Global Editions

حقائق کے زیادہ قریب آگمینٹیڈ رئیلٹی

اس مصنوعے کو (ابھی تک) صارفین کے لئے جاری نہیں کیا گیا ہے، لیکن ایک اسٹارٹ اپ کمپنی کا اے آرہیڈسیٹ ہولولینس کو کافی سخت مقابلہ دے سکتا ہے۔

ابھی صرف چند ہی کمپنیاں ہیں جو ایسے آگمینٹیڈ ریئیلٹی (Augmented Reality) کے ہیڈسیٹ کا مظاہرہ کرسکتی ہیں جو اچھے سے ڈیجیٹل تصاویر کو حقیقی دنیا میں ضم کرسکتی ہیں ۔ ان میں سے دو ہیڈسیٹ مائیکروسافٹ (Microsoft)کا ہولولینس (HoloLens)اور میٹا (Meta)کا میٹا2(Meta 2) ہیں۔

اب ان کے ساتھ ایک اور کمپنی شامل ہوگئی  ہے۔ ایویگانٹ (Avegant)نامی ایک کمپنی نے، جو پہلے ہی گلف (Glyph) نامیعجیب سے ذاتی تھئیٹر کا ہیڈسیٹ $499 میں فروخت کررہی ہے، ایک شفاف ڈسپلے سے آراستہ ہیڈسیٹ کا پروٹوٹائپ تیار کیا ہے، جو ان کے مطابق لائٹ فیلڈ کی ٹیکنالوجی کے ذریعے آپ کو ورچول اشیاء بھی اس قدر قدرتی انداز سے دکھاتا ہے جتنا کہ حقیقی اشیاء۔ لائٹ کی فیلڈ اس پیٹرن کو کہتے ہیں جو روشنی کی شعاعوں کو کسی چیز سے ٹکرا کر پیدا کیا جاتا ہے، اور اس اثر کی تخلیق نو ایسی ہموار پہلوؤں پر مشتمل آگمینٹیڈ رئیلٹی کی تصاویر تخلیق کرنے کے لئے بہت ضروری ہے، جن پر آپ اس وقت آرام سے فوکس کرسکتے ہیں جو ایک ہی سین میں مختلف گہرائیوں پر ہوں، جیسے کہ کسی فاصلے پرکھڑی گاڑی یا گھر۔

اگر آگمینٹیڈ رئیلٹیہیڈسیٹ میں لائٹ فیلڈ کے استعمال کا خیال جانا پہچانا لگ رہا ہے، تو اس کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ ایک خفیہ لیکن اچھی خاصی رقم رکھنے والی میجک لیپ (‏Magic Leap) نامی اسٹارٹ اپ کمپنی اس ٹیکنالوجی پر کئی سالوں سے کام کرہی ہے۔ 2014 کے آخریحصے میں انہوں نے مجھے اپنے پروٹوٹائپ دکھائے تھے جن کا حجم کافی زیادہ تھا، اور جو اس وقت کام کرنے والے ہیڈسیٹ کی شکل میں نہیں تھے۔ اس کے بعد اس کمپنی نے اپنے ہیڈسیٹ کے بارے میں زیادہ معلومات فراہم کی ہے، لیکن اب تک یہ نہیں بتایا ہے کہ وہ مصنوعہ کب جاری کریں گے۔

کیلیفورنیا کے شہر بیلمونٹ میں واقع ایویگانٹ کے دفتر میں کمپنی کے شریک بانی اور چیف ٹیکنیکل افسر ایڈورڈ ٹینگ (Edward Tang)نے حال ہی میں مجھے ایک ہیڈسیٹ دکھایا جو اس وقت تک واقعی ڈیموکے مرحلے میں تھا، لیکن ایسا لگ رہا ہے کہ اس کی تکمیل میں زیادہ وقت نہیں لگنے والا ہے۔ اسے زمین پر رکھے گئے کمپیوٹر سے متصل گیا تھا، لیکن ٹینگ کہتے ہیں کہ ایویگانٹ اسے موبائل آلات پر بھی چلانے میں کامیاب ہوگئے ہیں ۔ لاؤنج کی طرح کے ایک کمرے میں، جس میں ایک حقیقی صوفہ، کچھ کرسیاں اور ایک کافی ٹیبل رکھا گیا تھا، اسے میرے سر پر لگا دیاگیا۔

