Global Editions

شہمیر عامر۔۔۔ دنیا کا بارہواں بہترین پاکستانی ہیکر

کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی دنیا میں ہیکرز کا ذکر آتے ہی ایسے خیال ذہن میں ابھرتے ہیں جیسے کہ ایک نو عمر نوجوان کسی عمارت کے تہہ خانے میں بیٹھا ہے اور اس کے چہرے پر صرف کمپیوٹر سکرین سے خارج ہونی ہونے والی روشنی ہی منعکس ہو رہی ہے۔ یہ خیال بھی پیدا ہوتے ہیں یہ ہیکرز ایسی مخلوق ہے جو دنیا سے الگ تھلگ ہے اور ان کے دوست احباب نہیں ان کی کوئی سماجی مصروفیات ہے ہی نہیں جیسا کہ فلم مسٹر روبوٹ 24 میں دکھایا گیا تھا تاہم حقیقت حال اس کےبرعکس ہیں۔ ہیکنگ کے اس میدان میں جہاں بہت سے لوگ منفی اقدامات کی وجہ دنیا بھر میں بدنامیاں سمیٹ رہے ہیں وہاں ایسے بھی نوجوان ہیں جو ہیکنگ جاننے کے باوجود کسی بھی منفی سرگرمی میں ملوث نہیں اور وہ ہیکنگ کے شعبے میں اپنی مہارت اور سائبر سکیورٹی کو مزید بہتر بنانے کےلئے مختلف پروگرامز میں موجود خامیوں کی نشاندہی کرتے ہیں اور اس کے عوض بھاری مالیت کے انعامات وصول کرتے ہیں۔ ایسا ہی ایک نوجوان ملتان کا 22 سالہ شہمیر عامر بھی ہے۔

شہمیر عامر کو حال ہی میں دنیا کا بارہواں بہترین ہیکر کا رینک حاصل ہوا ہے تاہم اگر آپ شہمیر عامر سے ملیں تو ہیکرز کے بارے میں درج بالا عمومی تصورات کی مکمل طور پر نفی ہوتی ہے۔ شہمیر عامر ایک ایسا نوجوان ہے جو اپنی فٹنس کا مکمل طور پر خیال رکھتا ہے اور اپنی سماجی زندگی بھی بھرپور انداز میں گزارتا ہے اور وہ ہیکرز کے اس عمومی تاثر سے بالکل مختلف ہے۔ اگرچہ شہمیر عامر خود کو ہیکر کہلانا پسند نہیں کرتا اس کا ماننا ہے کہ اسے ’’سسٹم سیکورٹی اینالسٹ‘‘ قرار دیا جانا چاہیے۔ انڈرگراؤنڈ ہیکرز کے مقابلے میں سسٹم سیکورٹی اینالسٹ ایک وائٹ کالر عہدہ معلوم ہوتا ہے اور شہمیر کا ماننا ہے کہ وہ اس عہدے سے پکارے جانے کا حقدار بھی ہے۔ شہمیر کی یہ بات کسی حد تک درست بھی ہے کیونکہ شہمیر انڈرورلڈ کے ہیکرز کی طرح ویب سائٹس اور ڈیٹابیس میں نقصان دہ وائرس داخل نہیں کرتا اور نہ ڈیٹا بیس کو چرانے کے لئے موجود پروگرام پلیٹ فارم کو نقصان پہنچانےکی کوشش کرتا ہے۔ شہمیر عامر دنیا کی نامور سافٹ وئیر کمپنیوں کی جانب سے تیار کئے جانیوالے آن لائن پلیٹ فارمز اور پروگرامز کی سکیورٹی کاجائزہ لیتا ہے اور ان پروگرامز اور آن لائن پلیٹ فارمز میں پائے جانیوالے نقائص کی نشاندہی کرتا ہے تاکہ ان کمپنیوں کی جانب سے تیار کئے جانیوالے سافٹ وئیر اور آن لائن پلیٹ فارمز ہیکنگ اور نقصان دہ وائرس سے محفوظ رہ سکیں۔ شہمیر اس طرح سے سائبر سکیورٹی کے میدان میں نہ صرف کامیاب انداز میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے بلکہ اس کے عوض بھاری معاوضہ بھی کما رہا ہے اور اب وہ سائبر سکیورٹی کے میدان میں مزید موثر انداز میں کام کرنے کے لئے Cyphlon کے نام سے اپنی ایک کمپنی لانچ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ الیکٹرک انجینئر کی ڈگری حاصل کرنے والا نوجوان سائبر سکیورٹی کے شعبے کو ایک پروفیشن کے طور اخیتار کر سکے گا؟
اس سوال کا جواب جاننے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ شہمیر ہیکنگ کے میدان میں کیسے آیا۔ شہمیر کو ایک شخص کمپیوٹر کے میدان میں لیکر آیا تاہم اس گفتگو میں شہمیر نے اس شخص کے بارے میں زیادہ تفصیل سے گفتگو نہیں کی۔ کمپیوٹر کے شعبے میں شہمیر نے کئی سرٹیفکیٹس حاصل کرنے کی کوشش کی تاہم وہ ناکام رہا اور اس ناکامی سے دلبراشتہ ہو کر اس نے ازخود ہیکنگ کے بارے میں علم حاصل کرنا شروع کیا اور اس بارے میں معلومات حاصل کرنے کے شہمیر نے انٹرنیٹ کا سہارا لیا اور بنیادی معلومات حاصل کیں اور پھر ازخود سب کچھ سیکھتا چلا گیا پھر اس کے بعد مختلف کمپنیوں کی جانب Bug Bounty پروگرامز میں شامل ہوا اور ان پروگرامز میں پائی جانیوالی خامیوں کی نشاندہی کرنا شروع کر دی۔ یہ سافٹ وئیر کمپنیاں اپنے پروگرامز میں پائے جانیوالے نقائص کی نشاندہی کرنے والوں کو خطیر رقم بطور انعام پیش کرتی ہیں۔

