Global Editions

ایک فرسودہ صنعت میں نئی جان پھونکنے کی کوشش

چند انوویٹرز نئی ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھا کر ہیلتھ کیئر کے شعبے میں انقلاب لا رہے ہیں۔

پہلی نظر میں پاکستان میں ہیلتھ کیئر کا شعبہ اس قدر بے لچک ظاہر ہوتا ہے کہ آپ شاید یہ سمجھ بیٹھیں کہ اس میں جدت کی بالکل بھی گنجائش نہیں ہے۔ لیکن اب ٹیکنالوجی کے چند ریسرچرز وینٹی لیٹرز سے لے کر پیچیدہ قسم کے سیمولیٹرز تک کئی مختلف قسم کی مصنوعات کی مدد سے اس صنعت کی کایا پلٹنے کی کوشش کررہے ہيں۔ بعض دفعہ ان کی ایجادات کے پیچھے کوئی کمال کا آئيڈیا تھا، اور بعض دفعہ کوئی سانحہ۔ اس تحریر میں ہم ان مداخلتوں اور ان کے پیچھے کیا کہانیاں ہیں، اس کے بارے میں بات کریں گے۔

ایمبولیٹر

مجیب الرحمان نے دسمبر 2015ء میں لاہور کے ایک سرکاری ہسپتال کے ایک وارڈ میں جو منظر دیکھا، وہ ان کے لیے جہنم سے کم نہیں تھا۔ ان کے چاروں طرف نمونیا جیسی کئی مختلف تنفساتی بیماریوں کے شکار درجنوں مریض، جن کی اکثریت بچوں پر مشتمل تھی، زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہے تھے۔ ہر ایک مریض کے اطراف ان کے گھر والے پہرہ دیے ہوئے تھے۔ چند افراد ایک مشین پکڑ کر اپنے بچوں کے پھیپھڑوں میں ہوا پمپ کر رہے تھے۔

رحمان، جو الیکٹریکل انجنیئرنگ میں ڈاکٹرل ڈگری رکھتے ہیں، بھی دوسروں کی طرح پمپ لیے ایک بچے کی جان بچانے کی کوششوں میں لگے ہوئے تھے۔

وہ بتاتے ہیں ’’میرے بھتیجے کو جب سانس لینے میں دشواری ہونے لگی، تو ساہیوال کے ڈاکٹروں نے اسے لاہور جا کر علاج کروانے کا مشورہ دیا۔ لیکن لاہور جیسے بڑے شہر میں بھی اس کو وینٹی لیٹر نہيں مل سکا، جس کی وجہ سے اس کی حالت بگڑنا شروع ہوگئی۔ ہمیں ایک ایمبو بیگ دے دیا گیا، جسے صرف عارضی طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ میں اور میرے گھر والے باری باری اس بیگ کی مدد سے اسے آکسیجن فراہم کرنے کی کوشش کرتے رہے۔‘‘

پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں وینٹی لیٹرز کی حالت، بلکہ ان کی شدید کمی، کسی سے چھپی نہيں ہے۔ اگست 2016ء میں صوبائی حکومت کی طرف سے سپریم کورٹ میں جمع کردہ ایک رپورٹ کے مطابق پنجاب بھر کے ہسپتالوں میں 885 وینٹی لیٹرز موجود تھے، جن میں سے 122 (یعنی 14 فیصد) ناکارہ تھے۔

لاہور کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال میو ہسپتال کے ایک ڈاکٹر کہتے ہیں ‘‘پہلی نظر میں تو صورتحال اتنی خراب نہيں لگتی ہے۔ لیکن صورتحال کا درست اندازہ صرف اسی وقت ممکن ہے جب آپ ان اعداد میں مشینوں کی مانگ کو خاطر میں لائيں گے۔ تنفساتی امراض کے شکار مریضوں کی تعداد کے حساب سے ہمارے پاس بہت کم وینٹی لیٹرز دستیاب ہیں۔’’ وہ مزید بتاتے ہيں کہ میو ہسپتال میں ہر آئی سی یو میں صرف تین وینٹی لیٹرز موجود ہیں۔ ’’وینٹی لیٹرز اس وقت لگائے جاتے ہیں جب مریض کی حالت سنبھل نہيں رہی ہوتی ہے۔ بعض دفعہ ہمیں مریض کے انتقال کے بعد کسی دوسرے آئی سی یو سے وینٹی لیٹر کے فارغ ہونے کی خبر ملتی ہے۔ اس وقت بہت دیر ہوچکی ہوتی ہے۔‘‘

