Global Editions

لاک ڈاؤن کے باعث چھوٹے کاروباروں کی آمدنی کو سخت نقصان پہنچا ہے

ماہرین حکومت سے امداد کا مطالبہ کررہے ہيں

پاکستان میں لاک ڈاؤن کے باعث معیشت کو بہت نقصان ہوا ہے اور مائیکروفنانس اداروں کی ہفتہ وار آمدنی میں 90 فیصد کمی نظر آئی ہے۔ ہفتہ وار گھریلو آمدنی میں بھی اتنی ہی کمی ہوئی ہے۔

کرونا وائرس اور پاکستان میں مائیکروفنانس کے مستقبل کے متعلق ایک تحقیق کے مطابق مائیکروفنانس کاروباروں کے لیے لاک ڈاؤن کے دوران کاروبار چلانا ناممکن ثابت ہوا اور ان کی آمدنی میں بہت تیزی سے کمی ہوئی ہے۔

ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو پاکستان سے گفتگو کے دوران اس مطالعے کی بانی فرح سعید بتاتی ہیں کہ ان کی کمپنی کے بیشتر کلائنٹس کو آمدنی میں کمی کے باعث گھریلو اخراجات پورا کرنے کی فکریں کھائی جارہی ہيں۔

اس تحقیق کے شریک بانی جانیتھن مارڈک (Jonathan Morduch) بتاتے ہیں کہ کچھ جواب دہندگان کی آمدنی مکمل طور پر ختم ہوچکی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ”اگر چھوٹے کاروباروں کو نقصان ہوگا تو مائیکروفنانس کے اداروں کی آمدنی بھی کم ہوگی۔“

حالیہ تخمینوں کے مطابق، پاکستان میں 71 لاکھ سے زائد گھرانے مائیکروفنانس قرضوں سے مستفید ہوتے ہیں، جن کی کل مالیت 392 ارب روپے ہے۔ مائیکروفنانس کے شعبے کو مالی صورتحال بگڑنے کی صورت میں سب سے زیادہ نقصان کا خطرہ بھی ہے۔ پاکستان میں 80 فیصد شہری افرادی قوت چھوٹے کاروباروں سے وابستہ ہے، اور یہ کاروبار مائیکروفنانس اداروں سے قرضوں پر انحصار کرتے ہيں۔

اس وقت پاکستان میں دو قسم کے ادارے موجود ہیں۔ پہلے زمرے میں صارفین سے ڈپازٹس لینے والے ادارے شامل ہیں، جنہیں مائیکروفنانس بینکس کہا جاتا ہے اور جو سٹیٹ بینک آف پاکستان کے تحت ہيں۔ دوسرے زمرے میں وہ ادارے شامل ہیں جنہیں ڈپازٹس لینے کی ممانعت ہے۔ ان اداروں کو نان بینکنگ مائیکروفنانس کمپنیاں (Non-Banking Microfinance Companies) کہا جاتا ہے اور ان کی نگرانی کی ذمہ داری سیکوریٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (Securities and Exchange Commission of Pakistan) کی ہے۔

قرضوں کی ادائيگی میں تاخیر

حکومت نے 9 مئی کو ملک بھر میں لاک ڈاؤن میں کمی کا اعلان کیا، جس کے بعد سٹیٹ بینک آف پاکستان اور سیکوریٹیز ایکسچینج کمیشن آف پاکستان دونوں ہی نے مائیکروفنانس اداروں اور ان کے کلائنٹس کی سہولت کے لیے ایک سال تک چھوٹے اور گھریلو قرضوں کی ادائيگی میں لچک کا اعلان کیا۔

یہ فیصلہ چھوٹے اور درمیانی سائز کے کاروباروں کے لیے بہت خوش آئین تھا، لیکن دوسری طرف اس سے نان بینکنگ مائیکروفنانس کمپنیوں کے لیے کئی مشکلات کھڑی ہوگئيں۔ ان میں سے بیشتر ادارے اپنے سرمایہ کاروں کی رقم کی ادائيگی کرنے، یا اپنے خود کے قرضے ادا کرنے کے لیے اپنے صارفین کو دیے جانے والے قرض کی واپسی پر انحصار کرتے ہيں۔

