Global Editions

پاکستانی حکومت اور کرونا وائرس: جتنے اچھے ڈیجیٹل ٹولز، اتنی ہی ناقص پالیسی

کرونا وائرس کے مقابلے کے لیے تیار کردہ ڈیجیٹل ٹولز کے حوالے سے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ انہیں درست طور پر استعمال نہيں کیا جارہا ہے۔

شمائلہ خان کو سماجی دوری اختیار کیے ہوئے ڈیڑھ ہفتے ہوئے تھے جب انہيں حکومت سے ایک ٹیکسٹ میسیج موصول ہوا، جس میں انہيں covid-19 کی ٹیسٹنگ کروانے کی درخواست کی گئی۔

اردو اور انگریزی زبانوں میں بھیجے جانے والے اس ٹیکسٹ میسیج میں انہيں بتایا گیا کہ پچھلے 14 روز کے دوران ان کا کسی ایسے شخص سے رابطہ ہوا تھا جس میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی۔ انہيں سماجی دوری اختیار کرنے کی درخواست کی گئی، اور covid-19 کی عام علامات کی فہرست فراہم کی گئی۔

حکومت کی جانب سے بھیجا گیا ٹیکسٹ میسج جس میں شہریوں کو کورونا وائرس کا ٹیسٹ کروانے کی ہدایت کی جا رہی ہے

شمائلہ کو موصول ہونے والا ٹیکسٹ میسیج ان ڈیجیٹل ٹولز میں سے ایک ہے، جنہیں یا تو کرونا وائرس کا مقابلہ کرنے کے لیے متعارف کیا گیا ہے یا متعارف کیا جانے والا ہے، یا جن کی اس وقت ٹیسٹنگ جاری ہے۔

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشنز اتھارٹی (Pakistan Telecommunications Authority) اور نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (National Database and Registration Authority) سے حاصل کردہ ڈیٹا کو استعمال کرکے ایک نقشے پر covid-19 کیسز کی نشاندہی کی جاتی ہے۔

ڈیجیٹل ٹیم کی سربراہی کرنے والے نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (National Information Technology Board) کے بزنس انالسٹ سرمد سہیل بتاتے ہیں کہ ان معلومات کی مدد سے ان افراد کو مطلع کیا جاتا ہے جن کا انفیکشن کا شکار ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔

پاکستانی حکومت کو covid-19 کے مقابلے کے لیے تیار کردہ حکمت عملیوں کے باعث بہت تنقید کا نشانہ بنایا گيا تھا۔ تاہم انہوں نے مرض کے حوالے سے جو ٹیکنالوجیکل اقدام کیے ہیں، وہ واقعی قابل تعریف ہيں۔

وزیر اعظم عمران خان کے خصوصی مشیر برائے صحت، ڈاکٹر ظفر مرزا، نے 26 فروری کو پاکستان کے پہلے کرونا وائرس کے کیس کی تصدیق کی تھی۔ لیکن ڈیجٹل ٹیم نے اس اعلان کے دو ہفتے قبل ہی اپنا پہلا سسٹم لانچ کر دیا تھا۔

ان کی سب سے پہلی ایپ وزارت صحت کے لیے ایک مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کردہ چیٹ باٹ تھا، جسے وزارت کی ویب سائٹ اور فیس بک پیج پر نصب کیا گیا۔

اس ایپ پر یکم فروری سے ہی کام شروع ہوچکا تھا۔ یہ چیٹ باٹ 14 فروری کو لائیو ہوگیا اور اسے 27 فروری تک رسمی طور پر متعارف کیا گیا۔

سہیل کہتے ہیں کہ ”جب کوئی کہتا ہے کہ حکومت نے پھرتی کا مظاہرہ نہيں کیا، تو میں انہیں اپنی ٹیم کا سارا کام دکھانا چاہتا ہوں۔“

