Global Editions

خلائی سفر کا ایک نیا دور شروع کرنے والے ٹرینر سے ملیے

نجی سپیس فلائٹ میں اضافے سے خلائی کمپنیوں میں اضافہ ہو رہا ہے اور اس سے شہریوں کو خلائی سفر کی سمجھ بوجھ لگ رہی ہے

خلا میں سفر کوئی آسان کام نہیں ہے۔ وہاں پر جانے کے لئے کچھ کام سنجیدگی سےکرنے کی ضرورت ہوتی ہے یہاں تک کہ ان لوگوں کے لئے بھی جنہوں نے چیک بک کے ذریعے گولڈن لانچ ٹکٹ کی ادائیگی کی ہوتی ہے۔

سپیس ایکس( SpaceX)، بلیو اوریجن(Blue Origin) اور ورجن گیلاٹک Virgin Galatic)اگلے پانچ سالوں کے اندر نجی شہریوں کو خلا میں بھیجنے کا وعدہ کررہی ہیں۔ ستمبر میں سپیس ایکس نے اعلان کیا کہ اس کا پہلا نجی طیارہ صارفین کو 2023 میں چاند کا سفر کرائے گا۔ بلیو اوریجن کے بانی جیف بیوز نے کہا ہے کہ وہ اگلے سال تک سیاحوں کو خلامیں بھیجنے کاارادہ رکھتا ہے۔ اور ورجن گیلاٹک کےبانی رچرڈ برنسن نے حال ہی میں دعویٰ کیا ہےکہ ان کی کمپنی کرسمس سے پہلے لوگوں کو خلا میں بھیجے گی۔

دریں اثنا، روسی خلائی ایجنسی نے پہلے ہی رقم ادا کرنے والے بہت سے افراد کو خلا کی سیر کرائی ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ تیزی سے یہ ممکن ہو رہا ہے کہ بہت زیادہ نجی شہری جلد خلا میں ہوں گے۔  کوئی تعجب نہیں ہے کہ بہت سے اداروں نے اس مارکیٹ کے منافع بخش ہونے کے پوٹینشل میں فرق دیکھا ہے: خلائی مسافروں کوتیار کرنے میں مدد کے لئے خدمات دینا۔

ولادیمیر پلیسٹر(Vladimir Plester) کو خلائی سیاحت کی صنعت میں ترقی کا براہ راست فائد ہوا ہے۔ ان کو حال ہی میں برطانیہ میں واقع خلائی ٹریننگ کےسٹارٹ اپ بلیو ابیسBlue Abyss)) میں ڈائریکٹر کے طور پر تعینات کیا گیا۔ کمپنی ان سہولیات کے لئے پیسہ جمع کر رہی ہے جس میں وہ سرکاری خلابازوں کوتربیت دے گی اور اس کے ساتھ ساتھ پلیسٹر کی ٹرم میں شہری خلابازوں کو خلائی ٹریننگ دے گی۔. انہوں نے کہا ،”خلائی سیاحت تھوڑی عجیب ہے”۔یہاں تک کہ ایک شخص جو خلا میں نجی طور پر پرواز کرے گا، اس کو بھی تربیت دی جائے گی اور ایک حقیقی خلائی مسافر بن کر جائے گا اور اسے پرواز میں کچھ کرنا ہوگا۔ وہ آپریشن میں حصہ لے گا۔ “

وہ خلائی مسافروں کوبہت ساری چیزوں کی تربیت دے گا جیسےزیرو کشش ثقل میں حرکت کرنا، سادہ تجربات سرانجام دینا اور طویل دورے پر خلا میں ورزش کرنا۔پلیسٹر کی شہری خلابازی میں خلائی مسافر زیرو یا چاند کی کشش ثقل میں غوطہ خوری کریں گے اور تھوڑی کشش ثقل والی پروازوں میں سفر کریں گے۔یہ تجربہ ویسے ہی گا جیسے سرکاری خلاباز کا ہوتا ہے۔

یہاں پر اداکاری کرنے کا اشارہ ہے: پلیسٹر کا خیال کیا ہے کہ بلیو ابیس کے کاروبار میں ملٹی ملین ڈالر پوٹینشل ہے جو کہ لوگ ایڈوانس ٹریننگ کے لئے خرچ کریں گے۔ لیکن ہر صورت میں خلائی مسافروں کی تربیت کے لئے خلائی ٹرینرزکی ضرورت ہوگی جیسا کہ ہنگامی طریقہ کار کو سیکھنا، محفوظ طریقے سے حرکت دینا اورکم کشش ثقل میں تجربات کا مظاہرہ کرنا۔