اس رپورٹ میں ایک اور مسئلے کی نشاندہی کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ کئی دفعہ ان ہسپتالوں میں موجود وینٹی لیٹرز کی مرمت نہیں ہو پاتی ہے کیونکہ پاکستان میں کوئی مخصوص ہائی ٹیک پرزہ دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے اکثر انھیں بیرون ملک سے درآمد کرنا پڑجاتا ہے۔

وینٹی لیٹرز کی اس قدر کم تعداد کی وجہ سے بیشتر افراد کے لیے، خاص طور پر سرکاری ہسپتالوں میں، وینٹی لیٹر کی سہولیات حاصل کرنا بہت مشکل ثابت ہوتا ہے۔ نجی ہسپتالوں میں سرکاری ہسپتالوں کے مقابلے میں زيادہ وینٹی لیٹرز موجود ہيں، لیکن وہ اس قدر مہنگے ہیں کہ زيادہ تر پاکستانیوں کی پہنچ سے باہر ہيں۔ لاہور میں واقع نیشنل ہسپتال اور میڈیکل سنٹر (National Hospital and Medical Centre - NHMC) نامی نجی ہسپتال کی مثال لے لیجیے۔ یہاں کے اینستھیزیا کے وارڈ میں 12 پلنگوں کے لیے 12 وینٹی لیٹرز یعنی ہر مریض کے لیے ایک وینٹی لیٹر دستیاب ہے۔ این ایچ ایم سی کی ایک ڈاکٹر بتاتی ہيں ’’ہمارے میڈیکل وارڈ میں اینستھیزیا کے وارڈ کے مقابلے میں کم وینٹی لیٹرز ہیں، لیکن عام طور پر وینٹی لیٹرز کی کمی نہيں ہوتی ہے۔‘‘ ان کے مطابق
وینٹی لیٹر استعمال کرنے کی قیمت 60,000 پاکستانی روپے (یعنی تقریباً 600 امریکی ڈالر) یومیہ ہے۔

انسانی دل ایک انجن کی طرح پھیپھڑوں میں ہوا کی رفتار اور دباؤ کو ریگولیٹ کرتا ہے، اور جب وہ ہوا پمپ نہيں کرپاتا ہے اس وقت مداخلت کی ضرورت پیش آتی ہے، اور وینٹی لیٹز لگانے سے مریض کی جان بچائی جاسکتی ہے۔ رحمان کا بھتیجا ایک سرکاری ہسپتال میں تین دن اور تین راتوں تک ایمبو بیگ سے سانس لینے کی کوشش کرتا رہا، لیکن آخرکار جان کی بازی ہار گیا۔ اس وقت رحمان کیلی فورنیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے الیکٹرک انجنیئرنگ میں پوسٹ ڈاکٹرل ریسرچ مکمل کرکے آئے تھے، لیکن وہ خود کو بہت بے بس محسوس کررہے تھے۔

رحمان، جو اب انفارمیشن ٹیکنالوجی یونیورسٹی میں الیکٹریکل انجنیئرنگ کے اسسٹنٹ پروفیسر ہيں، کہتے ہيں ’’میں ایک انجنیئر ہوں، اور میں نے وارڈ کے جو حالات دیکھے تھے وہ میرے لیے قابل قبول نہيں تھے۔ اس وقت میرے سامنے دو راستے تھے۔ ميں یا تو اپنا دل جلاسکتا تھا، یا اپنی انجنیئرنگ کی ڈگری کا فائدہ اٹھا کر اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کرسکتا تھا۔‘‘

