Global Editions

اینٹی بائیو ٹیکس کے خلاف مزاحمت رکھنے والے ٹائیفائیڈ کے لیے ہنگامی اقدامات

پاکستان واحد ملک ہے جس نے دنیا کی پہلی ادویات سے مزاحمت رکھنے والے ٹائیفائيڈ سٹرین کے جواب میں اینٹی بائیوٹکس کے خلاف مزاحمت کو روکنے کے لیے نیشنل ایکشن پلان تیار کیا ہے۔

صوبہ سندھ کے دوسرے سب سے بڑے شہر حیدرآباد میں قاسم آباد کے گنجان آباد محلے کو 2008ء میں قائم کردہ ایک فلٹریشن پلانٹ سے پینے کا پانی فراہم کیا جاتا ہے۔ ایک ماہ پہلے تک، اس محلے کے رہائشی یہی سمجھتے رہے کہ انہیں‘صاف’ پانی سے کوئی نقصان نہيں پہنچے گا۔ لیکن چار سالہ عادل اور اس کے والد اصغر کو اس مفت ‘فلٹرشدہ’ پانی کی بہت بھاری قیمت ادا کرنی پڑی۔

عادل پر تین ہفتوں تک تیز بخار اور شدید غنودگی طاری رہی۔ پہلے تو حیدرآباد کے ایک کلینک کے ڈاکٹر نے اسے فرسٹ لائن اینٹی بائیوٹکس لکھ کر دیں، لیکن بخار میں کسی صورت افاقہ نہيں ہوا۔ ایک ہفتے بعد ایک جنرل فزيشن نے دوبارہ منہ کے ذریعے دی جانے والی اینٹی بائیوٹکس کا کورس لکھ کر دیا، لیکن بخار اسی طرح قائم رہا۔ آخرکار عادل کو کراچی کے ایک سرکاری ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں لے جایا گیا۔

اصغر نے بتایا ،"میرے بیٹے کی حالت بہت خراب تھی۔ اسے بہت تیز بخار رہتا تھا اور اس میں کوئی بھی کام کرنے کی طاقت نہيں تھی۔ پھر ہمارے ایک رشتہ دار نے ہمیں کراچی آکر علاج کروانے کا مشورہ دیا۔" کئی ہفتے بیمار رہنے کے بعد، عادل کو ہسپتال کے آئی سی یو میں داخل کردیا گیا، اور ٹیکوں کے ذریعے اینٹی بائیوٹکس کا کورس شروع کیا گیا۔ دو دن بعد خون کے معائنے سے معلوم ہوا کہ عادل کےجسم نے اینٹی بائیوٹک ادویات کے خلاف شدید مزاحمت اختیار کر لی ہے یعنی ایکس ڈی آر ٹائیفائيڈ کا شکار ہے، جس کا واحد علاج ایزتھرومائسن (azithromycin) نامی نہایت طاقت ور براڈ سپیکٹرم اینٹی بائیوٹک ہے، جسے آخری حربے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ علاج کے باوجود، عادل مزيد چھ روز تک بیمار رہا، اور اسےمکمل ٹھیک ہونے میں کئی ماہ لگے۔ اصغر کہتے ہیں،"ڈاکٹروں نے مجھے بتایا کہ ہم جو پانی پی رہے تھے، وہ پینے کے قابل نہيں تھا۔ اگر یہ پلانٹ پانی صاف نہيں کرسکتا ہے تو اسے فلٹر کیوں کہا جاتا ہے؟" اصغر کو اب اس بات کی پریشانی لاحق ہے کہ انہيں پینے کے لیے صاف پینے خریدنے کی ضرورت ہوگی، جس سے ان کے اخراجات میں اضافہ ہونے والا ہے۔

مزید پڑھیں: پینے کا پانی اس قدر خطرناک کیوں ؟

پاکستان میں ایکس ڈی آر ٹائیفائيڈ کے اور بھی کیسز سامنے آئے ہيں۔ نومبر 2016ء میں صوبہ سندھ میں، خصوصی طور پر حیدرآباد اور کراچی میں، دنیا کی پہلی ایکس ڈی آر ٹائیفائيڈ کی وبا شروع ہوئی۔

