Global Editions

پاکستان میں مائیکروبیالوجی کا سکوپ

ڈاکٹر شاہدہ حسنین لاہور میں واقع پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ مائیکروبیالوجی اور مالیکیولر جینیٹیکس کی بانی اور چئیرپرسن ہیں۔ 2017ء میں انہیں اقوام متحدہ کی تنظیم برائے تعلیم، سائنس، اور ثقافت(United Nations Educational, Scientific, and Cultural Organization - UNESCO) کی طرف سے مائیکروبیالوجی میں ان کی خدمات کی وجہ سے کارلوس جے فن لے پرائز (Carlos J. Finlay Prize) انعام سے بھی نوازا گیا۔

ڈاکٹر شاہدہ حسنین نے بھاری دھاتوں کی ڈی ٹاکسی فیکشن میکانیزمز، سالٹ سٹریس ٹالرنس اور بیکٹیریل مورفوجینیسنس پر کام کیا ہے۔ اس کے علاوہ، انہوں نے پنجاب یونیوسٹی میں مائیکروبیل اور مالیکیولر ریسرچ کی لیب قائم کی جو اب اس شعبے میں اعلیٰ معیاروں کا کام کررہی ہے۔

ڈاکٹر شاہدہ حسنین نے برطانیہ کی برمنگھم یونیورسٹی سے مائیکروبیل اور مالیکولر جینیٹکس میں پی ایچ ڈی کیا ہوا ہے۔ اس کے علاوہ، انہوں نے 1995ء میں اسی یونیورسٹی سے مالیکولر مائیکروبیالوجی سے اپنی پوسٹ ڈاکٹریٹ ریسرچ بھی مکمل کی۔

ایم آئی ٹیکنالوجی ریویو نے ڈاکٹر شاہدہ حسنین کے ساتھ ملاقات کرکے ان کی تحقیق اور مائیکروبیالوجی میں اس کی اہمیت کے متعلق ان کی رائے جاننے کی کوشش کی۔

آپ نے ماحولیاتی، زراعتی اورمیڈیکل مائیکروبیالوجی کی تحقیق میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان میں مائیکروبیالوجی کے کچھ مفید استعمالات کیا ہوسکتے ہيں؟
میں اپنی تحقیق کی ایک مثال دے کر آپ کے سوال کا جواب دوں گی۔ قصور شہر میں چمڑے کی صنعت پھل پھول رہی ہے، لیکن شہر کی طرف جاتے ہوئے، آپ کو سڑک کے دونوں اطراف بڑے بڑے تالاب اور بنجر زمین نظر آتی ہے، جس پر ہریالی نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ چمڑے کی فیکٹریوں سے پیدا ہونے والے گندے پانی میں کرومیم (Cr) نامی دھات کی مقدار بہت زیادہ ہے، جس کی وجہ سے مٹی میں سبزہ نہيں اگ پاتا۔

اس قسم کی زمین کو بحال کرنے کے لیے کئی طریقے موجود ہیں۔ قدرت میں زہرآلودگی کو ختم کرنے کے لیے ایک بہت خوبصورت نظام موجود ہے، لیکن آپ بیکٹیریا کا استعمال کرتے ہوئے اس کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔

کچھ قسم کے بیکٹیریا کرومیم سکس (VI)کو کرومیم تھری (III) میں تبدیل کر سکتے ہیں، جو کرومیم کی ایک کم زہریلی شکل ہے۔ کرومیم سکس عام پی ایچ اور درجہ حرارت میں پانی میں قابل حل ہے جبکہ کرومیم تھری کی حل ہونے کی صلاحیت کم ہے، جس کی وجہ سے وہ ٹھوس شکل اختیار کرلیتا ہے، اور اسے با آسانی زمین کی سطح سے ہٹایا جا سکتا ہے۔ چمڑے کی فیکٹریوں کے گندے پانی کو پھینکنے سے قبل اس کی بیکٹریا سے ٹریٹمنٹ سے قصور میں پانی اور زمین کی آلودگی کو کم کیا جاسکتا ہے۔