انھوں نے دوسرے راستے کا انتخاب کیا۔

رحمان نئے قسم کے ایمبو بیگ کو ایجاد کرنے کے بجائے، ایک ایسا حل نکالنا چاہ رہے تھے جس سے اسے بطور وینٹی لیٹر استعمال کرنے کے دوران غلطی کی گنجائش کو کم کیا جاسکے، لہٰذا انھوں نے ایمبو بیگ کو آٹو میٹ کرنے کا فیصلہ کیا۔ وہ کہتے ہيں ’’اگر کوئی چیز جانی پہچانی ہوتی ہے، اسے اپنانا زيادہ آسان ہوتا ہے۔ اگر ہم مکمل طور پر مختلف چیز ایجاد کرتے تو شاید میڈیکل کمیونٹی سے وابستہ لوگوں کے لیے اسے اپنانا مشکل ہوتا۔‘‘

رحمان نے اپنے ایک ساتھی کے ساتھ مل کر، جو ایک میکانی انجنیئر ہیں، لاہور میں واقع اپنی سابقہ یونیورسٹی، یونیورسٹی آف انجنیئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی میں پہلے کچھ ابتدائی خاکے اور پھر میکانی ڈیزائنز تیار کیے، اور کچھ عرصے بعد ڈیزائن تیار ہوگیا۔ اس وقت رحمان کو محسوس ہونے لگا کہ اب ایک فل ٹائم ریسورس کی ضرورت ہے، جس کے بعد انھوں نے آئی ٹی یو کے ریسرچ ایسوسی ایٹ سعد پاشا کی خدمات حاصل کیں۔

اس طرح ایمبو بیگ کے وینٹی لیٹر سسٹم کا پہلا ورژن تیار ہوا، جس کا نام ورژن 0.1 رکھا گیا۔ رحمان بتاتے ہيں ’’ہمارے پہلے ورژن میں وزن، سائز اور شکل میں بہتری کی بہت گنجائش تھی۔ اس کے علاوہ اسے متعارف کرنے سے پہلے ٹیسٹ کرنے کی بھی ضرورت تھی۔‘‘

اس ڈیوائس میں، جو اب ایمبولیٹر کے نام سے جانی جاتی ہے، ایک موٹر لگائی گئی ہے جو ایمبو بیگ میں بہاؤ کی شرح اور ٹائيڈل والیوم کو ریگولیٹ کرتی ہے۔ اس موٹر اور ایمبو بیگ میں نصب سینسرز کی مدد سے ان پیرامیٹرز کی نگرانی کی جاسکتی ہے، جس سے نہ صرف صحیح مقدار میں ہوا کی فراہمی ممکن ہوگی، بلکہ ڈیوائس میں کسی بھی قسم کے نقص کی بھی نشاندہی کرنا زیادہ آسان ہوجائے گا۔ اس ڈیوائس کو چلانے کے لیے ایک معیاری 12 وولٹ کی بیٹری استعمال کی جاتی ہے۔ رحمان کہتے ہيں ’’ہم پہلے ایک ہینڈ ہیلڈ ڈیوائس بنانا چاہتے تھے۔‘‘

2017ء میں ایمبولیٹر کی ٹیم نے ڈیوائس کو کلینکل ٹیسٹنگ کے لیے تیار کرنا شروع کیا۔ اس مرحلے میں سرکاری ہسپتالوں کا سروے کرکے ان ڈیوائسز کی مانگ کا تعین کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس کے بعد کلینکس میں محفوظ استعمال کو یقینی بنانے کے لیے پروٹوٹائپ میں سنسرز نصب کیے گئے، اور ڈیوائسز میں ڈاکٹروں کی تجاویز کے مطابق ردوبدل کی گئی۔ اس کے نتیجے میں ڈیوائس کے دو مختلف ورژنز سامنے آئے، ایک بڑوں کے لیے اور دوسرا شیرخوار بچوں کے لیے۔

ایمبولیٹر پر کام کرنے والے ریسرچر شہیر پراچہ کے مطابق ان کے لیے ڈاکٹروں سے بات کرنا بہت فائدہ مند ثابت ہوا۔ ’’انھوں نے ہمیں بڑی تفصیل سے بتایا کہ ایمبولیٹر سے بھرپور فائدہ حاصل کرنے کے لیے کیا کیا چیزیں کرنے کی ضرورت ہوگی۔‘‘

