Global Editions

کرونا وائرس کے ٹرائلز کے لیے ذمہ دار شخص کے ساتھ ایک نشست

فرڈ ہچنسن ریسرچ سینٹر میں وائرسز کے ماہر، لارنس کوری
ویکسین تیار کرنے میں کتنا وقت لگ سکتا ہے؟ اور یہ ایچ آئی وی ایڈز کی ویکسین سے زيادہ آسان کیوں ہے؟

چاہے ریستوران اور سکولز بند کرنے کی بات ہو یا ماسکس پہننے کی، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کا گورنرز اور ڈاکٹروں کے ساتھ ہر ایک چیز پر اختلاف رہا ہے۔ اور covid-19 کی ویکسین کے حوالے سے بھی ایسا ہی کچھ ہوا ہے۔

تاہم ایک ایسی بات جس پر سب ہی اتفاق کرتے ہيں وہ یہ ہے کہ اس وقت ایک ویکسین کی اشد ضرورت ہے۔ لیباریٹریز میں آر این اے سے لے کر مردہ جراثيم تک، متعدد اجزاء کی مدد سے درجنوں ابتدائی ویکسیز تیار کی جاچکی ہیں، لیکن اب تک ان کی مکمل طور پر ٹیسٹنگ نہيں ہوپائی ہے۔

وائٹ ہاؤس نے بھی اپنی طرف سے جنوری تک کم از کم ایک ویکسین کو مارکیٹ میں متعارف کرنے کی ذمہ داری اٹھائی ہے۔ ان کی اس کوشش کو آپریشن وارپ سپیڈ (Operation Warp Speed) کا نام دیا گیا ہے اور اس کے تحت ویکسین بنانے والی کمپنیوں کو پانچ ارب ڈالر سے زائد رقم دی جاچکی ہے۔ اس کے نتیجے میں کچھ ابتدائی ویکسینز تو سامنے آئی ہيں، لیکن اب اگلا مرحلہ باقی ہے، جس میں 150,000 کے قریب رضاکارانہ افراد پر ٹیسٹنگ کرکے یہ جاننے کی کوشش کی جائے گی کہ کونسے ویکسینز کارآمد ثابت ہوسکتے ہيں۔

جولائی میں حکام نے فریڈ ہچنسن کینسر ریسرچ سینٹر (Fred Hutchinson Cancer Research Center) میں وائرسز کے ماہر لارنس کوری (Lawrence Corey) کو انسانی ٹرائلز کے لیے رابطہ کار نامزد کیا تھا۔ کوری ایچ آئی وی/ایڈز کے ماہر ہیں اور ماضی میں وہ ایچ آئی ویکسینز کی ٹیسٹنگ کرنے والے کلینیکس کی سربراہی کررہے تھے۔ اب ان کی ٹیم اور لیباریٹریز سمیت تمام انفراسٹرکچر کو covid-19 کے لیے بروئے کار لایا جارہا ہے۔

ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو کے بائیومیڈيسن ایڈیٹر اینٹونیو ریگالیڈو نے کوری سے کرونا وائرس کی ویکسین کے متعلق معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی۔

آپریشن وارپ سپیڈ کا مقصد جنوری تک امریکہ میں ایک محفوظ ویکسین کے ”قابل قدر ذخائر “ تیار کرنا ہے۔ آپ کے خیال میں کیا یہ ممکن ہے؟

جنوری 2021ء تک ایک بنیادی ویکسین تیار ہونے کا امکان تو موجود ہے، لیکن میرے خیال میں ہمیں فروری، مارچ یا شاید اپریل تک انتظار کرنے کی ضرورت ہوگی۔ ہم چاہتے ہيں کہ ہم متعدد ویکسینز کی ٹیسٹنگ کرسکیں تاکہ چھ مہینے بعد ہمارے پاس ایک حتمی جواب ہو۔ اگر ہم جولائی میں کام شروع کرتے تو ہم جنوری تک اپنا ہدف حاصل کرسکتے تھے۔ لیکن اگر ہم ستمبر میں کام شروع کریں گے تو ہمیں مارچ میں جواب ملے گا۔ میں ان ویکسینز کی بات کررہا ہوں جن کی اثراندازی کی شرح 50 فیصد ہے۔ اگر ہم 90 فیصد اثراندازی رکھنے والے ویکسینز کی بات کریں، تو ہمیں زیادہ جلدی، شاید دو مہینوں کے اندر ہی معلوم ہوجائے۔