صحیح قسم کے بیکٹیریا کی نشاندہی کے بعد، زہرآلودگی ختم کرنے کا یہ طریقہ دوسری بھاری دھاتوں کو ہٹانے کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ تیل سے آلودہ زمین میں ہوا کی کمی کی وجہ سے وہاں پودے نہیں اگائے جاسکتے ہيں۔ تاہم، تیل کو زائل کرنے والے بیکڑیا کاربن کو بطور خوراک استعمال کرتے ہيں، جس کی وجہ سے زمین میں تیل کے ارتکاز کو کم کیا جاسکتا ہے۔ مٹی میں آہستہ سے بیکٹریا شامل کریں، پھر مٹی کو اس طرح سے مکس کریں کہ نچلا حصہ اوپر آجا ئے اور اوپر والا حصے نیچے چلا جائے۔

اس کے علاوہ، بیکیٹریا پانی میں موجود آرسینک فور (IV) کو بھی کم زہریلی قسم آرسینک فائیو(V) میں تبدیل کرسکتے ہیں۔ بیکٹریا کو استعمال کرتے ہوئے پودوں کی اناٹومی کو بہتر بنایا جاسکتا ہے، جس کی وجہ سے پودوں کونشوونما میں اضافہ ممکن ہے۔

آپ نے تھور کو برداشت کرنے والے طریقے پر وسیع پیمانے پر کام کیا ہے۔ ہماری مٹی میں تھور کا مقابلہ کرنے کے لیےمائیکروبیالوجی کو کیسے استعمال کیا جا سکتا ہے؟

تھور زراعت کی پیداوار کو متاثر کرسکتی ہے اوراس کا ملک کی معیشت پر بڑا اثر پڑتا ہے۔ پودے زمین سے پانی جذب کرکے اسے تنے میں منتقل کرتے ہیں۔ تاہم اگر مٹی میں تھور کا ارتکاز بہت زیادہ ہو تو اس سے پودوں کی پانی جذب کرنے کے عمل میں مداخلت ہوگی، جس سے پودے کی نشوو نما رک جائے گی اور پیداوار کم ہو جائے گی۔ کچھ پودوں میں ایک داخلی میکانزم موجود ہوتا ہے جو انہيں خراب حالات میں، جیسے کہ تھور کی صورت میں، زندہ رہنے میں مدد دیتا ہے۔ آپ بیکٹیریا کا استعمال کرتے ہوئے، زہرآلودگی میں کمی کے میکانزم کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، اگر کوئی پودا تھور کے باوجود بھی پروان چڑھ سکتا ہے، تو زمین میں تھور کا ارتکاز کم ہو جائے گا۔ ایک ایسی فصل اگائيں جوکہ زمین سے جتنا زیادہ نمک ممکن ہو چوس لے، اور پھر اس فصل کی کٹائی کریں۔ اس طرح زمین میں نمک کا تناسب کم ہوجائے گا اور زمین اگلی فصل کے لیے بہتر ہوگی۔ اس کے بعد ایسی فصل اگائيں، جس کی نمک برداشت کرنے کی صلاحیت نسبتاً کم ہو، یعنی ایسی فصل جو انسانوں کے لیے زیادہ مفید ثابت ہو۔ طویل عرصے تک یہ مرحلہ دہرانے کی صورت میں، تھور کی شکار زمین ٹھیک ہونے لگے گی۔

پاکستان میں پلاسٹک کی آلودگی کا مسئلے روزبروز بڑھ رہا ہے، اور کافی پریشان کن ہے۔ حال ہی میں محققین نے پاکستان کے کوڑے کے ایک ڈھیر میں ایک پلاسٹک کھانے والا فنگس دریافت کیا ہے جس سے اس مسئلے کے حل کا امکان ہے۔ پلاسٹک کی آلودگی کے مسئلے سے نمٹنے کے اور کیا طریقے ہوسکتے ہيں؟

