Global Editions

اس کمپنی نے چہرے کی شناخت کے ذریعے ٹیکنالوجی کے منظرنامے کو بدل کر رکھ دیا ہے

چین میں اپنے دفتر میں داخل ہونے کے لیے، ٹرین میں بیٹھنے کے لیے، یہاں تک کہ قرضہ حاصل کرنے کے لیے صرف اپنا چہرہ دکھانے کی ضرورت ہے۔

چین میں چہرے کی شناخت روزمرہ زندگی کے ہر پہلو کو تبدیل کررہی ہے۔ شینزین میں واقع علی بابا نامی کمپنی کے ملازمین عمارت میں داخل ہونے کے لیے آئی ڈی کارڈ سوائپ کرنے کے بجائے صرف اپنے چہرے کا استعمال کرتے ہیں۔ مغربی بیجنگ کے ایک ٹرین سٹیشن میں مسافرین کی ٹکٹس کا ان کے شناختی کارڈ کے ساتھ موازنہ کیا جاتا ہے۔ ان کے چہرے کے پیش کردہ شناختی کارڈ کی تصویر سے میل کھانے کی صورت میں سٹیشن کا گیٹ کھل جاتا ہے۔ اسی طرح شنگھائی سے 125 میل کی فاصلے پر واقع ہینگژہو کے سب وے سسٹم میں چہرے کی شناخت کی ٹیکنالوجی سے آراستہ کیمروں کی مدد سے جرائم پیشہ افراد کی نشاندہی کی جاتی ہے۔

ان تمام ایپلیکیشنز کے پیچھے Face++ نامی ٹیکنالوجی کا ہاتھ ہے۔ یہ دنیا کی سب سے بڑی چہرے کی شناخت کی ٹیکنالوجی ہے، جسے 150 ممالک میں رہائش پذیر تین لاکھ سے زيادہ ڈیولپر چہروں کے علاوہ تصویریں، ٹیکسٹ اور حکومتی شناختی کارڈز کی شناخت کے لیے استعمال کررہے ہیں۔

چین میں بیدو (Baidu) اور سٹارٹ اپ کمپنی سینس ٹائم (SenseTime) جیسی دوسری کمپنیاں بھی ڈیولپرز کو چہرے کی شناخت کی ٹیکنالوجی فراہم کررہی ہیں، لیکن Face++ سب سے زيادہ مقبول ثابت ہوئی ہے، جس سے اسے بنانے والی کمپنی میگ وی (Megvii) کو بہت فائدہ ہوا ہے۔ 2011ء ميں قائم ہونے والی اس کمپنی کی مارکیٹ ویلیو ایک ارب ڈالر ہوچکی ہے، اور ملازمین کی تعداد 2014ء میں 30 ملازمین سے بڑھ کر 530 ہوگئی ہے۔

میگ وی کے مطابق جیسے جیسے انٹرنیٹ کا تجارت اور مواصلات کے استعمال میں اضافہ ہوتا جائے گا، چہرے کی شناخت کی ضرورت اتنی ہی بڑھ جائے گی۔ دوسری ٹیک کی کمپنیاں بھی یہی توقع کررہی ہیں۔ سام سنگ کے Galaxy S8 اور S8+ کو ان لاک کرنے کے لیے چہرے کی شناخت کا فیچر شامل ہے، اور کہا جارہا ہے کہ ایپل بھی iPhone 8 میں یہ فیچر متعارف کرنے والا ہے۔

Face++ کو انٹرنیٹ پر استعمال کرنے کا ایک طریقہ Face ID کے ذریعے ہے، جو میگ وی کی آن لائن شناخت کی تصدیق کا پلاٹ فارم ہے، اور جس کی API انٹرفیس میں Face++ کی ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گيا ہے۔ میگ وی کے سی ای او قی ون (Qi Vin) کے مطابق اس وقت چین کی 200 سب سے بڑی انٹرنیٹ کمپنیوں میں سے 90 فیصد کمپنیاں Face ID استعمال کررہی ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی خصوصی طور پر آن لائن مالی سہولیات فراہم کرنے والی کمپنیوں میں زور پکڑ رہی ہے جنھیں ریموٹ طریقے سے صارفین کی تصدیق کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ (فریب کی روک تھام کے لیے زیادہ تر ایپس “لائیونیس ٹیسٹ” کا استعمال کرتی ہیں، جس میں صارفین کو تصویر بھیجنے کے بجائے بات کرنے یا سر ہلانے کی ضرورت ہے۔)