ہیڈسیٹ لگا کر میں نے اس لاؤنج میں بیٹھے بیٹھے اپنی طرف کچھوا تیرتے دیکھا، فرنیچر کی ٹانگوں میں پھرتی ہوئی چھوٹی چھوٹی نیلی مچھلیاں دیکھیں، نظام شمسی کے نمونے کے گرد سیارچےکے مجموعے کا مرکز دیکھا، اور عجیب سے چھپکلی کی طرح کا ہرے لباس پہنی ایک خاتون کے بالوں اور پلکوں کا معائنہ کیا۔

تصویریں قریب سے بھی اور دور سے بھی بالکل صاف تھیں۔ مجھے ایک آنکھ بند کرکے بھی اپنے قریب لگے ڈیجیٹل تصویر سے دوسری تصویر تک اپنی نظر دوڑانے میں کسی بھی قسم کی دشواری پیش نہیں آئی۔ حقیقی زندگی کی طرح ، جس چیز پر میری نظر مرکوز ہوتی، وہ صاف ہوتی تھی، لیکن کسی دوسری چیز پر اپنی توجہ منتقل پر وہ چیز دھندلی ہوجاتی تھی، چاہے وہ کوئی ڈیجیٹل شے ہو یا کسی مختلف گہرائی پر کوئی حقیقی چیز ہو۔

سٹان فورڈ کمپیوٹیشنل امیجنگ لیب کے سربراہ اسٹان فورڈ کے اسسٹنٹ پروفیسر گورڈن ویٹزسٹین (Gordon Wetzstein) کے لئے ڈیجیٹل اور حقیقی مشمولات کے درمیان یہ ہم آہنگی آگمینٹیڈ رئیلٹی کے لئے بہت ضروری ہے، کیونکہ اس سے آنکھوں پر زیادہ زور نہیں پڑے گا۔
وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ "یہ حقیقت کے زیادہ قریب ہے۔"

لیکن دوسرے آگمینٹیڈ رئیلٹی کے تجربات کے برعکس میں اویگانٹ کے ہیڈسیٹ میں دکھائی جانے والی کسی چیز کو ہاتھ نہیں لگاسکتی تھی۔ اور ہولولینس (HoloLens)کی طرح ایواگینٹ کا بھی حیطہ نظر کافی محدود ہے، یعنی کہ آپ ایک مستطیل کی شکل کی کھڑکی کے ذریعے حقیقی اور ورچول اشیاء کے امتزاج کو دیکھ رہے ہیں ۔ اس کی وجہ سے ایک وقت میں ایک چیز سے زیادہ دیکھنا مشکل ہوجاتا ہے۔

ایوگانٹ اس وقت ہیڈسیٹ کی ٹیکنالوجی کی وضاحت کرنے کوتیار نہیں ہیں۔ ٹینگ کہتے ہیں کہ لائٹ فیلڈ کے آپٹیکل عنصر کے علاوہ، یہ گلف سے کافی ملتا جلتا ہے، جس میںچھوٹے چھوٹے آئينوں سے بھرے ہوئے چھوٹی چپ کےذریعے تین رنگوں کی ایل ای ڈی سے روشنی کو آپ کی آنکھ کے پردے پر ڈالا جاتاہے، جہاں ایک تصویربن جاتی ہے۔

یہ اسٹارٹ اپ کمپنی یہ بھی نہیں بتارہی ہے کہ وہ ا س ہیڈسیٹ کے ساتھ کیا کرنے والی ہے، تاہم ٹینگ کہتے ہیں کہ"تخلیق کاری کی تیاری شروع ہونے والی ہے۔"

تحریر: ریچل میٹز (Rachel Metz)

 

Read in English

Authors
Top