چیٹ باٹ کے علاوہ سہیل کی ٹیم نے اینڈرائيڈ اور آئی او ایس کے لیے covid-19 ایپ بھی متعارف کی ہے، جس کی مدد سے صارفین قریب ترین صحت اور ٹیسٹنگ کے مراکز تلاش کرسکتے ہيں، جان سکتے ہيں کہ ان کی علامات کس حد تک کرونا وائرس سے ملتی جلتی ہيں، آگاہی فراہم کرنے والی ویڈیوز دیکھ سکتے ہيں، اور چیٹ باٹ سے بات کرسکتے ہيں۔

اس ٹیم کی کوششوں سے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (National Command and Operation Centre) (این سی او سی) بھی وجود میں آیا، جو نہ صرف وبا کے مقابلے کے لیے فیصلے لینے میں معاون ثابت ہورہا ہے بلکہ ان مقامات کی بھی نشاندہی کرتا ہے جہاں کیسز کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔

اس کے علاوہ، ہسپتال کے وسائل کے بہتر انتظام کے لیے نیشنل ڈساسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی (National Disaster Management Authority) اور پروونشل ڈساسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی (Provincial Disaster Management Authority) کے لیے ریسورس مینیجمنٹ سسٹم (Resource Management System) (آر ایم ایس) متعارف کیا گيا ہے۔ اس میں ہسپتال انفراسٹرکچر کے مینیجمنٹ کا سسٹم ( Hospital Infrastructure Management System)، کرونا وائرس کے مریض اور مشتبہ کیسز کی ٹریکنگ فراہم کرنے والے میڈ ٹریک (MedTrack)، اور تمام نجی، سرکاری، اور فوجی ہسپتالوں کے بستر، وینٹی لیٹرز وغیرہ کے متعلق معلومات فراہم کرنے والے انوینٹری مینیجمنٹ  سسٹم (Inventory Management System) کو ضم کیا گیا ہے۔ آر ایم ایس میں ہسپتال میں covid-19  کے حوالے سے لائے جانے والے اور باہر نکلنے والے وسائل کی تعداد بھی ظاہر کی جاتی ہے۔

آر ایم ایس، این سی او سی کو زيادہ باخبر فیصلے لینے میں معاونت فراہم کرتا ہے۔ مثال کے طور پر، جب لاڑکانہ میں واقع کوئی ہسپتال مزید وینٹی لیٹرز کی درخواست بھیجتا ہے تو سب سے پہلے آر ایم ایس کی مدد سے یہ چیک کیا جائے گا کہ کیا واقعی اس ہسپتال کو ان وینٹی لیٹرز کی ضرورت ہے یا نہيں۔ اس قسم کی جانچ پڑتال سے وسائل کی بہتر تقسیم ممکن ہے۔

این سی او سی کے لیے ایک کال سینٹر بھی متعارف کیا گیا ہے، جسے مریضوں کو کال کرکے ان کی علامات کی جانچ پڑتال کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد، مریضوں سے حاصل کردہ معلومات کو متعلقہ محکموں کی طرف بڑھا دیا جاتا ہے تاکہ ان کی مزيد رہنمائی کی جاسکے۔

مارچ میں متعارف کی جانے والی اسلام آباد سٹی ایپ میں بھی ردوبدل کے بعد کرونا وائرس کے متعلق شکایات کا فارم شامل کیا گیا ہے، جس کے ذریعے صارفین مہنگے داموں فروخت ہونے والے ماسکس اور ذخیرہ اندوزی جیسے مسائل کی شکایات جمع کروا سکتے ہیں۔

یاران وطن نامی ویب سائٹ بھی متعارف کی گئی، جس کے ذریعے پاکستان میں رہائش پذیر مریضوں کا بیرون ملک مقیم پاکستانی ڈاکٹروں کے ساتھ رابطہ قائم کیا جاسکتا ہے۔ سہیل بتاتے ہيں کہ یہ سہولت رضاکارانہ بنیاد پر بالکل مفت فراہم کی جاتی ہے اور کچھ ڈاکٹرز پاکستان آجاتے ہيں جبکہ دوسرے افراد بذریعہ انٹرنیٹ مریضوں کی رہنمائی کرتے ہيں۔

