Global Editions

پائیدار زراعت کے لیے مائکروبز

ہمیں انسانیت کی بقاء کے لیے ایک بار پھر مائکروبز کے کردار پر نظر دوڑانے کی ضرورت ہے۔

2016ء میں متعارف ہونے والے اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے اہداف کا سب سے اہم مقصد صاف تخلیق کاری کے ذریعے ماحولیاتی، سماجی، اور اقتصادی ترقی تھا۔ ان اہداف کو اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے قائم کیا گيا تھا کہ عالمی پیمانے پر ٹیکنالوجی میں پیش رفت کے باوجود بھی بڑی تعداد میں لوگ روٹی، کپڑا، مکان، اور صحت جیسی سہولیات سے محروم ہیں۔ ان مقاصد کے اعتبار سے یہ کہنا غلط نہيں ہوگا کہ دنیا بھر کے سائنسدان اس مشکل دور میں بھی انسانوں کو درپیش مسائل کے حل تلاش کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔

بحیثیت ایک ریسرچر، میں مائکروبیئل بائیولوجی (microbial biology) کے شعبے میں کام کرتی ہوں۔ میں مائکروبز (microbes) نامی چھوٹے آرگانزمز کا مطالعہ کرتی ہوں جنہيں بغیر خوردبین کے دیکھنا ناممکن ہے۔ یہ مائکروبز مٹی اور پودوں سمیت قدرت میں چاروں طرف موجود ہیں۔ بلکہ اگر ہم انسانی زندگی کی ابتداء کی بات کریں تو اس وقت بھی مائکروبز کا زمین پر زندگی کے قیام میں بہت بڑا ہاتھ تھا۔ ایک ایسے دور میں جب دنیا بھر کے ریسرچرز شعبہ زراعت میں زیراستعمال کیمیکلز کے متبادل تلاش کررہے ہیں، ہوسکتا ہے کہ انہيں اپنی تمام مشکلات کا حل مائکروبز میں ہی مل جائے۔ اسی لیے ہمیں انسانیت کی بقاء کے لیے ایک بار پھر مائکروبز کے کردار پر نظر دوڑانے کی ضرورت ہے۔

پودوں کی صحت مند نشونما کے لیے نائیٹروجن، فاسفورس، پوٹاشیم، اور زنک بہت ضروری ہیں۔ اگر انہيں یہ اجزا نہ ملیں تو پودے پوری طرح پروان نہيں چڑھ پاتے اور اناج اور پھل کی پیداوار کم ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ 1960ء کی دہائی میں جب ٹیکنالوجی زور پکڑ رہی تھی، اس وقت سبز انقلاب کے دوران شعبہ زراعت کو بھی ٹیکنالوجی کے ذریعے بہتر بنانے کی کئی کوششیں سامنے آئيں۔ زیادہ پیداور ممکن بنانے والے بیج اور بہتر انتظام کی بدولت پودوں کی پیداوار میں اضافہ ہوا، ادویات کے ذریعے فصلیں تباہ کرنے والی بیماریوں پر قابو پایا گیا، اور بہتر کھاد کے استعمال سے مٹی میں موجود غذائی اجزا کی کمی پوری کی گئی۔

پلانٹ گروتھ پروموٹنگ رائیزوبیکٹیریا کیا کام کرتا ہے؟

تاہم پچھلی دو دہائیوں کے دوران یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ ہمیں ان کوششوں کی بہت بھاری قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے۔ غیرپائیدار زراعتی تکنیکوں کے استعمال کے باعث کیمیکلز ماحولیاتی عدم تحفظ کی وجہ بن رہے ہيں۔ اس کے علاوہ، زمین کی زرخیزی، زیرزمین پانی، کرہ ہوا، اور انسانی صحت بھی بری طرح متاثر ہورہے ہيں۔ مصنوعی کھاد میں موجود اجزا مٹی میں داخل ہو کر زیرزمین پانی کو آلودہ کرتے ہیں۔ بعض اجزا مٹی میں رہنے کے باوجود بھی پودوں کو غذائیت نہيں فراہم کر پاتے، جس سے مٹی کی زرخیزی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ کچھ اجزا گیس کی شکل اختیار کرکے ہوا میں خارج ہوتے ہیں، جو ہوائی آلودگی کا باعث بنتا ہے۔