ٹائیفائيڈ سیلمونیلا ٹائیفی (Salmonella Typhi) نامی بیکٹیریا کی وجہ سے پیدا ہونے والی خطرناک بیماری ہے، اور عالمی ادارہ صحت کے مطابق، ہر سال 1.1 سے 2 کروڑ کے درمیان افراد اس مرض کا شکار ہوتے ہیں، جن میں سے 128,000 اور 161,000 کے درمیان افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہيں۔

ایکس ڈی آر ٹائیفائيڈ کل ملا کر پانچ اینٹی بائيوٹکس کے خلاف مزاحمت رکھتا ہے، اور ماضی میں کبھی بھی کسی وبا میں اس کی نشاندہی نہيں کی گئی تھی۔ طبی ماہرین کے مطابق پاکستان میں وبائی امراض میں اضافے کی دو بڑی وجوہات حفظان صحت کا فقدان اور غذائی تحفظ کی پالیسی کی عدم موجودگی ہیں۔

اس وقت اس وبا کا نشانہ بننے والے افراد کے متعلق سرکاری اعدادوشمار حاصل نہيں ہوسکے ہيں، لیکن آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کے ریکارڈز کے مطابق ان کی لیب میں صوبہ سندھ کے 14 اضلاع میں کم از کم ایک ہزار ٹائیفائيڈ کیسز کی تصدیق ہوچکی ہے، جن میں سے 800 کیسز 2016ء اور 2017ء میں دس ماہ کے دوران حیدرآباد ہی سے سامنے آئے تھے۔ تاہم یہ اعداد و شمار صرف آغا خان اور لیاقت یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز سے حاصل کیے گئے ہیں، اور ان میں دوسرے ہسپتالوں میں داخل مریضوں کو شمار نہيں کیا گیا ہے۔

حیدرآباد میں آغاخان یونیورسٹی ہسپتال کی ٹائیفائڈ سے بچاؤکی مہم۔

کام جاری ہے

کراچی میں نامور وبائی امراض کے ماہرین بتاتے ہيں کہ حقیقی اعداد و شمار اس سے کہیں زيادہ ہیں، اور یہ وبا پورے ملک میں بڑی تیزی سے پھیل رہی ہے۔
کراچی کے انڈس ہسپتال میں وبائی امراض کی ہیڈ ڈاکٹر نسیم صلاح الدین کہتی ہیں "پچھلے ماہ (مئی کے مہینے میں) تقریبا ً ایک درجن ایکس ڈی آر کے مریض کو ہسپتال میں داخل کیا گيا تھا۔ شعبہ اطفال میں اس سے کہیں زيادہ مریض ہیں۔ بلکہ حال ہی میں ہمارے پاس جتنے بھی ٹائیفائيڈ کے مریض لائے گئے ہيں، سب ہی ایکس ڈی آر ہی کا شکار ہیں۔"

ٹائیفائيڈ کے شکار افراد کی تعداد میں اضافے کے علاوہ، ڈاکٹر صلاح الدین ایک اور مسئلے کا بھی ذکر کرتی ہيں۔ ان کے مطابق پیچیدگیوں کی وجہ اس بیماری سے زيادہ اس کی غلط تشخیص یا تشخیص میں تاخیر ہے۔ "عام طور پر مریض کئی ہفتے بیمار رہنے کے بعد ہمارے پاس آتے ہيں۔ یا تو انہيں کسی ڈاکٹر نے کوئی اینٹی بائیوٹکس لکھ کر دی ہوں گی جن سے کوئی فائدہ نہيں ہوا، یا انہوں نے اپنی مرضی سے دوائيں کھا لی ہوں گی۔ تشخیص میں جتنی تاخیر ہوگی، علاج کی کامیابی کے امکانات اتنے ہی کم ہوں گے۔"

ڈاکٹر صلاح الدین مزید بتاتی ہیں کہ علاج میں تاخیر شدید پیچیدگیوں کا باعث بن سکتی ہے۔ وہ کہتی ہيں، "ہمارے پاس ایک ایسی مریضہ لائی گئی جو کئی ہفتوں سے بیمار تھیں۔ دوران انجکشن ان کے داہنے بازو کے پٹھوں میں شدید سوجن ہونے لگے۔ معلوم ہوا کہ بیماری ان کے پورے جسم میں پھیل گئی تھی اور ان کا جگر تباہ ہوگيا تھا۔"