اس ٹیم نے 12 کروڑ روپے کے امدادی پیکیج کی تقسیم میں معاونت فراہم کرنے کے لیے وزیر اعظم کے دفتر کے لیے مرکزی انفارمیشن کا ڈیش بورڈ بھی تیار کیا ہے، جس کی ذمہ داری 12 مختلف وزارتوں کو سونپی گئی۔ اس ڈیش بورڈ کے ذریعے ایک ایک روپیے کی ٹریکنگ ممکن ہے اور رقم موصول کرنے والے چھوٹے سے چھوٹے تحصیل کی معلومات حاصل کی جاسکتی ہے۔

اس کے علاوہ، یہ ٹیم کئی مختلف سسٹمز پر کام کررہی ہے، اور پہلے سے متعارف کردہ سسٹمز کو بہتر بنانے کی کوششوں میں لگی ہوئی ہے۔

سہیل بتاتے ہيں کہ ان کی ٹیم 12 سے 15 افراد پر مشتمل ہے، اور وہ مستقل کام کررہی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ”ہماری نیند پوری نہيں ہورہی ہے، اور ہمیں گھر جانے کا بھی وقت نہيں ملا۔ ویک اینڈ کیا ہوتا ہے، ہم جیسے بھول ہی گئے ہیں۔ چاہے مرد ہو یا عورت، میری ٹیم میں ہر کسی کے ساتھ یہی ہورہا ہے۔“

بیک وقت متعدد ایپس، ویب سائٹس، اور سسٹمز پر کام کرنے کے باوجود، ان کی ٹیم کو ضروری وسائل نہيں فراہم کیے گئے۔ یہ وہی ٹیم ہے جو وفاقی حکومت کے موجودہ پراجیکٹس پر پہلے سے کام کررہی تھی۔

لیکن کیا یہ سب کچھ کافی ہے؟

افسوس کی بات یہ ہے کہ اس سوال کا جواب ہاں میں نہيں دیا جاسکتا۔ اگر حکومت کی پالیسیاں ہی کمزور ہوں تو بہترین سسٹمز بھی کوئی کام کے نہيں رہتے۔

ایک سرکاری افسر نے گمنامی کی شرط پر ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو پاکستان کو بتایا کہ ”آئی ٹی کی ٹیم کتنی ہی اچھی کیوں نہ ہو، وہ پالیسی تبدیل کرنے کا مطالبہ نہيں کرسکتی۔ ان کا کام صرف اور صرف مختلف ویب سائٹس، ایپس وغیرہ پر کام کرنا ہے جنہیں حکومتی پالیسیوں کو آگے بڑھانے کے لیے بنایا گیا ہے۔“ اور یہی سارے مسئلے کی جڑ ہے۔

وزیر اعظم عمران خان سے لے کر سپریم کورٹ تک، کرونا وائرس کے متعلق سرکاری بیانات ملے جلے ہی رہے ہيں۔ کئی ممالک لاک ڈاؤن کے نفاذ کے بعد کرونا وائرس کو کافی حد تک مات دینے میں کامیاب رہے ہیں، لیکن پاکستان میں لاک ڈاؤن کے معاملے میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہيں کیا گيا۔

پاکستان میں علاقائی لاک ڈاؤن کی اثراندازی کے متعلق ایک مطالعے میں محققین حمزہ عمر اور محمد سالار خان بتاتے ہيں کہ اس ملک کے تین سب سے بڑے صوبوں میں مکمل اور جزوی لاک ڈاؤنز کرونا وائرس پر قابو پانے کے حوالے سے بالکل ناکام ثابت ہوئے۔

