Global Editions

مسٹر روبوٹ شو ہیکرز کی درست نمائندگی کرتا ہے

ہیکرز کون ہیں؟ کیا کرسکتے ہیں اور کس طرح کام کرتے ہیں؟ وہ اپنی سرگرمیوں کو دوسروں کی نظروں سے کیسے پوشیدہ رکھتے ہیں؟ یہ وہ سوالات ہیں جو عام لوگوں کے ذہن میں گونجتے ہیں کیوں کہ ہمارے معاشرے میں کمپیوٹرز کی اس طرح تصویر کشی کی گئی ہے کہ یہ ایسا جادو کا باکس ہےجس سے معاشرے کو نقصان پہنچانے کے لیےکچھ بھی کیا جاسکتا ہےلیکن اب امریکہ میں مسٹرروبوٹ نامی ایسا ٹی وی شو شروع کیا گیا ہے جس میں منظر کشی، ڈائیلاگز اور سرگرمیوں کے ذریعے ہیکرز کی زندگی کے بارے میں بتایا گیا ہے۔ عام لوگوں کی طرح ہالی ووڈ میں بھی کئی دہائیوں سے کمپیوٹر کو جادو کاباکس سمجھا جاتا رہا ہے جس میںسے کسی بھی کہانی کے مختلف اور نہ ختم ہونے والے راستے نکالے جاسکتے ہیں۔ اب ٹی وی ڈراموں اور موویز ہی کی مثال لے لیں، ان میں ایسے ظاہر کیا جاتا ہے جیسے اہم ترین ڈیٹا سنٹر تک کسی کی بھی رسائی بہت مشکل ہے۔ اس تک پہنچنے والے راستوں میں ناقابل تصور مشکلات حائل ہیں جن کو عبور کرنے کے لیےزیرسمندر اور زیر زمین سفر کرنا پڑتا ہے ، جب وہاں پہنچ جاتے ہیں تو کمپیوٹر کی اشاراتی زبان راہ میں پہاڑ بن کر آجاتی ہے، جسے ایک خاص انداز سے اس کے رموز کو حل کرکے ہی سمجھا جا سکتا ہے اور جہاں پر ای میلز بھی ایک بڑے حرف کی شکل میں پہنچتی ہیں۔

ٹی وی شو مسٹر روبوٹ کی ابتدائی قسط میں ہیکنگ گروپ ایف سوسائٹی کا رکن رومیرو نامی کردار کو "ہالی ووڈ ہیکر" کا نام دیا گیا ہے مسٹر روبوٹ کے دوسرے سیزن میں وہ کردار بتاتا ہے کہ وہ گزشتہ 27سال سے ہیکنگ کی سرگرمیوں میں ملوث ہے اور ایک متحرک گنگناتے ہوئے وائرس کا کردار ادا کررہا ہے۔مسٹر روبوٹ کے ٹی وی شو میں بتایا جاتا ہے کہ کمپیوٹر اور ہیکرز کس طرح کام کرتے ہیں۔ اس شو کا تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ کمپیوٹر کے بارے میں ہماری احمقانہ سوچ کی شاخیں اطراف میں پھیلی ہوئی ہیں جس سے ہم کئی دہائیوں سے نمٹ رہے ہیں۔ مسٹر روبوٹ سیریز کی ایک سال کی اقساط کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہو گا کہ اس شو میں حقیقی دنیا کی ہیکنگ، معلومات کی چوری اور معلومات کے نظام کی تباہی کی تاریخ بتائی جاتی ہے۔ جب مسٹر روبوٹ میں ہیکر اپنی کارروائی کرتے ہیں تو اسی طرح مکالمے بولتے ہیں جیسے حقیقی ہیکرز بات کرتے ہیں۔ اس طرح کے ڈائیلاگ بولنا کبھی مشکل نہیں رہا۔ آپ یو ٹیوب پر ایک کلک سے ہیکرز کو سیاہ ٹوپی اور ڈیف کون میں دیکھ سکتے ہیں ۔ بظاہر ہیکرز کا یہ حلیہ نقلی لگتا ہے لیکن میڈیا کمپنی کے تحت جاری ہونے والی ڈرامہ سیریل مسٹر روبوٹ میں ہیکر ز کو حقیقی پس منظر میں کام کرتے دکھایا گیا ہے۔ شو میں صر ف بات چیت ہی نہیں بلکہ ایکشن بھی نظر آتاہے۔ اصل میں ہیکنگ کا کام بہت تھکا دینے والا ہے یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی کلرک چیک کے ذریعے آپ کی ایئر لائن ریزرویشن کرواتا ہے۔ وہاں پر موجود کوئی شخص مبہم الفاظ دو تین بار ٹائپ کرکے الجھن کا اظہار کرتا ہے اور بالآ خرمسکرا ناپڑتا ہےکیوں کہ اسے سکرین پر ایک مختلف مینو ظاہر ہوتا ہے۔ ہیکر جس طرح زیرزمین رہ کر کام کرتے ہیں اس کی سماجی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ ان کے پا س تکنیکی اور انتھک کام کرنے کی صلاحیت ہے۔ وہ اپنے کام کے بارے میں اخلاقی جواز بھی رکھتے ہیں۔

