Global Editions

مائیکروفنانس اور فِن ٹیک

فِن ٹیک مائیکروفنانس کی صنعت کے تمام بڑے چیلنجز کے حل میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔

پاکستان میں مائیکروفنانس نے کافی ترقی کرلی ہے لیکن اگر اس صنعت کو کچھ کرگزرنا ہے تو اسے مزید آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ صارفین کی موجودہ تعداد 47 لاکھ ہے لیکن ممکنہ مارکیٹ 3 کروڑکی ہے۔ اس وقت صنعت کا سب سے بڑا چیلنج عملیاتی اخراجات کی زیادتی ہے۔ دستی پراسیسنگ اس قدر زیادہ ہے کہ صارفین کو پیش کی جانے والی شرح سود میں کمی لانا ممکن نہیں ہے۔ اس کی وجہ سے پوری صنعت کو میڈیا اور ضابطہ کاروں کی مداخلت کا خطرہ لاحق ہے۔ فِن ٹیک کو مائیکروفنانس کے ساتھ ضم کرنے سے ان تمام مسائل کا حل ممکن ہے۔

دنیا بھر میں اس انضمام کے فوائد کا اعتراف کیا جاچکا ہے۔ ایکسنچر (Accenture ) کی ایک حالیہ تحقیق کے مطابق مالی سہولیات سے محروم افراد کو یہ سہولیات مہیا کرکے مالی اداروں کی آمدنی میں 380 ارب ڈالر کا اضافہ ہوسکتا ہے۔ مک کنسے گلوبل انسٹی ٹیوٹ (McKinsey Global Institute) اور بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن (Bill and Melinda Gates Foundation) کے مطابق زیادہ لوگوں کو مالی سہولیات تک رسائی فراہم کرکے عالمی معیشت میں 4.2 کھرب ڈالر کا اضافہ ممکن ہے۔

بگ ڈیٹا پہلا ٹول ہے جو مائیکروفنانس کی صنعت کو دستیاب ہے۔ خیراتی سرمایہ کاری کے ادارے اومیڈیار نیٹ ورکس (Omidyar Networks) کی 2015ءمیں جاری کردہ رپورٹ کے مطابق بگ ڈيٹا کی وجہ سے 58 کروڑ افراد کو پہلی دفعہ قرضوں تک رسائی ممکن ہوگی۔ کمرشل بینکس کی طرح مائیکروفنانس بینکس کے پاس بھی وافر مقدار میں ڈيٹا موجود ہے لیکن وہ اب تک اس سے مستفید نہیں ہو پائے ہیں۔ بگ ڈیٹا کو صارفین کی تعداد اور قرضے کی رقم میں اضافے اور عملیاتی اخراجات اور عدم ادائیگی کے امکان میں کمی کے ساتھ ساتھ ریلیشن شپ مینیجرز کو زیادہ موثر بنانے کے لیے استعمال کرنے کے کئی طریقے موجود ہیں۔

اس کا پہلا مرحلہ کریڈٹ کی ابتدا کے فارم جیسے ڈیٹابیس میں دستیاب خصوصیات کی بنیاد پر مائیکروفنانس بینکس کے صارفین کی قطعوں میں تقسیم ہے۔ کمرشل بینکس کی طرح مائیکروفنانس بینکس بھی اپنے صارفین کے طور طریقوں اور طرز زندگی سے ناواقف ہیں۔ مائیکروفنانس بینکس قطعہ طرازی (segmentation) کے ذریعے عدم ادائیگی کی تقسیم اور ہر قطعے کا منافع متعین کرسکيں گے۔ اس کے بعد مائیکروفنانس بینکس قرضوں کی عدم ادائیگی، صارفین کے حصول کے اخراجات اور منافع کے متعلق کئی فیصلے کرنے کے قابل ہوں گے۔ قطعہ طرازی کے بعد پہلا مرحلہ داؤ پر لگنے والی رقم کی قیمت کا تعین ہے۔ عمومی طور پر عدم ادائیگی چند ہی قطعوں میں مرتکز ہوگی - کچھ قطعوں میں عدم ادائیگی کی شرح کم ہوگی اور کچھ میں بالکل بھی نہیں ہوگی۔ اس ڈیٹا کی مدد سے جن قطعوں میں عدم ادائیگی کا تناسب زیادہ ہوگا، انھیں بند کیا جاسکتا ہے کیونکہ شرح سود چاہے کتنی بھی زیادہ ہو، مائیکروفنانس بینکس کو ان قطعوں سے کسی بھی قسم کا فائدہ نہیں ہوگا۔ شرح سود کچھ بھی ہو، اس قطعے کو قابل قبول ہے، کیونکہ ان کا رقم کی واپسی کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ اب ان قطعوں کی قیمت متعین کی جاسکتی ہے جن میں عدم ادائیگی کی شرح کم ہے۔ آخر میں وہ قطعے رہ جائيں گے جن میں عدم ادائیگی کا کوئی بھی امکان نہیں ہے اور یہ وہ قطعے ہیں جنھیں صارفین کے حصول کے روایتی اخراجات کے بغیر مزید سہولیات فراہم کی جاسکتی ہیں۔ اس قطعہ طرازی کی بنیاد پر مائیکروفنانس بینکس زیادہ موثر حکمت عملیاں تیار کرسکتے ہیں۔

