Global Editions

مصنوعی ذہانت کا ایک بانی اس کے مستقبل کے بارے میں فکر مند ہے

یوشوعہ بنگیو مصنوعی ذہانت کے حامل اسلحے کی دوڑ کو روکنا چاہتا ہے اور ترقی پذیر دنیا میں ٹیکنالوجی کو زیادہ پہنچانا چاہتا ہے۔

یشوع بنگیو جدید مصنوعی انٹیلی جنس کا ایک بڑا ماسٹر ہے۔

جیوف ہنٹن(Geoff Hinton) اور یان لیوکن کے ساتھ بنگیو ایک ایسی ٹیکنالوجی کو بڑھا چڑھا کے
پیش کرتے رہے ہیں جو ڈیپ لرننگ کے طور پر جانی جاتی ہے اور یہ حالیہ برسوں میں زمین پر علمی تجسس سے نکل کر سب سے طاقتور ترین ٹیکنالوجی بن کر ابھری ہے۔

ڈیپ لرننگ میں ڈیٹا ایک بڑےنیوٹرل نیٹ ورک کو فیڈ کیا جاتا ہے جو انسانی دماغ کے طور پر کام کرتا ہےاور یہ ہر قسم کے عملی کاموں میں ناقابل یقین حد تک مضبوط اور مؤثر ثابت ہواہےجیسے آواز کی شناخت اور تصویری درجہ بندی سے خود کار ڈرائیونگ کاریں اور خود کار طریقے سے کاروباری فیصلےکرنا تک ۔

بنگیو نےبڑی ٹیک کمپنیوں کی طرف سے دیے گئےلالچ کا مقابلہ کیا ہے۔ ہنٹن اور لیوکن نے بالترتیب گوگل اور فیس بک کو جوائن کیا ۔بنگیو مونٹریال یونیورسٹی میں اب بھی فل ٹائم پروفیسر ہے۔ (وہ تاہم 2016 ء میں ایلمنٹ اے آئی کے شریک بانی بنے جس نے بڑی ٹیک کمپنیوں کو مصنوعی ذہانت میں تحقیق کے تجارتی ایپلی کیشنز میں مدد دی اور بہت کامیاب کاروبار بنا۔)

بنگیو کی ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویوکے سینئر ایڈیٹر ول نائٹ کے ساتھ ایم آئی ٹی کے ایک ایونٹ میں حال ہی میں ملاقات ہوئی۔

مختلف ممالک کے درمیان مصنوعی ذہانت کی دوڑ بارے آپ کی کیا رائے ہے؟

مجھے یہ پسند نہیں ہے۔ مجھے نہیں لگتا یہ کرنے کا صحیح راستہ ہے۔ ہم ایک دوڑ میں مجموعی طور پر شرکت کرسکتے ہیں، لیکن بطور سائنسدان اور ایک ایسا شخص جو اجتماعی فائدہ سوچتا ہے، میرا خیال ہے کہ ہمیں سمارٹ مشینیں بنانے کے بارے میں سوچنا چاہیے اور اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ مصنوعی ذہانت کو کس طرح زیادہ سے زیادہ لوگوں کی بہبود کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

کیا ممالک کے درمیان مصنوعی ذہانت کو مزید فروغ دینے کے طریقے موجود ہیں؟

ہم ترقیاتی پذیر ممالک سے لوگوں کا یہاں آنا آسان بنا سکتے ہیں۔یہ ابھی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ایک افریقی محقق کے لئےیورپ یا امریکہ یا کینیڈا کا ویزا حاصل کرنا بہت مشکل ہے۔ یہ لاٹری ہے، اور اکثر وہ رسائی سے انکار کرنے کے لئے عذر استعمال کرتے ہیں۔ یہ مکمل طور پر غیر منصفانہ ہے۔ ان کے لئے بہت کم وسائل کے ساتھ تحقیق کرنا مشکل ہے، لیکن اس کے علاوہ اگر وہ کمیونٹی تک رسائی حاصل نہیں کرسکتےتو میرے خیال میں یہ واقعی غیرمنصفانہ ہے۔ اس قسم کے مسائل کا کچھ مقابلہ کرنے کے لئے، ہم افریقہ میں 2020 میں آئی سی ایل آر کانفرنس (ایک اہم مصنوعی ذہانت کی کانفرنس) کرنے جا رہے ہیں۔

مجموعی طورلوگوں کو شامل کرنا پر ایک لفظ سے زیادہ اہم ہے۔ ترقی پذیر دنیا میں مصنوعی ذہانت سےفائدہ حاصل کرنے کا پوٹینشل زیادہ ہے۔ ان کو ٹیکنالوجی میں بہتری لانے کی ہم سے زیادہ ضرورت ہے اور ان کی مختلف ضروریات ہیں۔

کیا آپ کو اس چیز کی پریشانی ہے کہ مغرب اور شاید چین کی چند مصنوعی ذہانت کی کمپنیوں کافیلڈ پر غلبہ ہے؟