کیڑے مار ادویات کی مثال لے لیں۔ یہ ادویات اکثر سپرے کی شکل میں پودوں کے مختلف حصوں پر استعمال کی جاتی ہیں۔ بعض ذرات ہوا میں خارج ہوتے ہیں، بعض زمین پر گر جاتے ہیں، اور کچھ پھلوں اور اناج کے اندر داخل ہونے میں کامیاب ہوجاتے ہيں۔ اس سے ماحول کے علاوہ انسانی صحت کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔

ہم کیمیکلز کے باعث پیدا ہونے والے ان مسائل سے اچھی طرح واقف ہیں، لیکن اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کے بارے میں کیا کیا جاسکتا ہے؟ اس مسئلے کا ایک حل تو آرگینک فارمنگ (organic farming) ہے، جس میں مصنوعی مواد کے استعمال سے اجتناب کیا جاتا ہے۔ تاہم سچ پوچھیں تو اس سے پوری دنیا کی غذائی ضروریات نہيں پوری کی جاسکتیں۔ کیمیکلز کے استعمال کو کم کرنے کا دوسرا طریقہ بائیوفارمولیشنز (bioformulations) کا استعمال ہے۔

بیکٹیریا، فنگس، اور پروٹوزوا کھاد اور کیڑے مار ادویات کی طرح کام کرسکتے ہيں۔ ان آرگانزمز پر مشتمل مرکبات کو بائیوفارمولیشنز کہا جاتا ہے، اور یہ زرعی کیمیکلز کے استعمال میں کمی، مٹی کی زرخیزی میں اضافے، کھارے پانی اور پانی کی قلت کے شکار علاقوں میں پودوں کی نشونما کو ممکن بنانے، اور پودوں کو بیماریوں اور کیڑے مکوڑوں سے بچانے میں بہت اہم کردار ادا کرسکتے ہيں۔ بائیوفارمولیشنز کم قیمت ہونے کے علاوہ، کسان، صارفین، اور ماحول کے لیے بھی محفوظ ثابت ہوتے ہيں۔

بائیوفارمولیشنز میں زندہ مائکرو آرگانزمز شامل ہوتے ہيں، جنہیں کسی مائع مواد یا کسی دوسری چيز میں ملایا جاتا ہے تاکہ انہیں زندہ رکھا جاسکے۔ اس طرح کسانوں کے لیے انہیں فصلوں پر استعمال کرنا زيادہ آسان ہوتا ہے۔ ان بائیوفارمیولیشنز کو دو زمروں میں تقسیم کیا جاتا ہے: حیاتیاتی کھاد اور حیاتیاتی کیڑے مار ادویات۔

حیاتیاتی کھاد پودوں کی قدرتی طریقے سے نشونما کو ممکن بناتی ہے۔ ان میں پلانٹ گروتھ پروموٹنگ رائیزوبیکٹیریا (plant-growth promoting rhizobacteria)، یا پی جی پی آر (PGPR) نامی فائدہ مند بیکٹیریا کے علاوہ فنگس اور انفرادی سیلز پر مشتمل آرگانزمز (جنہيں پروٹوزوا کہا جاتا ہے) شامل ہوتے ہیں جو قدرتی طور پر پودوں کے آس پاس موجود ہوتے ہیں۔ یہ مائکرو آرگانزمز اکثر پودوں کی جڑوں، تنے، اور پتوں کے علاوہ جڑوں کے اطراف موجود مٹی میں پائے جاتے ہيں۔

پی جی پی آرز مصنوعی نائٹروجن کی کھاد (جیسے کہ یوریا اور امونیم نائٹریٹ) کی طرح پودوں کی نائیٹروجن کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ہوا سے نائٹروجن حاصل کرکے اسے امونیم میں تبدیل کرتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایسا صرف مٹی میں نائٹروجن کی کمی کی صورت میں ہوتا ہے۔ اگر مٹی میں نائٹروجن کی تعداد کافی ہو تو پی جی پی آر خودبخود یہ عمل روک دیتے ہيں۔

