Global Editions

جراثیمی ہتھیاروں کے خطرات۔۔۔

ایڈورڈ یو (Edward You)امریکی ایف بی آئی ایجنسی میں جراثیمی ہتھیاروں کیخلاف کام کرنے والے اہلکار ہیں۔ کہا جاتا ہےکہ اگر امریکہ میں کسی شخص کا دوست یا جاننے والا یا کوئی ناراض طالبعلم فارغ اوقات میں گھنٹوں اپنے گھر کے تہہ خانے میں بنی پیتھوجین لیبارٹری (Pathogene Lab)میں جراثیمی ہتھیار بنانے کا کوئی غلط کام کررہا ہے تو اس شخص کو ایڈورڈ یو سے رابطہ کرنا چاہئے ۔ ایڈورڈ یو کا کام ہی یہ ہے کہ لیبارٹریز میں ہونے والے غیر معمولی کاموں پر نظر رکھے کہ کہیں وہاں پر جراثیمی حملے کی تیاری تو نہیں ہو رہی۔یہ بہت مشکل کام ہے۔ اب چونکہ مائیکرواورگنزم ڈی این اے انجینئرنگ کے طریقے عام دستیاب ہیں اسی لئے عام لوگ بھی "ڈو اِٹ یورسیلف" کی تحریک سے متاثر ہو کر خود اپنے گھروں میں بنائی گئی چھوٹی چھوٹی سی لیبارٹریز میں طرح طرح کے تجربات کررہے ہیں۔ جو لوگ ایڈورڈ یو کو جانتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ اس نے اپنے آپ کو ایجنسی تک محدود کرلیا ہے۔ وہ پالیسی میکرز پر زور دیتا ہے کہ اس سلسلے میں پوشیدہ نکات پر غور کریں اور اپنے جاننے والوں سے کہتا ہے کہ آپ لوگ ایسے بائیولوجسٹ کے بارے میں جاننے کی کوشش کریں۔ ایڈورڈ اپنے نیٹ ورک کو مکڑی کا جالا قرار دیتا ہے۔


جراثیمی ہتھیاروں خطرات کے بارے میں ایڈورڈ کا نظریہ بڑا واضح ہے۔ چیلنج یہ ہے کہ جس طرح کا جراثیمی ہتھیار استعمال کیا گیا ہے اس کا مقابلہ کرنے کیلئے اسی طرح کی مہارت اور علم کی بھی ضرورت ہے۔ جنوری میں امریکہ نے ڈی این اے میں ترمیم کے نئے طریقے سی آر آئی ایس پی آر کا اعلان کیا۔ یہ طریقہ بڑے پیمانے پر تباہی کا متوقع ہتھیار بنا سکتا ہے۔ کیونکہ 140 ڈالر میں ملنے والی کِٹ سے کوئی عام شخص بھی تھوڑی سی مہارت سے بیکٹیریا کے جین میں ایڈیٹنگ کرسکتا ہے۔ اس طرح محض نظریئے کی حد تک کو ئی بھی برے ارادوں کا حامل شخص خوفناک جراثیمی ہتھیار بنا سکتا ہے یا پھر سمال پوکس کی طرح کی بیماری پھیلاسکتا ہے۔ جبکہ عملی طور پر ممکن ہے کہ مستقبل میں آسانی پیدا ہو جائے لیکن تا حال ایسا کرنا آسان نہیں ہے۔ ایم آئی ٹی سنتھیٹک بائیولوجی سینٹر کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نیون سمر ز(Nevin Summers)کہتے ہیں کہ کوئی بھی غلط کام کرنے میں رکاوٹیں کم ہو رہی ہیں جس سے ہم سب خطرے میں پڑ رہے ہیں۔ ایف بی آئی میں کام کرتے ہوئے ایڈورڈ یو کے پاس غیر ملکی ایجنٹوں کی بجائے مقامی سطح پر پیدا ہونے والے جراثیمی ہتھیاروں کے ماہرین پر نظر رکھنی ہے۔ جراثیمی حملے کے جرائم بہت کم ہوتے ہیں لیکن جب بھی ایسا ہوتا ہے تو سائنسی تربیت کو الزام دے دیا جاتا ہے۔ مثلاً 1996ء میں سینٹ پال میڈیکل سینٹر کی ٹیکنیشئن ڈیانا تھامسن نے اپنے ساتھیوں کو بتایا کہ وہ غلطی سے بلیو بیرنٹس اور ڈونٹس کو کچن میں چھوڑ آئی ہے جس پر شگیلا (Shigella)بیکٹیریا موجود ہے۔ ان کی اس چھوٹی سی غلطی سے نو افراد بیمار ہو کر ہسپتال منتقل ہو گئے تھے۔ اسی طرح 2011ء میں انتھراکس کے خطرے نے پورے امریکہ کو خوف میں مبتلا کررکھا تھا۔