جی ہاں، یہ ایک اور وجہ ہے کہ ہمیں مصنوعی ذہانت کی تحقیق میں مزید جمہوریت کی ضرورت ہے۔مصنوعی ذہانت میں بذات خود تحقیق طاقت، دولت اورمحققین کا ارتکاز ایک طرف لائے گی۔ بہترین طالب علم بہترین کمپنیوں میں جانا چاہتے ہیں۔ ان کے پاس بہت زیادہ پیسے ہیں، ان کے پاس بہت زیادہ ڈیٹا ہے اور یہ چیز صحت مند رحجان نہیں ہے۔ یہاں تک کہ کسی جمہوریت میں بھی، کچھ ہاتھوں میں زیادہ طاقت کا ارتکاز خطرناک ہے۔

مصنوعی ذہانت کے فوج میں استعمال پر بہت تنازعہ رہا ہے۔آپ کی کیا رائے ہے؟

ٹھیک ہے، میں اسے روکنا نہیں چاہتا۔میرے خیال میں ہے کہ قاتل روبوٹ کو ہمیں غیر اخلاقی بنانے کی ضرورت ہے۔ ہمیں ثقافت کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، اور اس میں تبدیلی کے قوانین اور معاہدے شامل ہیں۔ اس سے ایک طویل راستہ پرجایا جا سکتا ہے۔

یقیناً، آپ اسے مکمل طور پر اس سے روک نہیں سکیں گے، اور لوگ کہتے ہیں، "کچھ غلط ملک ان چیزوں کو بنائیں گے۔" میرا جواب یہ ہے کہ نمبرون ہمیں ان کو ایسا کرنےپر مجرم محسوس کروانا چاہیے، اورنمبر دو کوئی چیز ہمیں دفاع کے لئے ٹیکنالوجی کے استعمال سے نہیں روکتی ۔ دفاعی ہتھیاروں اور حملہ کرنے والے ہتھیاروں کےدرمیان ایک بڑا فرق ہے ۔جو ڈرونوں کو ہلاک کرے گا، وہ دفاعی ہتھیار ہے اور جو انسانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، وہ حملہ آور ہتھیار ہیں۔ دونوں میں مصنوعی ذہانت کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔

کیا ٹیکنالوجی کے ماہرین کو اس بات کو یقینی بنانےکے لئے فوج کے ساتھ کام نہیں کرنا چاہئے؟

اگر ان میں صحیح اخلاقی اقدار ہیں تو ٹھیک ہے۔ لیکن میں مکمل طور پر فوجی تنظیموں پر بھروسہ نہیں کرتا ہوں کیونکہ وہاں اخلاقیات سے پہلے ڈیوٹی آتی ہے۔ کاش یہ دونوں چیزیں مختلف ہوتیں۔

مصنوعی ذہانت میں نئی تحقیق سےآپ کتنے پرجوش ہیں؟

میرے خیال میں ہمیں مصنوعی ذہانت کو مشکل چیلنجز کو حل کے لئےلگانا چاہیے اور کم مدتی اور چھوٹی پیش رفتوں سےمطمئن نہیں ہو جانا چاہیے۔ میں یہ نہیں کہہ رہا ہوں کہ میں ڈیپ لرننگ کو بھولنا چاہتا ہوں۔ اس کے برعکس، میں اس کو مزید بہتر کرنا چاہتا ہوں۔ لیکن ہمیں اسےمعلومات حاصل کرکے دنیا کو تلاش کرنے کے لئے استعمال کرنا چاہیے۔

اگر ہم واقعی مصنوعی ذہانت کو انسانی سطح پر لا کر استعمال کرنا چاہتے ہیں، تو یہ ایک اور بال گیم ہے۔ ہمیں طویل مدتی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے، اور مجھے لگتا ہے کہ اس مشعل کو جلانے کے لئے تعلیمی ادارے بہترین جگہ ہیں۔

آپ دیگر الفاظ میں صرف ڈیٹا کے پیٹرن کو نہیں سمجھتے لیکن ایساکیوں ہوتا ہے۔ یہ کیوں اہم ہے، اور یہ بہت مشکل کیوں ہے؟
اگر آپ کے پاس دنیا کا ایک عام سا ماڈل ہے،تو آپ اس کے ساتھ کام کر رہے ہیں، آپ غیر معمولی حالت چیزوں کوعام کرسکتے ہیں۔ یہ اہم ہے۔ ہم انسان اپنے آپ کو ایسے حالات میںکامیاب بنا لیتے ہیں جو ہمارے روزانہ کے تجربے سے بہت مختلف ہوتےہیں۔ مشینیں ایسا نہیں کر سکتیں کیونکہ ان کے پاس عام ماڈل نہیں ہیں۔

ہم دستکاری کر سکتے ہیں لیکن یہ کافی نہیں ہے۔ ہمیں مشینوں کی ضرورت ہوتی ہے جسے عام ماڈلز بنا سکیں۔ کچھ حد تک یہ کبھی بھی مکمل نہیں ہو رہا ہے۔ ہمارے پاس اصل حقیقت کاعام نمونہ نہیں ہے۔ لہٰذا ہم بہت غلطیاں کرتے ہیں۔ لیکن ہم دوسرے جانوروں کے مقابلے میں کام کرنے میں بہت بہتر ہیں۔
اس وقت ہمارے پاس واقعی اچھے الگورتھم نہیں ہیں لیکن مجھے لگتا ہے کہ اگر کافی لوگ اس پر کام کرتے ہیں اور اس پر غور کریں تو ہم ترقی کریں گے۔

تحریر: ول نائٹ

Read in English

Authors
Top