Global Editions

دماغی نقشے کی تشکیل سے نیورونز کے باہم رابطوں کا پتا لگانااب ممکن

انسانی دماغ کائنات کی وستعوں کیطرح ناقابل تسخیر ہے۔ انسانی دماغ کے افعال و کردار اس قدر پیچیدہ ہیں کہ اب تک اس کی تمام تر تفصیلات معلوم ہی نہیں ہو سکیں۔ یہ کائنات کی طرح ابھی تک سربستہ راز ہی ہیں۔ چند ہفتے قبل تحقیق کاروں نے انسانی دماغ کا نقشہ بنانے کے لئے تکنیک دریافت کی تھی تاہم اب نیوروسائنٹسٹس نے انسانی دماغ میں موجود نیورونز کے دماغ سے رابطوں کا پتا چلانے کے لئے دماغی نقشہ تیار کر لیا ہے۔ جس کے ذریعے نیورونز کے انسانی دماغ کے ہر خلیے سے ربط معلوم کیا جا سکے گا۔ اس تکنیک کی مدد سے کئی پیچیدہ دماغی امراض جن میں شیزوفرینیا، آٹزم وغیرہ شامل ہیں انکا علاج ممکن ہو سکے گا اور ان بیماریوں کی وجوہات جاننے کے لئے غیرمعمولی مدد حاصل ہو گی۔ اس تکنیک کو MAP-seq کا نام دیا گیا ہے۔ اس مجوزہ طریقہ کار کے تحت لائبریری میں ایسے وائرس تیار کئے جاتے ہیں جو Randomized RNA سیکوئنس کے حامل ہوتے ہیں۔ پھر ان وائرس کے محلول کو انجیکشن کے ذریعے دماغ میں داخل کر دیا جاتا ہے اور اندازاً ایک ایک وائرس ایک ایک نیورون میں داخل ہو جاتا ہے۔ جس سے ہر خلیے کا یونیک آر این اے بار کوڈ حاصل کیا جاتا ہے۔ بعدازاں دماغ کو پراسیسنگ کے لئے خاص سافٹ وئیر کی مدد سے سلائس کی شکل میں کاٹ لیا جاتا ہے۔ اس طرح DNA سیکوئنس RNA بارکوڈز کو پڑھتا ہے اور تحقیق کار اس تعامل کا میٹرکس (قطاروں اور کالموں کا ایک ایسا انتظام جنہیں متعلقہ آئٹمز منظم کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے) تشکیل دیا جاتا ہے جس سے یہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ کس نیورون کا دماغ کے کس حصے سے تعلق ہے۔ اس حوالے سے کولڈ سپرنگ ہاربر لیبارٹری کے نیوروسائینٹسٹ انتھونی زیڈر (Anthony Zador) کا کہنا ہے کہ ہم نے مختلف ایپلی کیشنز کو مخصوص ٹیکنالوجی کی مدد سے بروئے کار لاتے ہوئے انسانی دماغ کی بنیادی اساس تلاش کر لی ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ انسانی دماغ میں موجود نیورونز کا حاصل ہونے والا ڈیٹا ماضی میں دستیاب ڈیٹا سے کسی حد تک مختلف بھی ہے لہذا ابھی یہ کہنا کہ ہم نے انسانی دماغ میں موجود نیورونز کے دماغ سے حقیقی رابطوں کا سراغ لگا لیا ہے ممکن نہیں۔ تاہم ان تجربات میں زیڈر کے معاون Justus Kebschull کا کہنا ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ یہ تکنیک بہتر سے بہتر ہوتی چلی جائیگی۔

تحریر: ریان کراس (Ryan Cross)

Read in English

Authors

*

Top