پاکستان میں امور صحت کی حالت زار پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر صلاح الدین بتاتی ہیں کہ ایکس ڈی آر ٹائیفائيڈ کا علاج "بہت کٹھن" ہے۔ "ہم، یعنی وبائی امراض کے ماہرین، اب تک اس بات پر اتفاق کر ہی نہيں پائے ہيں کہ کس قسم کے علاج سے فائدہ ہوگا۔ بعض دفعہ ابتدائی دنوں میں تھرڈ لائن اینٹی بائيوٹکس دینے کے باوجود بھی مریضوں کی حالت میں بہتری نہيں آتی ہے، اور بعض دفعہ صرف دوا کھانے سے ہی کام ہوجاتا ہے۔ ہم اب تک اس مسئلے کے حل کے لیے کام کر ہی رہے ہیں۔"

مزاحمت کے خلاف جنگ

دنیا بھر میں اینٹی بائيوٹک کے خلاف مزاحمت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے جس کی وجہ سے جدید طبی شعبے کو بہت شدید خطرہ درپیش ہے۔ پاکستان میں دنیا بھر کا پہلا وسیع پیمانے پر ادویات سے مزاحمت رکھنے والا وائرس سامنے آیا ہے، اور وبائی امراض کے ماہرین اس مسئلے کا حل نکالنے کے لیے بے تاب ہيں۔

مزید پڑھیں: سطح زمین پر پانی کی نشاندہی کے لئے مشینی ذہانت کا استعمال

چھہتر کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک پر مشتمل ایک مطالعے کے مطابق دنیا بھر میں اینٹی بائیوٹکس کے استعمال کے لحاظ سے بھارت اور چین کے بعد پاکستان تیسرے نمبر پر ہے، اور پچھلے 16 سالوں میں پاکستان میں اینٹی بائیوٹکس کے استعمال میں 65 فیصد اضافہ سامنے آیا ہے۔

پروسیڈنگز آف دی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز (Proceedings of the National Academy of Sciences) کے سائنسی جرنل میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق، 2000ء اور 2015ء کے درمیان پاکستان میں اینٹی بائیوٹک کا استعمال 80 کروڑ یومیہ خوراکوں سے بڑھ کر 1.3 ارب یومیہ خوراکیں ہوگیا۔

سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانس پلانٹیشن (ایس آئی یو ٹی) میں وبائی امراض کے ڈپارٹمنٹ کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر عاصمہ نسیم کہتی ہیں، "اینٹی بائیوٹکس کے اس ضرورت سے زیادہ استعمال کی ایک بہت بڑی وجہ ڈاکٹرز خود ہیں۔ ادویات فروش کمپنیوں سے زيادہ کمیشن حاصل کرنے یا مریضوں کے سامنے خود کو زيادہ قابل ظاہر کرنے کے چکر میں وہ وافر مقدار میں اینٹی بائیوٹکس لکھ کر دے دیتے ہيں۔"اس کے علاوہ، پاکستان میڈیکل ایسوسیشن کے مطابق، پاکستان میں اس وقت چھ لاکھ سے زیادہ غیررجسٹرڈ ڈاکٹر موجود ہيں۔ یہ قومی صحت کے لیے نہایت خطرناک صورتحال ہے، اور ڈاکٹر نسیم کہتی ہیں کہ اینٹی بائیوٹک کے بے جا استعمال کے خلاف جنگ کا اعلان کرنے کا وقت آگیا ہے۔

وہ مزید بتاتی ہيں کہ یہ بیکٹیریل سٹرین کراچی کے ضلع جنوبی تک پہنچ چکا ہے جو نہایت پریشانی کی بات ہے۔ "اس وقت شہری اور دیہی علاقوں دونوں ہی میں غذائی اور پانی کی آلودگی سے نمٹنے کی اشد ضرورت ہے۔ ایس آئی یو ٹی میں روزانہ ایک مریض آتا ہے، اور اب یہ مرض ہنگامی صورتحال اختیار کرچکا ہے۔" وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ سول ہسپتال کے اطراف ایک ہی گندے پانی کا نالہ استعمال کرنے والے علاقہ جات سب سے زيادہ متاثر ہوئے ہيں۔

