Global Editions

گھر میں غیرمعمولی ذہانت کو پروان چڑھانا

جب جانے مانے سائنسدان شہیر اور خدیجہ نیازی کے کارنامے دیکھ کر حیران ہو رہے تھے، اس وقت انھوں نے ہائی سکول کی تعلیم بھی مکمل نہيں کی تھی، اور اس کا سہرا تعلیم کے غیرروایتی طور طریقوں اور سائنس کے ساتھ شدید لگاؤ کے سر جاتا ہے۔

نیازی خاندان دیکھنے میں تو کسی عام خاندان ہی کی طرح ہے۔ احمد نیازی پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کے پائلٹ ہیں، جبکہ ان کی اہلیہ عائشہ نیازی ماضی میں سپیچ تھراپسٹ رہ چکی ہیں، اور اب وہ اپنا وقت اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت میں گزارتی ہیں۔ ان کے دو نوجوان جڑواں بچے ہیں، جن کے نام خدیجہ اور شہیر ہیں۔ ہر اتوار وہ دوسروں کی طرح برنچ کرنے جاتے ہیں۔ بڑے سینڈوچ کھاتے ہيں اور بچے پیزا۔ کھانے کے بعد احمد اور عائشہ کافی پیتے ہیں، اور ان کے بچے میٹھا آرڈر کرتے ہيں۔

لیکن بظاہر عام لوگوں کی طرح روزمرہ کی زندگی گزارنے والا يہ خاندان دوسروں سے بہت مختلف ہے۔ ان سب میں علم حاصل کرنے اور کائنات کے سارے راز جان لینے کا شوق کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے، جس کی وجہ سے انھیں بہت شہرت ملی، لیکن نیازی خاندان کے مطابق یہ ستائش علم میں اضافے سے زيادہ اہم نہيں ہے۔

جب آپ شہیر کو دیکھیں گے، آپ کو ایک عام سا لڑکا نظر آئے گا جو لاہور کالج آف آرٹس اینڈ سائنسز (Lahore College of Arts and Sciences - LACAS) کے جوہر ٹاؤن کیمپس سے اے لیولز کررہا ہے۔ اس کے چشمے اور گھنگرالے بال دیکھ کر کوئی بھی اندازہ نہيں لگا سکتا ہے کہ اس کی الیکٹرک ہنی کومب افیکٹ (electric honeycomb effect) کے متعلق تحقیق دیکھنے کے بعد اس سے کہیں زيادہ تجربہ رکھنے والے سائنسدان دنگ رہ گئے ہيں۔ حال ہی میں شہیر کا ایک ریسرچ پیپر روئیل سوسائٹی اوپن سائنس (Royal Society Open Science) نامی جرنل میں شائع ہوا ہے، جو روس میں پچھلے سال منعقد ہونے والے انٹرنیشنل ینگ فزسسٹز (International Young Physicists) ٹورنامنٹ کے لیے منعقد ہونے والی تحقیق کی بنیاد پر لکھا گیا تھا۔
اس کی ریسرچ کے بارے میں بات کرنے سے پہلے، میں نے شہیر سے فزکس میں اس کی دلچسپی کے بارے میں پوچھا۔

اس نے بتایا ‘‘جب ہم چھوٹے تھے، ہمارے والدین ہمیں کتابیں لا کر دیتے تھے جن میں فزکس کے کانسیپٹس کو سمجھا گیا تھا۔ یہ بچوں کی کتابیں تھیں، جن میں ٹیکسٹ کم اور تصویریں زيادہ ہوا کرتی تھیں۔ اس کے علاوہ، ہم کئی دستاویزی فلمیں بھی دیکھا کرتے تھے۔ میرے والد فزکس میں بہت دلچسپی رکھتے ہیں۔ وہ خود بھی فزکس کی کئی کتابیں خریدتے اور پڑھتے ہيں۔ انھوں نے دستاویزی فلموں، کتابوں اور آن لائن کورسز کی مدد سے ہمارے اندر بھی فزکس کا شوق پیدا کرنے کی کوشش کی، اور ہمیں سیکھنے میں مزہ آنے لگا۔ عام طور پر لوگ سمجھتے ہيں کہ فزکس ایک بہت روکھا سا مضمون ہے، اور سکولوں میں جس طرح سائنس سکھایا جاتا ہے، بچوں کی واقعی اس میں دلچسپی پیدا ہی نہيں ہو پاتی ہے۔ لیکن ہمیں گھر میں ایسا ماحول فراہم کیا گيا تھا جس سے نہ صرف فزکس میں ہماری دلچسپی پیدا ہوئی، بلکہ ہمیں اس میں مزہ بھی آتا تھا۔’’

