Global Editions

ڈیجیٹل صنفی عدم مساوات کا مقابلہ

آئی ٹی کے شعبے میں خواتین کو درپیش مشکلات ہمارے معاشرے میں عورتوں کے خلاف جنسی تعصب کی عکاس ہیں۔

دنیا بھر کی خواتین ابھی سے نہيں بلکہ کئی صدیوں سے اپنے حقوق کے لیے جد و جہد کررہی ہيں۔ چاہے ہم معاوضے کے فرق کی بات کریں یا اپنے جسم پر اختیار رکھنے کی، خواتین کو اکثر و بیشتر متعدد حقوق سے محروم رکھا جاتا ہے۔ اور افسوس کی بات یہ ہے کہ دنیا ہاتھ پر ہاتھ رکھے صرف تماشہ ہی دیکھ رہی ہے۔

ابو سرخیل

دوسری طرف، پچھلی دو دہائیوں میں ٹیکنالوجی، خاص طور پر کمپیوٹرز اور انٹرنیٹ، کے انقلاب کے باعث دنیا مکمل طور پر تبدیل ہو کر رہ گئی ہے۔ ڈیٹا ری پورٹل (Datareportal) کی ڈیجیٹل 2020ء عالمی رپورٹ کے مطابق آج دنیا بھر میں انٹرنیٹ کے 4.54 ارب صارفین موجود ہيں۔ تاہم ایک ایسا رجحان جس میں آج تک کوئی خاص فرق نہيں پڑا، وہ ہے ٹیکنالوجی کے شعبے میں خواتین کی شمولیت۔

اس بات سے انکار نہيں کیا جاسکتا کہ ایڈا لولیس (Ada Lovelace) کے کمپیوٹر سے لے کر کیتھرین جانسن (Katherine Johnson) کی انسانوں کو خلاء میں بھیجنے کی کوششوں تک، خواتین نے ٹیکنالوجی کی بنیاد ڈالنے میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس کے باوجود، کارپوریٹ سیکٹر میں، خصوصی طور پر ڈیجیٹل شعبے میں، خواتین کی ترقی کی راہ میں کئی رکاوٹیں حائل رہی ہیں۔ دنیا کی 50 فیصد آبادی عورتوں پر مشتمل ہے، لیکن ٹیکنالوجی کے شعبے میں ان کی شمولیت اس سے کہیں کم ہے۔

امریکہ میں 1990ء کے بعد ٹیک صنعت میں 79 فیصد ترقی نظر آئی ہے۔ تاہم نیشنل سینٹر فار وومین اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی (National Center for Women and Information Technology – NCWIT) کی ایک رپورٹ کے مطابق، خواتین کمپیوٹنگ کے صرف 25 فیصد عہدوں پر فائز ہیں۔ اس کے علاوہ، صرف 12 فیصد انفارمیشن ٹیکنالوجی کے پیٹنٹس کی ٹیموں میں خواتین شامل ہیں۔

خواتین کے خلاف وسیع پیمانے پر پھیلا تعصب

معاشی، سماجی، اور سیاسی شعبہ جات میں خواتین کو متعدد مشکلات کا سامنا ہے۔ ورلڈ اکنامک فورم (World Economic Forum) کے جینڈر گیپ انڈیکس 2020ء (Gender Gap Index 2020) کے مطابق، جنسی مساوات کے حوالے سے پاکستان 153 ممالک میں سے 151ویں پوزیشن پر کھڑا ہے۔

پاکستان میں ٹیکنالوجی کے متعلق اعداد و شمار کے فقدان کے باوجود یہ بات کسی سے چھپی نہيں ہے کہ بیشتر خواتین کو ٹیکنالوجی سے عام طور پر محروم رکھا جاتا ہے۔ اس وقت ملک بھر میں صرف 35 فیصد افراد کو انٹرنیٹ تک رسائی حاصل ہے، جبکہ 75 فیصد افراد کے پاس موبائل فونز ہیں۔

پاکستان کی 49 فیصد آبادی خواتین پر مشتمل ہے، لیکن اس کے باوجود ان کی شرح خواندگی محض 46 فیصد ہے۔ اس کے برعکس مردانہ شرح خواندگی 71 فیصد ہے۔ صرف 13 فیصد خواتین کو انٹرنیٹ تک رسائی حاصل ہے اور ان کا موبائل فون رکھنے کا امکان مردوں کے مقابلے میں 28 فیصد کم ہے۔

