Global Editions

پاکستانی تحقیق کاروں نے انٹرنیٹ کےلئے کیلیگرافی اردو فونٹ تیار کر لیا

اردو ہماری قومی زبان ہے اور ہر زبان کو تحریر کرنے کے لئے کچھ اصول وضوابط موجود ہوتے ہیں۔ اردو اس لحاظ سے مختلف بھی ہے کہ اس کو دائیں سے بائیں جانب لکھا جاتا ہے تاہم اگر کسی اردو جملے میں اعداد لکھے ہوں تو وہ بائیں سے دائیں جانب پڑھے جائیں گے۔ اس طرح اردو زبان کے لئے کئی طرح کے قواعد اصول اور گردانیں موجود ہیں۔ اسی طرح اردو رسم الخط بھی دیگر زبانوں سے ذرا مختلف ہی ہے کیونکہ انگریزی کی طرح ہر حرف الگ نہیں ہوتا بلکہ مختلف حروف کو جوڑ کر الفاظ کی شکل دی جاتی ہے۔ اسی طرح ہر لفظ کی بناوٹ بھی مختلف ہوتی ہے اور لکھائی میں فرق بھی موجود ہوتا ہے۔

ہر کاتب یا خوش نویس کے لئے ضروری ہے کہ وہ زبان کے تمام اسرارورموز سے آشنا ہو۔ زبان کے اصول وضوابط اور گرائمر کی پابندیوں کا علم رکھتا ہو کیونکہ اسے مختلف رسم الخطوط میں بھی اردو کو لکھنا پڑ سکتا ہے۔ ہمارے ہاں عمومی طور پر اردو کی تحریر کے لئے نستعلیق خط استعمال کیا جاتا ہے۔ نصراللہ مہر بھی ایک پاکستانی خوش نویس ہیں وہ اپنے کام میں خاصی شہرت رکھتے ہیں اور انہیں اپنی کارکردگی پرگورنرپنجاب کی جانب سے 1998 یوسف سدیدی ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ وہ اس شعبے سے قریباً تیس برس سے منسلک ہیں اور کئی کتابوں، جرائد اور اخبارات کے لئے خوش نویسی کے فرائض سرانجام دے چکے ہیں۔

تاہم اب انٹرنیٹ کے اس دور میں ان کا کاروبار بھی تیزی سے متاثر ہونا شروع ہو گیا۔ ان کے صاحبزادے ذیشان مہر نے کاروبار کے زوال کے اس دور میں اپنے خاندانی کاروبار میں شمولیت اختیار کی۔ وہ کمپیوٹر پروگرامر ہیں لہذا انہیں انٹرنیٹ کے لئے موثر اور مکمل اردو فونٹ تیار کرنے کا خیال آیا۔

باپ اور بیٹے دونوں نے دس سال تک اس فونٹ کی تیاری کے لئے کام کیا۔ تاہم وہ اس اردو فونٹ کو مین سٹریم میں لانے میں وسائل کی قلت کے باعث ناکام رہے۔ انہیں یہ علم نہیں تھا کہ وہ اپنے اردو فونٹ کی کس طرح سائنٹفک جانچ کرائیں۔

انفارمیشن ٹیکنالوجی یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر عمر سیف اور لینگوئسٹک ٹیکنالوجی ایکسپرٹ ڈاکٹر آغا علی رضا کے تعاون سے انہوں نے نستعلیق کا مکمل اردو فونٹ تیار کر لیا۔ یہ نیافونٹ دیکھنےمیں بہت ہی خوبصورت اور اسے آسانی کے ساتھ انٹرنیٹ براؤزر میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

مہر نستعلیق ویب فونٹ اوپن ٹائپ فونٹ (OTF) ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ ہے۔ مارکیٹ میں دستیاب دیگر نستعلیق فونٹس کے مقابلے میں اس فونٹ کو ایک امریکی تنظیم کریٹیو کومنز کی جانب سے لائسنس بھی جاری کیا گیا ہے۔ اس او ٹی ایف فائل کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ یہ فائل سائز میں صرف 107 کلوبائیٹ کی ہے۔ یہ فونٹ نستعلیق کے تمام اصولوں کی پیروی کرتا ہے اور الفاظ کی اونچائی اور بناوٹ کو درست انداز میں پیش کرتا ہے۔

اس فونٹ کی مدد سے اردو ٹائپنگ پلیٹ فارم کو ان تمام آپریٹنگ سسٹمز میں استعمال کیا جا سکتا ہے جو او ٹی ایف کو سپورٹ کرتے ہیں جن میں مائیکروسافٹ ونڈوز، یونکس، لینکس اور اینڈرائڈ شامل ہیں۔ اسی طرح اس کو گوگل کروم، انٹرنیٹ ایکسپلورر، موزیلا اور سفاری پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

اس حوالے سے پاکستان میں خوش نویسوں کی تنظیم کے سربراہ خالدجاوید یوسفی نے فونٹ کا جائزہ لیا اور اور انکا کہنا تھا کہ یہ فونٹ نستعلیق کیلی گرافی میں بہت اہمیت کا حامل ہے۔ اور یہ فونٹ الفاظ کی بناوٹ کے اصولوں کی بھی مکمل طور پر پاسداری کرتا ہے۔

مہر نستعلیق فونٹ کو http://csalt.itu.edu.pk/urdufont سے ڈاؤن لوڈ بھی کیا جا سکتا ہے۔

تحریر: ماہ رخ سرور (Mahrukh Sarwar)

Read in English

Authors
Top