مثال کے طور پر، حکام کے لیے مساجد بند کرنا مشکل ہی نہيں بلکہ ناممکن ثابت ہوا اور نمازیوں نے پابندیوں کا نافذ کرنے والے پولیس اہلکاروں پر ڈنڈے بھی برسائے اور ان کے ساتھ ہاتھا پائی بھی کی۔ وزیر اعظم عمران خان نے حکام کو ایسے لوگوں کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کرنے کی درخواست کرکے معاملہ سلجھانے کے بجائے مزید بگاڑ دیا۔

قرنطینہ کے دوران ٹیسٹنگ میں قابل قدر اضافہ کرنے اور عوام پر سختی کرنے کی ضرورت تھی۔ ملائیشیا، جنوبی کوریا اور نیو زیلینڈ جیسے ممالک نے صرف اسی وقت لاک ڈاؤن میں نرمی کی جب وہ کرونا وائرس پر کافی حد تک قابو پانے میں کامیاب ہوگئے، لیکن پاکستان نے اس معاملے میں بہت جلدی کی۔ مئی کی 8 تاریخ کو جب لاک ڈاؤن میں کمی کا سلسلہ شروع ہوا، اس وقت پاکستان میں صرف 26،000 کیسز تھے، لیکن اب متاثرہ افراد کی تعداد 220،000 سے تجاوز کر چکی ہے۔

یکم مارچ کو، جب پاکستان میں صرف دو کیسز ہی سامنے آئے تھے، عالمی صحت کے ادارے نے حکومت کے لائحہ عمل کی خوب تعریف کی تھی۔ عالمی ادارہ صحت کے پاکستان میں نمائندے ڈاکٹر پلیتھا ماہی پالا (Palitha Mahipala) نے کہا تھا کہ ” پاکستانی حکومت کے فوری اقدام قابل تعریف ہیں اور عالمی ادارہ صحت انہيں ہر قدم پر معاونت فراہم کرے گا۔“

لیکن 10 جون تک عالمی ادارہ صحت کی پاکستان کے متعلق رائے بدل چکی تھی۔ صوبائی حکومتوں کو لکھے گئے ایک خط میں انہوں نے کہا کہ ”پاکستان لاک ڈاؤن میں نرمی کے لیے کسی بھی شرط پر پورا نہيں اترتا۔“ عالمی ادارہ صحت نے مزید بتایا کہ پاکستان میں کرونا وائرس کے 25 فیصد ٹیسٹس کے نتائج مثبت نکلے تھے، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہاں انفیکشن کی شرح خطرناک حد تک زیادہ ہے۔

حکومت نے بارہا لاک ڈاؤن میں نرمی کے فیصلوں کا دفاع کرتے ہوئے یہی کہا کہ ایک غریب ملک ہونے کے ناتے پاکستان کے لیے مکمل طور پر کاروبار بند کرنا ناممکن ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے عارضی لاک ڈاؤن کا مشورہ دیا، جس میں دو ہفتے تک لاک ڈاؤن نافذ کرنے کے بعد، دو ہفتے تک نرمی سے کام لیا جائے۔ لیکن حکومت نے ”سمارٹ لاک ڈاؤن“ کرنے کا فیصلہ کیا۔

اس قسم کے لاک ڈاؤن میں این سی او سی کے ٹولز کی مدد سے ان افراد کی جیوٹیگنگ کی جاتی ہے جن کے کرونا کے ٹیسٹس کے نتائج مثبت ہوں۔ اس کے بعد ان علاقہ جات میں 14 روز کا لاک ڈاؤن نافذ کیا جاتا ہے۔

سمارٹ لاک ڈاؤن سے انفیکشن کی شرح میں کچھ کمی تو آئی ہے، لیکن جتنی آنی چاہیے تھی، اتنی نہيں آئی۔ ان اقدام کے باوجود پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں covid-19 کے کیسز کی تعداد سب سے زيادہ ہے۔ اس وقت پاکستان اس فہرست میں بارہویں نمبر پر ہے اور وہ مزید اوپر ہی چڑھتا جارہا ہے۔

