Global Editions

پیرس ماحولیاتی تبدیلی معاہدے کے ہدف میں معمولی کوتاہی خطرناک ہو سکتی ہے

اگر عالمی درجہ حرارت صرف ایک ڈگری سنٹی گریڈ اضافی بڑھتا ہے تو اس سے ریکارڈگرمی کی لہروں، شدید بارشوں اور خشک موسم کے سپل میں کئی گنا اضافے کا امکان ہے۔

پیرس میں ماحولیاتی تبدیلی کو کنٹرول کرنے کےتاریخی معاہدے کا بڑامقصد عالمی درجہ حرارت کو دو سنٹی گریڈ بڑھنے سے روکنا تھا ، دنیا کے لئے اس معاہدے سے نکلنے کا امکان بہت کم لگتا ہے۔

کئی مطالعہ جات سے پتا چلا ہے کہ معاہدے میں شامل اگر چہ ہر قوم گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی کا وعدہ پورا بھی کرتی ہے تو پھر بھی دنیا میں اوسط درجہ حرارت اس صدی میں تقریباً تین سنٹی گریڈ تک بڑھنے کا امکان ہے۔

درجہ حرارت میں ایک ڈگری کا اضافہ کتنا فرق ڈال سکتا ہے۔ ایک ڈگری کا اضافہ بہت بڑافرق ڈال کر قابو سے باہر ہو جائے گا۔ 13 فروری کو سائنس ایڈوانس میں شائع ہونے والے ایک مطالعہ کے مطابق اب تک کی تاریخ میں ریکارڈ کی جانیوالی گرمی کی لہروں،شدید بارشوںاور خشک موسم میں تین سے پانچ گنا اضافے کا امکان ہے جیسا کہ گذشتہ سال امریکہ میں غیر معمولی طوفان اورجنگلوں میں آگ نے تباہی پھیلائی، اس طرح کے بدترین موسمی واقعات سے انسانی جانوں کا نقصان، آفتوں سے ہونیوالی تباہی سے بحالی کی لاگت اور اقتصادی نقصانات میں بہت بڑی تعداد میں اضافہ ہو گا۔

اسٹینفورڈ یونیورسٹی میں ارتھ سسٹم سائنس کے پروفیسر نوح ڈفینبحNoah Diffenbaugh)) کی قیادت میں اس مطالعہ نے تاریخی موسمی ریکارڈ کے ساتھ ساتھ 15 ماحولیاتی ماڈلوں سے گیسوں کےاخراج کے نتائج کا تجزیہ کیا۔ اس مطالعہ کے قابل ذکر نتائج مندرجہ ذیل ہیں۔

پر ی انڈسٹریل لیول کے اوپرایک سنٹی گریڈ سے دو سنٹی گریڈ کے درمیان درجہ حرارت میں اضافے کے ساتھ، گزشتہ پرانے رات کے وقت کے درجہ حرارت میں تین گنا اضافے کا امکان ہے جس سے یورپ بھر میں درجہ حرارت میں تقریباً 38 فی صداضافے کا امکان ہے۔ لیکن دوسے تین سنٹی گریڈ کے درمیان درجہ حرارت میں اضافے سے تقریباًنصف براعظم میں پانچ گنا رات کے وقت کے درجہ حرارت اضافے کا امکان ہے۔

شمالی امریکہ میں درجہ حرارت ایک جیسی رینج میں بڑھتا ہے، براعظم کے ایک فیصد علاقے میںتاریخی طور پر گرم راتوں میں درجہ حرارت میں تین گنا ا اضافے کا امکان ہے۔اسی طرح سے براعظم کے 70فیصد علاقوں میںدرجہ حرارت میں تین گنا جبکہ 11فیصد علاقوں میں پانچ گنا درجہ حرارت میںاضافے کا امکان ہے۔

اگر درجہ حرارت دوسنٹی گریڈ تک بڑھتا ہے تودنیا کے زیادہ تر حصوں میں خشک موسم کی لمبائی میں نئے ریکارڈ کا امکان تھوڑا ہے ۔ لیکن اگردرجہ حرارت دو اور تین سنٹی گریڈ کے درمیان بڑھتا ہے تو شمالی امریکہ کے تین فیصد حصے میںخشک موسم میںتین گنا اضافے کا امکان ہے جبکہ یورپ کے 11 فیصد حصے میں اور جنوبی امریکہ کے13 فیصد حصے میں خشک موسم میںتین گنا اضافہ ہو گا۔

آخر میں، تاریخی بارشوں کے امکانات بھی دنیا کے بہت سارے حصوں میں بھی بڑھ جاتے ہیں۔ خاص طور پر، مشرقی ایشیا میں، ایک سال میںخطے کے آٹھ فیصد علاقے میں ریکارڈ توڑنے والی بارشوں کا تین گنا زیادہ امکان ہے۔اس طرح سے خطے کے 31حصے میں مزید تین گنا زیادہ بارش کا امکان ہے جبکہ 10فیصد حصے میں پانچ گنا اضافے کا امکان ہے۔

ظاہر ہے، ان میں سے اکثر نتائج یہ بھی ثابت کرتے ہیں کہ درجہ حرارت میں متوقع دو سنٹی گریڈ اضافہ خطرات کو کافی حد تک بڑھا دیتا ہے۔ درحقیقت، کچھ ماحولیاتی سائنس دانوں نے طویل عرصے سے زور دیا ہے کہ یہ ایک سائنسی حفاظت سے کہیں زیادہ ایک سیاسی مقصد ہے: پیرس ماحولیاتی تبدیلی معاہدے کے ہدف میں معمولی کوتاہی خطرناک ہو سکتی ہےــ" ۔ 2016 میں ایک مطالعہ ،جس میں انہوں نے شریک مصنف کے طور پر کام کیا، نے زور دیا کہ ایمن دور میں سطح سمندر میں زیادہ سے زیادہ 30فٹ کا اضافہ ہوا جو کہ تقریباً125,000 سو سال پہلے شروع ہوا تھا جب درجہ حرارت میںاب کے مقابلے میں بالکل معمولی سا اضافہ ہوا تھا۔

دریں اثنا، یہاں تک کہ تین سنٹی گریڈ اضافہ روکنا غیر متعین لگتا ہے کیونکہ صاف توانائی کے منصوبے سست روی کا شکار ہیں اور یہ بھی حقیقت ہے کہ دنیا کے دوسرے بڑے کاربن خارج کرنے والے ملک کے لیڈر اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیرس معاہدہ کو چھوڑ نے کا عزم کیا ہےاگر درجہ حرارت میں چار سنٹی گریڈ اضافہ ہوتا ہے تو چیزیں واقعی کشیدہ ہو جاتی ہیں ۔ جیسا کہ ورلڈ بینک کے ایک مطالعہ کے مطابق خوراک کے ذخائر ختم ہو جائیں گے، موسم گرما میں اوسط درجہ حرارت دنیا کے ایک وسیع حصے میں گرمی کی لہر بن جائیں گےاور سطح سمندر میں اضافہ لاکھوں لوگوں کی زندگی کو خطرہ میں ڈالے گا۔

تحریر: جیمز ٹیمپل (James Temple)

Read in English

Authors
Top