بگ ڈیٹا سے مستفید ہونے والے مائیکروفنانس بینکس کو 85 فیصد درستی کے ساتھ عدم ادائیگی کی شرح کی پیش گوئی کرنے والے الگارتھم سے بھی فائدہ ہوگا۔ مائیکروفنانس بینکس صارفین کے موجودہ ڈیٹا کی مدد سے نہ صرف عدم ادائیگی کی شرح کی پیش گوئی کرسکتے ہیں بلکہ اس کا قطعوں کے مطابق تعین بھی کرسکتے ہیں۔ مشین کی ذہانت کی وجہ سے لرننگ کا الگارتھم ممکن ہوگا، جس کے ذریعے مائیکروفنانس بینکس کے عملیاتی اخراجات میں کمی لائی جاسکتی ہے۔ ممکنہ صارف کی موجودگی، ثانوی تصدیق اور آمدنی کے لمبے چوڑے حساب کتاب کے معاملات میں صنعت کی عادات اب پکی ہوچکی ہیں۔

بڑے قرضوں کے لیے تو یہ روایتی انداز ہی جاری رہنا چاہیے لیکن چھوٹے قرضوں کی، جیسے کہ 10,000 روپے سے کم کے قرضوں کی، بہ آسانی سکورکارڈ کے تحت پیمائش کی جاسکتی ہے۔ صارفین کے سمارٹ فون میں موجود ڈیٹا جیسے متبادل طریقہ کار استعمال کرکے چند منٹوں کے اندر اندر ایک ماہ کی میعاد کا قرضہ جاری کیا جاسکتا ہے۔ جیسے جیسے الگارتھم کی لرننگ میں اضافہ ہوتا جائے گا، قرضے کی رقم کے ساتھ ساتھ اس کی میعاد میں بھی اضافہ ممکن ہوگا۔ اس طرح صارفین کے موبائل والٹ کے عملیاتی ڈیٹا کی شمولیت کے ذریعے الگارتھم کو زیادہ موثر بنایا جاسکتا ہے۔

بگ ڈیٹا کے استعمال سے صارفین سے رقم کی وصولی کو بھی زیادہ موثر بنایا جاسکتا ہے۔ ابھی ادائیگیوں میں تاخیر کرنے والے ہر صارف پر ایک ہی جتنی محنت لگتی ہے۔ اسی طرح جب عدم ادائیگی کی تصدیق ہوجائے تو اس وقت بھی اتنی ہی محنت صرف ہوتی ہے۔ اس کی وجہ سے وصولی کے اخراجات میں متواتر اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ کسی بھی مائیکروفنانس بینک میں تنخواہیں اور کمیشن کے اخراجات ہی سب سے زیادہ ہوتے ہیں۔ بگ ڈیٹا کے ذریعے مائیکروفنانس بینکس ادائیگی میں تاخیر کے لحاظ سے بھی قطعہ طرازی کرسکتے ہیں۔ اس قطعہ طرازی کے ذریعے یہ معلوم ہوجائے گا کہ کس قطعے سے سب سے زیادہ رقم موصول ہوئی ہے۔ اس ڈیٹا کے ذریعے مائیکروفنانس بینکس زیادہ موثر طریقوں سے وصولی کر پائيں گے۔ جن قطعوں میں کبھی کوئی فائدہ نہ ہو انھیں مکمل طور پر نظر انداز کیا جاسکتا ہے۔ اس طرح موصولی کے اخراجات میں متواتر اضافہ نہیں ہوگا۔

ڈیٹا کی اہمیت سے انکار نہیں جاسکتا ہے۔ اس دوڑ میں آگے نکلنے والے ما‏ئيکروفنانس بینکس وہی ہوں گے جو اس ڈیٹا کو استعمال کرنے کے خواہش مند بھی ہیں اور اس کے لیے تیار بھی۔ ایک ایسے مرکزی ڈیٹا کا ویئر ہاؤس جس میں صارف کے روابط کی تمام معلومات دخیرہ کی جائيں منزل ہے، راستہ نہیں۔ ڈیجیٹل شکل میں ڈیٹا رکھنا اچھی بات ہے لیکن شروع میں تو بالکل ضروری نہیں ہے۔ اس سفر کی منزل نامعلوم ہے لہٰذا آپ کو معلوم شدہ مقام سے ابتدا کرنی چاہیے۔

ڈیٹا کے سفر پر نکلنے کے بعد مائیکروفنانس بینکس کو ایسا کافی ڈیٹا ملے گا جس کے ذریعے وہ کسی بھی صارف کی رقم کی ادائیگی کا امکان متعین کرسکیں گے۔ ایکسین (Accion) کے ایک پارٹنر نے اپنے صارفین کو مالی خواندگی فراہم کی۔ ٹیسٹ کے نتائج کو انڈر رائٹنگ کی جانچ کے معیاروں کا حصہ نہیں بنایا گيا تھا لیکن ان کے ذریعے یہ ثابت ہوا کہ کم سکور کا عدم ادائیگی کے ساتھ کافی گہرا تعلق ہے۔

 پاکستانی مائیکروفنانس بینکس کو بگ ڈیٹا اور مشین لرننگ کے موثر استعمال سے بہت فائدہ ہوسکتا ہے۔ اس سے انھیں اپنے صارفین کے طور طریقوں اور ان کی ضروریات کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملے گی۔ وہ بگ ڈیٹا کی مدد سے موجودہ صارفین کو زیادہ سہولیات فراہم کرسکتے ہیں اور مختلف سہولیات فروخت کرنے اور رقم کی وصولی کے ساتھ ساتھ صارف کے حصول کے اخراجات میں بھی کمی لاسکیں گے۔ اس کے لیے صرف یہی ضروری ہے کہ کھلے دماغ سے کام لیا جائے۔

ندیم حسین اپنی حالیہ ترین کمپنی پلانیٹ این کے بانی اور کوچ ہیں اور دنیا کی بڑی مالی تنظيموں میں اعلیٰ انتظامیہ کے عہدے سنبھالنے کا 30 سالہ تجربہ رکھتے ہیں۔

تحریر: ندیم حسین

Read in English

Authors
Top