ہم نے کرونا وائرس پر قابو پانے کے بجائے، اسے مکمل چھوٹ دے رکھی ہے۔

عدم تیاری کے لیے تیاری

این آئی ٹی بی کے بنائے گئے ٹولز کتنے ہی اچھے کیوں نہ ہوں، وہ پاکستانیوں کی معلومات میں کمی کے سامنے ناکام ثابت ہوجاتے ہيں۔

زوہیب فریدی نے covid-19 کو بڑی قریب سے دیکھا ہے۔ وہ بتاتے کہ جب ان کی خالہ کا ٹیسٹ مثبت نکلا تو ان کے لیے ہسپتال میں جگہ تلاش کرنا دوبھر ہوگیا۔ پانچ مختلف ہسپتالوں کے پیر پڑنے کے بعد، ان کے گھر والوں کو آخرکار ہار ماننی پڑی اور وہ زوہیب کی خالہ کا گھر پر ہی علاج کرنے لگے۔ زوہیب کہتے ہیں کہ ”میں کرونا وائرس کو محض ایک من گھڑت کہانی کہنے والوں کو جھنجھوڑ کر سچ بتانا چاہتا ہوں۔“

وہ مزید کہتے ہيں کہ ”میں بھی کرونا وائرس کو جھوٹ ہی سمجھتا رہا، لیکن اب میرے خاندان کے ساتھ جو ہوا، وہ سب کے سامنے ہے۔ میری خالہ کے پھیپھڑے بالکل کالے پڑ چکے تھے۔ ڈاکٹروں نے انفیکشن کے ڈر سے انہيں دیکھنے سے بھی انکار کردیا۔ اب ہم صرف ان کے لیے دعا ہی کرسکتے ہيں۔“

زوہیب کے علاوہ اور بھی لوگ اسی صورتحال سے گزر رہے ہیں اور ان کے لیے وسائل کم پڑنے لگے ہیں۔ انسہ* (پرائیوسی کے تحفظ کے لیے نام تبدیل کیا گیا ہے) کو بھی متعدد ہسپتالوں کے چکر لگانے کے بعد ہی بہت مشکل سے اپنے ایک رشتہ دار کے لیے بستر ملا۔

انسہ کہتی ہيں کہ ”میں اپنے آپ کو بہت خوش قسمت سمجھتی ہوں۔ مشکل سے ہی سہی، لیکن ہمیں آخرکار بستر مل تو گیا۔ کئی لوگوں کو تو یہ بھی نصیب نہيں ہوا۔ جیسے جیسے کیسز کی تعداد بڑھتی جائے گی، صورتحال مزید بدتر ہوتی جائے گی۔ اور ہم ابھی بھی چوٹی تک نہيں پہنچے۔ مجھے نہيں پتا آگے چل کر کیا ہونے والا ہے۔ لوگ اپنی زندگیاں پہلے کی طرح گزار رہے ہيں جیسے کہ کچھ ہوا ہی نہيں۔ ہمیں ان لوگوں کے بارے میں سوچنا چاہیے جنہيں خطرہ لاحق ہے۔ ایک شخص بچے گا، لیکن کئی لوگ مارے جائيں گے۔“

ایک طرف ہیلتھ کیئر کی عدم دستیابی کے باعث ایک نیا بحران پیدا ہوا ہے، جس سے صرف وہی لوگ باہر نکل سکیں گے جنہیں درست وسائل تک رسائی حاصل ہوگی۔

دوسری طرف، پاکستان کا ہیلتھ کیئر کا نظام پوری طرح جواب دے چکا ہے۔ ڈاکٹرز بغیر کسی وقفے کے مریضوں کی دیکھ بھال میں لگے ہوئے ہيں، اور انہیں بدلے میں نہ صرف انفیکشن لگنے کا خطرہ بلکہ مریض کے رشتہ داروں کے ہاتھوں مار پیٹ بھی مل رہی ہے۔