Face ID کے صارفین میں Xiaohua نامی کمپنی شامل ہے جن کی Xiaohua Qianbao موبائل ایپ قرضے اور قسطوں کے ذریعے ان قرضوں کی ادائيگی فراہم کرتے ہیں۔ قرضے حاصل کرنے کے لیے صارفین اپنے چہرے سکین کرتے ہیں، جس کی وجہ سے فون چوری یا گمشدہ ہونے کی صورت میں کوئی دوسرا شخص ایپ استعمال نہیں کرسکتا ہے۔ Xiaohua کے شریک بانی لنگ پینگ ہوانگ (Lingpeng Huang) کہتے ہیں “Xiaohua Qianbao کی ایپ آن لائن لین دین کے لیے بنائی گئی ہے، اور اس کے لیے فریب کی روک تھام بہت ضروری ہے۔ اس سلسلے میں ہمیں چہرے کی شناخت سے بہت فائدہ ہوا ہے۔”

میگ وی Face++ اور Face ID میں استعمال ہونے والے الگارتھمز کو ٹرین کرنے کے لیے Brain++ نامی ڈیپ لرننگ انجن کو بڑے ڈیٹا سیٹس کا استعمال کرتے ہیں۔ (ڈیپ لرننگ میں ایک وسیع اور متعدد تہوں پر مبنی نیورل نیٹورک کو کئی مثالیں فراہم کرنے کے بعد اس میں اس وقت تک ردوبدل کی جاتی ہے جب تک کہ مطلوبہ فیچرز کی درست حد تک شناخت نہ ہوجائے)۔

تربیت کے لیے وافر مقدار میں ڈيٹا حاصل کرنے کے لیے میگ وی نے 2012ء اور 2013ء میں ڈیلوپرز کو Face++ تک بالکل مفت رسائی فراہم کی تھی۔ تربیت کو بہتر بنانے کے لیے میگ وی ڈيٹا جمع کرنے والی کمپنیوں سے تصویریں بھی خریدتے ہیں۔

میگ وی نے 2015ء میں Brain++ تخلیق کیا، اور ان کے مطابق ایک ایسے ڈیپ لرننگ انجن سے جسے انھوں نے خود تیار کیا تھا، الگارتھمز کو زيادہ بہتر طور پر تربیت فراہم کی جاسکتی ہے۔ میگ وی کے چیف سائنسدان جیان سن (Jian Sun) کہتے ہیں “اس کی وجہ سے ہمارے مصنوعات زيادہ بہتر طور پر مقابلہ کرسکیں گے۔”

اپنے خود کا ڈیپ لرننگ کا پلاٹ فارم موجود ہونے کا ایک اور فائدہ یہ ہے کہ میگ وی اس ٹیکنالوجی کو مختلف کسٹمرز کے لیے کسٹمائز کرسکتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مختلف کسٹمرز کو مختلف حد تک درستی درکار ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر، پولیس کا محکمہ درستگی کو ترجیح دیتا ہے، جبکہ محض موبائل ایپ میں چہرے کی پہچان استعمال کرنے والی کمپنی کے لیے ایپ کے لیے مناسبت زیادہ اہم ہوگی۔

میگ وی کے لانچ کے موقع پر ون نے کہا تھا کہ وہ چند شعبہ جات میں اپنے قدم جمانا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے “مصنوعی ذہانت کی کسی بھی کمپنی کی کامیابی کے لیے پہلے چند بنیادی صنعتوں میں آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔”

اب جبکہ Face++ نے بینکنگ اور فنانس میں اپنے قدم جمالیے ہیں، میگ وی کے شریک بانی اسے ریٹیل اور خودکار گاڑیوں کے لیے استعمال کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ تسنگ ہوا یونیورسٹی کے اسوسیٹ پروفیسر اور کمپیوٹر وژن کا مطالعہ کرنے والے جیان شینگ چین (Jiansheng Chen) کہتے ہیں کہ اس کے لیے اس کمپنی کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ ان کے صارفین کو اس سے کیا فائدہ ہوگا، اور وہ ہر سال کس حد تک فریب میں کمی لاسکتے ہیں۔

تحریر: یٹنگ سن (Yiting Sun)

Read in English

Authors
Top