Global Editions

وہ شخص جس نے خود پر ہی جین تھراپی کا تجربہ کرڈالا۔۔۔

بیماریوں کے علاج کیلئے جین تھراپی بہت مہنگی پڑتی ہے لیکن امریکی مائیکرو بائیولوجسٹ ڈاکٹر ہینلے نے سستا طریقہ دریافت کرنے کیلئے ’’خود تجربات کرو‘‘ تحریک کے تحت جین تھراپی کا اپنے آپ پر ہی تجربہ کرڈالا۔ انہوں نے اپنے جین کو ڈیزائن کرکے کمپنی سے اس کی کاپی بنوائی اور ڈاکٹر کے ذریعے اپنی ٹانگ میں الیکٹروڈز کے ذریعے کرنٹ لگایا تاکہ اس کے سیل نئے ڈی این اے کو جذب کرنے کیلئے کھل جائیں۔ پھر ان کاپی شدہ جینز کو انجکشن کے ذریعے جسم میں داخل کردیا۔ اس کی کوششوں کو ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو میں غیرمعمولی جین تھراپی کے نام سے شائع کیا گیا۔ہینلے نے اپنے جسم کے سیلوں میں جو جین داخل کیا اس سے ہینلے کی طاقت، قوت برداشت اور زندگی کے دورانیہ میں اضافہ ہو گا۔ ہینلے کے تجربے کا مقصد ایڈز کے مریضوں میں قوت برداشت اور توانائی میں اضافہ کرنا ہے۔ ہینلے نے تجربہ کرکے ثابت کیا کہ جین تھراپی کم قیمت پر بھی ممکن ہے۔اگرچہ بڑھتی ہوئی عمر کے اثرات کو کم کرنے کیلئے مارکیٹ میں ادویات موجود ہیں لیکن جین تھراپی ان ادویات سے آگے کا قدم ہے۔ آبرن یونیورسٹی کے پروفیسر بروس سمتھ کہتے ہیں کہ میرے خیال میں یہ پاگل پن ہے۔لیکن یہ کہنا بےجا نہ ہو گا کہ ہینلے کی کوششوں نے سائنسدانوں کی بڑی جماعت کی توجہ حاصل کرلی۔ ہارورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر اور جینیات کے ماہر جارج چرچ اب ہینلے کے خون کے نمونوں پر تجربات کررہے ہیں۔ مضمون کے مصنف انٹونیو ریگالڈو لکھتے ہیں کہ انہوں نے ہینلے کا تجزیہ کرنے کیلئے ایک پورا دن ان کے ساتھ گزارا۔ انہیں ہینلے میں نئی توانائی محسوس ہوئی۔ یوں محسوس ہوا جیسے اس کی شخصیت ہی بدل گئی ہے۔ ہینلے نے جسم میں ڈی این اے داخل کرنے کیلئے سادہ طریقہ اپنایا۔ انہوں نے ڈی این اے کے سرکلر رنگ کو جسے پلاسمڈ کہتے ہیں کرنٹ کے ذریعے اپنے سیلوں میں داخل کیا۔ اس طریقے سے ڈی این اے کروموسومز کا مستقل حصہ بننے کی بجائے نیوکلیس میں داخل ہو کر فوری طور پر پروٹین بنانا شروع کردیتے ہیں۔ اگست میں امریکی نیشنل انسٹی ٹیوٹ نے زیکا وائرس کے شکار رضاکاروں میں پلازمڈ ویکسین انجیکشن کے ذریعے داخل کی تھی۔ وی جی ایکس کمپنی کے ڈگلس کہتے ہیں کہ ہم نے پلازمڈ کو کبھی انسانوں پر نہیں آزمایا بلکہ ہمیشہ جانوروں پر تجربات کئے جن کے بڑے اچھے نتائج برآمد ہوئے۔ ہینلے کو اپنے تجربات کیلئے کہیں سے سرمایہ کاری نہ ملی تو انہوں نے اپنی جیب سےدس ہزار ڈالر خرچ کرکے اپنے خون کا پلازمڈ بنوایا۔ تاہم ضابطہ اخلاق کے قائل لوگ جین تھراپی کے حامی نہیں ہیں۔ سٹینفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر ہینک گریلی کہتے ہیں کہ میں اس کے تجربات اپنی ذات پر کرنا قطعی پسند نہیں کروں گا۔ ہینلے کو خود پر کئے گئے تجربات کا کوئی افسوس نہیں بلکہ وہ اس پر فخر کرتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ خود پر جین تھراپی کا تجربہ کرنا مشکل نہیں ہے بس خود کو آمادہ کرنا پڑتا ہے اور کام آسان ہو جاتا ہے۔

تحریر: انٹونیو ریگالڈو (Antonio Regaldo)

Read in English

Authors
Top