شہیر کی ریسرچ کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ ڈاکٹروں کو ایک ایسی ڈیوائس کی ضرورت ہے جو نہ صرف آسان استعمال اور پورٹ ایبل ہو، بلکہ اس میں بار بار بجلی چلے جانے کے باوجود بھی چلتے رہنے کی صلاحیت موجود ہو۔

’’ڈاکٹروں سے فیڈبیک حاصل کرنے کے بعد ہم نے اس ڈیوائس میں بیٹری اور یوزر انٹرفیس جیسے کئی اپ گریڈ کیے، جن کی وجہ سے مریضوں کو طویل عرصے تک آکسیجن کی موثر فراہمی ممکن ہوئی۔‘‘

جولائی 2017ء میں اس ڈیوائس کو پٹھوں کی ڈی جینریشن کے شکار ایک مریض پر ٹیسٹ کیا گیا، جس کے پھیپھڑے بیماری کی وجہ سے مکمل طور پر ضائع ہوچکے تھے۔ شہیر کہتے ہیں ’’اس ڈیوائس کی کارکردگی بہت اچھی رہی، اور ڈاکٹرز اس کی درستی دیکھ کر کافی متاثر ہوئے۔‘‘ وہ مزید بتاتے ہيں ’’اب ہم نہ صرف اس ڈیوائس کو مزید بہتر بنانا چاہتے ہیں، بلکہ ہم ریگولیٹری معاملات میں بھی آسانیاں پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں، تاکہ ضرورت مند افراد کی اس ڈیوائس تک رسائی ممکن ہوسکے۔‘‘

کم قیمت انفیوژن پمپ

پاکستان کے ہسپتالوں میں بنیادی ہیلتھ کیئر کے آلات کی کمی کے باعث قابل علاج بیماریوں میں مبتلا بچے بھی اموات کا شکار ہو رہے ہیں۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ بنیادی سازوسامان جن میں انکوبیٹرز، دل کی دھڑکن کو جانچنے والے کارڈک مانیٹرز، فوٹوتھراپی، عمل تنفس بحال کرنے کی مشینیں، سلیپ ایپنیا کے الارمز، یرقان (jaundice) کے میٹرز، انفیوژن پمپس، آکسیجن کی جانچ کرنے والی مشینیں اور دیگر آلات کی عدم دستیابی کے سبب مریض بری طرح متاثر ہو رہے ہیں اور انھیں بہترین طبی سہولیات کی فراہمی میں دشواریوں کا سامنا ہے۔ اس وقت پاکستان بھر میں انفیوژن پمپس پولینڈ یا امریکہ سے درآمد کیے جاتے ہیں اور ایک انفیوژن پمپ کی قیمت نوے ہزار سے ایک لاکھ پانچ ہزار روپے تک ہے۔

اسی مسئلے کے حل کے لیے انفارمیشن ٹیکنالوجی یونیورسٹی کے چند طلباء نے ایک کم قیمت انفیوژن پمپ تیار کیا ہے۔

انفیوژن پمپ ایک ایسی ڈیوائس ہے جس کی مدد سے کسی مریض کے نظام گردش خون میں ایک کنٹرول شدہ رفتار سے سیال، ادویات یا غذائی اجزاء، جیسے کہ انسولین، اینٹی بائیوٹکس، کیموتھراپی میں استعمال ہونے والی ادویات، درد کش ادویات اور دیگر ہارمونز، داخل کیے جاسکتے ہیں۔ اس پمپ کو عام طور پر درون وریدی (intravenous) انفیوژنز کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، لیکن اس کی مدد سے جلد کے نیچے، شریانوں میں اور ڈریا کے اوپر (epidural) بھی ادویات داخل کی جاسکتی ہیں۔