حیدرآباد میں آغاخان یونیورسٹی ہسپتال کی ٹیم کوٹائیفائڈ سے بچاؤ کا ٹیکہ لگاتے ہوئے۔

جیب پر بھاری

12 اپریل کو کراچی شدید گرمی کی لہر کی لپیٹ میں تھا، اور ہسپتالوں میں درجنوں کے حساب سے ہیٹ سٹروک کے شکار افراد لائے جارہے تھے۔ لہٰذا جب ڈاکٹر تحریم کو بخار ہوا، وہ یہی سمجھیں کہ انہیں بھی ہیٹ سٹروک ہی ہوا ہے۔

وہ بتاتی ہيں ،"میں جب گھر آئی تو میرے جسم کی توانائی بالکل ختم ہوچکی تھی، اور میری گردن میں کافی درد ہورہا تھا۔ مجھے لگا کہ مجھے بھی ہیٹ سٹروک ہی ہوا ہے اور میں نے پیناڈول کی ایک گولی کھالی، لیکن پانچ گھنٹے بعد بخار واپس آگیا، اور مجھ پر کپکپی طاری ہونا شروع ہوگئی۔ یہ میری زندگی کا سب سے برا تجربہ تھا۔"

ڈاکٹر تحریم اگلے دو روز تک ملیریا کی دوائيں کھاتی رہیں، لیکن کوئی فائدہ نہيں ہوا۔ وہ بتاتی ہیں کہ ان کا جسم تپ رہا تھا، اور ان کا بخار چڑھتا اترتا رہا۔ ڈاکٹر تحریم نے، جو خود ایک وبائی امراض کی ماہر ہیں، اپنی پیشہ ورانہ زندگی کے دوران کئی ایکس ڈی آر کے مریضوں کا علاج کیا تھا، لیکن انہيں کبھی اس بات کا احساس نہیں ہوا تھا کہ یہ مرض کتنا تکلیف دہ ثابت ہوسکتا ہے۔

خون کے ٹیسٹس کے ذریعے انفیکشن کی تصدیق کے بعد انہيں ہسپتال میں داخل کردیا گیا۔ شروع میں ان کا بخار دن میں پانچ دفعہ سے کم ہو کر صرف تین دفعہ ہوتا تھا، لیکن تین روز بعد انہيں دوبارہ بہت تیز بخار چڑھنے لگا، اور ان کے پاس آئی وی انجیکشنز کے دہری خوراکوں کے علاوہ اور کوئی چارہ نہيں تھا۔
ڈاکٹر تحریم کا علاج تین ہفتے سے زيادہ عرصے تک جاری رہا، اور اس پر ایک لاکھ سے زيادہ روپے خرچ ہوئے۔

وہ بتاتی ہیں، "ایک تھرڈ لائن اینٹی بائیوٹک کی قیمت تین ہزار روپے سے زیادہ ہے، اور ایکس ڈی آر کے علاج کے دوران مریض کو متعدد خوراکیں دی جاتی ہیں۔ یہ علاج ایک سے دو ہفتے، بعض دفعہ اس سے بھی زيادہ تک چلتا ہے، اور اس کے علاوہ آئی وی ڈرپس اور ہسپتال کے اخراجات بھی ہوتے ہیں، ایسے بہت لوگ ہیں جو علاج کے اخراجات برداشت نہيں کرسکتے ہيں۔"

ڈاکٹر نسیم بتاتی ہيں کہ 14 دن تک علاج کروانے کے اوسط اخراجات 50,000 روپے ہیں، اور سرکاری ہسپتالوں میں ٹائیفائيڈ کی تشخیص کے لیے ضروری ٹیسٹس کی قیمت 1,500 سے 1,800 روپے کے درمیان ہے۔ وہ کہتی ہیں،"یہی وجہ ہے کہ ٹیکے لگوانا بہت ضروری ہے۔ کم آمدنی والے افراد کے لیے اس قسم کے اخراجات برداشت کرنا ناممکن ہے۔"

