Global Editions

اب نئی قسم کی بیٹریاں متعارف ہونے والی ہيں

 نام:  کیچاو ہو(Qichao Hu)

عمر: 33 سال

ادارہ: سولڈ انرجی سسٹمز (Solid Energy Systems)

جائے پیدائش: چین

کیچاو ہو سمجھتے ہيں کہ وہ ایک بہت بڑی پیش رفت، یعنی بیٹریوں کے انقلاب کی بنیاد رکھنے والے ہیں۔

میساچوسیٹس کے شہر ووبرن میں واقع سالڈ انرجی سسٹمز کے بانی اور چیف ایگریکٹو افسر کی حیثیت سے انہیں ماضی میں دوسروں کی کوششوں کی نسبت لیتھیم دھات سے بنی  ری چارج ایبل بیٹریز کو تجارتی شکل دینے میں سب سے زیادہ کامیابی حاصل ہوئی ہے۔  یہ بیٹریاں تمام الیکٹرانکس اور برقی گاڑیوں کے موجودہ صنعتی معیارات کے مطابق بنائی گئی لیتھیم آئن بیٹریوں کی توانائی کی کثافت سے دگنی توانائی فراہم کریں گی۔

1870 میں لیڈ ایسڈ بیٹری کی ایجاد  کے بعد، بیٹریز کی ٹیکنالوجی میں صرف پانچ بڑی کامیابیاں  دیکھنے کو ملی ہیں، اور توانائی کی کثافت  تقریباَ 30 سال بعد دگنی ہوتی رہی ہے۔ اگر یہی سلسلہ چلتا رہے  تو اس کا مطلب ہے کہ اگلی کامیابی بہت جلد دیکھنے کو ملے گی۔ لیتھیم آئن بیٹریز کو سونی نے 1991 میں پہلی دفعہ تجارتی پیمانے پر متعارف کیا تھا۔

لیتھیم میٹل بیٹریز کی توانائی کی کثافت میں اضافے سے برقی گاڑیوں کی رینج دگنی ہوسکتی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ لیتھیم دھات بہت تیز عامل ہے۔ اس کے ابتدائی نمونے چارجنگ کے دوران سوئی جیسی شکلیں، جنہیں ڈینڈرائیٹ (Dendrite) کہا جاتا ہے، اختیار  کرتے ہیں، جو کہ سیلزکو شارٹ کر سکتے ہیں جس کی وجہ سے بیٹری پھٹ سکتی ہے یا اس میں آگ لگ سکتی ہے۔

ہو نے ایک مائع تابکار تیار کیا ہے، جو نمک میں گھلے محلول پر مشتمل ہے جس کی وجہ سے ڈینڈرائیٹ کی تشکیل میں کمی ممکن ہوتی ہے۔ اس محلول کی بنیاد پر، سالڈ انرجی سسٹمز  نے 2016 میں لیتھیم دھات کی بیٹریز کی  تخلیق شروع کی ہے جن کی اب ڈرونز میں استعمال کے لیے ٹیسٹنگ کی جارہی ہے۔ 2019 میں، شنگھائی میں  لیتھیم دھات سے بنی بیٹریز کی دنیا  کی سب سے بڑی سہولت کا آغاز کیا جائے گا اور ہو کو امید ہے کہ وہ پیداواری صلاحیت ایک مہینے میں لاکھوں سیلز تک پہنچ جائے گی۔

تحریر: ایڈ گینٹ (Edd Gent)

Read in English

Authors

*

Top