عالمی بینک کے ڈیٹا کے مطابق، پاکستان میں ہر 10,000 افراد کے لیے صرف 10 ڈاکٹر، چھ ہسپتال کے بستر، سات نرسز، اور ایک کمیونٹی ہیلتھ کیئر کارکن موجود ہيں۔ covid-19 کی چوٹی تک پہنچنے سے پہلے ہزاروں افراد مارے جائيں گے، جس میں وہ صحت کے شعبے میں کام کرنے والے افراد بھی شامل ہيں جو اس وقت مریضوں کے علاج کے لیے پیش پیش ہیں۔

جون میں نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر (National Emergency Operation Center) (این ای او سی) کے جاری کردہ ڈيٹا کے مطابق 3,858 ہیلتھ کیئر کے کارکنان کرونا وائرس کا شکار ہوچکے ہيں، جس میں 2,327 ڈاکٹرز اور 476 نرسیں شامل ہیں۔ 36 سے زائد ہیلتھ کیئر کے کارکنان اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

ڈاکٹر مروہ طارق ایک آن لائن پورٹل کے ذریعے گھر بیٹھے سوالات کے جوابات دے رہی ہیں

وسائل کی کمی عوام کو مار رہی ہے، وہی ان ہیلتھ کیئر کے کارکنان کی اموات کی بھی وجہ بن رہی ہے۔

غلط معلومات

آج کل سوشل میڈیا پر پاکستانی گروپس پر کرونا وائرس کے متعلق سازشی تھیوریز کی بھرمار نظر آتی ہے۔ ایسے کئی لوگ موجود ہیں جو اس وبا کو ”من گھڑت“ کہتے ہيں اور حکومت کے متضاد بیانات ان افواہوں کو ہوا دے رہے ہیں۔

زوہیب کہتے ہیں کہ ”آپ کو ٹی وی پر صرف یہی سننے کو ملتا ہے کہ لاک ڈاؤنز سے غریب کے پیٹ پر لات ماری جارہی ہے۔ ہمیں نہ تو بتایا جارہا ہے کہ سماجی دوری کے قواعد کیا ہیں اور نہ ہی یہ سمجھایا جارہا ہے کہ ان پر عمل کرنا کیوں ضروری ہے۔ اگر لوگ یہی سمجھتے رہيں گے کہ یہ سب جھوٹ ہے تو وہ اس مرض کے متعلق تحقیق کیوں کریں گے؟“

حکومت کی طرف سے معلوماتی مہموں کی غیرموجودگی کے پیش نظر، عام شہریوں نے سوشل میڈیا پر خود معلومات پھیلانے کی کوششیں شروع کردی ہیں۔ ان میں سے ایک گروپ اولا ڈاک (OlaDoc) کا فیس گروپ Doctor Consultation & Health Advice ہے۔

DoctHERS اور نیا جیون کے شریک بانی اور ایگزیکٹو چیئرمین ڈاکٹر عشر حسن اس گروپ کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کے بارے میں کہتے ہيں کہ ”ہمارے پاس خاتون ڈاکٹرز کا بہت بڑا نیٹورک ہے جو ہمارے کلینکس میں کام کررہا ہے۔ ہمیں یہ لگا کہ انہيں صارفین کو مفت مشاورت فراہم کرکے اس وبا کے مقابلے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔“

کرونا وائرس کے حوالے سے کئی سازشی تھیوریز اور افواہیں نظر آرہی ہیں۔ جب شرح اموات کم تھی تو لوگ اسے جھوٹ قرار دے رہے تھے اور اب جب شرح اموات میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے تو لوگ اسے سازش کا نام دے رہے ہيں۔

ان افواہوں اور غلط سلط معلومات کی وجہ سے صحت کے شعبے میں کام کرنے والوں کی طرف سے آگاہی کی فراہمی مزید ضروری ہوتی جارہی تھی۔ ڈاکٹرز کو شامل کرنے کا مقصد یہی تھا کہ ان سازشی تھیوریز کا مقابلہ درست معلومات سے کیا جائے۔