کرونا وائرس کی وجہ سے قرض لینے والوں کی آمدنی میں قابل قدر کمی ہوئی ہے، جس سے ان کے لیے قرض کی واپسی تو کیا اپنے گھریلو اخراجات برداشت کرنا بھی بہت مشکل ثابت ہورہا ہے۔ مائیکروفنانس شعبے کے متعلق مذکورہ بالا تحقیق کے مطابق، قرض کی واپسی کی شرح 98 فیصد سے کم ہو کر 35 فیصد ہوسکتی ہے۔ اس سے نان بینکنگ مائیکروفنانس کمپنیوں کے لیے اپنے اخراجات برداشت کرنا تو مشکل ہوگا ہی، لیکن ساتھ ہی ان کے لیے بڑے بینکوں سے قرضے لینا بھی محال ہوجائے گا۔

ٹیلی نار مائیکروفنانس بینک کے سی ای او مدثر عاقل ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو پاکستان کو بتاتے ہیں کہ ”مائیکروفنانس بینکس کے حالات بہتر ہیں کیونکہ صارفین کے ڈیپازٹس کی بدولت ان کے ہاتھ میں رقم موجود ہے۔“

فرح سعید کے مطابق کرونا وائرس کی وبا کے خاتمے کے بعد نان بینکنگ مائیکروفنانس کارپوریشنز کے لیے گزارہ کرنا بہت مشکل ہوگا۔ اس کے علاوہ، چھوٹے کاروباروں کے مالکان کو رقم کی دوبارہ ضرورت پیش آئی گی، لیکن مائیکروفنانس ادارے انہيں دوبارہ رقم فراہم کرنے سے قاصر رہیں گے۔

معاونت کی عدم دستیابی

ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت مائیکروفنانس کے شعبے کو معاونت نہيں فراہم کررہی۔  عاقل کہتے ہیں کہ کسی بھی معیشت کی بحالی میں حکومت کی امداد کا بہت بڑا ہاتھ ہے، لیکن ہماری حکومت چھوٹے کاروباروں کے لیے کوئی اقدام نہيں کررہی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ”ضوابط میں تبدیلی صرف عارضی ہے، اور اس سے کسی کو پیسے نہيں ملیں گے، جس کی انہيں بہت سخت ضرورت ہے۔“ سعید  بتاتی ہیں کہ مائیکروفنانس کے شعبے سے لاکھوں لوگوں کی ملازمت وابستہ ہے اور حکومت کی امداد میسر نہ ہونے کی وجہ سے اس شعبے کو بہت نقصان ہوگا۔ وہ کہتی ہیں کہ ”حکومت کے کسی بھی مالی امداد کے پروگرام میں اس کی گنجائش نہيں ہے۔“

بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (Benazir Income Support Program) ان افراد کو مالی امداد فراہم کرتی ہے جن کے غربت کے سکورز 16.17 سے کم ہوں، جبکہ مائیکروفنانس ادارے 35 سے زیادہ سکور رکھنے والے افراد کو سہولیات فراہم کرتے ہيں۔ حکومت کا حال ہی میں متعارف کردہ احساس پروگرام 20 سے کم سکور رکھنے والوں کے لیے تشکیل کیا گیا ہے۔ مائیکروفنانس اداروں سے قرض حاصل کرنے والے افراد ان میں سے کسی پروگرام کے لیے اہل نہيں ہیں اور انہیں خود کا کاروبار کرنے کی وجہ سے حکومت سے کسی بھی قسم کی امداد نہيں مل سکتی۔

کرونا وائرس کے بعد معیشت کی بحالی میں پبلک ہیلتھ اور معاشی پالیسیوں کا بہت اہم کردار ہوگا، لیکن ساتھ ہی نئے قرضوں کے خطرات میں بھی اضافہ ہوگا۔ عاقل کہتے ہیں کہ ”ان فیصلوں میں کم رقم کے قرضے لینے والوں کی ذہنیت کا عنصر بہت اہم ثابت ہوگا۔ حکومت سب سے کہہ رہی ہے کہ انہيں بجلی کے بلز دینے کی ضرورت نہيں ہے اور انہيں کوئی تنگ نہيں کرے گا، اور ان کے ذہن میں یہ بات بیٹھ گئی ہے کہ انہيں مائیکروفنانس اداروں کے قرضے بھی واپس نہيں کرنے ہوں گے۔“