اگر ہم آن لائن تعلیم، تفریح یا کاروبار کی بات کریں تو ڈیجیٹلمیڈیا کے استعمال کی شرح اور بھی کم ہے۔ فیس بک کے مطابق، پاکستان میں ان کے اشتہارات جن صارفین کو پیش کیے جاتے ہیں، ان میں سے محض 19.2 فیصد خواتین ہیں۔ اسی طرح لنکڈ ان کے اشتہارات دیکھنے والوں میں سے خواتین کی شرح محض 16.3 فیصد ہے۔

ٹیک کی جنت

2020ء کی عدم یقینی کے پیش نظر، ڈیجیٹلجنسی عدم مساوات کا حل تلاش کرنا اور بھی ضروری ہوگیا ہے۔ پچھلے چند سالوں میں پاکستان میں ٹیک سٹارٹ اپس کی تعداد میں بہت تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جو اس عدم مساوات کے خاتمے اور ایک نئے دور کی بنیاد رکھنے کا بہترین موقع ہے۔

تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کاروباروں، خصوصی طور پر ٹیکنالوجی سے وابستہ کاروباروں، میں خواتین اور دیگر پسماندہ کمیونٹیز کی شمولیت سے منافع میں کئی گنا اضافہ ممکن ہے۔ ریسرچرز نے متعدد ٹیموں کے مطالعے کے بعد یہ نتیجہ نکالا ہے کہ جن ٹیموں میں مردوں اور خواتین کی تعداد برابر ہو، وہی ٹیمیں سب سے بہتر کارکردگی، جدت پسندی، اور شراکت داری کا مظاہرہ کرتی ہیں۔

امریکہ میں 20,000 کمپنیوں پر مشتمل ایک تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ کامیاب ٹیک سٹارٹ اپس میں سینیئر عہدوں پر ناکام سٹارٹ اپس کے مقابلے میں دو گنا زيادہ خواتین موجود ہوتی ہيں۔

سینیئر سافٹ ویئر انجنيئر زینب سلیم بتاتی ہیں کہ ”پاکستان کے دیہی اور شہری علاقوں دونوں تک ہی ڈیجیٹلخواندگی اور ٹیکنالوجی کے فوائد کے متعلق آگاہی پہنچ رہی ہے۔“ ٹیکنالوجی کی صنعت سے وابستہ ہونے کے باعث انہوں نے پچھلے پانچ سالوں میں کافی تبدیلیاں دیکھی ہیں۔ ان کے مطابق دیہی علاقہ جات سے ٹیکنالوجی کے انقلاب میں شرکت اور ڈیجیٹل صلاحیتوں کے حصول میں بہت زیادہ اضافہ نظر آیا ہے۔

پدر شاہی نظام کا خاتمہ

کہنے کو تو پاکستان کے نوجوان بہت لائق ہیں اور اس ملک میں ڈیجیٹل انقلاب زيادہ دور نہيں ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ خواتین کو ٹیکنالوجی کی صنعت میں اپنا لوہا منوانے کے لیے ابھی بھی بہت پاپڑ بیلنے پڑتے ہيں۔ ان کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ملک بھر میں پدر شاہی خیالات کا رجحان ہے۔

کوڈ گرلز (CodeGirls) سمیت متعدد پروگرامز کی بانی فائزہ یوسف ایک عرصے سے ٹیک کے شعبے میں خواتین کی شمولیت میں اضافہ کرنے کے لیے کوشاں ہیں اور اس سلسلے میں انہيں خواتین کے ساتھ کام کرنے کا طویل تجربہ حاصل ہے۔ وہ بتاتی ہيں کہ کئی خواتین یا تو ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارمز استعمال کرنے سے کتراتی ہيں یا انہيں ایسے ٹولز استعمال کرنے کی اجازت نہيں دی جاتی۔ جو خواتین سوشل میڈيا اکاؤنٹس بنانے میں کامیاب ہوجاتی ہیں، ان میں سے کئی اپنے خود کے نام کے بجائے شوہروں، بھائیوں یا بچوں کے نام استعمال کرتی ہیں۔ یوسف کہتی ہیں کہ ”خواتین کے لیے سمارٹ فونز اور گھر پر انٹرنیٹ تک رسائی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔“