ہیکنگ کے میدان میں عبور حاصل کرنے کے باوجود شہمیر کو یہ ماننے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں کہ وہ خود بھی ہیکنگ سے صرف اس وقت تک محفوظ رہ سکتا ہے جب تک وہ اس حوالے سے سکیورٹی کے انتظامات جامع اور مکمل رکھے۔ شہمیر کا کہنا تھا کہ وہ اینٹی وائرس سافٹ وئیر استعمال نہیں کرتا کیونکہ اس کا کہنا ہے کہ ان پروگرامز کی مدد سے میرے اپنائے گئے سکیورٹی پروٹوکولز کے باوجود کوئی مجھے ہیک کر سکتا ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ ہیکنگ کے خطرات سے بچنے کے لئے وہ اپنے ویب کیم، لیپ ٹاپ اور مائیکروفون کو ٹیپ کرتا ہے، پرسنل ڈیٹا کو آف لائن محفوظ کرتا ہے اور وہ ڈیٹا جو اس کے کام کے لئے ضروری ہے،اس کو ورچوئل مشینوں میں محفوظ رکھتا ہے۔ شہمیر کا ماننا ہے کہ ایسے اقدامات کی وجہ سے آپ ہیکنگ سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔

پاکستان میں سائبر سکیورٹی کی صورتحال کے بارے میں شہمیر عامر کا کہنا تھا کہ پاکستانی کمپنیاں زیادہ تر اس طرح کی بیرونی خدمات حاصل کرنا پسند نہیں کرتیں۔ یہی وجہ ہے کہ شہمیر نے اپنی کمپنی تشکیل دی ہے تاکہ وہ مختلف اداروں کو قابل اعتماد سکیورٹی اینالسٹ فراہم کر سکیں۔ واضح رہے کہ شہمیر عامر وہ واحد ہیکر نہیں جو عالمی سطح پر کام کر رہا ہے۔ شہمیر کی طرح ہی ایک اور پاکستانی رافع بلوچ بھی ہے جس نے حال ہی میں گوگل کروم اور فائرفاکس ویب سائٹس کی ایڈریس بار میں پائے جانیوالے نقائص اور خلاء کی نشاندہی کی اور اس کے عوض پانچ ہزار ڈالرز کا انعام حاصل کیا۔ ان حالات کے تناظر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان جلد ہی سٹیفن وزنائیک کا متبادل پیش کر دیگا اور کون جانتا ہے کہ یہ متبادل یہاں موجود ہی ہو۔

تحریر: سعد ایوب (Saad Ayub)

Read in English

Authors

*

Top