اس کے علاوہ، پی جی پی آر اور فنگس مختلف اقسام کے تیزاب اور اینزائمز استعمال کرتے ہوئے مٹی میں موجود فاسفورس کو ایک ایسی شکل میں تبدیل کرتے ہيں جسے پودے آسانی سے جذب کرسکیں۔ ان مائکروآرگانزمز کے بغیر پودوں کے لیے اس فاسفورس کو جذب کرنا ناممکن ہوتا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ یہ پی جی پی آرز اور فنگس پودوں کی نشونما کے لیے بہت اہم ہیں۔ اس طرح مصنوعی فاسفورس پر مشتمل کھاد کی ضرورت کم ہوجاتی ہے اور مٹی کی زرخیزی میں اضافہ ہوتا ہے۔

ایک خالص کلچر

دوسری طرف حیاتیاتی کیڑے مار ادویات ماحول کو نقصان پہنچائے بغیر پودوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے قدرتی طور پر پیدا ہونے والے مائکروآرگانزمز استعمال کرتے ہيں۔ مائکروبز میٹابولائٹس (metabolites) نامی قدرتی کیمیکلز پیدا کرنے کے بعد انہيں خارج کرتے ہيں۔ یہ میٹابولائٹس کیڑے مکوڑوں اور نقصاندہ فنگس اور بیکٹیریا کو مار کر پودوں کو قدرتی طریقے سے تحفظ فراہم کرتے ہيں۔ اس کے علاوہ، وہ جیسمونک ایسڈ (jasmonic acid) اور سیلیسائیلک ایسڈ (salicylic acid) پیدا کرنے میں بھی معاون ثابت ہوتے ہيں، جس سے پودوں کے نظام مدافعت کو تقویت ملتی ہے۔

مائکروبز پانی کی کمی اور نمک کی تعداد میں اضافے کے حل میں بھی معاون ثابت ہوتے ہيں، جو پودوں کی پیداوار میں کمی سمیت کئی مختلف اقسام کے زرعی مسائل کا باعث بنتے ہيں۔ اس کا ایک طریقہ تو نئے  قسم کے پودوں کی ایجاد ہے جن میں نمک کی زيادتی اور پانی کی کمی برداشت کرنے کی صلاحیت موجود ہو۔ اس وقت ریسرچرز اس پر کام تو کررہے ہيں، لیکن اس میں ابھی بہت وقت لگے گا۔

دوسرا طریقہ پانی کی کمی اور نمک کی زيادتی برداشت کرنے والے موجودہ پودوں سے مائکروبز کا حصول ہے۔ کھارے پانی میں پروان چڑھنے والے پودوں کے قریب ایسے کئی مائکروبز موجود ہوتے ہيں جو نہ صرف ایسے ماحول میں زندہ رہ سکتے ہيں بلکہ مٹی کو بہتر بنانے میں بھی بہت اہم کردار ادا کرسکتے ہيں۔ اسی طرح کیکٹس جیسے پودوں سے، جو پانی کی کمی برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہيں، ایسے مائکروبز حاصل کیے جاسکتے ہیں جو خشک سالی کے دوران پودوں کو پروان چڑھنے میں معاونت فراہم کرسکیں۔ ان مائکروبز کی مدد سے ایسے مرکبات تیار کیے جاسکتے ہیں جن سے نمک کی زيادتی اور پانی کی کمی کے شکار علاقہ جات میں مٹی کی زرخيزی میں اضافہ ممکن ہے۔

بہترین بائیوفارمیولیشن وہ ہوگا جس میں بیک وقت حیاتیاتی کھاد اور حیاتیاتی کیڑے مار دوا کے طور پر کام کرنے کی صلاحیت موجود ہوگی۔ 2006ء میں کینیڈا سے واپسی کے بعد میں نے اسی قسم کے بائیوفارمیولیشنز پر کام کرنا شروع کیا۔ میری ٹیم نے گنّے سے پی جی پی آرز حاصل کیے، جس کے بعد ہم ایک ایسا بیکٹیریم دریافت کرنے میں کامیاب ہوئے جو 40 نقصاندہ فنگس کا مقابلہ کرسکتا تھا۔ اس کے ساتھ ہی، اس میں زنک اور پوٹاشیم کو پودوں کے لیے قابل استعمال بنانے اور پودوں کی نشونما کے لیے ضروری فائیٹوہارمونز (phytohormones) کو فروغ دینے کی بھی صلاحیت موجود تھی۔ آخرکار 2012ء میں لاہور کے فارمین کرسچن کالج یونیورسٹی میں کام کرنے کے دوران میری ٹیم نے مزید آٹھ اقسام کے بیکٹیریا دریافت کیے، جنہيں حیاتیاتی کیڑے مار ادویات کے طور پر استعمال کیا جاسکتا تھا۔

