Global Editions

امریکہ میں تیل و گیس کی تلاش کیلئے نئے کنوؤں کی کھدائی پر پابندی

اوباما انتظامیہ نے بحر اوقیانوس اور قطب شمالی اور اس کے نواح میں تیل اور گیس کی تلاش کے لئے نئے کنوؤں کی کھدائی پر پابندی عائد کر دی ہے۔ وائٹ ہاؤس سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سمندر سے تیل و گیس کی تلاش کے لئے مقررہ حد سے تجاوز کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور سمندری سطح زمین کو اب تیل و گیس کے مزید کنوؤں کی کھدائی کے لئے استعمال میں نہیں لایا جا سکتا۔ واضح رہے کہ کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈیو پہلے ہی اس طرح کے اقدامات کا اعلان کر چکے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد مقامی افراد اور جنگلی و سمندری حیات کا تحفظ ہے تاکہ سمندری پانی مزید تیل و گیس سے آلودہ نہ ہو سکے۔ دیکھا جائے تو اوباما انتظامیہ کی جانب سے اٹھائے جانیوالے اس اقدام کے لئے وقت کا انتخاب نہایت اہم ہے کیونکہ اس اقدام کے ذریعے نئی ٹرمپ انتظامیہ کو تیل و گیس کی کھدائی کے لئے اجازت دینے کے لئے کھلی چھوٹ نہیں ملے گی۔ اگرچہ اس اقدام کو نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے حمایت حاصل نہیں ہو گی کیونکہ وہ انتخابی مہم کے دوران امریکی تیل کی پیداوار کو بڑھانے کے لئے نئے کنوؤں کی کھدائی کا عندیہ دے چکے ہیں تاہم اس اقدام سے ان کے اعلانات پر عمل درآمد کی راہ میں رکاوٹ ضرور پیدا ہو گی۔ صدر اوباما نے سمندری حدود میں تیل و گیس کی تلاش کے لئے کنوؤں کی کھدائی پر پابندی کے لئے 1953 ءکے قانون کا سہارا لیا ہے جس کے تحت امریکی صدر کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ تیل و گیس کی تلاش کے لئے نئے کنوؤں کی کھدائی روک سکتا ہے یا ان پر پابندی عائد کر سکتا ہے اور اس پابندی کو واپس لینے کا کوئی اور قانونی طریقہ موجود نہیں ہے۔ نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اگر اس پابندی کو ختم کرانا چاہیں گے تو انہیں یہ معاملہ عدالت میں لیجانا ہو گا اور عدالتی فیصلے سے ہی اوباما انتظامیہ کی جانب سے اٹھایا جانیوالا یہ اقدام واپس ہو سکتا ہے۔ یہ ڈونلڈ ٹرمپ کے لئے اچھا موقع ہے کہ وہ Yale اور جارج میسن یونیورسٹیز کی جانب سے جاری کی جانیوالی حالیہ رپورٹ کے مندرجات کا جائزہ لیں۔ اس رپورٹ میں ستر فیصد امریکی رائے دہندگان نے فضا میں کاربن کے اخراج کی شرح کو مقررہ حد تک کمی کے فیصلے کی حمایت کی ہے اور لوگوں کی اکثریت نے توانائی کے حصول کے لئے قابل تجدید اور متبادل ذرائع اختیار کرنے اور ان کی حوصلہ افزائی کی بھی حمایت کی ہے۔

تحریر: جیمی کونڈیلفی (Jamie Condliffe)

Read in English

Authors
Top