Global Editions

نیوکلئیر ری ایکٹر لگانے کا ایک راز: مربوط ڈیزائن

ایٹمی توانائی بجلی کے شعبےمیں صاف انرجی مہیا کرنےکے لئے اہم ہوسکتی ہے کیونکہ یہ کاربن فری ہے اوریہ چوبیس گھنٹے سستی بجلی فراہم کر تی ہے۔ لیکن کوئی شاید مشکل سے ہی ان دنوں ایٹمی ریکٹر تعمیر کرنا چاہتا ہے۔

ایٹمی توانائی کے مستقبل کا جائزہ لینے والے ایم آئی ٹی انرجی ایونٹ نے اپنی ایک نئی رپورٹ میں کہاہے کہ "بنیادی مسئلہ قیمت ہے"۔ ایم آئی ٹی نےمزید نوٹ کیا،" شمسی توانائی اور دیگر توانائی کے ذرائع سستے ہو رہے ہیں جبکہ صرف نئے ایٹمی پلانٹس مہنگےہو ئے ہیں۔"

ایٹمی پلانٹس سے حاصل کردہ بجلی کی قیمت اوسطاً قدرتی گیس ، ہوا یا شمسی توانائی کےفارموں سے بنائی گئی بجلی سے دوگنا ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ توشیبا کمپنی کو ایٹمی پلانٹس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور تاخیر نے دیوالیہ کردیا جس کی وجہ سے صرف چند دوسری کمپنیوں اور سرمایہ کاروں نے اس شعبہ میں دلچسپی ظاہر کی۔

اس حوالے سے سب سے اہم مسئلہ نیوکلیئرپاورپلانٹ کی تعمیر پر آنے والی لاگت ہے جو کہ ایٹمی توانائی کی قیمت میں 80 فی صد سے زائد کا اضافہ کرتی ہے۔

ایم آئی ٹی کے مصنفین نے ایٹمی توانائی کی قیمت کم کرنے کے لئے کافی حل تلاش کئے لیکن یہ تجویز دی کہ ایک مربوط حکمت عملی سے بہت سارے نتائج حاصل ہو سکتے ہیں: ثابت شدہ پروجیکٹ منیجمنٹ طریقوں کو اپنایا جائے بشمول تعمیر شروع کرنے سے قبل ڈیزائن مکمل کرنا، ایک قابل اعتماد سپلائی چین رکھنا، ایک کنٹریکٹ منیجر کی تعیناتی اور مخصوص ڈیزائن کے لئے تجربہ کار لیبر فورس۔ رپورٹ کے مطابق یہ آخری نقطہ اہم ثابت ہوسکتا ہے، کیونکہ پہلے لگائے گئے پلانٹ پر باقی کی نسبت 30فیصد زیادہ لاگت آتی ہے اور ان دنوں ایک نئے ایٹمی ریکٹر کی ٹیکنالوجی حاصل کرنے کے لئے 10 ارب ڈالر سے15 ارب ڈالر خرچہ آتا ہےاور اس کے لئے 20 سے 30 سال لگ سکتے ہیں۔مصنفین نے مزید کہا کہ سب سے بہترین سرمایہ کاری یہ ہے کہ مؤثر پلانٹس ایک ہی سائٹ پر ایک ہی ڈیزائن کے لگائے جائیں جن میں انہی کارکنوں اوروینڈرز پر بھروسہ کیا جائے۔

اس طرح کے حل کے ساتھ یقیناًایک مسئلہ ہے۔کسی بھی ڈیزائن کے ساتھ ایک ہی جگہ تعمیر کرنا مشکل ہو گا کیونکہ ری ایکٹر ٹیکنالوجی خاص طور پر امریکہ اور یورپ میں آگے جارہی ہے اور صرف چند سرمایہ کاروں کئی ارب ڈالر کے بل بڑھانے کے خواہاں ہیں۔

درحقیقت معروف سائنسدانوں اور انجینئروں کے ایک گروپ ،جن میں ایم گرینجر مورگن شامل ہیں، ،نےحال ہی میں نیشنل اکیڈمی آف سائنسز میں نیوکلیئر پاور پلانٹس کے مستقبل کے حوالے سے ایک مایوس کن رپورٹ شائع کی ہے۔ سائنسدانوں اور انجینئروں نے کارنیگی میلن میں توانائی کی پالیسی کا مطالعہ کرنے کے بعد یہ رپورٹ پیش کی۔

کم قیمت قدرتی گیس، عوامی اپوزیشن، حالیہ منصوبوں پر قیمتوں کا توازن اور جدید ٹیکنالوجی کی سست روی جیسے چیلنجز کا مطالعہ کرنے کے بعد مصنفین نے یہ نتیجہ اخذ کیا: "کچھ ڈرامائی پالیسی تبدیلی سے ہٹ کر، یہ ممکن نہیں ہے کہ نیوکلئیر ری ایکٹراگلی چند نازک دہائیوں میں امریکہ میں کاربن فری بجلی مہیاکرنے کے قابل ہو ں گے۔ چین سمیت چند دیگر اقوام کے علاوہ، باقی دنیا بھر میں یہ بات درست ہوسکتی ہے۔ "

تحریر: جیمز ٹیمپل

Read in English

Authors
Top