پلاسٹک ماحول کی آلودگی کی ایک بہت بڑی وجہ ہے۔ یہ حیاتاتی ایندھن پر مشتمل پلاسٹکس پٹرولیم سے حاصل کیے جاتے ہیں، اور انہيں گلنے سڑنے کے لیے کئی دہائیاں درکار ہوتی ہیں۔ لوگ پلاسٹک کے گلنے سڑنے کے منصوبوں پر تو کام کر رہے ہیں لیکن اس وقت کوئی بھی اس قسم کا پلاسٹک نہیں بنارہا ہے جو کہ قدرتی طور پرگلنے سڑنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ ہمارے ڈیپارٹمنٹ کی اسسٹنٹ پروفیسر اورمالیکولر جینٹکس کی ماہر ڈاکٹر نازیہ جمیل اس حوالے سے ایک دلچسپ منصوبے پر کام کر رہی ہیں۔ وہ مقامی بیکٹیریا کا استعمال کرتے ہوئے ایسے قدرتی بائیو پولیمرز یا بائیو پلاسٹک بنا رہی ہیں جن میں قدرتی طور پر گلنے سڑنے کی صلاحیت موجود ہے۔ وہ گندے پانی،شیرہ ، آلو کےچھلکے، بلکہ ہر قسم کے فضلے سے، نامیاتی پلاسٹک پیدا کررہی ہیں۔

بائیو پلاسٹک کے گلنے سڑنے کی شرح اس میں موجود مواد پر منحصر ہوتی ہے، لیکن اوسطاً اس میں صرف ایک ہفتے لگے گا۔ اگر اس منصوبے کو تجارتی شکل دی جائے، تو اس میں دوسرے مواد شامل کر کے اس کی شیلف لائف کا بھی تعین ممکن ہوگا۔ شیمپو کی بوتلوں جیسی مصنوعات کی صورت میں، جنہیں طویل عرصے تک ذخیرہ کرنے اور جنہيں ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے کی بھی ضرورت پیش آتی ہے، بائیوپلاسٹکس کو ایک طویل شیلف لائف، جبکہ کاغذ کے کپس وغیرہ کو کم شیلف لائف دی جاسکتی ہے۔

ڈاکٹر جمیل اس نامیاتی پلاسٹک کی مناسب قیمت میں پیداوار پر کام کر رہی ہیں اور اس منصوبے پر ان کا پیپر شائع ہونے والا ہے۔ اس منصوبے کے ذریعے حیاتیاتی ایندھن کے بچاؤ اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں کمی دونوں ہی ممکن ہيں، اور اگر انڈسٹری اس منصوبے میں شرکت کرے، تو ان کو بھی بہت فائدہ ہوسکتا ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ مقامی صنعتوں کو مائیکروبیالوجی میں ہونے والے کام سے کافی فائدہ ہوسکتا ہے۔ اس وقت ریسرچ اداروں اور انڈسٹری کے درمیان تعلقات کیسے ہیں؟

تعلیمی اداروں اور انڈسٹری کے درمیان خلاء موجود ہے۔ صنعت کار کسی چیز کو بیرون ملک سے درآمد کرنے کو تو تیار ہو جائيں گے، لیکن وہ مجھے (یعنی کسی ماہر تعلیم) کو نہیں بتائیں گے کہ انہیں کسی مخصوص پراڈکٹ کی ضرورت ہے۔ اگر وہ مجھے بتانے کے لیے تیار ہوں کہ انہیں کیا چاہیے تو کوئی وجہ نہيں ہے کہ ہم ان کے ساتھ تعاون کرکے اس پراڈکٹ کو تیار کرنے کی کوشش نہ کریں۔ بلکہ ہم یہ بہت کم قیمت میں کرسکیں گے۔

کئی سال پہلے، میں نے صنعت کاروں کے ساتھ باہمی اشتراک کرنے کی کوشش کی تھی۔ ان کا سب سے پہلا سوال یہ تھا کہ مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کے کیا امکانات ہيں۔ چونکہ میں تحقیق شروع کرنے سے قبل کوئی ٹھوس جواب دینے سے قاصر تھی، وہ سرمایہ کاری سے پیچھے ہٹ گئے۔