عاقل کے مطابق ان ضوابط کا پہلے سے جاری کردہ قرضوں پر اطلاق ہوتا ہے، لیکن عوام کی غلط فہمی کی وجہ سے مائیکروفنانس ادارے نئے قرضے بھی جاری نہيں کرنا چاہتے۔

لاک ڈاؤن کے بعد کیا ہوگا؟

سعید کہتی ہیں کہ لاک ڈاؤن کے خاتمے کے بعد کاروباروں کی مانگ میں تبدیلی آسکتی ہے اور صارفین میں کمی، اخراجات میں اضافے، اور سامان کی رسد میں مسائل کا امکان ہے۔ وہ کہتی ہيں کہ خام مواد کی لاگت میں اضافے اور صارفین کی آمدنی میں کمی کی وجہ سے کاروباروں کو ہر طرف سے نقصان ہوگا۔

مرڈاک کہتے ہیں کہ ”مائیکروفنانس اداروں کی بقا بہت ضروری ہے کیونکہ ان کی وجہ سے پاکستان بھر میں کم آمدنی رکھنے والے لاکھوں افراد کی ضروریات پوری ہوتی ہیں۔“

ماہرین متفق ہيں کہ حکومت کو فوری طور پر اس بحران کے حل کے لیے اقدام کرنے چاہیے۔ عاقل کا خیال ہے کہ اس کے لیے دو چیزیں بہت ضروری ہیں، جن میں سے نقد کی فراہمی سب سے زيادہ اہم ہے۔ وہ کہتے ہيں کہ ”معیشت بحال ہوتے ہی کئی لوگ اپنے پیروں پر دوبارہ کھڑے ہوسکتے ہيں، لیکن سب سے پہلے انہیں نقد نہ ہونے کی وجہ سے بہت پریشانی کا سامنا ہوگا۔“ نقد کی ضرورت سب ہی کو ہوگی، مائیکروفنانس اداروں کو قرضے دینے کے لیے اور قرضہ لینے والوں کو کاروبار چلانے کے لیے۔

اس کے علاوہ، چھوٹی رقم پر مشتمل قرض فراہم کرنے والوں کو درپیش خطرات کم کرنے کے لیے ضمانتوں کی بھی ضرورت پیش آئے گی۔ اس طرح قرض لینے والے صارف کی رقم واپس نہ کرنے کی صورت میں، مائیکروفنانس اداروں کا نقصان پورا ہوسکے گا۔ اگر ہر کوئی خطرات مول لینے سے ہچکچائے گا تو کاروبار بھی نہيں چل پائيں گے۔

سعید اعتراف کرتی ہيں کہ حکومت نے قرض کی ادائيگی میں تاخیر کی گنجائش فراہم کرکے عوام کی مشکلات کم کی ہیں۔ تاہم ان کا خیال ہے کہ لاک ڈاؤن کے بعد مائیکروفنانس کے شعبے کی بحالی اتنی آسان نہيں ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ لاک ڈاؤن کے اثرات طویل عرصے تک قائم رہيں گے اور معیشت کئی مہینوں تک نہيں سنبھل سکے گی۔

سعید یہ بھی کہتی ہیں کہ مائیکروفنانس قرضوں کی شرائط میں تبدیلی لانا ضروری ہے۔ ان کا خیال ہے کہ کسی بھی کاروبار کی جانچ پڑتال اب پرانے معیاروں کے مطابق نہيں کی جاسکتی کیونکہ پوری معیشت کی شکل ہی تبدیل ہوچکی ہے۔ کاروبار ہوم ڈیلیوریز اور ڈیجیٹل ادائيگیوں جیسے طریقہ کار اپنا کر خود کو بچانے کی کوشش تو کرسکتے ہيں، لیکن ان کے بھی اپنے مسائل ہيں۔

سعید کا خیال ہے کہ چھوٹے اور درمیانی سائز کے لیے تیار کردہ پالیسیوں کا مائیکروفنانس اداروں پر بھی اطلاق کیا جانا چاہیے۔ وہ کہتی ہیں کہ ”قرض کی ادائيگی کا پورا ملبہ مائیکروفنانس کے ادارے پر نہيں گرنا چاہیے۔ میرا خیال ہے کہ سٹیٹ بینک اور حکومت کو بھی کچھ ذمہ داری اٹھانی چاہیے۔“

تحریر: عروج خالد

Read in English

Authors

*

Top