انفیوژن پمپ اس شرح یا مقدار میں سیال مریض کے جسم میں داخل کر سکتے ہیں جو اگر ڈاکٹر یا میڈیکل سٹاف اپنے ہاتھ سے مریض کے جسم میں داخل کريں تو مقدار میں کمی بیشی ممکن ہے۔ انفیوژن پمپ مریض کے جسم میں 0.1ملی لیٹر فی گھنٹہ کی شرح سے سیال یا ادویات داخل کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ انفیوژن پمپس مریضوں کو اپنی ادویات خود سے لینے کا محفوظ طریقہ کار بھی مہیا کرتے ہیں۔

انفیوژن پمپس زیادہ تر انتہائی نگہداشت کے وارڈز، امراض قلب، گائنا کالوجی، زچہ بچہ کی نگہداشت، رفع درد اور بعد از سرجری مقاصد کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

اس حوالے سے میو ہسپتال کی ڈاکٹر نوریہ اشفاق کا کہنا ہے ’’بعض ادویات مریض کی حالت اور وزن کے مطابق دینا ضروری ہوتی ہیں۔ امراض قلب کے ان مریضوں کی حالت پر قابو پانے کے لیے جو بلند فشار خون کے مرض میں مبتلا ہیں، انفیوژن پمپ کی مدد لی جاتی ہے۔ تاہم جب یہ انفیوژن پمپ دستیاب نہ ہوں تو ہمیں سخت دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ پھر مریض کو مختلف اقسام کی ادویات ڈرپ کے ذریعے دینا ضروری ہو جاتی ہیں اور ادویات کی شرح کو خود کنٹرول کرنا پڑتا ہے تاکہ ڈرپ اور مائیکروبیوریٹ کے ذریعے صرف اتنی مقدار میں ادویات کے قطرے مریض کے جسم میں داخل ہوں جتنے ضروری ہیں۔ یہ زیادہ درست طریقہ نہیں ہے کیونکہ اس عمل کے دوران ادویات کی شرح کے معاملے میں صرف اندازوں پر انحصار کیا جاتا ہے۔‘‘

اس انفیوژن پمپ کا ڈھانچہ تھری ڈی پرنٹر کی مدد سے تیار کیا گیا ہے اور اس کی اونچائی چھ انچ کے قریب ہے۔ اس میں ایک سرنج نصب کی گئی ہے اور دوا کی مقدار سیٹ کرنے کے لیے ایک کی پیڈ کے ساتھ اس سرنج کو منسلک کر دیا گیا ہے تاکہ طے شدہ مقدار میں دوا مریض کے جسم میں داخل کی جا سکے۔ اس انفیوژن پمپ کو ایک ببل ڈی ٹیکٹر سے بھی منسلک کیا گیا ہے جو ٹیوب میں ہوا کے بلبلے کو محسوس کرتے ہی ڈیوائس کو روک دیتا ہے۔ درآمد کیے گئے اور آئی ٹی یو کے طالب علموں کی جانب سے تیار کیے جانے والے انفیوژن پمپس ایک جیسے اصول کے تحت ہی کام کرتے ہیں۔ مریض کے جسم میں ادویات داخل کرنے کے لیے سٹپر موٹر آہستہ سے گھومتی رہتی ہے اور اس طرح مریض کے جسم میں ادویات داخل ہوتی رہتی ہے۔ درآمد شدہ انفیوژن پمپ کے مقابلے میں مقامی طور پر تیار کیا جانے والا یہ انفیوژن پمپ انتہائی کم لاگت کا ہے اور صرف 15,000روپے میں تیار کیا جا سکتا ہے۔

اس پر کام کرنے والے ایک طالب علم احمد بلال کہتے ہیں ’’ہمارا انفیوژن پمپ قیمت کے لحاظ سے بہت مناسب ہے۔ اب ہمیں ان پمپس کو درآمد کرنے اور مرمت کے لیے مہینوں انتظار کرنے کی ضرورت نہيں پڑے گی۔‘‘

جناح ہسپتال کے کنسلٹنٹ فزیشن اور علامہ اقبال میڈیکل کالج کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر خلیل بخاری کا کہنا ہے کہ مقامی طور پر تیار ہونے والے طبی سازوسامان کے لیے مارکیٹ میں بہت گنجائش موجود ہے، کیونکہ چند ہیلتھ کیئر فراہم کنندگان کے لیے درآمد ہونے والی مشینیں بہت مہنگی ثابت ہوتی ہيں۔