ڈاکٹر عشر کہتے ہيں کہ ”آپ کو اس فیس بک گروپ پر پوچھے جانے والے چند سوالات دیکھ کر ہی اندازہ ہوجائے گا کہ سوشل میڈیا پر کن اقسام کی غلط معلومات پھیل رہی ہیں۔ لوگوں کو درست معلومات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے صرف پی ایم ڈی سی کے لائسنس یافتہ ڈاکٹرز ہی ثبوت کی بنیاد پر سوالات کے جوابات دے سکتے ہيں۔“

زوریز ریاض سید فیس بک کے ایک دوسرے گروپ، Corona Recovered Warriors کی سربراہی کررہے ہیں، جہاں پلازما کے متلاشی افراد کا پلازما عطیہ کرنے والوں کے ساتھ رابطہ قائم کیا جاتا ہے۔

پلازما تھراپی covid-19 کے علاج کے لیے پاکستان میں بہت مقبول ثابت ہورہی ہے، اور امید کی جاتی ہے کہ وائرس سے زندہ بچنے والے افراد کے جسم سے پلازما حاصل کرکے دوسروں کی جان بچائی جاسکے۔

پاکستانی حکومت بضد ہے کہ پلازما تھراپی زیادہ فائدہ مند نہيں ہے، لیکن ایف ڈی اے نے مئی میں اس ممکنہ علاج پر ریسرچ کرنے والوں کے لیے تجاویز جاری کرنے کے علاوہ لوگوں کو اپنا پلازما عطیہ کرنے کی بھی تلقین کی۔ ایف ڈی اے کی ویب سائٹ پر ایک بیان کے مطابق ”کرونا وائرس کے شکار ہونے کے بعد پلازما کے ایک عطیے سے چار افراد کو فائدہ پہنچایا جاسکتا ہے۔“

جیسے جیسے پلازما تھراپی کو کرونا وائرس کے علاج کے طور پر اجاگر کیا جارہا ہے، اس مرض کا کامیابی سے علاج کرنے والوں کی تلاش مزید شدت اختیار کر رہی ہے۔

زوریز کا گروپ ایسے لوگوں کے لیے مسیحا بن کر سامنے آیا۔ وہ کہتے ہيں کہ ”میں اس دن کا انتظار کررہا ہوں جب میرے گروپ پر پلازما دینے والوں کی تعداد پلازما لینے والوں سے زیادہ ہوجائے گی۔“

جب پاکستان میں کرونا وائرس کی وبا پھیلنا شروع ہوئی تو زوریز کو اندازہ ہوگیا کہ یہاں کیسز کی تعداد بہت تیزی سے بڑھنے والی ہے۔ وہ بتاتے ہيں کہ ”مجھے اسی وقت احساس ہوگیا تھا کہ ایسا کوئی حکومتی پورٹل موجود نہيں تھا جہاں covid-19 کے شکار افراد پلازما تلاش کرسکیں۔ یہ گروپ بنانے کا مقصد حکومت کا بوجھ کم کرنا تھا۔“

کرونا وائرس کا مقابلہ کرنے کی حکومتی اور انفرادی کوششوں کے باوجود، کیسز کی تعداد اب اتنی زیادہ ہوگئی ہے کہ یہ تمام ڈیجٹل ٹولز بھی کم پڑ رہے ہيں۔

پاکستانیوں کے پاس پالیسی کے قفدان، غلط معلومات اور ڈیجٹل سسٹمز کے اس بھنور میں پھنسنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہيں ہے۔ اور افسوس کی بات یہ ہے کہ کرونا وائرس کے اثرات کم نہيں ہوئے ہيں، بلکہ مزید بڑھنے والے ہيں۔

سہیل کی ٹیم اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ”اگر ہمارے سسٹمز سے کسی کو ایک بستر یا ایک وینٹی لیٹر مل جائے تو ہمیں اپنی محنت کا پھل مل جائے گا۔“


لبت زاہد  لاہور میں رہائش پذير فری لانس نامہ نگار ہیں۔

تحریر: لبت زاہد 

مترجم: صوفیہ ضمیر

Read in English

Authors

*

Top