شہیر روس میں منعقد ہونے والے انٹرنیشنل ینگ فزسسٹز ٹورنامنٹ سے پہلے بھی کئی مقابلوں میں حصہ لے چکا تھا، لیکن یہ وہ مقابلہ تھا جس کے باعث ہنی کومب کی دریافت ممکن ہوئی تھی۔ اس مقابلے میں شہیر کی ٹیم کو جو مسئلے پیش کیے گئے تھے، ان کی وجہ سے اس نے ایسے تجربات کرنا شروع کیے جن کے لیے اس نے ہنی کومب کو تشکیل دینے والے آئنز کی حرکت کی تصویریں کھینچنا شروع کیں۔

اس تجربے میں شہیر نے ایک ہموار سطح پر تیل کی ایک پتلی تہہ کے اوپر رکھی گئی ایک نوکیلی سوئی کو پہلے الیکٹروڈ کے طور پر استعمال کرتے ہوئے اس میں سے تیز وولٹیج گزار کر آئنز کو گراؤنڈ الیکٹروڈ کی طرف دھکیلنے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں ان آئنز کو تیل کی سطح سے گزرنا پڑا۔ تیل میں برقی رو کنڈکٹ کرنے کی صلاحیت نہ ہونے کی وجہ سے آئنز تیل کی سطح پر جمنا شروع ہوگئے، اور جیسے جیسے دباؤ بڑھتا گیا، وہ گراؤنڈ الیکٹروڈ تک پہنچنے کے لیے ایک گڑھا سا بناتے چلے گئے۔ بالآخر تیل کی سطح کی شکل تبدیل ہوگئی، اور اس کے دوبارہ توازن کی حالت تک لوٹنے کی کوششوں کی دوران ہنی کومب کی شکل کے سٹرکچرز نظر آنے لگی۔

شہیر نے اپنے نتائج کا ثبوت پیش کرنے کے لیےلاہور یونیورسٹی آف مینیجمنٹ سائنسز (Lahore University of Management Sciences ) کے
لیب کے تھرمل کیمرے کی مدد سے ان آئنز کی حرکت کی تصویریں کھینچیں۔

اس کے علاوہ شہیر تیل کی سطح کے درجہ حرارت کی بھی پیمائش کرنے میں کامیاب رہا، جو اب تک کوئی نہیں کرپایا تھا۔

الیکٹروہائيڈروڈائنامکس کے پہل کار

شہیر نے جس عجوبے کا مطالعہ کیا ہے، اس کے بارے میں سائنسدانوں کو 1997ء سے معلوم تو تھا، لیکن اس پر اب تک صرف چند ہی ریسرچرز نے کام کیا تھا۔

ان میں سے ایک ریسرچر سپین کے یونیورسٹی آف سیول (University of Seville) سے وابستہ ماہر طبعیات (physicist) البرتو ٹی پیریز
ازکوئیرڈو (Alberto T. Perez Izquierdo) ہیں، جنھوں نےالیکٹریکل فیلڈز کے زیراثر لیکوئيڈز کے بہاؤ کے علم پر، جس کا نام الیکٹروہائيڈروڈائنامکس (electrohydrodynamics - EHD) ہے، بہت کام کیا ہے، جس سے شہیر نے اپنے تجربات میں فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہے۔

ازکوئیرڈو ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو پاکستان کو ایک ای میل ميں بتاتے ہیں ‘‘مجھے یہ سن کر حیرت نہيں ہوئی تھی کہ شہیر نیازی نے اس امیجنگ کی تکنیک کا استعمال کیا تھا، بلکہ مجھے اس کے حاصل کردہ نتائج کے بارے میں جان کر زيادہ حیرت ہوئی تھی۔’’