اس وقت انفیوژن پمپ کے پروٹو ٹائپ کو تیار کر لیا گیا ہے ۔تاہم اس کی کارکردگی کو جانچنے اور کمرشل بنیادوں پر تیار کرنے کے لیے ابھی وقت درکار ہے کیونکہ اس انفیوژن پمپ کو سخت طبی آزمائشوں سے گزرنا ہو گا۔ اس وقت احمد بلال اور ان کے ساتھی رانا منیب اشرف اس پراجیکٹ پر کام کر رہے ہیں اور اس ڈیوائس کی تیاری ان کے انجیئنرنگ کے فائنل ائیر کا پراجیکٹ بھی ہے۔ یہ دونوں مل کر اس انفیوژن پمپ کو زیادہ بہتر، موثر اور انڈسٹریل معیارات کے مطابق بنانا چاہتے ہیں۔ اس کے علاوہ، وہ انفیوژن پمپس کے ذریعے استعمال ہونے والی ادویات کی ایک میڈیکل ڈائریکٹری بھی تیار کرنا چاہتے ہیں جس میں انفیوژن پمپس کے ذریعے مریضوں کے جسم میں داخل ہونے والی ادویات کی درست مقدار درج ہو۔

سمارٹ سم سیمولیٹر

عام طور پر، میڈیکل طلباء کو معمولی نوعیت کی سرجری کی تربیت حاصل کرنے کے لیے سینیئر ڈاکٹرز کے نگرانی میں اپرینٹیس شپ مکمل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے، اور انھیں دوران ملازمت تربیت فراہم کی جاتی ہے۔

راول پنڈی میڈیکل کالج (آر ایم سی) میں سرجری کے پروفیسر ڈاکٹر نعیم ضیاء کے مطابق پہلے یہ طلباء سینیئر ڈاکٹروں کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ اس کے بعد وہ ان سینیئرز کو سرجری کے دوران معاونت فراہم کرتے ہيں، اور پھر اس کے بعد وہ کسی سینیئر ڈاکٹر کی زیرنگرانی خود آپریشن کرنے لگتے ہيں۔ لیکن اب دنیا بھر کے تربیتی ہسپتالوں میں ایسے تربیتی سیمولیٹرز استعمال کیے جارہے ہیں جو دوران سرجری طلباء کی صلاحیتوں کا تخمینہ کرکے ان کی کمزوریوں کی نشاندہی کرسکتے ہیں۔ نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی کے سکول آف الیکٹریکل انجنیئرنگ اینڈ کمپیوٹر سائنس کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر عثمان حسن بتاتے ہيں کہ دنیا بھر کے تربیتی ہسپتالوں میں لیپ سم، لیپ مینٹر اور پرو ایم آئی ایس جیسے سیمولیٹرز استعمال کیے جارہے ہيں، جن کے لائسنسز کی قیمت 50,000 ڈالر تک جاسکتی ہے۔ ان لائسنسز کے مہنگے ہونے کی وجہ سے یہ سیمولیٹرز اب تک پاکستان کے پبلک سیکٹر کے کسی بھی تربیتی ہسپتال میں متعارف نہيں ہوسکے ہيں۔

اس ڈیوائس کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے حسن کی سربراہی میں ایک ٹیم نے سمارٹ سم نامی ایک سیمولیٹر تیار کیا ہے، جس کی قیمت دوسرے سیمولٹرز کی قیمت کا صرف دسواں حصہ ہے۔ آر ایم سی سے وابستہ ضیاء نے بھی ان کے ساتھ اس پراجیکٹ پرکام کیا تھا۔

معمولی نوعیت کی سرجریوں کے لیے تیار کردہ یہ ورچول ریئلٹی سرجیکل سیمولیٹر NUST کے سکول آف الیکٹریکل انجنیئرنگ اینڈ کمپیوٹر سائنس اور راول پنڈی کے ہولی فیملی ہسپتال کی مشترکہ کوششوں سے ممکن ہوا ہے۔ سیمولیٹر کی تخلیق میں حصہ لینے والی ٹیم سرجری کے علاوہ الیکٹریکل، میکانی اور سافٹ ویئر انجنیئرنگ کے شعبہ جات سے وابستہ 20 سے زائد افراد پر مشتمل ہے۔

