Global Editions

بغیر ڈرائیور کے چلنے والے ٹریلر کے ذریعے سامان کی پہلی ترسیل

بغیر ڈرائیور کے چلنے والی گاڑیوں کی تیاری کے لئے کارساز اداروں کے درمیان مقابلے کا رحجان موجود ہے اور کئی کمپنیوں نے بغیر ڈرائیور کے چلنے والی گاڑیوں کے پروٹو ٹائپ بھی تیار کر لئے ہیں۔ تجارتی سامان کی ترسیل کے لئے ایٹین وہیلر ٹریلر کا استعمال کوئی نئی بات نہیں ہے۔ حال ہی میں معروف ادارے اوٹو Otto کی جانب سے تیار کردہ ایک ایٹین وہیلر ٹریلر نے امریکی ریاست کولاریڈو میں تجارتی سامان کی ترسیل کی۔ ٹریلر کی جانب سے سامان کی ترسیل میں کوئی اچھنبے کی بات نہیں ہے تاہم اچھنبے کی بات یہ ضرور ہے کہ یہ ٹرک بغیر ڈرائیور کے چلنے والا تھا۔ اوٹو خودکار ٹرک تیار کرنے والی ایک کمپنی ہے جو تجارتی سامان کی ترسیل کے لئے بغیر ڈرائیور کے چلنے والے اس ٹرک کے تجربے کی موجد ہے۔ اس کمپنی نے آئندہ سال کے آغاز میں بغیر ڈرائیور کے چلنے والے ٹرکوں کے ذریعے تجارتی سامان کی ترسیل باقاعدہ شروع کرنے کا اعلان کیا تھا تاہم اس نے اپنے اعلان سے قبل ہی بغیر ڈرائیور کے چلنے والے ٹرک کا کامیاب تجربہ کر ڈالا ۔ معروف جریدے بلوم برگ کے مطابق بغیر ڈرائیور کے چلنے والے ٹرک کا یہ سفر خاصا مناسب رہا۔ بغیر ڈرائیور کے چلنے والے اس ٹرک نے مجموعی طور پر ایک سو بیس میل کا سفر طے کیا یہ سفر امریکی ریاست فورٹ کولنز سے کولاریڈو تک کا تھا۔ اس تجربے سے یہ بھی ثابت ہوا کہ بغیر ڈرائیور کے چلنے والی گاڑیوں کے مقابلے میں بغیر ڈرائیور کے چلنے والے ٹرک جلد منظر عام پر آسکتے ہیں۔ بغیر ڈرائیور کے چلنے والے ٹرکوں کی تیاری کے حوالے سے بھی چند مخالفانہ آوازیں بلند ہو رہی ہیں اور اس ترقی سے ہر کوئی مطمئن بھی نہیں ہے۔ حال ہی میں معروف امریکی اخبار نیویارک ٹائمز میں فریاد منجو نے اس نکتے کی جانب اشارہ کیا تھا کہ بغیر ڈرائیور کے چلنے والوں ٹرکوں میں امریکی معیشت کو ڈسٹرب کرنے کی حقیقی صلاحیت موجود ہے۔ اگر بغیر ڈرائیور کے چلنے والے ٹرکوں کے ذریعے سامان کی ترسیل شروع ہو جاتی ہے تو پورا ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک تبدیل ہو کر رہ جائیگا اور ڈرائیوروں کی نوکریاں ختم ہو جائیں گی۔ اور یہ ٹیکنالوجی میں ہونے والی ترقی کے روزگار پر اثرات ہیں۔ تاہم اس حوالے سے اوٹو کا ماننا ہے کہ وہ مستقبل قریب میں ٹرک ڈرائیوروں کی نوکریاں ختم کرنے کی منصوبہ بندی نہیں کر رہی بلکہ ان کی جانب سے تیار کردہ ٹیکنالوجی کی مدد سے ڈرائیوروں کے کردار میں تبدیلی آئیگی۔ اوٹو کی جانب سے وضع کردہ طریقےکے تحت وئیر ہائوس سے ہائی وے تک ٹرک کو انسانی ڈرائیور کی مدد سے چلایا جائیگا اور ہائی وے پرجیسے ہی ٹریفک کے لئے حالات سازگار ہونگے ڈرائیونگ کی ذمہ داری خودکار نظام کے سپرد کر دی جائیگی اور اسی طرح جب ہائی وے سے باہر شہر میں داخلے کا مرحلہ درپیش ہو گا تو خودکار نظام ڈرائیونگ کی ذمہ داری انسانی ڈرائیور کو سونپ دیگا جو ٹرک کو دوبارہ وئیرہائوس تک پہنچا دیگا۔ اس حوالےسے اوٹو کے شریک بانی لئیر رون (Lior Ron) کا Wired کا ایک انٹرویو میں کہنا تھا کہ کمپنی کی جانب سے وضع کردہ ماڈل حقیقت کے بہت قریب ہے پہلے ٹرک پر انسانی کنٹرول ہوگا درمیانی سفر میں ٹرک خودکار انداز میں سفر کریگا اور آخر میں ذمہ داری پھر انسانی ڈرائیور کے سپرد ہو جائے ہوگی۔ اوٹو کی جانب سے تیار کردہ خودکار نظام صرف درمیانی سفر میں کام میں لایا جائیگا۔ حال ہی میں اوبر Uber کی جانب سے اوٹو کو خریدا گیا ہے تاہم اس کاروباری معاہدے کو بھی ابھی قانونی پیچیدگیوں کا سامنا ہے کیونکہ امریکی حکومت کی جانب سے خودکار ٹرکوں کے حوالے سے کوئی قواعد وضوابط تیار نہیں کئے گئے۔ اب اگرچہ کیلی فورنیا کی شاہراہوں پر خودکار ٹرکوں کے تجربات جاری ہیں لیکن کمپنی کی جانب سے تجارتی پیمانے پر بغیر ڈرائیور کے چلنے والے ٹرکوں کی تیاری کے منصوبے پر کام کا آغاز نہیں کیا گیا ہے۔ ابھی بھی وہ وقت قریب نہیں آیا جب ہم ہائی وے پر بغیر ڈرائیور کے چلنے والے ٹرک دیکھیں گے لیکن وہ وقت بہت قریب ضرور ہے۔

تحریر: جیمی کونڈیلفی (Jamie Condliffe)

Read in English

Authors

*

Top