Global Editions

دنیا کا پہلا سافٹ روبوٹ۔۔۔

اوکٹا بوٹ ایک ایسا چھوٹا اور نرم روبوٹ ہے جو اپکی ہتھیلی میں سما سکتا ہے اور دیکھنے میں یہ بالکل بچوں کے کھلونے جیسا دکھائی دیتا ہے۔ اس روبوٹ کے نرمی، حجم اور نام یہ ظاہر کرتا ہے کہ روبوٹک ٹیکنالوجی کس حد تک ترقی کر رہی ہے۔ اس نرم اور چھوٹے روبوٹ کو ہارورڈ کے تحقیق کاروں نے تیار کیا ہے اور یہ اپنی طرز کا پہلا روبوٹ ہے جو لچکدار مواد سے تیار کیا ہے۔ اس روبوٹ میں کوئی سخت الیکٹرانک اجزاء شامل نہیں، اس میں بیٹریز اور کمپیوٹر چپس بھی نصب نہیں کی گئیں۔ یہ روبوٹ کسی بھی الیکٹرانک ڈیوائس یا کمپیوٹر سے منسلک کئے بغیر حرکت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اوکٹا بوٹ ایسے رقیق مادے سے بنا ہے جو انتہائی نرم ہے، اس کا بیرونی خول نہایت ہی خوبصورت ہے۔ اس روبوٹ کی حرکت پزیری کے لئے ہائیدڑوجن پرآکسائیڈ استعمال ہوتی ہے۔ ٹیوب میں خالی جگہ کی بدولت جیسے اس پر دبائو محسوس ہوتا ہے ہائیڈروجن پرآکسائیڈ خارج ہوتی ہے اور آکٹا بوٹ حرکت میں آ جاتا ہے۔ حرکت کی ایک اور وجہ اس میں موجود مائیکرو فلویڈ کنٹرولر بھی ہے یہ ایک ایسی چھوٹی چپ ہے جو گیس کی بدولت اسے حرکت میں لاتی ہے اور پھر یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ آکٹا بوٹ حرکت نہیں بلکہ رقص کر رہا ہے۔ آکٹا بوٹ ایک ملی میٹر فیول سے آٹھ منٹ تک حرکت کر سکتا ہے۔ اس حوالے سے ہارورڈ کی جینیفر لیوس لیب میں گرایجویٹ طالب علم ریان ٹروبی (Ryan Truby) کا کہنا ہے کہ اگر آپ ایسی کوئی چیز تیار کرنا چاہتے ہیں تو ضروری ہے کہ اس کے لئے درکار تمام اجزا آپ خود تیار کریں۔ اس روبوٹ کی تیاری کے لئے درکار اجزاء روبرٹ ووڈ لیب میں تیار کئے گئے ہیں۔ اس روبوٹ کے لئے درکار نرم مواد کو سلیکون کے آمیزے میں شامل کیا گیا اور پھر تھری ڈی پرنٹر کی مدد سے اس کا بیرونی خول تیار کیا گیا جس کے بعد اس میں درکار الیکٹرانک اجزاء شامل کئے گئے۔ تمام سامان ان میں نصب کئے جانے کے بعد اس کا نچلا خول بھی تھری ڈی پرنٹر کی مدد سے تیار کیا گیا اور اس کے دونوں خول جوڑ کر دئیے گئے۔ اس روبوٹ کے لئے کسی خاص قسم کی پروگرامنگ نہیں کی گئی۔

تحریر: جولیا سکلار (Julia Sklar)

Read in English

Authors
Top