کاروان کرافٹس فاؤنڈيشن (Kaarvan Crafts Foundation) کے سی ای او دانش خان اس رائے سے متفق ہیں۔ وہ ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو پاکستان کو بتاتے ہیں کہ ریت رواج یا مذہب کے نام پر خواتین کے بنیادی حقوق کو نظرانداز کیا جاتا ہے، اور انہيں اکثر و بیشتر مردوں جیسی آزادی حاصل نہیں ہوتی۔

خان کہتے ہيں کہ ”صنفی عدم مساوات کے پیچھے ثقافت  اور پدرشاہی نظام کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ کئی گھرانوں میں خواتین کے گھر سے باہر نکلنے کو اچھا نہيں سمجھا جاتا، جس کے باعث وہ صرف چار دیواری میں ہی قید ہو کر رہ جاتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں ایک ایسی سوچ نے جنم لیا ہے جس کے مطابق خواتین کو مردوں سے کمتر سمجھا جاتا ہے۔“

ہمارے معاشرے میں اکثر یہ سمجھا جاتا ہے کہ خواتین کسی ٹیم کی سربراہی کرنے کی صلاحیت نہيں رکھتيں۔ اس کے علاوہ، یہ بھی کہا جاتا ہے کہ خواتین کا کام صرف گھر سنبھالنا ہے اور پیسے کمانے کی ذمہ داری صرف اور صرف مرد کی ہے۔ ان دونوں تاثرات کے باعث خواتین اپنی صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کرنے سے قاصر رہتی ہیں۔ دیہی علاقوں میں، جہاں انٹرنیٹ تک رسائی شہروں سے کم ہے اور عام طور پر خواتین پر زیادہ پابندیاں لگائی جاتی ہیں، یہ تفریق کھل کر واضح ہوجاتی ہے۔

خان کہتے ہیں کہ ”دور دراز گاؤں میں رہنے والی خواتین نہ صرف ٹیکنالوجی بلکہ اس ٹیکنالوجی تک رسائی کے اختیار سے بھی محروم ہیں۔“ ان کے مطابق دیہی علاقہ جات میں اینٹراپرنیورز کے ساتھ کام کرنے کے حوالے سے سب سے بڑی رکاوٹ خواتین اور تعلیم سے وابستہ پدرشاہی سوچ ہے۔

کیا رسائی کی فراہمی کافی ہوگی؟

ٹیکنالوجی سمیت ڈیجیٹل ٹولز تک رسائی سے عدم مساوات کا کچھ حد تک مقابلہ تو ہوسکتا ہے، لیکن یہ مسئلہ اس قدر وسیع پیمانے پر پھیلا ہوا ہے کہ صرف خواتین کو ان ٹولز کی فراہمی سے ہی اس کا حل ممکن نہیں ہے۔

فائزہ یوسف کہتی ہیں کہ “خواتین کو ٹیکنالوجی تک رسائی فراہم کرنا ڈیجیٹلعدم مساوات کے خاتمے کا صرف پہلا مرحلہ ہے۔ دوسرا کام انہیں انٹرنیٹ پر زيادہ تحفظ فراہم کرنا ہے۔“ ان کے مطابق، خواتین کو آن لائن ہراسگی کے خلاف تحفظ کی فراہمی کے لیے تشکیل کردہ قوانین اور پالیسیوں کے بغیر دوسرے مسائل کے بارے میں بات نہيں کی جاسکتی۔ یوسف بتاتی ہیں کہ کئی خواتین اسی خوف و ہراس کے باعث انٹرنیٹ کا استعمال ترک کردیتی ہيں، جس سے ان کی ترقی اور تعلیم دونوں ہی متاثر ہوتے ہیں۔

دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں یہ تاثر عام ہے کہ ٹیکنالوجی خواتین کے بس کی بات نہيں ہے۔ جب وہ ڈیجیٹل صلاحیتیں حاصل کرنا شروع کرتی ہیں تو انہيں اکثر یہ سننے کو ملتا ہے کہ سائنس اور ٹیکنالوجی مردوں کا کام ہے، عورتوں کا نہیں۔ یوسف کہتی ہيں کہ ”انٹرنیٹ کی سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ آپ گھر بیٹھے دنیا جہاں کی چیزیں سیکھ سکتے ہيں۔ تاہم خواتین جب کوئی نئی چیز سیکھنے کی کوشش کرتی ہيں تو یہ کہہ کر ان کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے کہ یہ سب ان سے نہيں ہوگا۔“