اس فرق پر قابو پانے کے لیے، صنعت کاروں کے لیے تحقیق اور ترقی کے فنڈز میں سرمایہ کاری ضروری قرار دینی چاہیے، اور ان کو ٹیکس میں چھوٹ کا اضافی فائدہ دیا جانا چاہیے۔ اس طرح، صنعتوں کے پاس یونیورسٹیوں سے رجوع کرنے کے لیے اور کوئی چارہ نہيں ہوگا۔

ماضی میں، میرے ڈیپارٹمنٹ نے ایک بیکٹیریا پر کام کیا جو پودوں کی بڑھوتری کو فروغ دیتا ہے اور پیداوار کو بڑھاتا ہے، اور ہم اس کام کو تجارتی شکل دینا چاہتے تھے۔ میری ایک سابقہ طالب علم نے، جس کی اب ایک جانی مانی بائیوٹیک کی کمپنی ہے، اس بیکٹیریا کے سٹرین کو استعمال کرنے کی خواہش ظاہر کی، اور کئی شرائط عائد کیں۔ ہم یہ سٹرین یا اس سے ملتے جلتے سٹرین کسی اور کو نہيں فراہم کرسکتے تھے۔ اس کے علاوہ، اس میں کسی قسم کی تبدیلی کو بھی کسی اور کو پیش نہيں کیا جاسکتا تھا، کلچر بنانے کی ذمہ داری یونیورسٹی کی، اور اس کی تقسیم کی ذمہ داری کمپنی کی ہوگی۔ تحقیق کی پوری ذمہ داری یونیورسٹی کی تھی، اور میں نے ان سے پوچھا کہ اس میں ہمارا کیا فائدہ ہوگا۔ وہ ہمیں 5 سے 10 فیصد سے زیادہ حصہ دینے کو تیار نہيں تھیں۔ میں چاہتی تھی کہ ہمیں مساوی حصہ ملے۔ ان کی کمپنی کو فروخت کا 50 فیصد ملے، 25 فیصد یونیورسٹی کو ملے، اور باقی 25 فیصد اس پراجیکٹ پر کام کرنے والے ریسرچرز کو دیا جائے۔ لیکن وہ رضامند نہيں ہوئيں۔ مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہونے ہی والے تھے، لیکن اب اس پر دھول جم رہی ہے۔

ہم اپنے ملک میں حیاتیاتی تحقیق کے معیار کو کیسے بہتر بنا سکتے ہیں؟

میرے خیال سے، آج کل دو یا تین مسائل ہیں۔ میری نظر میں پہلے مسئلے کا تعلق تحقیق کی اخلاقیات سے ہے۔ طالب علم اکثر اپنے تحقیقی مقالوں میں اکثر ان لوگوں کے نام لکھ لیتے ہیں جن کا کام نہ ہونے کے برابر ہے، تاکہ ہر کسی کو کریڈٹ دیا جاسکے۔ میں نے اس چیز کو’’تعلیمی بدعنوانی‘‘ کا نام دیا ہے۔ جس نے کام ہی نہيں کیا ہے، اس کا نام مقالے پر کیوں لکھا جائے؟

میرے پاس ایسے کئی پیپرز آئے ہيں جن میں موجود تحقیق اتنی ہوتی ہے کہ ایک شخص با آسانی کرسکتا ہے، لیکن پیپر پر پانچ سے چھ دوسرے لوگوں کے نام ہوتے ہيں، جن میں سے کئی کا تعلق دوسری یونیورسٹیوں سے ہوتا ہے۔

دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ تعلیمی اداروں کے اہل اقتدار کو عملی ضروریات کے متعلق سمجھ بوجھ حاصل نہيں ہے۔ اس وجہ سے طالب علموں کو مناسب لیب یا سہولیات میسرنہیں ہوپاتی ہیں۔ ایسا خاص طور پر اس صورت میں ہوتا ہے جب انتظامیہ پیسہ بچانے کے بارے میں زیادہ فکر مند ہو۔ مثال کے طور پر، میں ملتان کی ایک نئی یونیورسٹی کی پہلی وائس چانسلر تھی۔ کسی نے مجھے نہیں کہا، لیکن میں نے وہاں لیب قائم کی، کیونکہ مجھے اپنے ذاتی تجربات کی وجہ سے معلوم تھا کہ حیاتیاتی سائنس کے طلباء کوکس قسم کی سہولیات اور وسائل کی ضرورت ہوگی۔ انچارج نے اس بات پر بہت زور دیا کہ زیادہ مقالے چھاپے جائیں، لیکن یہ سب صحیح سہولیات اور لیبز کے بغیر ناممکن ہے۔