حسن بتاتے ہیں کہ اس پراجیکٹ کا بنیادی مقصد معمولی نوعیت کی سرجریاں انجام دینے والے ڈاکٹروں کے تربیت کے اخراجات میں کمی لانا تھا۔

یہ ڈیوائس دو سال کے ریسرچ اور ڈيولپمنٹ کے بعد اپنی حتمی شکل میں سامنے آئی اور شروع میں اس کا نام دسویں صدی کے عظیم مسلمان فزیشن اور سرجن کے نام پر الزہراوی رکھا گیا، لیکن بعد میں اس کا نام تبدیل کرکے سمارٹ سم رکھ دیا گیا۔ اسے سب سے پہلے راول پنڈی میں منعقد ہونے والی سوسائٹی آف سرجنز کی ایک میٹنگ میں متعارف کیا گیا، اور 2014ء میں NUST میں اسے باقاعدہ طور پر لانچ کیا گیا۔

اس کے بعد سے سمارٹ سم کی ٹیم کئی مختلف مقابلوں میں اس کا مظاہرہ کرچکی ہے، جن میں آئی بی اے انوینٹ انٹریپینیوریل چیلنج (IBA Invent Entrepreneurial Challenge)، ٹی آئی ای انٹرنیشنل بزنس پلان کمپیٹیشن (TiE International Business Plan Competition)،
P@SHA لانچ پیڈ اور ملائشیا میں منعقد ہونے والے 2013ء گلوبل انونیشن تھرو سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ٹیک آئی (Global Innovation through Science and Technology )کے مقابلے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، یہ سیمولیٹر ملک بھر میں سرجیکل کانفرنسز میں تربیتی ورک شاپس میں بھی استعمال کیا جارہا ہے۔

لیپروسکوپی ایک قسم کی معمولی نوعیت کی سرجری ہے جس میں لیپروسکوپ (جو ایک روشنی کی پتلی شعاع جاری کرنے والی ٹیوب ہے) اور دوسرے آلات کو روایتی سرجریوں میں استعمال ہونے والے بڑے چیر کے بجائے چھوٹے تراشوں کے ذریعے انسانی جسم میں داخل کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد سرجنز لیپروسکوپ سے متصل ایک ویڈيو مانیٹر پر اندرونی آپریٹنگ کے میدان کو دیکھ سکتے ہيں۔

اوپن سرجری کے مقابلے میں لیپروسکوپی میں مریضوں کے زخم زيادہ جلدی بھر جاتے ہيں، ان کی حالت زيادہ جلدی بہتر ہوتی ہے، انھیں کم تکلیف ہوتی ہے، زخم کے نشانات پڑنے کا امکان کم ہے، اور سرجری کے بعد انفیکشنز اور پیچیدگیوں سے بچاؤ کا زیادہ امکان ہے۔ لیپروسکوپی میں اوپن سرجری کے مقابلے میں زیادہ وقت لگتا ہے، لیکن مریض کو آپریشن کے بعد زيادہ عرصے تک ہسپتال میں رہنے کی ضرورت نہيں ہوتی ہے۔

پچھلی چند دہائیوں کے دوران لیپروسکوپی کافی زور پکڑ چکی ہے اور اب گائناکولوجکل سرجری، گیسٹروانٹیسٹائنل سرجری (جس میں موٹاپے کے لیے بیریٹرک آپریشنز شامل ہيں) اور یورولوجی کے شعبہ جات میں بھی اس تکنیک کا فائدہ اٹھایا جارہا ہے۔ اس کے علاوہ، اسے پتے، کولن یا گردے نکالنے کی سرجریوں میں بھی استعمال کیا جارہا ہے۔ لیپروسکوپی کے کئی فوائد ہیں، جن میں آپریشن کے بعد ہرنیا جیسے مسائل کے خطرے میں کمی شامل ہیں۔ نیز، جانوروں کے ڈاکٹر بھی اس تکنیک سے مستفید ہوسکتے ہيں۔ تاہم، اس وقت لیپروسکوپی کے فوائد کے باوجود اس کا استعمال زیادہ عام نہيں ہے۔

