Global Editions

کرونا وائرس کی ویکسینز کے سلسلے میں مزید پیش رفت

بندروں پر کی جانے والی تحقیق سے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کرونا وائرس کا شکار ہونے کے بعد جسم کی قوت مدافعت مزید بہتر ہو سکتی ہے اور ویکسین سے تحفظ حاصل ہوسکتا ہے۔

اہم سوالات: کیا ایک دفعہ کرونا وائرس کا شکار ہونے کے بعد انسانی جسم کی مدافعت میں اضافہ ہوتا ہے؟ اور کیا ویکسین سے بھی اسی قسم کے نتائج ممکن ہیں؟  جریدہ سائنس میں شائع ہونے والی دو مطالعہ جات میں ہارورڈ یونیورسٹی کے  بیتھ اسرائیل ڈیکنیس میڈیکل سینٹر (Beth Israel Deaconess Medical Center) سے وابستہ ریسرچرز بندروں کی مدد سے ان سوالوں کے جواب حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

قوت مدافعت میں اضافہ: سب سے پہلے ریسرچ ٹیم نے نو بندروں کے جسموں میں کرونا وائرس متعارف کیا۔ یہ بندر بالکل انسانوں کی طرح نمونیا کا شکار ہوئے۔ پھر پانچ ہفتے بعد، ریسرچ ٹیم نے ان کے جسموں میں دوبارہ وائرس متعارف کرنے کی کوشش کی، لیکن اس بار وائرس کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ اس پیش رفت کی بنیاد پر سائنسدانوں نے یہ اندازہ لگایا کہ ایک بار کرونا وائرس کا شکار ہونے کے بعد بندروں کے جسم اس سے دوبارہ متاثر نہیں ہوتے، اور ممکن ہے کہ انسانوں میں بھی اسی قسم کے نتائج سامنے آئیں۔ تاہم سائنسدانوں کو اب تک یہ بات معلوم نہیں ہے کہ کرونا وائرس کا شکار ہونے کے بعد قوت مدافعت کب تک برقرار رہتی ہے۔

اس کے بعد اس گروپ نے 35 بندروں پر چار مختلف ڈی این اے ویکسینز آزمائیں۔ اس کے لیے ان کے پٹھوں میں ٹیکے لگا کر وائرس کا پروٹین بنانے کی کوشش کی گئی۔ اس تجربے کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی کہ جن بندروں کو یہ ٹیکہ لگایا گیا تھا، ان کی سانس کی نالیوں میں وائرس کی موجودگی کا امکان کم تھا۔ اس کا یہ مطلب ہوا کہ ٹیکوں سے اس وائرس کے خلاف تحفظ حاصل ہوسکتا ہے۔

ماضی میں چین کے سا سائنو ویک (SinoVac) اور آکسفورڈ یونیورسٹی کی تیار کردہ ویکسینز بھی بندروں میں کامیاب ثابت ہوئی تھیں۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ انسانوں پر بھی ویکسینز فائدہ مند ہو سکتی ہیں۔

آگے کیا ہوگا؟ انسانوں کے لئے کامیاب ویکسین بنانے کے لیے سائنسدانوں کو قوت مدافعت پر کرونا وائرس کے اثرات کے متعلق مزید تحقیق کرنی ہوگی۔ اس کے علاوہ انہیں جسم میں کرونا وائرس کے خلاف پیدا ہونے والے اینٹی باڈیز کی قسم اور تعداد کا بھی تعین کرنا ہوگا۔ ہارورڈ یونیورسٹی کی ٹیم کے مطابق، بندروں پر تجربات اس جانب پہلا قدم ہے۔

تحریر: اینٹونیو ریگالیڈو ( Antonio Regalado)

Read in English

Authors

*

Top