یعنی اس بات کا امکان موجود ہے کہ یہ ویکسین پوری طرح موثر ثابت نہ ہو؟

بالکل۔ زکام کی ویکسین کی اثراندازی مرض کی شدت کے مطابق بعض دفعہ 60 فیصد ہوتی ہے اور بعض دفعہ 80 فیصد۔ تاہم یہ بھی سچ ہے کہ کبھی کبھار مرض زیادہ شدید ہونے کی صورت میں ویکسین زیادہ موثر ثابت ہوتی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ اس کی اثراندازی صرف 50 فیصد ہو، لیکن اس کی بدولت ضعیف العمر، سیاہ فام، یا ہسپانوی نژاد افراد کی، یعنی وہ افراد جو covid-19 سے زیادہ متاثر ہورہے ہيں، ہسپتال میں داخلے کی شرح میں 80 فیصد کمی آجائے۔ اگر ایسا ہوجائے تو ہم اسے ایک ”موثر ویکسین “ قرار دے دیں گے۔

کریڈٹ: رابرٹ ہڈ/فرڈ ہچنسن کینسر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ

آپ رضاکاروں پر کس ویکسین کی ٹیسٹنگ کریں گے؟

اس وقت ماڈرنا (Moderna) کے آر این اے ویکسین کے علاوہ ایسٹرا زینیکا (AstraZeneca)، جانسن اینڈ جانسن (Johnson & Johnson)، اور نووو ویکس (Novovax) کے ویکسینز کے متعلق معلومات عوامی سطح پر دستیاب ہیں۔

ایڈیٹر کی طرف سے اضافی معلومات: اس انٹرویو کے بعد فائزر (Pfizer) کو بھی گرانٹ دے دیا گیا۔

آپ کو یہ بات کب سمجھ آئی کہ آپ کا ایچ آئی وی کا ٹرائل نیٹورک covid-19 کے سلسلے میں بھی فائدہ مند ثابت ہوگا؟

مجھے یہ بات فروری میں معلوم ہوئی جب میں جنوبی افریقہ میں منعقد ہونے والی ایک ایچ آئی وی کانفرنس سے واپس آیا۔ اینتھنی فاؤچی (Anthony Fauci) میرے بہت اچھے دوست ہیں اور انہوں نے مجھے فون کرکے کہا کہ ”لیری، ہمیں covid کے ویکسینز کی ٹیسٹنگ کرنے کے لیے ایک انفراسٹرکچر تیار کرنے کی ضرورت ہے، اور تمہارے علاوہ یہ کام کوئی بھی نہیں کرسکتا۔ تمہارے پاس سب سے بڑا نیٹورک ہے، سب سے زيادہ انفراسٹرکچر ہے، اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ تمہارے پاس لیبس بھی موجود ہیں اور تجربہ بھی۔ “ ہم نے جولائی میں اعلان کیا تھا، لیکن ہم درحقیقت ساڑھے چار مہینوں سے ہفتے میں سات دن اس پر کام کررہے ہيں۔

اتنے عرصے بعد ایچ آئی وی ویکسین تیار نہيں ہوسکی۔ کیا covid-19 کی ویکسین تیار ہوسکتی ہے؟

انسانی جسم خود سے ایچ آئی وی پر حملہ آور نہيں ہوتا، اور اسی لیے ایچ آئی وی ویکسین بنانا بہت مشکل ثابت ہوا ہے۔ ہم covid-19 کے حوالے سے زيادہ پرامید ہیں۔ اس وائرس کے شکار 97 سے 98 فیصد افراد خود ہی ٹھیک ہوتے ہیں۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ہمارا نظام مدافعت covid-19 کو ایک خاص طریقے سے دیکھتا ہے لیکن وہ ایچ آئی وی کو ایسے نہيں دیکھ سکتا۔ اسی لیے ہمیں کرونا وائرس کی ویکسین سے زيادہ امید ہے۔