مسٹر روبوٹ تکنیکی لحاظ سے کوئی پہلا حقیقت پسندانہ سکرپٹ نہیں لیکن اصل میں یہ ٹی وی شو بروقت ہے کیوں کہ 2014ء مسٹر روبوٹ کے پائلٹ شو کے لیےماحول اس وقت پوری طرح تیار ہو گیا تھا جب سونی پکچر انٹرٹینمنٹ کو بری طرح ہیک کیاگیا تھا۔ ہیکرز نے ان کی اگلی پچھلی ساری فلمیں ، پرائیویٹ ای میلز، حساس مالی دستاویزات کی معلومات چرا لیں۔ کمپیوٹر سائنسدان اور سیریز میں سکرین پلے رائٹر کور اڈانا کہتے ہیں کہ سونی پکچرز کی ہیکنگ نے سٹوڈیو کے ماحول میں بڑی سنسنی پھیلا دی ۔ تمام ایگزیکٹوز سوچنے پر مجبور ہو گئے  کہ انہیں اپنے کمپیوٹرز کے ساتھ کیا احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں جس کے بعد اب کمپیوٹرز کے لیےایسا نظام تشکیل دیا گیا ہے جسے ہالی ووڈ آپریٹنگ سسٹم کہا جاتا ہے جس میں کمپیوٹرز ناممکن کاموں کو سرانجام دے رہے ہیں۔ کمپیوٹرز فلموں کے پلاٹ کی تمام تر باریکیوں کا احاطہ کرتے ہیں لیکن اس سے لوگ ڈرتے بھی ہیں کہ کمپیوٹر کیا کچھ کرسکتا ہے اور کیا نہیں کرسکتا۔ کمپیوٹر کی اسی صلاحیت سے خوف کھا کر امریکی قانون سازوں نے ایک خوفناک قانون بنادیا۔