ان تمام بیکٹیریا کا تعلق پی جی پی آر کے ایک ایسے زمرے سے تھا جسے سائنسی زبان میں Pseudomonas chlororaphis subsp. Aurantiaca کہا جاتا ہے اور جس میں حیاتیاتی کھاد کے ساتھ ساتھ حیاتیاتی کیڑے مار دوا کے طور پر کام کرنے کی صلاحیت موجود ہوتی ہے۔ یہ پی جی پی آر پودوں کی نشونما کے لیے ضروری فائیٹوہارمونز کی پیداوار کو فروغ دیتے ہيں اور زنک اور پودوں کی پوٹیشیم کو جذب کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، یہ بڑی تعداد میں نقصاندہ فنگس، بیکٹیریا، اور کیڑے مکوڑوں کو مارنے والے میٹابولائٹس بھی بناسکتے ہیں۔ میری ٹیم نے اس پی جی پی آر کو مکئی، گندم اور ٹماٹر جیسی فصلوں کے لیے استعمال کیا ہے۔

بائیوفارمولیشنز فنگس کی افزائش میں خلل انداز ہوتے ہيں۔

فارمین کرسچن کالج یونیورسٹی میں کامیاب تجربات کے بعد ہم نے اپنی ریسرچ کو تجارتی شکل دینے کے لیے ترکی کے شہر استنبول میں واقع ہمارے پارٹنرز یدی تپہ یونیورسٹی (Yeditepe University) کو اپنے دریافت کردہ بیکٹیریا فراہم کیے۔ اس وقت کئی بین الاقوامی کمپنیاں اس آرگانزم پر مشتمل بائیوفارمولیشنز فروخت کر رہی ہیں، جن میں بائیوایگری اے بی (Bio Agri AB) کا سیڈومون (Cedomon) اور امریکہ کے ایگ بائیوم انوویشنز (AgBiome Innovations) کا ہاؤلر (Howler) شامل ہيں۔ اس کے علاوہ، برطانیہ میں واقع یونیورسٹی آف ہارٹفورڈ شائر (University of Hartfordshire) اور ارجنٹائن کی یونیورسیداد نیسیونل دی ریو کوارتو (Universidad Nacional de Rio Cuarto) بھی Pseudomonas aurantiaca پر مشتمل بائیوفارمیولیشنز پر کام کررہے ہيں۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ مائکروبز قدرتی طور پر موجود ہیں تو ہمیں بائیوفارمیولیشنز اور حیاتیاتی کھاد کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟ اس سوال کا جواب دینے کے لیے، ہمیں سب سے پہلے مٹی کے اجزا پر نظر ڈالنے کی ضرورت ہے۔ ہر قسم کی مٹی میں فائدہ مند اور نقصاندہ دونوں قسم کے مائکروبز موجود ہوتے ہیں، جن کے نتاسب کا انحصار غذائی اجزا، پانی کی دستیابی، اور موسم جیسے عناصر پر ہوتا ہے۔ بائیوفارمولیشنز میں وافر مقدار میں پودوں کے لیے مفید مائکروبز دستیاب ہوتے ہیں، اور انہیں مٹی پر لگانے کے بعد ان مائکروبز کی تعداد میں بڑی تیزی سے اضافہ ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ زیادہ فائدہ مند مائکروبز دستیاب ہونے سے پودوں کو زيادہ غذائیت اور ہارمونز مل سکیں گے، جس سے ان کا نظام مدافعت بہتر ہوگا۔ اس طرح مائکروبز مٹی اور پودوں دونوں ہی کے لیے پروبائیوٹکس کی طرح کام کرتے ہيں۔

