Global Editions

اب آپ اپنے دماغ سے کسی بھی فلم کو کنٹرول کرسکتے ہيں

رچرڈ ریم چرن کی نئی فلم میں آپ صرف اپنی دماغ کی لہریں استعمال کرتے ہوئے فلم کے ہدایت کار بن سکتے ہيں۔

جب آپ کوئی فلم دیکھتے ہيں تو عام طور پر سکرین پر کسی اور کی لکھی ہوئی کہانی دکھائی دیتی ہے۔ لیکن رچرڈ ریم چرن (Richard Ramchurn) کی فلمیں بہت مختلف ہیں۔

برطانیہ کے شہر ناٹنگھم کی یونیورسٹی آف ناٹنگھم کے طالب علم ریم چرن ایک فن کار اور ہدایت کار ہیں جو کئی سالوں سے ایسی فلمیں بنارہے ہيں جنہيں دماغ کی برقی سرگرمی کی نشاندہی کرنے والا 100 ڈالر کا ہیڈسیٹ لگا کر کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔ یہ ہیڈسیٹ لگانے کے بعد فلم کے سین، موسیقی اور اینیمیشن آپ کے خیالات کے مطابق تبدیل ہوتے رہتے ہيں۔

ریم چرن کی حالیہ ترین فلم، جس کا نام The Moment ہے، مکمل جلد ہی مکمل ہونے والی ہے۔ ستائس منٹ لمبی اس فلم میں ایک ایسے مستقبل پر نظر ڈالی گئی ہے جس میں انسانی دماغ اور کمپیوٹروں کے درمیان انٹرفیسز عام ہوگئے ہیں۔ اس فلم کی ایڈیٹنگ کے دوران، ریم چرن نے اسے ناٹنگھم میں ایک چھوٹے سے ٹریلر میں سکرین کرنا شروع کیا، جس میں سے چھ سے آٹھ افراد کی گنجائش ہے۔ ان میں سے ایک افراد اس فلم کو کنٹرول کرے گا، جبکہ باقی بیٹھ کر دیکھيں گے۔ اس کے علاوہ، یہ فلم جون میں برطانیہ کے شہر شیفیلڈ میں منعقد ہونے والے ایک فلم فیسٹیول میں بھی دکھائی جائے گی۔

The Moment دیکھنے کے دوران نیورو سکائی مائنڈویو کا ہیڈسیٹ لگانے سے یہ ہیڈسیٹ مبینہ طور پر توجہ سے وابستہ فریکوینسی رینج میں برقی سرگرمی کی پیمائش کرتے آپ کی توجہ کی نگرانی کرتا ہے۔ تاہم یہ بات دھیان میں رکھیں کہ اس قسم کے آلات کی ٹریکنگ کی درستی کے متعلق ابھی بھی کافی شکوک و شبہات موجود ہيں۔ سکور کا مسلسل حساب لگا کر اسے وائرلیس طور پر ایک لیپ ٹاپ کو بھیجا جاتا ہے، جس میں ریم چرن کا خصوصی سافٹ ویئر سینز، موسیقی اور دیگر عناصر میں ردوبدل کرتا رہتا ہے، اور آپ کو انگلی اٹھانے تک کی ضرورت نہيں ہے۔

ریم چرن اس کام میں دلچسپی رکھتے ہيں۔ وہ ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہيں کہ ناظرین سے فلم کی ایڈٹنگ کروا کر دو طرفہ فیڈبک لوپ پیدا ہوتا ہے، جس میں آپ کے جذبات کے مطابق فلم میں اور فلم کی وجہ سے آپ کے جذبات میں تبدیلی ہوتی ہے۔

وہ کہتے ہیں "یہ آپ کے دماغ کے سسٹم کا حصہ بن جاتا ہے۔"

