Global Editions

ٹرمپ عوامی رائے کے برعکس توانائی پر معاہدے کررہے ہیں

ڈونالڈ ٹرمپ کے توانائی کے بارے میں خیالات پہلے ہی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ تاہم یہ خیالات امریکہ میں رائے عامہ اور توانائی کی صنعت کی مارکیٹ فورسز سے متصادم ہیں۔ پیو ریسرچ سینٹر (Pew Research Centre)کی حالیہ تحقیق کے مطابق 65فیصد امریکیوں کا خیال ہے کہ امریکہ کو قابل تجدید توانائی مثلاً پن بجلی، شمسی توانائی کو ترجیح دینا چاہئے جبکہ 27فیصد کا خیال ہے کہ امریکہ کو تیل ، گیس اور کوئلے کی توانائی کے حصول پر توجہ دینی چاہئے۔ یہ وہ منظر نامہ ہے جس میں ہمیں پتہ چلتا ہے کہ امریکہ توانائی کے شعبے میں کس طرف جارہا ہے۔ یہ کہنا درست ہو گا کہ قابل تجدید توانائی کی طرف رحجان تیزی اضافہ اور فضا میں کاربن کا اخراج کم ہورہا ہے۔ دوسری طرف ٹرمپ کا حیاتیاتی ایندھن سے توانائی کے حصول کیلئے تیزی سے اقدامات کررہے ہیں اور کاربن کے اخراج کو اہمیت نہیں دے رہے۔ ٹرمپ اس سے پہلے ٹوئٹر پر پیغام دے چکے ہیں کہ ماحولیاتی تبدیلی چین کی طرف سے دنیا کو دیا گیا ایک دھوکہ ہے ۔ بعد میں انہوں نے اپنے ٹویٹ کو ایک مذاق قرار دیا تھا۔ تاہم ٹرمپ نے گزشتہ منگل کو ہی حیاتیاتی ایندھن کی پیداوار بڑھانے کے ایگزیکٹو آرڈرز پر دستخط کئے ہیں ۔ ان تین ایگزیکٹو آرڈرز میں سے ایک کی سٹون ایکس ایل (Keystone XL)پائپ لائن کو بحال کرنا اور دوسرا ڈکوٹا تک رسائی کی پائپ لائن کو مکمل کرنے کے بارے میں ہے جبکہ تیسرا آرڈر ہے کہ امریکہ میں بننے والی پائپ لائن میں امریکی سٹیل استعمال ہو گا۔ ٹرمپ کے ابتدائی اقدامات بتاتے ہیں کہ امریکہ کی توانائی پالیسی میں کیا بنیادی تبدیلی آرہی ہے۔ اوباما انتظامیہ نے تو قابل تجدید توانائی کے حصول اور کاربن کم کرنے کے کئی منصوبے شروع کئے تھے لیکن ٹرمپ انتظامیہ ان منصوبوں پر پانی پھیر رہی ہے۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ٹرمپ کی ٹرانزیشن ٹیم میں ماحولیاتی تبدیلی پر تنقید کرنے والے مائرون ایبیل انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی ہی کو ختم کرنے کے درپے ہیں۔

تحریر: مشعال رائلی (Michael Rielly)

Read in English

Authors

*

Top