ورچول ریئلٹی کے تربیتی سیمولیٹرز سرجنز کی ہاتھوں اور آنکھوں کی آپس میں ہم آہنگی کے علاوہ، ان کی دماغی، کلینیکل اور تکنیکی صلاحیتوں کو بہتر بنانے میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہيں۔ اس عملی مشق کے ذریعے سرجنز کی لیپروسکوپک سرجری کی صلاحیتوں میں زیادہ موثر طور پر بہتری لائی جاسکتی ہے۔

سمارٹ سم سیمولیٹر کو حقیقت کے قریب میڈیکل سیمولیشنز کو ممکن بنانے والے سیمولیشن اوپن فریم ورک آرکی ٹیکچر (simulation open framework architecture - SOFA) نامی عمومی فزکس کے انجن کے علاوہ دیگر کئی اوپن سورس ٹولز اور لائبریریوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بنیادی ایم آئی ایس کی تربیت فراہم کرنے کے لیے تیار کیا گيا ہے۔

یہ سیمولیٹر تین پرزوں، یعنی ایک میکانی انٹرفیس، ایک کنٹرولر سرکٹ، اور ایک سافٹ ویئر ایپلی کیشن، پر مشتمل ہے۔

ہارڈویئر انٹرفیس حسب ضرورت بڑی آسانی سے تخلیق کیا جاتا ہے۔ اس کے وی آر سیمولیٹر کو ایک میکانی سیمولیٹر سے آراستہ کیا گیا ہے جو نہ صرف دیکھنے میں کسی لیپروسکوپک آلے سے ملتا جلتا ہے، بلکہ اس کی طرح کام بھی کرتا ہے۔ لیپروسکوپک آلات کی طرح سمارٹ سم بھی آزادی کے پانچ ڈگری کا حامل ہے، جس کا مطلب ہے کہ جسم میں داخلے کے بعد اس کی خود کی تو حرکت محدود ہوجاتی ہے، لیکن نوک اسے محور بنا کر آگے پیچھے حرکت کرسکتی ہے، جس کی وجہ سے سرجن کے لیے پانچ مختلف اقسام کی حرکات ممکن ہيں۔

کنٹرولر سرکٹ مائیکروکنٹرولر کی مدد سے اس ڈیوائس کی پانچوں میکانی حرکات کی پیمائش کرکے انھیں یو ایس بی انٹرفیس پر نصب ڈیوپلیکس کمیونیکیشن پروٹوکول کے ذریعے کمپیوٹر کو بھیج دیتا ہے۔

سمارٹ سم کی سافٹ ویئر ایپلی کیشن ایک گرافیکل یوزر انٹرفیس پر مشتمل ہے، جو نصب شدہ منظرناموں کی ایک فہرست کی بنیاد پر سیمولیشن کے منظر کا انتخاب کرتا ہے۔ اس کے علاوہ، اس میں ایک تخمینے کا ایک ذہین میکانزم بھی نصب ہے جو کوئی مخصوص سرگرمی انجام دینے والے سرجنز کی اہلیت کا تجزیہ کرتا ہے اور بغیر نگرانی کے آزاد تعلیم حاصل کرنے کے عمل کو زيادہ آسان بناتا ہے۔

یہ انوویشنز مختلف یونیورسٹیوں کے آپس میں تعاون اور مختلف شعبہ جات کے امتزاج کی وجہ سے ممکن ہوئی ہيں۔ ٹیکنالوجی پر انحصار کرنے والی ان ایجادات کے ذریعے پیشہ ورانہ افراد کو تربیت اور ہیلتھ کیئر کی سہولیات کی فراہمی کے کم قیمت طریقے دستیاب ہونے کی وجہ سے ہیلتھ کئیر کی صنعت میں انقلاب لایا جاسکتا ہے۔

Read in English

Authors
Top