اور بلیو ابیس صرف واحد تنظیم نہیں ہے جو خلائی مسافروں کو تربیت دینے والے بھرتی کر رہی ہے۔ نیشنل ایرو اسپیس ٹریننگ اینڈ ریسرچ سینٹر ایف اے اے سے منظور شدہ اعلی ٰدرجے کے خلائی تربیتی پروگرام پیش کرتی ہے۔

لہٰذا آپ کو خلا میں لوگوں کو تربیت دینے کے لئے کس اہلیت کی ضرورت ہے؟ پلیسٹر خود تربیت کے ذریعے چل رہا تھا۔

وہ خلائی مسافر تربیت اور خلائی مسافر میں مقابلہ کے امتحان کے عمل میں کوئی اجنبی نہیں ہے۔ وہ سب سے پہلے 1991 میں بیلجیم کی طرف سے ایک خلائی مسافر کے امیدوار کے طور پر منتخب ہواتھا لیکن اس نے آخر میں یورپین سپیس ایجنسی کا انتخابی عمل پاس کیا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے 1992 میں ناسا میں پےلوڈ کے ماہر بننے کے لئے درخواست دی لیکن ایک بار پھر کامیاب نہیں ہوا۔ 1995 میں انہوں نے مزید ترقی کی اور بیلجیم نے انہیں سپیس لیب شٹل مشن کے ایک امیدوار کے طور پرپیش کیا اور انہوں نے میڈیکل پاس کیا۔ دو مہینے کی تربیت کے بعد، اگرچہ یہ تیسری دفعہ ہوا: اسے بتایا گیا تھا کہ وہ خلائی شٹل پر نہیں جائیں گے۔

اس مایوسی کے فوراً بعد، انہوں نے اس تجربے سے سیکھا اور خود کی بجائے دوسروں کو تیار کرنے کا فیصلہ کیا۔پلیسٹر کا کہنا ہے ، “میرے دونوں بیک گرائونڈ ہیں-تربیت دینے کا بھی اور تربیت لینے کا بھی تجربہ ہے۔”میں سمجھتا ہوں کہ کس طرح خلائی مسافروں سے بات کی جائے چاہے وہ ناسا کے ہوں، ای ایس کے ہوں یا روسی ہوں اور سمجھ لیتا ہوں کہ کس چیز کی ضرورت ہے؟”

اگرچہ وہ کبھی خلا نہیں گیا ہے لیکن وہ 39 گھنٹے بغیر وزن کے رہا ہے۔بلیو ابیس میں آنے سے قبل، ان کے پاس 30 سال سے زیادہ تجربہ تھا جو انہوں نے یورپین خلائی ایجنسی کے لئے پیرابولک پروازوں پر تحقیق کرکے حاصل کیا تھا جو تھوڑی کشش ثقل پر چلتی ہیں۔انہوں نے 12 طیاروں پر 7300
پیرابولس پر سفر کرکے گینیس ورلڈ ریکارڈ بنایا ہے۔وہ اس تجربے کوبلیو ایبس کے فلائٹ کی ٹریننگ کے کےلئے استعمال کررہا ہے۔

پولیسٹر کا ایک منفرد کیریئر کا تجربہ ہے۔ان کا خیال ہے کہ ایک خلا باز بننے کے لئے کوئی ایک راستہ نہیں ہےلیکن مستقبل میں ایک ٹرینر بننے کے لئے بہت سے راستے ہوں گے۔ “(ایک خلائی سفر کا ٹرینر ہونا) شایدفل ٹائم کیریئر نہیں ہے۔ “لوگ کچھ عرصہ یہ کر کام کر سکتے ہیں اور پھر پچھلی نوکری میں واپس جا سکتے ہیں اور بھی ممکنہ طور پر خلائی تحقیق میں۔”

پلیسٹر خود بھی اپنا باقی کیریئر لوگوں کو خلائی سفر کا ٹرینر کے طور پر نہیں چاہتے۔ان کا کہنا ہے، “لوگ اکثر مجھ سے پوچھتے ہیں: کیا آپ کبھی خلا میں گئے ہیں؟ “میں ہمیشہ جواب دیتا ہوں:نہیں- ابھی تک نہیں گیا۔”

تحریر: ایرین وینک

Read in English

Authors

*

Top