دماغ اور کمپیوٹرز کے درمیان انٹرفیسز کی ابتداء

39 سالہ ریم چرن کئی سالوں سے فلمیں، موسیقی کی ویڈیوز اور دستاویزی فلمیں بنا رہے ہیں، اور اپنے کام میں ٹیکنالوجی شامل کرنے کے متعلق تجربے کررہے ہیں۔ انہیں دماغ اور کمپیوٹر کے درمیان انٹرفیس بنانے کا خیال سب سے پہلے 2013ء میں آیا جب انہوں نے نیوروسکائی ہیڈسیٹ آزمایا۔ اس کے بعد انہوں نے اسے استعمال کرتے ہوئے 2014ء اور 2015ء میں دماغ سے کنٹرول ہونے والی اپنی پہلی فلم The Disadvantages of Time Travel بنائی۔

ان کی یہ فلم The Moment سے زیادہ خیالی ہے، اور مرکزی کردار کے خواب اور حقیقت کے درمیان تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ ہیڈسیٹ کے ذریعے ناظرین کے پلک جھپکنے کی نگرانی کرکے شاٹ تبدیل کرنے کا وقت، اور ان کی توجہ اور خیالات (یہ ایک اور فریکوینسی ہے جس کی ہیڈسیٹ کے ذریعے پیمائش کی جاسکتی ہے) کی مدد سے فرضی اور حقیقی دنیا کے درمیان تبدیلی کی گئی۔
ریم چرن کہتے ہيں کہ The Disadvantages of Time Travel میں بہت کچھ ہورہا تھا۔ پلک جھپک کر فلم کو کنٹرول کرکے یہ فلم انٹریکٹو تجربہ کم اور لوگوں کو اپنے جسم کی غیرارادی حرکتوں کے متعلق یاددہانی زيادہ تھی۔ ڈائریکٹرز کٹ دیکھنے کے بعد، جسے ریم چرن سے خود دیکھ کر تبدیل کرنے کی کوشش کی ہے، میں تصدیق کرسکتی ہوں کہ اس فلم میں واقعی دیکھنے والے پر بہت زور پڑتا ہے۔

اس فلم کے کئی کھرب مختلف ورژن ممکن ہیں

The Moment میں ریم چرن نے پلک جھپکنے کے بجائے توجہ کا ڈيٹا استعمال کرنے کی ٹھانی۔ اس ڈیٹا میں آپ کی توجہ میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ کمی بیشی ہوتی رہتی ہے، اور ریم چرن نے اسی تبدیلی کا فائدہ اٹھا کر ایک نئے شاٹ کی نشاندہی کروانے کی کوشش کی ہے۔ یہ فلم کسی بھی وقت تین میں سے دو کہانیوں کے درمیان تبدیل ہوتی ہے، جو تین کرداروں پر مرکوز ہیں جو اس پوری فلم کے دوران ایک دوسرے سے مسلسل رابطے میں رہتے ہيں۔

ریم چرن کے اندازے کے مطابق اس فلم کے 101 کھرب ورژنز ممکن ہیں، اور 27 منٹ کی فلم میں ان سب کو ممکن بنانے کے لیے انہیں تین گنا زیادہ فوٹیج تیار کرنے اور چھ گنا سے زیادہ آڈیو جمع کرنا پڑا۔

میں اس فلم کی ڈائریکشن کے لیے خود تو برطانیہ نہيں جاسکی، لیکن ریم چرن نے مجھے The Moment کی دو ریکارڈنگز بھیجیں، جنہيں دو مختلف افراد نے کنٹرول کیا تھا۔

عمومی طور پر دونوں ورژنز میں موسیقی اور اینیمیشن کے علاوہ زیادہ فرق نہيں تھا۔ لیکن جو فرق تھے وہ کافی واضح بھی تھے۔ ایک ورژن میں مجھے مرکزی کردار کی نوٹ بک کی جھلکیاں دیکھنے کو ملیں، اور اس میں کہانی کو بہتر طور پر سمجھانے کے لیے زیادہ مکالمہ بھی شامل تھا۔