وہ کہتے ہيں کہ شہیر نے درجہ حرارت کے جس فرق کی نشاندہی کی ہے، اس کی مزید وضاحت کرنے کی ضرورت ہے۔ ‘‘مجھے توقع نہيں تھی کہ ایک لیکوئيڈ کی سطح پر درجہ حرارت میں اس قدر فرق ممکن ہوسکتا ہے۔ شہیر نے اپنے تجربے میں جو برقی کرنٹ استعمال کیا تھا، وہ بہت کم تھا، جس کی وجہ سے جول ہیٹنگ (Joule heating) بھی، جو برقی تاروں اور برقی ہیٹروں کی گرمائش کی بنیادی وجہ ہے، بہت کم ہے۔’’

ازکوئیرڈو نے 1989ء میں مرحوم انٹونیو کیسٹیلانوز (Antonio Castellanos) کی زیرنگرانی اپنی ڈاکٹرل ریسرچ مکمل کی تھی، جس میں انھوں نے نہایت غیرموصل (insulating) لیکوئيڈ میں آئنز متعارف کرکے ای ایچ ڈی کے بہاؤ کو حل کرنے کے لیے عددی کوڈ تیار کیا تھا۔ اس کے علاوہ، ازکوئیرڈو اپنے پی ایچ ڈی کے دوران ای ایچ ڈی کے شعبے سے تعلق رکھنے والے ماہرطبعیات

ڈاکٹر پیئر ایٹن (Pierre Atten) کی زیرنگرانی بھی تجرباتی کام کر چکے ہيں۔

ازکوئیرڈو نے اپنا تھیسس مکمل کرنے کے بعد سیول میں کیسٹیلانوس کے ساتھ ایک ای ایچ ڈی لیب قائم کی اور ان کے ابتدائی تجربے ڈاکٹر ایٹن کے کام سے متاثر ہوئے تھے۔ وہ کہتے ہيں ‘‘میں نے اسی پیٹرن کا انکشاف کیا تھا، جسے نیازی نے دوبارہ تخلیق کیا ہے۔’’

ازکوئیردو نے جن کنویکٹیو سیلز کا مشاہدہ کیا تھا، وہ یکساں سائز کے نہيں تھے، جس کی وجہ سے پیٹرن نے ایک پھول سے ملتی جلتی شکل اختیار کرلی تھی۔ وہ بتاتے ہيں ‘‘انھیں دیکھ کر مجھے سیول کے گوتھک کیتھیڈرلز کی روز ونڈوز (rose windows) یاد آئيں، جس کی وجہ سے میں نے اس پیٹرن کا نام ‘روز ونڈو’رکھ دیا۔’’

ازکوئیرڈو کے مطابق بحیثیت عمومی شعبہ ای ایچ ڈی کے الیکٹروسپرے، اور لیکوئيڈ کا بہاؤ یا قطروں کو کنٹرول کرنے کے علاوہ کئی صنعتی استعمالات موجود ہیں۔ ‘‘مجھے اس وقت روز ونڈوز کے عدم استحکام کے کسی استعمال کا علم نہيں ہے، لیکن میں یہ ضرور جانتا ہوں کہ کسی بھی تکنیکی ترقی کے لیے الیکٹرک فیلڈ کے زیراثر لیکوئيڈ بہاؤ کے بنیادی طریقہ کار کی سمجھبوجھ نہایت ضروری ہے۔’’

انتہائی ذہین جڑواں بچے

شہیر نے جس ٹورنامنٹ کے نتیجے میں اپنا تجربہ کیا تھا، اس میں اس کی جڑواں بہن خدیجہ اس کی ٹیم کی کپتان تھی۔

خدیجہ بتاتی ہے کہ جب شہیر اپنا تجربہ سیٹ اپ کررہا تھا تو وہ اس کے ساتھ کمرے میں تھی۔ وہ جھینپتے ہوئے کہتی ہے ‘‘وہ آگے پیچھے بھاگ رہا تھا، اور اس نے کمرے کی ساری بتیاں اور ایئرکنڈیشنر بند کردیے، جس پر میں نے اس پر بہت غصہ بھی کیا۔ مجھے اس کا پیپر شائع ہونے پر زیادہ حیرت نہيں ہوئی۔ جب اس نے مجھے بتایا کہ اس نے کیا کیا ہے، مجھے احساس ہوگیا تھا کہ وہ جو کررہا ہے، وہ بہت اہم ثابت ہونے والا ہے۔’’