ٹیکنالوجی کے میدان میں بدترین قانون

امریکہ میں 1983ء میں وار گیمز (War Games) نامی فلم نے تہلکہ مچا دیا۔ اس فلم میں میتھیو براڈرک نے امریکی ریاست سیٹل میں رہائش پذیر ایک نوجوان ہیکر ڈیوڈ لائٹ مین کا کردار ادا کیا ہے۔ اس میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ اپنے کمپیوٹر کے موڈیم(Modem) کے ذریعے خودکار طریقے سے کوئی بھی فون نمبرز ڈائل کرسکتا ہے۔ وہ ہمیشہ ایسے سسٹم کی تلاش میں رہتا ہے جسے وہ ہیک کرسکے۔ اسی تلاش کے دوران اسے گیمز بنانے والی کمپنی کا ایک پراسرار قسم کا اندرونی سسٹم مل جاتا ہے ۔ وہ اسے ایک عام سی وار گیم سمجھتا ہے لیکن اصل میں یہ عام گیم نہیں ہوتی اور نہ عام کمپنی ہی ہوتی ہے۔اسے استعمال کرتے ہوئے وہ گیم کے اندر ہی تقریباً ورلڈ وار تھری شروع کردیتا ہے۔ یہ کمپنی دراصل امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان ہے جو گلوبل تھرمونیوکلیئر وار کی گیم بناتی ہے۔ ڈیوڈ لائٹ مین گیم کھیلتے ہوئے نادانستگی میں سوویت یونین کے ہزاروں ایٹمی میزائلوں کو چلانے کی کمانڈ تیار کردیتا ہے۔ گیم سیمولیشن میں وہ اس طرح کے غلط کوڈ بھرتا ہے کہ پنٹاگون کے حکام سمجھنا شروع ہو جاتے ہیں کہ روس ان پر حملہ آور ہونے والا ہے۔ پنٹاگون غلط فہمی کا شکار ہو کرجوابی کارروائی کی تیاری کرلیتا ہے۔ اس دوران ایف بی آئی کی ٹیم تحقیق کرتی ہوئی ڈیوڈ لائٹ مین تک پہنچ جاتی ہے اور اسے گرفتار کرلیتی ہے ۔ ڈیوڈ پنٹاگون حکام پر زور دیتا ہے کہ کمپیوٹر میں حملے کو کینسل کردیں لیکن کمپیوٹر کینسل کی ہدایات ماننے سے انکار کردیتا ہے۔ جس پر ڈیوڈ کمپیوٹر سے کہتا ہے کہ وہ اپنے ہی خلاف ٹِک ٹیک ٹو گیم کھیلنا شروع کردے جس سے کمپیوٹر الجھ جاتا ہے اور تیسری جنگ عظیم ٹل جاتی ہے۔

اس تمام ڈرامے میں ہمارے سمجھنے کی بات یہ ہے کہ نوجوان وار گیم کھیلنے کے لیے300باڈ کا موڈیم (Modem) تلاش کرتے ہیں اور نیٹ ورک کمیونیکیشن پر تجربات کرتے ہیں۔ اصطلاحی زبان میں اسے وار ڈائلنگ یعنی ترتیب میں نمبر ڈائل کرنا کہتے ہیں۔ اس اصطلاح سے وار واکنگ اور وار ڈرائیونگ کی اصطلاحات اخذ کی گئیں جن کا مطلب اوپن وائی فائی نیٹ ورک کو شکار کرکے اپنا کام نکالنا ہے۔ فلم میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح سسٹم کی اہلیت نہ رکھنے والا ایک بچہ ہیکنگ کرتے ہوئے سسٹم میں داخل ہو جاتا ہے۔ اگرچہ فلم وار گیم سے ایسا لگتا ہے کہ سسٹم اپنا تحفظ کرنے میں ناکام رہا ہے لیکن پھر سسٹم کو کھولنے میں کامیابی ہو جاتی ہے۔ ابھی تک یہ درست ہی معلوم ہوتا ہے کہ ہر میزائل کا لانچ کوڈ 00000000ہی مقرر ہے۔ فلم وار گیمز کا سب سے برا اثر قانون سازوں پر پڑا جو ذہنی انتشار میں مبتلا ہو گئے۔ کانگریس نے 1984ءاور 1986ءمیں فلم کے کردار میتھیو براڈرک سے متاثر ہو کر کمپیوٹر فراڈ اور ابیوز ایکٹ (Computer Fraud and Abuse Act)بنایا ۔ سی ایف اے اے کی منظوری سے پہلے ہیکروں کے خلاف قانونی کارروائی پر خاصا مباحثہ کیا گیا تھا۔ حساس ڈیٹا بیس پر نقب زنی کرنے والے افراد کے خلاف لین دین یا بجلی چوری کے الزام میں کارروائی کی جاتی تھی۔ سی ایف اے اے بنانے والے قانون سازوں نے یہ بات سمجھ لی تھی کہ اگر وہ وقتی طور پر ہیکنگ کو قانون سازی کے ذریعے روک بھی لیتے ہیں تو تیزی سے ٹیکنالوجی کی ترقی اس پر غالب آجائے گی۔ لہٰذا سی ایف اے اے کے قانون کو ہیکنگ تکنیکس کے حوالے سے خاص طور پر وسیع اور لچک دار بنایا گیا جس کے تحت ہر اس شخص کو گرفت میں لیا جاسکتا ہے جو غیر قانونی اور دانستہ یا نادانستہ طور پر کمپیوٹر سسٹم تک رسائی حاصل کرتا ہے۔ ٹِم وُو کہتے ہیں کہ ٹیکنالوجی کی حوالے سے یہ بدترین قانون تھا۔ اس قانون کے مطابق آن لائن کوئی بھی میٹریل استعمال کرنے کے لیےاس کے حقیقی مالک کے اجازت نا مے کی ضرورت ہوگی جسے ہم اینڈ یوزر سرٹیفکیٹ (End-User Certificate)کہہ سکتے ہیں۔ اسے بدترین قانون اس لیےکہا گیا کہ اس میں ہزاروں الفاظ موجود ہیں جنہیں پوری طرح سے کوئی بھی نہیں پڑھتا اور جس میں سے ایک کی بھی خلاف ورزی سنگین جرم ہے۔ المیہ یہ ہوا کہ اس چھوٹی سی غلطی کی وجہ سے وہ سی ایف اے اے کے قانون کی گرفت میں آ گیا جس کی وجہ سے اسے 35سال کی سزا ہو گئی جس پر اس نے 2013 ءمیں جیل میں خود کو پھانسی پر لٹکا لیا۔ہالی ووڈ کی فلم وارگیمز کے بعد بہت سی فلمیں اسی آئیڈیاپر بننا شروع ہوگئیں۔ ان میں سے بہت سی فلموں کو اصلی ہیکرز نے پسند بھی کیا جن میں سنیکرز اور ہیکرز قابل ذکر ہیں۔

