Global Editions

ویب کی نئے سرے سے تخلیق

وینچر سرمایہ کار البرٹ وینجر نے ویب کے کاروبار میں سرمایہ کاری کی ہے۔ وہ اپنی نئی کمپنی بلاک سٹیک کے ذریعے ویب کو نئے سرے سے تخلیق کرنا چاہتے ہیں۔ بلیک سٹاک کو نئی ویب تخلیق کرنے کیلئے چار ملین ڈالر کی سرمایہ کاری ملی ہے۔ بلاک سٹیک کمپنی ایک ایسا سافٹ وئیر جاری کرے گی جس پر صارفین کو کام کرنے کیلئے مزید کھلا میدان ملے گا۔ یہ اوپن سورس سافٹ وئیر ہو گا جو ویب کی ایک متوازی دنیا تخلیق کردے گاجس کے ذریعے صارف اپنے ڈیٹا کو مزید کنٹرول کرسکے گا۔ بلاک سٹیک اسی سال یہ سافٹ وئیر جاری کرےگی جس کے ذریعے آپ موجودہ برائوزر استعمال کرتے ہوئےمختلف ویب سائیٹس اور ایپلی کیشنز استعمال کرسکیں گے۔ اس سافٹ وئیر میں بلاک چین یا ڈیجیٹل لیجر کو استعمال کرنے کیلئے بِٹ کوئین ڈیجیٹل کرنسی سے معلومات حاصل کی جائیں گی۔ تاکہ صارف کسی بھی ویب سائیٹ میں نیا اکائونٹ بنانے کی بجائے ایک ہی اکائونٹ کے ذریعے صرف ایک کلک سے داخل ہو سکیں گے۔ کسی بھی سائیٹ کو استعمال کرنے کیلئے آپ سافٹ وئیر کو اپنے پروفائل کی معلومات کرنے کی اجازت دیں گے۔ اگر آپ اس سائیٹ کو دوبارہ معلومات استعمال کرنے کی اجازت نہیں دینا چاہتے تو آپ نہایت آسانی سے اسے روک بھی سکتے ہیں۔ اس سے قبل البرٹ وینجر ایٹسی اینڈ ٹمبلر کمپنی میں پارٹنر تھے۔ وہیں پر انہیں یہ خیال آیا کہ ویب کو نئے سرے سے تخلیق کرنے کی ضرورت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم ایسے دور میں رہ رہے ہیں جہاں گوگل، فیس بک، ایمزون نے مارکیٹ میں اجارہ دار کی حیثیت سے اپنی جڑیں مضبوط کرلی ہیں۔ اگر ہم طویل عرصے کیلئے اختراعی عمل میں کھلا میدان چاہتے ہیں تو ہمیں ویب کے بنیادی ڈھانچے کی مرکزیت ختم کرنا ہو گی۔ سافٹ وئیر میں ٹاپ پر آئی ڈی اور صارف کے نام کی جگہ ہو گی۔ ویب کے تخلیق کار ٹِم بارنرز لی نے بھی ٹیکنالوجسٹ نے بہتر سے بہتر استعمال کیلئے ویب میں عدم مرکزیت لانے کا مشورہ دیا ہے۔ بارنرز لی نے بھی بلاک سٹیک کا پلیٹ فارم استعمال کرتے ہوئے وہاں ٹمبلی ڈاٹ آئی ڈی (timblee.id)کے نام سے اپنی رجسٹریشن کروائی لیکن انہیں یہ آئیڈیا اس قدر پسند آیا ہے کہ وہ اب ایم آئی ٹی کے تحت سالڈ (Solid)کے نام سے ویب کو ڈی سینٹرلائز کرنے پر کام کررہے ہیں۔ کارنل یونیورسٹی کی ایمن گُن سائیرر کہتی ہیں کہ نئی ویب تخلیق کرنے کے خواب کے راستے میں کچھ رکاوٹیں موجود ہیںمثلاً بٹ کوئن میں اتنے بڑے پیمانے پر ڈیجیٹل کرنسی استعمال کرنے کی صلاحیت نہیں ہے۔ اور یہ بھی واضح نہیں ہے کہ ویب کا متوازی نظام کیسے تخلیق کیا جائے گا۔ عدم مرکزیت والے نظام کو مختلف سائیٹس کے کاپی رائیٹ کلیمز کا بھی سامنا ہے۔ تاہم انٹرنیٹ آرکائیوز کے بانی بریوسٹر کاہل کو یقین ہے کہ ڈی سینٹرلائیزنظام یقیناً ان رکاوٹوں پر قابو پا لے گا۔

تحریر: ٹام سیمونائیٹ (Tom Samonite)

Read in English

Authors
Top