خدیجہ نے، جو اس وقت اپنے سکول کی ہیڈ گرل ہے، دوسروں سے بہت پہلے سائنس کی دنیا میں قدم رکھا تھا۔ اس نے گیارہ سال کی عمر سے سٹرنگ تھیوری کے بارے میں پڑھنا شروع کردیا تھا۔ وہ کہتی ہے، ‘‘مشیو کاکو کی کتاب ہائپرسپیس پڑھنے کے بعد میری سٹرنگ تھیوری میں دلچسپی پیدا ہوئی’’۔ دو سال بعد خدیجہ نے یوکرین میں منعقد ہونے والی یالٹا یورپین سٹریجی (Yalta European Strategy) کی تقریب میں کاکو کے ساتھ ایک پینل میں حصہ لیا۔

‘‘میری والدہ نے ایک دفعہ مجھے ڈاکٹر بننے کا مشورہ دیا تھا۔ میں نے اس کے بارے میں سوچا، اور دستاویزی فلمیں تلاش کرنا شروع کیں، لیکن میری دلچسپی پیدا نہيں ہوپائی۔ اس کے بعد میرے والد نے مجھے مشیو کاکو کی کتاب دی۔ کچھ ہی عرصے بعد میں کاکو کے ساتھ ایک کانفرنس میں شرکت کررہی تھی، اور جب تقریب سے پہلے ہوٹل میں میری ان سے ملاقات ہوئی اس وقت میں جیسے بالکل مسحور تھی۔’’

اپنے بھائی کی طرح خدیجہ نیازی بھی بین الاقوامی توجہ کا مرکز رہ چکی ہے۔ سب سے پہلے اکتوبر 2012ء میں ٹائم میگزین نے خدیجہ کے بارے میں ایک مضمون لکھا تھا۔ وہ اس وقت اپنی بارہویں سالگرہ سے پہلے یوڈاسٹی (Udacity) نامی سیلیکون ویلی کی سٹارٹ اپ کمپنی سے کالج کے لیول کا ایک آن لائن کورس مکمل کرنا چاہتی تھی۔ خدیجہ امتحان دے ہی رہی بھی جب پاکستانی حکومت نے یوٹیوب پر پابندی عائد کردی، جس کی وجہ سے وہ سائٹ کی ایمبیڈڈ ویڈیوز تک رسائی نہيں کرپائی۔ اس نے یوڈاسٹی کے فورم پر ایک غصے بھرے پیغام میں اپنے دکھ کا اظہار کیا، اور کچھ ہی گھنٹوں میں دوسرے طلباء نے اس کی مدد کرنا شروع کی۔ اگلے روز اس نے امتحان نہ صرف پاس کیا، بلکہ اس میں امتیازی پوزیشن حاصل کی۔

میں جیسے جیسے شہیر اور خدیجہ کی باتیں سنتی ہوں، مجھے اپنا سکول کا زمانہ یاد آجاتا ہے، جب میں فزکس اور کیمسٹری کے نام سے ہی گھبراتی تھی، جس کی وجہ سے میں نے سائنس چھوڑ کر صحافت کا پیشہ اپنایا۔ میں نے ان سے اس کے بارے میں بات کی، جس کے جواب میں شہیر نے مجھے بتایا کہ اس کو اور خدیجہ کو سکول کے روایتی سسٹم سے ہٹ کر تعلیم دی گئی تھی۔ ‘‘میرے والد ہمیشہ کہتے ہیں، کتابیں پڑھو، دستاویزی فلمیں دیکھو، اور پھر آن لائن جا کر مزید معلومات ڈھونڈنے کی کوشش کرو۔’’

سائنسدانوں کی پرورش

خدیجہ اور شہیر کا سائنس میں اس قدر لگاؤ کا سہرا ان کے والدین عائشہ اور احمد نیازی کے مثبت انداز پرورش کے سر جاتا ہے۔
عائشہ اپنے بچوں کے بارے میں بتاتے ہوئے پھولے نہيں سمارہی ہیں۔ ‘‘مجھے ان پر بہت فخر ہے۔ انھوں نے جو کارنامے سرانجام دیے ہیں، وہ میری توقعات سے کہیں بڑھ کر ہیں۔ میں نے شہیر سے ایک دفعہ کہا تھا کہ میں چاہتی ہوں کہ کسی دن اس کی بھی ریسرچ ایک معتبر جرنل میں شائع ہو۔ اس نے مجھ سے وعدہ کیا، اور ایک سال کے بعد اس نے کردکھایا!’’