پرستار کی آوازیں

مسڑروبوٹ کے تکنیکی شو کی معاونت 32سالہ مسٹر کور اڈانا نے کی۔ اڈانا نے بتایا کہ انھوں نے ہالی وڈ میں کام کرنے کے لیےاپنا منافع بخش سائبر سکیورٹی کا کیریئر نظرانداز کردیا۔ وہ بتاتے ہیں کہ ان کا انفارمیشن سکیورٹی کا تجربہ ایک اثاثہ ہے۔ اس شو کے خالق سیم اسماعیل تکنیکی معاونت کے لیےاڈانا کے شکرگزار ہیں۔ اڈانا نے ہی اس بات پر زور دیا کہ جو سین کمرے میں فلمایا جائے اس میں طاقتور کمپیوٹرز کے ساتھ پنکھے کے شور کی بھی ہلکی سی آواز آنی چاہیے۔ اڈانا نے ہیکنگ کے بارے میں شو کے لیےانتظامیہ کے ساتھ قانونی لڑائیاں بھی لڑیں۔ مصنف بتاتے ہیں کہ میں نے اپنے ناول "لٹل برادر" میں نوعمر ہیکروں کے بارے میں بتایا ہے جو اپنی نجی ای میلز بھیجنے کے لیےجی پی ایس کا استعمال کرتے ہیں اور کھیلوں کے کنسول میں جاکر محفوظ نیٹ ورک تخلیق کرتے ہیں تو اس وقت بھی ہر شخص نے مجھ پر زور دیا کہ اپنے ناول کو فلم کی شکل میں لاؤ۔ جب امریکہ کے ہسپتالوں کی معلومات چوری کرنے کے لیےہیکرز حملہ کریں یا انتخابات کے نتائج پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی جائے تو ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ ہمارے لیے کمپیوٹرز کیا کرسکتے ہیں اورکتنی تباہی لاسکتے ہیں۔ انفارمیشن سکیورٹی پر سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا ۔ کئی دہائیاں پہلے وار گیم کی فلم ٹیکنالوجی کے بارے میں ایک احمقانہ قانون سے متاثر ہو کر بنائی گئی تھی۔

مسٹر روبوٹ تکنیکی لحاظ سے کوئی پہلا حقیقت پسندانہ سکرپٹ نہیں لیکن اصل میں یہ ٹی وی شو بروقت ہےکیوں کہ 2014ء مسٹر روبوٹ کے پائلٹ شو کے لیےماحول اس وقت پوری طرح تیار ہو گیا تھا جب سونی پکچر انٹرٹینمنٹ کو بری طرح ہیک کیاگیا تھا۔

تحریر: کورے ڈاکٹرو (Cory Doctorow)

Read in English

Authors
Top