مجھ سے پہلے کسی فلم کو دیکھنے والوں نے اس میں کیا کیا تبدیلیاں کی تھیں؟ مجھے اس بارے میں سوچ کر کافی عجیب محسوس ہورہا تھا۔ ان کے پاس کس حد تک کنٹرول تھا؟ وہ فلم دیکھتے ہوئے کیا سوچ رہے تھے؟ اور انہیں کیسے معلوم ہوا کہ وہ واقعی کسی چیز میں ردوبدل کربھی رہے ہيں یا نہیں؟

جب میں نے یونیورسٹی آف ناٹینگھم میں کمپیوٹر سائنس کے پروفیسر اور ریم چرن کے ایڈوائزر سٹیو بین فورڈ (Steve Benford) سے یہ سوال پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ The Disadvantages of Time Travel کے ناظرین کو یہ بات اچھے سے معلوم تھی کہ ان کے پلک جھپکنے سے فلم کے کٹ تبدیل ہورہے تھے، لیکن The Moment کی ہدایت کاری زیادہ واضح نہيں تھی۔

وہ کہتے ہیں کہ اس قسم کے انٹریکٹو فن میں "آپ کو ہمیشہ معلوم نہيں ہوتا ہے کہ کیا ہورہا ہے۔ آپ کو خود اس کی تشریح کرنی ہوتی ہے، اور اسے کتنا واضح یا غیرواضح رکھنا ہے، یہ سب فنکار کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔"

ناظرین کی شرکت

ریم چرن سے پہلے بھی کئی لوگوں نے ناظرین کو فلموں کے ساتھ انٹریکٹ کرنے کی کوششیں کی ہیں۔ سنگ الانگ سے لے کر سمارٹ فون ایپس تک، کئی مثالیں موجود ہیں۔

یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلی، میں فلم اور میڈیا کے اسسٹنٹ پروفیسر جیکب گبوری (Jacob Gaboury) کو 1990ء کی دہائی کا وہ زمانہ اچھے سے یاد ہے جب وہ سنیما میں بیٹھ کر ایک جوائے سٹک کی مدد سے فلم کی کہانی تبدیل کرنے کی کوشش کیا کرتے تھے۔ وہ کہتے ہيں کہ دماغ کی سرگرمی کے مطابق تبدیل ہونے والی فلمیں بنا کر ہدایت کار پہلے سے مختلف کہانیاں، تصاویر اور آوازیں تخلیق کرسکتے ہيں۔

وہ کہتے ہيں "سنیما میں آپ اکثر کہانی کو کسی مخصوص انداز میں پیش کرنے میں پھنس جاتے ہيں۔ کہانی کس طرح آگے بڑھے گی؟ ایک ڈائریکٹر کے نقطہ نظر سے یہ بہت دلچسپ ہوگا۔"

تاہم، ان کی نظر میں ایک ہی شخص کے دماغ سے کنٹرول کیے جانے کی وجہ سے ان فلموں کو سنیما میں نہيں دکھایا جاسکے گا۔ ریم چرن بتاتے ہيں کہ انہوں نے اس سلسلے میں کافی تجربے کیے ہيں، جن میں تین افراد کو مرکزی کنٹرول بننے کے لیے مقابلہ کرنا، یا ان کے ردعمل کا اوسط نکال کر سکرین پر دکھائی جانے والی کہانی کو تبدیل کرنا شامل ہيں۔

وہ بتاتے ہيں کہ آخر میں سب سے زيادہ بہتر فلم اس وقت سامنے آئے جب ہر شخص کو فلم کے صرف ایک عنصر، جیسے کہ آواز، شاٹس وغیرہ، کی ذمہ داری سونپی جائے گی۔

تحریر: ریچل میٹز (Rachel Metz)

Read in English

Authors
Top