میں نے ان سے پوچھا کہ ایک کم عمر سائنسدان کی والدہ ہونے کا کیا مطلب ہے، اور وہ بچوں کی سائنس میں دلچسپی برقرار رکھنے کے سلسلے میں والدین کو کیا مشورے دے سکتی ہیں؟

وہ کہتی ہیں ‘‘میں نے کبھی اپنے بچوں کی پرورش روایتی انداز سے نہيں کی۔ جب وہ دو مہینے کے تھے، میں انھیں رنگ برنگی کتابیں اور فلیش کارڈز دکھایا کرتی تھی اور انھیں ہر چیز پڑھ کر سناتی تھی۔ میری سہیلیوں نے مجھے بہت کہا کہ میں اپنا وقت ضائع کررہی ہوں اور میرے بچے ابھی بہت چھوٹے ہیں اور انھیں کچھ نہيں سمجھ آئے گا، لیکن میں نے ان کی ایک نہ سنی۔ میرے خیال میں بچے کا دماغ نئی معلومات پراسیس کرنے اور کنیکشنز قائم کرنے کے لیے ہمیشہ تیار ہوتا ہے۔ میں ایک سپیچ تھراپسٹ رہ چکی ہوں، اور میری نظر میں ایک نئی زبان سیکھنا دنیا کا مشکل ترین کام تھا۔ میں نے سوچا کہ اگر میرے بچے ایک نئی زبان سیکھ سکتے ہيں، تو وہ کچھ بھی سیکھ سکتے ہيں۔ میں نے کبھی یہ نہيں سوچا کہ وہ کسی بھی چیز کے لیے بہت چھوٹے ہيں۔’’

عائشہ نے اپنے بچوں کو نو ماہ کی عمر سے ہی انٹرنیٹ کی مدد سے فونکس سکھانا شروع کردیا تھا۔ وہ بڑے فخر سے بتاتی ہيں کہ جب شہیر اور خدیجہ نے تقریباً تین سال کی عمر میں پریپ سکول جانا شروع کیا، اس وقت ان کے کلاس کے باقی بچے حروف تہجی سیکھ رہے تھے، اور خدیجہ پورے پورے جملے پڑھ سکتی تھی۔ وہ کہتی ہيں ‘‘اس کے اساتذہ نے مجھے اس وقت کہا تھا کہ مجھے اس پر ناز ہونا چاہئیے۔’’

وہ مزید بتاتی ہیں کہ ان کے بچوں نے انٹرنیٹ کی مدد سے پڑھنا، گنتی کرنا اور بنیادی حساب کتاب سیکھا تھا۔ ‘‘جب میں انھیں گاڑی میں لے کر کہیں جاتی، تو میں ان سے سارے پوسٹرز، بل بورڈز وغیرہ پڑھنے کو کہتی تھی۔ وہ مسلسل علم حاصل کر رہے ہوتے تھے، اور ہم نے ان کو کتابوں کی دنیا تک ہی محدود نہيں رکھا تھا۔ میں ان کے ذہنوں کو ہمیشہ اور ہر طریقے سے مصروف رکھنا چاہتی تھی۔’’

تاہم، عائشہ کہتی ہيں کہ ان کے بچوں کی تعلیم میں ان کے شوہر کا بھی برابر کا ہاتھ ہے۔