یہ تمام رکاوٹیں پار کرنے سے بھی خواتین کا مسئلہ پوری طرح حل نہيں ہوگا۔ انٹرنیٹ پر بیشتر مواد انگریزی زبان میں موجود ہونے کے باعث خواتین ٹیکنالوجی کے شعبے میں آگے نہيں بڑھ پاتیں، جس کی وجہ سے ڈیجیٹل عدم مساوات کا مسئلہ جوں کا توں رہتا ہے۔ ڈیجیٹل خواندگی کے ساتھ ساتھ انگریزی پڑھنے اور سمجھنے کی صلاحیتوں کو بھی بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

یہ سفر مشکل ہے، لیکن پاکستانی ٹیک صنعت میں سینیئر عہدوں پر فائز خواتین پرامید ہیں کہ ان کی کوششیں ایک نہ ایک دن رنگ ضرور لائيں گی۔ ان کا خیال ہے کہ اگر خواتین کی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے تو پاکستان مریذ ترقی کرسکتا ہے۔ ٹیک صنعت میں خواتین کی شمولیت میں اضافے کے فوائد ٹیکنالوجی کی صنعت کے علاوہ، کئی دیگر شعبوں میں نظر آئيں گے۔

دراڑوں کو کس طرح بھرا جارہا ہے؟

خواتین کو ڈیجیٹل خواندگی سے آراستہ کرنے اور سائبر دنیا میں انہیں اپنا مقام بنانے میں مدد فراہم کرنے کے لیے کئی پروگرامز متعارف کیے جاچکے ہيں۔ کوڈ گرلز ایک مفت پروگرام ہے، جس کے ذریعے انٹرمیڈیٹ یا سیکنڈری تعلیم مکمل کرنے والی لڑکیوں کو پروگرامنگ اور ویب ڈیولمپنٹ جیسی صلاحیتوں سے آراستہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اسی طرح کاروان کرافٹس فاؤنڈیشن نے بھی ڈیجیٹل عدم مساوات کو کم کرنے کے لیے ”ڈیجٹائز ٹو ایکوالائيز“ (Digitize to Equalize) نامی ایک پروگرام شروع کیا ہے۔ اس میں خواتین کو مالی طور پر بااختیار کرنے کے لیے ان کی کمیونٹی کے باعزت افراد کی مدد حاصل کی جاتی ہے، جو گھر کے مردوں کا بھروسہ جیتنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ اس سسٹم سے نہ صرف روایتی صلاحیتوں کو فروغ ملتا ہے بلکہ صنعتی مارکیٹس تک رسائی میں اضافہ ہوتا ہے، اور ساتھ ہی پوری کمیونٹی کو باعزت ذرائع معاش اور روایتی صنفی ذمہ داریوں کے بجائے مشترکہ ذمہ داری کی اہمیت سے باور کروایا جاتا ہے۔

یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جب تک تمام شہریوں کو ڈیجیٹل خواندگی سے آراستہ نہ کیا جائے اور انہيں ٹیکنالوجی کے استعمال اور فوائد کے متعلق آگاہی نہ فراہم کی جائے، پاکستان میں کسی قسم کا ڈیجٹائزیشن کا پراجیکٹ کامیاب نہيں ہوسکتا۔ ایسی کوئی بھی حکمت عملی کبھی بھی پایہ تکمیل تک نہيں پہنچ سکتی جس کے فوائد سے 49 فیصد عوام محروم رہ جائے۔

پاکستان کی ٹیک صنعت میں خواتین کی شمولیت کا انحصار جائے کار میں دستیاب سہولیات پر ہے۔ خواتین کو مساوی معاوضے، رخصت زچگی، چھوٹے بچوں کی دیکھ بھال کے لیے نرسریاں، اور ریموٹ ملازمت جیسی سہولیات کی فراہمی انہیں اپنی صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کرنے میں معاون ثابت ہوں گی۔ فائزہ یوسف اس بات پر زور دیتی ہیں کہ ”عدم مساوات کم کرنا صرف کسی ایک شعبے یا ایک ادارے کے بس کی بات نہيں ہے۔ اس میں ہر ایک کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔“

تحریر: عروج خالد

مترجم: صوفیہ ضمیر


عروج خالد لاہور میں رہائش پذیر فری لانس رپورٹر ہيں۔

Authors

*

Top