آخری حربہ

آغا خان یونیورسٹی اور برطانیہ میں ویلکم سینگر انسٹی ٹیوٹ(Wellcome Sanger Institute)سے وابستہ سائنسدانوں کی ایک ٹیم کو ٹائیفائيڈ کی وجہ بننے والے بیکٹیریم کے مطالعے کے بعد معلوم ہوا کہ وبا کی ایک وجہ پینے کے پانی میں گندے پانی کے نالیوں کے باعث آلودگی ہوسکتی ہے۔
جیسے جیسے وبا پھیلتی گئی، جنوری میں حیدرآباد میں 250,000 بچوں کو ایک نئے ٹائیفائيڈ کے قطرے پلانے کی مہم شروع کی گئی جس کی عالمی ادارہ صحت سےمارچ میں پیشگی منظوری حاصل ہوچکی تھی۔ بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن نے اس مہم کے لیے دوا کی شیشیاں اور یو ایس ایجنسی فار انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ نے سرنجیں فراہم کیں۔

اس قطرے پلانے کی مہم کے منظم ڈاکٹر طاہر یوسفزئی کے مطابق یہ قطرے کم از کم پانچ سال تک کارآمد رہتے ہيں، اور چھ ماہ سے لے کر دس سال کی عمر تک بچوں کی دیے جاسکتے ہيں۔

ٹائیفائيڈ سیلمونیلا ٹائیفی (Salmonella Typhi) نامی بیکٹیریا ٹائیفائڈ بخار کی وجہ بنتا ہے۔

آغا خان یونورسٹی میں مائيکروبائیالوجی کی پروفیسر اور اس مطالعے کی شریک بانی ڈاکٹر سعدیہ شکور کہتی ہیں، "ٹائيفائيڈ صوبہ سندھ میں ایک قابل اطلاع مرض ہے، لیکن اینٹی بائیوٹیک سے مزاحمت کے بارے میں بات نہيں کی جاتی ہے۔ ہم صوبائی محکمہ صحت کو اس شدید حد تک مزاحمت کرنے والے بیکٹیریا کے بارے میں بتاچکے ہيں، اور حکومت کو نئے مریضوں کے متعلق ہفتہ وار اطلاعات بھی فراہم کرتے رہتے ہیں۔"

وہ بتاتی ہيں کہ اب حکومت ان کی معاونت کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔

ڈاکٹر شکور مزید بتاتی ہيں، "پاکستان میں اب اینٹی بائیوٹک کے خلاف مزاحمت کو محدود کرنے کے لیے نیشنل ایکشن پلان تیار ہوچکا ہے، جو عملدرآمدگی کے ابتدائی مراحل میں ہے۔ ہم فوری تبدیلی کی تو توقع نہيں کرسکتے ہيں، لیکن منصوبے کی عملدرآمدگی شروع ہوچکی ہے، اور ہم کافی پرامید ہيں۔"

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں 40 فیصد انفیکشنز کی وجہ گندا پانی ہے۔ حال ہی میں سندھ میں پانی کے معیاراورنکاسی کے متعلق ایک عدالتی کمیشن نے سپریم کورٹ آف پاکستان کو بتایا کہ پورے صوبے میں ایک بھی پانی صاف کرنے کا پلانٹ کام نہيں کررہا ور پانی سپلائی کرنے والا نظام نہ صرف بے کار ہے بلکہ اس کے ڈیزائن میں بھی نقص ہیں۔ جبکہ گندے نالے کا پانی 750 پوائنٹس کی شرح سے آبپاشی کے پانی یا نہروں میں بہہ رہا ہے۔