“انھوں نے ان کی تعلیم میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ جب بچے بہت چھوٹے تھے، انھوں نے ان کو کتابیں لا کر دینا شروع کردیں، اس حد تک کہ بچوں میں کھلونوں سے زيادہ کتابوں کا شوق پیدا ہو گیا۔ ایک دن احمد نے انھیں ڈائناسورز پر ایک کتاب لا کر دی، اور اس کے بعد شہیر نے مجھے آکر بتایا کہ وہ معدوم حیوانات کا ماہر (paleontologist) بننا چاہتا ہے۔ مجھے یہ جان کر بہت حیرانی ہوئی کہ اسے اس لفظ کا مطلب معلوم ہے، اور مجھے اندازہ ہو گيا کہ یہ سب اس کے والد کی لائی گئی کتابوں کا پھل ہے۔’’

وہ مزید کہتی ہيں ‘‘ہم نے شروع ہی میں فیصلہ کرلیا تھا کہ ہم اپنے بچوں کو بچوں کی طرح نہيں سمجھیں گے۔ شہیر سات سال کی عمر میں اینسائیکلوپیڈیاز پڑھا کرتا تھا، کیونکہ ہم نے کبھی اسے یہ نہيں کہا کہ وہ ان چیزوں کے لیے بہت چھوٹا ہے۔’’

احمد کو اپنے والد سے، جو سٹرکچرل انجنیئر رہ چکے تھے، فزکس کا شوق وراثت میں ملا ہے۔

وہ کہتے ہيں ‘‘میرے والد کو بھی فزکس سے بہت لگاؤ تھا اور میں ان کی کتابیں پڑھا کرتا تھا۔ میں صرف کتابیں ہی پڑھتا تھا، لیکن میرے بچے مجھ سے کہیں آگے نکل گئے ہيں۔ وہ اپنی دلچسپی کو عملی شکل دینے کی کوشش کررہے ہيں۔ ہم نے انھیں ہر ایک چیز پر سوال اٹھانا سکھایا ہے۔ ہم نے انھیں یہاں تک کہا ہے کہ اگر وہ آئن سٹائن کے کام پر سوال اٹھانا چاہتے ہيں، تو انھیں ایسا ضرور کرنا چاہیئے!’’

نیازی خاندان کو انٹرنیٹ پر دستیاب انٹریکٹیو تعلیمی مواد کی دستیابی سے بھی بہت فائدہ ہوا تھا۔ ‘‘یوٹیوب پر فزکس کے متعلق یوریکا (Eureka) نامی ایک سیریز موجود ہے۔ میں اس سے بہت متاثر ہوا ہوں، اور میں چاہتا ہوں کہ اسے اردو میں ڈب کرکے پاکستان کے تمام بچوں تک پہنچایا جائے۔’’

عائشہ اور احمد نے پاکستان کے نظام تعلیم کی خامیوں اور دنیا بھر میں سائنسدانوں کے درمیان تعاون کی راہ میں رکاوٹوں کے بارے میں بھی بات کی۔
عائشہ کہتی ہیں ‘‘مجھے بہت افسوس ہوتا ہے کہ پاکستان میں سائنس کے موضوعات پر کوئی بھی سمر کیمپس منعقد نہيں ہوتے ہیں۔ جب بھی ہمارے بچے سمر کیمپس میں شرکت کرنے کے لیے ملک سے باہر گئے ہیں تو یا تو انھیں مدعو کیا گیا تھا یا ہم خود اس کے اخراجات برداشت کیا کرتے تھے۔ لیکن بعض دفعہ درخواست دینے اور لمبی چوڑی کارروائی مکمل کرنے کے بعد بھی ہماری ویزا کی درخواست مسترد ہوجایا کرتی تھی۔ ایک بچہ آپ کے ملک میں تعلیم حاصل کرنا چاہتا ہے، اور وہ اس کے اخراجات بھی برداشت کرنے والا ہے۔ اسے ویزا نہ دینے کی کیا وجہ ہوسکتی ہے؟’’

آخر میں، میں نے گھر والوں سے بچوں کے مستقبل کے ارادوں کے بارے میں پوچھا۔ احمد نے اچھل کر بتایا کہ آج کل شہیر کرپٹو کمپیوٹرز میں دلچسپی لے رہا ہے، لیکن شہیر بات گول کر گیا۔ ‘‘اس وقت ہم صرف اے لیولز ختم کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہيں۔ نوبیل پرائز جیتنا ابھی صرف خواب ہی ہے۔’’

تحریر: آئمہ کھوسہ

Read in English

Authors
Top