Global Editions

انٹرنیٹ کی سہولیات سے محروم بھارتی علاقوں کے لئے گوگل کا منصوبہ

گوگل نے حال ہی میں کئی اعلانات کئے اور ان اعلانات سے یہ بالکل واضح ہے کہ گوگل بھارت میں انٹرنیٹ کا طوفان لانا چاہتا ہے۔ بھارت میں کام کرنا گوگل کے لئے کوئی نیا تجربہ نہیں ہوگا کیونکہ اس کی جانب سے تیار کیا جانیوالا ریل روڈ سٹیشن وائی فائی منصوبہ بہت حد تک کامیاب رہا ہے تاہم اب کیا جانیوالا اعلان خاصا اہم ہے کیونکہ اس کے ذریعے گوگل ایسی نئی مصنوعات اور منصوبے شروع کرنے والا ہے جس کے ذریعے ایک ارب پچیس کروڑ کے لگ بھگ بھارتی آبادی کو انٹرنیٹ کی سہولیات حاصل ہونگی۔ اس وقت بھارت میں دو سو سے اڑھائی سو ملین افراد کو ہی انٹرنیٹ کی سہولیات حاصل ہیں اور آبادی کا ایک بہت بڑا حصہ انٹرنیٹ کی سہولیات سے مستفید نہیں ہو رہا۔ گوگل کی جانب سے کئے جانیوالے اعلانات میں سے ایک اہم اعلان گوگل کی جانب سے یوٹیوب کی نئی ایپ ’’گو‘‘ بھی ہے جسے خاص طور پر ان ترقی پزیر ممالک کےلئے تیار کیا گیا ہے جہاں انٹرنیٹ کی سہولیات ناکافی ہونے کے ساتھ ساتھ مہنگی بھی ہیں۔ گوگل کی جانب سے متعارف کرائی جانیوالی نئی ایپ کے ذریعے صارفین کو ویڈیو ڈاؤن لوڈنگ کی سہولت حاصل ہوگی جسے وہ بعد میں دیکھ سکیں گے۔ اگرچہ یہ کوئی بڑا اور اچھوتا کام نہیں ہے۔ Wired نے اس کی وضاحت کچھ اس طرح کی ہے کہ صارفین کو اس کے ذریعے ویڈیو شئیرنگ کی سہولت حاصل ہو جائیگی اور وہ کمیونٹی ایڈہاک وائرلیس نیٹ ورک کے ذریعے ان ویڈیوز کو دیکھ سکیں گے لہذا صارفین کو اس کےلئے ڈیٹا کنکشن کے پیسے ادا کرنے کی ضرورت باقی نہیں رہے گی۔ گوگل کو اس فیچر کو متعارف کرانے کا خیال بھارت کے دوروں کے دوران آیا جب وہاں اس امر کا مشاہدہ کیا گیا کہ لوگ لنک شئیر کرنے کے بجائے ایس ڈی کارڈ کے ذریعے فلمیں ہی منتقل کر دیتے تھے۔ گوگل کے حالیہ اقدامات کا مقصد ڈیٹا سیونگ سکیم متعارف کرانا نہیں ہے۔ اسی طرح گوگل کروم کے لئے ڈیٹا سیور موڈ بھی متعارف کرایا جا رہا ہےجس کی مدد سے آڈیو اور ویڈیو کو کمپریس کر کے ڈاؤن لوڈنگ ہو سکے گی اس حوالے سے یہ دعوی بھی سامنے آیا ہے کہ اس کی مدد سے ایم پی فور فائلز کو 67 فیصد کم ڈیٹا پر سٹریم کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح گوگل ریل سٹیشن وائی فائی پراجیکٹ کا دائرہ کار بھی بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہے اور اسے اب بڑے شاپنگ مالز، کیفے وغیرہ تک بڑھایا جائیگا اس منصوبے کو گوگل سٹیشن کا نام دیا گیا ہے۔ اسی طرح گوگل مصنوعی ذہانت کے حامل ورچوئل اسسٹنٹ کے لئے ہندی زبان بھی متعارف کرانے جا رہی ہے۔ اس حوالے سے گوگل کے چیف ایگزیکٹو سندر پچائی (Sundar Pichai) کا کہنا ہے کہ ان کی کمپنی نے بھارت میں کام کرنے کے دوران بہت سے تجربات حاصل کئے اور کونیکیٹویٹی کے بہت سے مسائلحل کرنے میں مدد ملے گی، مثال کے طور میپ آف لائن یہ مغرب میں بہت مقبول ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے ہمیں انٹرنیٹ کے مستقبل کے لئے اچھی پرکھ دی ہے۔ اگر ہم غلطی پر نہیں ہیں تو بھارت گوگل کے لئے ایک بہت بڑا موقع ہے اور اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے گوگل بھی فیس بک کی طرح بہت سے اشتہارات جمع کر سکتا ہے اگرچہ فیس بک نے گوگل سے پہلے اس میدان میں آنے کا فیصلہ کیا لیکن بعدازاں معاہدے کی خلاف ورزی کی بناء پر اس پر پابندی عائد کر دی گئی۔

تحریر: جیمی کونڈیلفی (Jamie Condliffe)

Read in English

Authors

*

Top