Global Editions

امریکہ میں آن لائن سماجی حقوق کی جنگ

براڈ سمتھ نہایت دلیری سے کلاؤڈ اور آن لائن پرائیویسی کے حقوق کے تحفظ کیلئے امریکی حکومت سےقانونی جنگ لڑ رہے ہیں۔ سمتھ گزشتہ تین سالوں میں امریکی حکومت کو چار بار عدالت لے کر گئے ہیں۔ ہر بار انہوں نے امریکی حکومت پر مائیکروسافٹ کے صارفین کے ڈیٹا پر ہاتھ صاف کرنے کے حوالے سے آئین کی خلاف ورزی کاالزام لگایا۔ انہیں یقین ہے کہ کمپیوٹرز اور انٹرنیٹ نے ذاتی پرائیویسی کے حق پر حکومت کی نگرانی کو کمزور کیا ہے۔ اب مائیکروسافٹ کے صدر اور چیف لیگل آفیسر کی حیثیت سے سمتھ کہتے ہیں کہ وہ حکومت کی اس نگرانی کو بحال کرنے کی کوشش کیخلاف ایک قانونی جنگ لڑ رہے ہیں۔ سمتھ کے مقدمات ہر اس شخص پر اثرانداز ہوں گے جو انٹرنیٹ پر کلاؤڈ، ویب میل یا سکائپ استعمال کرتا ہے خواہ وہ انفرادی سطح پر ہو یا تنظیمی شکل میں ہو۔ عموماً یہ ہوتا ہے کہ ہم بڑی خوشدلی سے برواؤزنگ کرتے ہوئے، سمارٹ فون پر یا ڈیٹنگ ایپلی کیشن پر سرکاری نگرانی کو گلے لگا لیتے ہیں جس سے تفتیش کار بآسانی ہمارے ڈیٹا کاجائزہ لے سکتے ہیں۔ تاہم جہاں ڈیٹا کاغذوں میں ہوتا ہے وہاں پوری دنیا میں تفتیش کاروں کی عمومی نگرانی پر پابندیاں عائد کی جاتی ہیں۔ جب پولیس کو آپ کا فون ٹیپ کرنا ہو ، ڈاک چیک کرنی ہو یا آپ کے گھر میں کاغذات کی چھان بین کرنی ہو تو اسے وارنٹ چاہئے ہوتے ہیں۔ لیکن جب پولیس کو آپ کے سمارٹ فون کا ڈیٹا چیک کرنا ہو تو انہیں آپ کے ماضی میں ڈیجیٹل نقش قدم دیکھنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ مائیکروسافٹ نے وفاقی حکومت کیخلاف اپنا کیس جیت لیا تھا۔ وفاقی حکومت کا موقف تھا کہ ایجنسیاں دوسرے ممالک کا ڈیٹا چیک کریں گی۔ سینٹ لوئیس میں واشنگٹن یونیورسٹی کے پروفیسر نیل رچرڈ کہتے ہیں کہ مائیکروسافٹ کے عدالتی مقدمات اور شہری حقوق میں بڑا قریبی تعلق ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومتی نگرانی کے ساتھ احتجاجی تحریکیں ابھر سکتی ہیں اور نہ ہی رفتار پکڑ سکتی ہیں۔حالیہ سالوں میں گوگل، ٹوئیٹر اور دیگر ٹیک کمپنیوں نے بھی حکومتی نگرانی کیخلاف مقدمات دائر کررکھے ہیں۔ سمتھ نے 1993ء میں مائیکروسافٹ میں ملازمت اختیار کی اور کمپنی کی وفاقی حکومت کیخلاف اعتماد شکنی کے مقدمات میں مدد کی۔ لیکن ایڈورڈ سنوڈن لیکس کے بعد ان کی توجہ کا مرکز بدل گیا۔ وہ بتاتے ہیں کہ 30اکتوبر 2013ء کو امریکہ اور برطانیہ نے مل کر ایک منصوبہ مسکولر (Muscular)کے نام سے شروع کیا جس کے تحت گوگل اور یاہو کے علم میں لائے بغیر ان کے صارفین کا ڈیٹا حاصل کیا گیا۔ یہ ایجنسیوں کا آن لائن ڈیٹا چوری کا بدترین راز تھا جو افشا ہو گیا۔ اسی لئے سنوڈن لیکس کے بعد مائیکروسافٹ اور دیگر بڑی کمپنیوں کا مسئلہ صارفین کے اعتماد کو قائم رکھنا ہے۔ سمتھ کا کہنا ہے کہ مائیکروسافٹ کے موجودہ اور ممکنہ صارفین نے اپنے ڈیٹا تک امریکی حکومت کی رسائی پر خدشات کا اظہار کیا ہے۔ مائیکروسافٹ اور دیگر کمپنیوں نے سنوڈن لیکس میں اپنا نام آنے پر احتجاج کیا ہے کہ انہوں نے حکومتی ایجنسیوں کو ڈیٹا چوری نہیں کرنے دیا بلکہ قانونی طریقے سے دی گئی درخواستوں پر اپنا ڈیٹا حکومت کو فراہم کیا۔ سمتھ کو یقین ہے کہ امریکی قانون میں انٹرنیٹ کے حوالے سے ترامیم کرنا ضروری ہیں۔ مائیکروسافٹ کمپنی کے فرائض کی ادائیگی کرتے ہوئے وہ کوشش کرتے ہیں کہ کمپنی کے صارفین کا ان پر اعتماد برقرار رہے۔

تحریر: ٹام سیمونائیٹ (Tom Simonite)

Read in English

Authors

*

Top