ایڈورڈ یو کا کہنا ہے کہ ان کا ایک کام سائنسدانوں کو ایسے خطرات سے آگاہ کرنا بھی ہے۔ ایسے بائیلوجسٹ جو کینسر کے علاج پر کام کررہے ہیں اور نئے نئے ٹیسٹ کر رہے ہیں ان کے تجربات سے بھی جراثیم پھیلنے کا خطرہ ہے۔ ایڈورڈ یو کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کے غلط استعمال سے بچنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ہمیں غلط ارادوں کو روکنے کیلئے مثبت سوچ رکھنے والوں کی آج کہیں زیادہ ضرورت ہے۔

ایف بی آئی نے 2004ء میں جب بفیلو بائیو آرٹسٹ سٹیو کرٹز کو اس کے گھر سے بیکٹریا کلچر کے نمونے ملنے پر گرفتار کیا تو پتہ چلا کہ ایف بی آئی میں جراثیمی حملے کیلئے تیاری میں کتنی خامیاں ہیں۔ ایف بی آئی نے 2009ء میں بائیو خطرات کے بارے میں جاننے کیلئے اپنا طریقہ کار تبدیل کردیا۔ اس نے بین الاقوامی جینیاتی انجینیرڈ مشین مقابلے کو سپانسر کرنا شروع کردیا جس میں سالانہ 3000ہزار طلباء مائیکروبز کو انجینئر کرنے کیلئے مقابلے میں حصہ لیتی ہے۔اس میں وہ بائیولوجسٹ بھی حصہ لیتے ہیں جو گھر بیٹھے کام کرتے ہیں۔ جن کے پراجیکٹس اوپن سورس انسولین ، ڈیری فری چیز اور دیگر کمرشل بنیادوں پر تیار ہونے والی اشیا تیار کرنے پر مشتمل ہوتے ہیں۔ اس طرح ایف بی آئی گھریلو سطح پر کام کرنے والے نئے بائیولوجسٹ کی حوصلہ افزائی کیلئے مالی مدد بھی کرتی ہے اور ان پر نظر بھی رکھتی ہے کہ کہیں وہ غلط سرگرمیوں میں ملوث تو نہیں ہیں۔ مثلاً سباسشین کوسیوبا نیویارک میں اپنے گھر میں بیڈ روم کے ساتھ کمرے میں کام کرتے ہیں۔ وہ ایف بی آئی سے رابطے میں رہتے ہیں۔ اسی طرح سٹینفورڈ یونیورسٹی میں بائیوسیکورٹی سکالر کہتی ہیں کہ وہ مہینے میں دو بار گھر پر بائیولوجی کے تجربات کرنے والے لوگوں کو ایڈورڈ یو کے پاس بھیجتی ہیں۔ ایڈورڈ یو عموماً سائنسدانوں کے خدشات پر مبنی باتیں سنتے رہتے ہیں۔ ایک اور خطرہ جس کے بارے میں ایڈورڈ متفکر ہے وہ یہ ہے کہ حال ہی میں کچھ سائنسدانوں نے سی آر آئی ایس پی آر ٹیکنالوجی کی مدد سے حشرات میں خودکار طریقے سے پھیلنے والے وائرس کیلئے جین کی ایڈیٹنگ شروع کی ہے۔ ایف بی آئی نے اپنی سرگرمیوں کے نتائج کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔ وہ یہ کہ جراثیمی حملوں کے خطرات کس حد تک موجود ہیں؟ کتنے افراد کے بارے میں تفتیش کی گئی ہے؟ سرکاری لیبارٹریز میں کتنے قسم کے جراثیم تیار کئے جارہے ہیں؟

تحریر: انٹونیو ریگالڈو (Antonio Regalado)

Read in English

Authors
Top