تیسری بات یہ ہے کہ میرے خیال میں نوجوانوں کو تحقیق میں مزید محنت کرنے کی ضرورت ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ دو یا تین پیپر شائع ہونے کے بعد، طلباء سمجھنے لگتے ہيں کہ انہوں نے بہت بڑا تیر مارلیا ہے، اور انہيں مزید محنت کرنے کی ضرورت نہيں ہے۔ لیکن میں سمجھتی ہوں کہ یہ کافی نہيں ہے۔ میں اپنی جیب سے پیسے خرچ کرتی تھی، اور لیبس قائم کرنے اور تحقیق کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل کا استعمال لاتی تھی۔ لیکن اب رجحان اس کے برعکس ہے۔ طلباء چاہتے ہيں کہ انہيں مراعات، اچھی تنخواہیں، ترقی، اور تمام سہولیات پہلے ہی سے فراہم کردی جائيں۔ صرف حیاتیاتی سائنس میں ہی نہيں، بلکہ ہر شعبے میں ہی ایسا لگتا ہے کہ طلباء کو کام کرنے کا شوق نہيں ہے۔ میں نے یہ دیکھا ہے کہ کئی دفعہ کام کرنے کا جذبہ ہی نہيں ہے۔ میرے خیال میں میرے ڈیپارٹمنٹ میں صورتحال کچھ بہتر ہے، کیونکہ میں نے کئی سال پہلے جو روایات قائم کی تھی، ان پر ابھی بھی عمل کیا جارہا ہے۔ یہاں پر کئی لوگ میرے ہی طلباء رہ چکے ہیں۔

ان مسائل سے ہٹ کر بات کریں جنہيں تعلیمی اداروں میں حل کیا جاسکتا ہے، تو ہمیں مزيد لیبس قائم کرنے اور تحقیق کے لیے فنڈز مہیا کرنے کی ضرورت ہے۔ تمام سیاسی جماعتوں کو تعلیم کو فوقیت دینی چاہیے، اور تعلیم کے شعبے کو اپنے نام سے منسوب کرنے کے بجائے، قومی منصوبہ قرار دینا چاہیے۔

آخر میں، تحقیق کے لیے خودمختاری کی ضرورت ہے۔ سائنسدانوں کو مکمل آزادی کے ساتھ ریسرچ ایجنڈا تیار کرنے کی اجازت دینی چاہیے، ان سے اوپر سے جاری کردہ احکامات کے مطابق کام کرنے کی توقع نہيں رکھنی چاہیے۔ جب تک آپ آزادانہ خیالات کی درخواست نہيں کریں گے، کوئی بھی ان پر شوق سے کام نہيں کرے گا۔ دنیا بھر کی یونیورسٹیاں علم اور جدید تحقیق کا ذریعہ بنتی ہیں۔ لیکن اگر میں امریکہ سے کوئی چیز لا کر یہاں کے ماحول پر اس کے اثرات جیسے عوامل پر غور کیے بغیر یہاں استعمال کرنے کی کوشش کروں، تو اس سے مسائل حل ہونے کے بجائے، ان میں صرف اضافہ ہی ہوگا۔ شاید وہ چیز وہاں کے لیے موزوں ہو، لیکن کیا یہ یہاں صحیح سے کام کرے گی؟ کوئی یہ جاننے کی کوشش نہيں کرتا ہے، اور اگر کوئی جان لے، تو اسے سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ تعلیم میں سیاست کی کوئی گنجائش نہيں ہے۔

تحریر: ماہ رخ سرور (Mahrukh Sarwar)

Read in English

Authors
Top