زراعت کے شعبے میں بائیوفارمولیشنز کا استعمال کوئی نئی بات نہيں ہے۔ ریسرچرز اس آئیڈیا پر ایک صدی سے زائد عرصے سے کام کررہے ہیں۔ امریکہ میں لمبے عرصے سے رائزوبیئم (rhizobium) نامی بیکٹیریا پر مشتمل بائیوفارمولیشنز کو چنے، مٹر، اور دال جیسی فصلوں پر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ تو پھر بائیوفارمولیشنز عالمی پیمانے پر زيادہ مقبول کیوں ثابت نہيں ہوئے؟ سب سے بڑی وجہ تو یہ تھی کہ لوگوں کو زراعتی کیمیکلز کے خطرات کے متعلق زيادہ آگاہی نہيں تھی۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ مصنوعی کھاد اور کیڑے مار ادویات زيادہ جلدی اثرانداز ہوتے ہيں، جس کے با‏عث کسان بائیوفارمولیشنز استعمال کرنا نہیں پسند کرتے۔

وقت کے ساتھ ساتھ ان بائیوفارمولیشنز میں کئی بہتریاں سامنے آئیں۔ اب انہيں پہلے سے زيادہ مقاصد کے لیے استعمال کرنا، زيادہ عرصے تک مستحکم رکھنا، اور متعدد طریقوں سے  اور پودوں کے مختلف حصوں پر استعمال کرنا ممکن ہوگیا ہے۔ آج جو بائیوفارمولیشنز مارکیٹ میں دستیاب ہیں، ان کی کارکردگی ایک دہائی پہلے موجود بائیوفارمیولیشنز سے کئی گنا بہتر ہے۔

بائیوفارمولیشنز کا دوسرا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ ان سے ترقی پذیر ممالک کی معیشتوں کو بہت فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ اس وقت یہ ممالک اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے مہنگی کھاد اور کیڑے مار ادویات درآمد کرتے ہيں۔ کسان اکثر رقم بچانے کے لیے صرف نائٹروجن اور فاسفورس پر مشتمل کھاد کا استعمال کرتے ہيں، اور پوٹاشیم اور زنک سے بنی کھاد کو نظرانداز کردیتے ہيں۔ بائیوفارمولیشنز کی بدولت فصلوں کو کم قیمت میں تمام ضروری غذائی اجزا مل سکیں گے۔

اس کے علاوہ، ماحولیاتی ماہرین کی کوششوں کی بدولت، عوام میں کیمیکل کھاد اور کیڑے مار ادویات کے خطرات کے متعلق آگاہی پیدا ہونا شروع ہوگئی ہے، جس سے عالمی پیمانے پر بائیوفارمیولیشنز کی مانگ میں اضافہ ہونا شروع ہوا ہے۔ 2018ء میں حیاتیاتی کھاد کی عالمی مارکیٹ کا حجم 1.57 ارب ڈالر تھا، اور 2020ء اور 2025ء کے درمیان اس میں ہر سال 10.1فیصد اضافہ متوقع ہے۔

کیمیائی کھاد اور کیڑے مار ادویات کے استعمال میں کمی اور بائیوفارمولیشنز اور آرگینک فارمنگ کے استعمال میں اضافے کے ذریعے ہی پائیدار زراعت ممکن ہوگی۔ تاہم دنیا کے ایک ایک فرد کو غذا کی فراہمی کو یقینی بنانے اور پائیدار زراعت کے ذریعے ماحول کو بچانے کے لیے ضروری ہے کہ ان تینوں عناصر سے بیک وقت فائدہ اٹھایا جائے۔ مائکروبز کی بدولت اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے تمام اہداف کا حصول ممکن ہے۔ مائکروبز نہ صرف ہمیں ماحولیاتی نقصان سے بچا سکتے ہيں بلکہ اقتصادی اور سماجی ترقی کے بھی متعدد مواقع پیدا کرسکتے ہیں۔ ان سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے بین الاقوامی پارٹنرشپز پر غور کرنا ہوگا تاکہ غذا کی لاگت میں کمی کے ساتھ ساتھ ماحول کا تحفظ ممکن ہوسکے۔


ڈاکٹر ثمینہ مہناز لاہور میں واقع فارمین کرسچن کالج کے سکول آف لائف سائنسز کی ایک پروفیسر ہیں۔

تحریر: ڈاکٹر ثمینہ مہناز

مترجم: صوفیہ ضمیر

Read in English

Authors

*

Top