مزید پڑھیں: اب مچھر کاٹیں گے نہ ڈینگی پھیلائیں گے

یہ بات بھی سامنے آئی کہ ہسپتالوں میں نہ ہی زیریلے فضلے کو تلف کرنے کا نظام ہے اور نہ ہی پینے کے صاف پانی کا بندوبست ۔پانی کی نکاسی کا نظام بند ہونے کی وجہ سے ہسپتال کے وارڈز کے اطراف فضلے کے انبار لگے ہوئےہیں ۔ ترقی یافتہ ممالک میں وبائی امراض کا شاید ہی کسی نے نام سنا ہوگا۔ وبائی امراض کی سب سے بڑی وجہ گندہ پانی اور غذائی آلودگی ہے، جس کا مطلب ہے کہ حکام کے پاس وقت بہت کم ہے۔

پینے کے پانی کو صاف کرنے کے لیے، حکومت نے سندھ بھر کے کم آمدنی والے علاقہ جات میں 40 سے 50 ہزار کلورین کی گولیاںتقسیم کیں۔ آگاہی مہم کے دوران کتابچے تقسیم کیے گئے، جن پر "کلورین ڈالیں یا پانی ابالیں" کی ترغیب کی گئی۔

مشکلات کے باوجود اس سلسلے میں کافی پیش رفت ہوچکی ہے۔ پاکستان اب دنیا کا پہلا ملک ہے جس میں ٹائيفائيڈ کے قطروں کی منظوری حاصل ہوچکی ہے۔

ڈاکٹر یوسفزئی بتاتے ہيں، "اب تک لطیف آباد اور قاسم آباد میں، جو سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ جات تھے، 65 ہزار خوراکیں دی جاچکی ہيں۔ ہمیں وزارت صحت، کمشنر حیدرآباد اور لیڈی ہیلتھ ورکر پروگرام کا بھی تعاون حاصل ہے، جس کی وجہ سے ہمارے لیے حساس علاقہ جات تک پہنچنا آسان ہوگیا ہے۔"

تاہم پاکستان میں قطرے پلانے کی مہمیں اکثر ہی تنازعے کا شکار رہی ہیں، اور اس مہم کو بھی اسی قسم کی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔

مارچ میں سندھ کے ضلع نواب شاہ میں خسرے کے زائد المیعاد قطرے پلائے جانے کے باعث تین بچوں کی اموات کے بعد سوشل میڈیا پر سرکاری قطرے پلانے کی مہموں کے خلاف افواہیں پھیلنا شروع ہوگئيں۔

ڈاکٹر یوسفزئی بتاتے ہيں، "شہری اور دیہی علاقوں دونوں ہی میں بڑی تعداد میں لوگوں نے موت کے ڈر سے ٹیکے لگوانے سے انکار کردیا، اور ہماری مہم کو بہت نقصان پہنچا۔"

اس مہم کے علاوہ ٹیکوں تک رسائی کو بہتر بنانے کے لیے کام کرنے والے نجی اور سرکاری سطح پر عالمی صحت کی شراکت GAVI، ویکسین الائنس، نے ٹائیفائيڈ کے ٹیکوں کو ترقی پذیر ممالک تک پہنچانے کے لیے 850 کروڑ روپے دینے کا وعدہ کیا ہے۔

ڈاکٹر یوسفزئی کہتے ہیں ،"ہمارے پاس زيادہ آپشنز نہيں تھے، جس کی وجہ سے ہم نے GAVI سے مدد حاصل کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن اس پورے عمل میں پھر بھی ایک سے ڈیڑھ سال لگيں گے۔"

وہ مزید بتاتے ہيں کہ یہ ٹیکے بچوں کے لیے (جو سب سے زیادہ سے ٹائيفائيڈ کا نشانہ بنتے ہيں) حکومت کے وسیع پروگرام برائے امیونائزیشن میں شامل کیے جائيں گے، تاکہ یہ زيادہ سے زيادہ لوگوں تک اس پروگرام کی رسائی ہو۔

ڈاکٹر یوسفزئی کہتے ہیں، "اگر یہ ٹیکے وسیع پیمانے پر فراہم نہ کیے گئے تو تھرڈ لائن اینٹی بائیوٹکس کے خلاف بھی مزاحمت پیدا ہونا شروع ہوجائے گی۔ پھر کیا ہوگا؟" ان کے مطابق طبی شعبے کا پورا مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے۔

تحریر: رمشا جہانگیر (Ramsha Jahangir)

Read in English

Authors
Top