا کے نینو ورژن کا اخراج برقرار رہا۔

اسی طرح ریسرچ کی ٹیم نے نوٹ کیا کہ سپروفلوکساسین سے آراستہ نینو ذرات کا اخراج بھی آٹھ گھنٹوں کے مشاہدے کے دوران برقرار رہا۔ ہمارے ٹیسٹس کے نتائج کے مطابق مارکیٹ میں دستیاب اینٹی بائیوٹکس کے مقابلے میں نینوورژنز کی اینٹی بیکٹیریل سرگرمی بھی بہتر تھی۔

ہم نے سپروفلوکساسین کے نینو ذرات کی خصوصیات کے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لیے کئی ٹیسٹ کیے، جن میں ان کی تحلیل اور استحکام کے مطالعے بھی شامل تھے۔ تحلیل کے ٹیسٹ کے دوران دوا کے اخراج کی آٹھ گھنٹے تک نگرانی کی گئی، جس کے بعد نینوذرات کا متواتر اخراج سامنے آیا۔ استحکام کے مطالعے کا مقصد نینوورژن کے مختلف درجہ حرارت اور نمی کے تناسب پر کیمیائی، مائیکروبائیولوجکل اور فزيکل خصوصیات کے متعلق معلومات حاصل کرنا تھا، اور اس کے نتیجے میں یہ ثابت ہوا کہ جو نینوورژن نینوسسپینشن کی شکل میں تھا، وہ ایک ماہ کے اندر ہی غیرمستحکم ہوگيا، لیکن جو پاؤڈر کی شکل میں تھا، اس کا استحکام چھ مہینوں تک برقرار رہا۔

اس کے علاوہ، نینوذرات پر ریسرچ کرنے والی ٹیم نے دوا کی سالمیت کے تعین کے لیے مختلف درجہ حرارت پر اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے لیکوئيڈ کروموٹوگرافی (high performance liquid chromatography - HPLC) کا بھی تجزیہ کیا، جن میں نینو ورژن کی سرگرمی دکانوںمیں دستیاب ورژن سے زيادہ رہی۔

نینواینٹی بائیوٹکس کے نمایاں فوائد میں مطلوبہ ریشوں تک دوا کی بہتر فراہمی، پانی میں بہتر طور پر گھلنے کی صلاحیت، زیادہ تیزی سے تحلیل اور بہتر اثراندازی، صرف متاثرہ سیلز کو نشانہ بنانے کی صلاحیت، کم مقدار میں استعمال ہونے کی وجہ سے کم لاگت، اور پیٹ کی سوزش کے امکان میں کمی شامل ہیں۔

ڈاکٹر محمد اخیار فرخ جی سی یونیورسٹی لاہور میں ایسوسی ایٹ پروفیسر اور نینوکیمسٹری کے لیب کے تفتیش کار پراجیکٹس اور بانی ڈائریکٹر ہیں۔ ان کی ریسرچ ٹیم میں آدرش شمس اور محمد ریحان گل شامل تھے، جنھوں نے ان کی زیرنگرانی اپنے ایم ایس کی تعلیم مکمل کی۔

تحریر: ڈاکٹر اخیار فرخ

Read in English

Authors
Top