Global Editions

پاکستانی انجینئر نےتین گنا کم توانائی خرچ کرنیوالا پنکھا تیار کر لیا

پاکستان کے باسی اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ وطن عزیز کس طرح توانائی کے شدید ترین بحران کا شکار ہے اور چونکہ پاکستان میں موسم گرما کی طوالت نسبتاً زیادہ ہے اس لئے گرمیوں کے طویل دنوں میں جب توانائی کا بحران شدید ہو جاتا ہے تو ان تپتی دوپہروں میں اگر پنکھے کی ہوا بھی دستیاب نہ ہو تو زندگی دوبھر ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ بجلی کی بندش کے دوران اگر یو پی ایس( Uninterruptible Power Supply ) بھی کام کرنا چھوڑ دے تو انسان شدید جھنجھلاہٹ کا شکار ہو جاتا ہے اور اس سے صورتحال زیادہ سنگین ہو جاتی ہے۔

اب جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے چھت پر لگے پنکھوں کے استعمال سے نہ صرف توانائی کی بچت کے ساتھ ساتھ بجلی کے بھاری بلوں میں کمی کا امکان ہے بلکہ اب پنکھے متبادل توانائی کے ذرائع سے براہ راست توانائی کو ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کے حامل بن سکتے ہیں۔

انفارمیشن ٹیکنالوجی یونیورسٹی(ITU) کے شعبہ الیکٹرک انجینئرنگ کے سربراہ ڈاکٹر توصیف توقیر نے اپنے ریسرچ ایسوسی ایٹ افنان انصاری کے ہمراہ اس پراجیکٹ پر کام کا آغاز کیا۔ ڈاکٹر توصیف قبل ازیں نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (NUST) کے شعبہ توانائی، الیکٹرانکس اینڈ کنٹرول کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں اور انہوں نے اس پراجیکٹ پر کام کا آغاز وہاں سے کیا تھا تاہم یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی جوائن کرنے کے بعد بھی انہوں نے اپنے اس پراجیکٹ پر کام جاری رکھا اور اب وہ کم توانائی خرچ کرنے والا پنکھے کا حتمی ماڈل تیار کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے ایک پاکستانی صنعتی ادارے کے لئے ایسے ہی ایک ہزار پنکھے تیار کرنے کا آرڈرحاصل کیاہے۔

پنکھوں کے لئے وضع کی جانیوالی اس نئی ٹیکنالوجی میں ایک نئے فنکشن جسے برش لیس ڈی سی (Brushless DC ) کا نام دیا گیا ہے کو شامل کیا گیا ہے۔ اس کی مدد سے پنکھے روایتی انداز میں استعمال ہوتے ہوئے 80 سے 100 واٹ بجلی استعمال کرتے ہیں تاہم اس ٹیکنالوجی کے تحت تیار ہونے والے پنکھے صرف 32 واٹ بجلی استعمال کریں گے اور توانائی کی اس بچت سے پنکھوں کی کارکردگی اور ہوا دینے کی رفتار میں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ توانائی کے استعمال میں کمی کا فائدہ صارف کو پہنچے گا اور اس کے بجلی کے بلوں میں نمایاں کمی ممکن ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ملک کو توانائی کے بحران سے نکلنے میں بھی مدد ملے گی۔

پاکستان میں توانائی کے بحران کے ساتھ ساتھ شہریوں کو وولٹیج میں اتار چڑھاؤ کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے یعنی بعض اوقات وولٹیج بہت زیادہ ہو جاتے ہیں اور بعض اوقات بہت ہی کم جس کی وجہ سے قیمتی الیکٹرانک سامان شدید متاثر ہوتا ہے اور شہریوں کو مالی نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ وولٹیج کے اس اتار چڑھاؤ کے نتیجے میں پنکھوں کی کارکردگی بھی متاثر ہوتی ہے۔ تاہم اب تیارکردہ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے پنکھے وولٹیج کے اس اتارچڑھاؤ کا شکار نہیں بنیں گے کیونکہ وہ پہلے ہی بہت ہی کم شرح میں بجلی استعمال کر رہے ہونگے۔ اس لئے وہ تمام دن بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کر سکیں گے۔

اس پنکھے کے لئے ایک بیٹری بنک ضروری ہے جو کہ گھروں میں موجود ہر یو پی ایس میں بھی موجود ہوتے ہیں۔ پنکھے میں موجود یہ بیٹری بنک براہ راست گرڈ سے حاصل ہونے والی بجلی کو سٹور کرتے ہیں اور بجلی کی بندش کی صورت میں پنکھے کو چالو رکھتے ہیں۔ ایسے گھر جہاں یو پی ایس کی سہولت موجود نہیں ہے وہ ایک چھوٹی بیٹری خرید کر براہ راست پنکھے کے ساتھ منسلک کر سکتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ اگر صارفین سولر پینل کے اخراجات برداشت کرنے کے قابل ہوں تو وہ شمسی توانائی کے پینل نصب کروا کر بجلی کے بھاری بلوں سے بچ سکتے ہیں۔

ڈاکٹر توقیر کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ اس میدان میں ہمارے سب سے بڑے کاروباری حریف چینی ہیں۔ چین میں تیار ہونے والے پنکھوں میں ایسی ہی ٹیکنالوجی اور فیچرز استعمال ہو رہے ہیں تاہم یہ بہت مہنگے ہیں اور ہمارے ماحول سے مطابقت نہیں رکھتے ۔ یہی وجہ ہے ان پنکھوں سے خارج ہونے والی ہوا کی رفتار کم ہوتی ہے اور یہ سائز میں چھوٹے بھی ہیں۔اس حوالے سے افنان انصاری کا کہنا تھا کہ چائنیز پنکھوں کو مقامی طور پر ٹھیک نہیں کیا جا سکتا ہے کیونکہ ان پنکھوں کی تیاری کے لئے استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی ہمارے کاریگروں کے لئے اجنبی ہے اس کے ساتھ ساتھ ان پنکھوں کے فاضل پرزہ جات بھی عام دستیاب نہیں ہیں تاہم ہماری تیار کردہ پراڈکٹ کی خرابی کو مقامی کاریگر درست کر سکتے ہیں اور اس کے پرزہ جات بھی پاکستانی مارکیٹ میں عام دستیاب ہیں۔

اس وقت پاکستانی مارکیٹ میں چائنیز پنکھوں کی قیمت دس سے بارہ ہزار کے درمیان ہے جبکہ ہمارے تیار کردہ پنکھے کی قیمت تقریباً پانچ ہزار روپے ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ BLDC ٹیکنالوجی کے استعمال سے آئی ٹی یو میں تیار ہونے والے پنکھوں کی کارکردگی اور ہوا دینے کی رفتار بہت بہتر ہے۔
افنان انصاری کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان کی پنکھا سازی کی صنعت ہماری وضع کردہ ٹیکنالوجی کے تحت پنکھے تیار کرنا شروع کر دے تو اس سے سالانہ ایک ہزار گیگاواٹ آور بجلی کی بچت ہو گی جو اس وقت ملکی گھریلو ضروریات کا 3.5 فیصد ہے۔

تحریر: نشمیا سکھیرا (Nushmiya Sukhera)

Read in English

Authors
Top