ویکسین تلاش کرنا اس قدر اہم کیوں ہے؟

وبائی امراض پر قابو پانے کے لیے اب تک ویکسینز سے بہتر کوئی چیز نہيں ہے۔ جب ایچ آئی وی کی وبا پھیلنا شروع ہوئی، ہم نے ہم جنس پرستوں کے میل جول اور تفریح کے لیے بنائے گئے مقامات بند کردیے۔ اس سے کچھ حد تک فائدہ تو ہوا لیکن ادویات کے بغیر اس بیماری کا مقابلہ کرنا ناممکن ہے۔ ہم سماجی دوری پر کتنا ہی زور دیں، لیکن پرانی صورتحال پر واپس آنے کے لیے سات ارب افراد کے لیے ایک ویکسین بنانے کے علاوہ کوئی چارہ نہيں ہے۔

لیکن ایچ آئی وی پر اینٹی وائرل ادویات کے ذریعے قابو پایا جاچکا ہے جن کی وجہ سے یہ مرض مزید پھیلتا بھی نہيں ہے۔ تو ویکسین کی ضرورت کیوں ہے؟

اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر کسی کی تشخیص اور علاج ممکن نہيں ہے، جس کے باعث اس مرض کے پھیلنے پر قابو نہيں پایا جاسکتا۔ ہمارے پاس ایک دہائی، بلکہ دو دہائیوں، سے بہترین قسم کی ادویات موجود ہیں، لیکن ابھی بھی ہر سال ایچ آئی وی کے 14 لاکھ کے قریب نئے کیسز سامنے آتے ہیں۔ ایچ آئی وی کی علامات کوئی نہیں ہیں اور نہ ہی دوسروں تک پھیلانے کے دوران کوئی علامات سامنے آتی ہیں۔ covid-19 کے ساتھ بھی یہی ہورہا ہے، جس کے باعث ٹیسٹنگ اور کانٹیکٹ ٹریسنگ زيادہ کامیاب ثابت نہيں ہورہے۔ اکثر اس کی علامات سامنے نہيں آتیں اور آپ کو معلوم نہيں ہوتا  کہ آپ اس کے شکار ہیں، اور آپ وہ کام کرتے رہتے ہيں جن سے یہ بیماری پھیلتی ہے۔ ایچ آئی وی جنسی تعلقات کے ذریعے پھیلتا ہے، اور اسے روکنے کے لیے جنسی تعلقات سے اجتناب کیا جاسکتا ہے، لیکن covid تو صرف دوسروں سے بات کرنے سے پھیلتا ہے۔ یہ آپ کو ان لوگوں سے بھی لگ سکتا ہے جن پر آپ سب سے زيادہ بھروسہ کرتے ہيں۔

وارپ سپیڈ کے بعض معاہدوں میں، امریکہ کو ویکسین کے ابتدائی بیچس تک خصوصی رسائی کی ضمانت دی گئی ہے۔ آپ کے خیال میں کیا یہ بات جائز ہے کہ امریکہ کو سب سے پہلے دوا ملے گی؟

اگر آپ اس پروگرام کو غور سے دیکھیں تو آپ کو پانچ ویکسینز نظر آئيں گے، جن میں سے ہر ایک کی 10 کروڑ خوراکیں دستیاب ہوں گی۔ یعنی کل ملا کر 50 کروڑ خوراکیں ہيں۔ اس کے علاوہ، جانسن اینڈ جانسن بھی مزید ایک ارب خوراکیں فراہم کرے گا۔ یہ سب امریکہ کی ضروریات سے کہیں زيادہ ہے۔ یہ ویکسین پوری دنیا میں دستیاب ہوگی، اور اگر نہ بھی ہوئی تو اس کا ڈيٹا تو ضرور دستیاب ہوگا۔

تحریر: اینٹونیو ریگالیڈو

Read more on technologyreview.com.

Authors

*

Top