Global Editions

طبی امپلانٹس کو ادویات کے بغیر کس طرح موثر بنایا جاسکتا ہے؟

نام: ایمیئر ڈولن (Eimear Dolan)

عمر: 32 سال

ادارہ: نیشنل یونیورسٹی آف آئیرلینڈ گیلوے (National University of Ireland Galway)

جائے پیدائش: آئیرلینڈ

ایمیئر ڈولن کو ٹائپ 1 ذیابیطس کے علاج کے لیے استعمال ہونے والے طبی امپلانٹس پر کام شروع کیے زیادہ عرصہ نہيں ہوا تھا جب انہیں اس قسم کے آلات کی ناکامی کی وجہ سمجھ آئی۔ یہ ایک ایسا مسئلہ تھا جس کے باعث پیس میکرز، جسم کے مختلف حصوں میں انسولین پہنچانے والے آلات، اور چھاتی کے امپلانٹس جیسے آلات بنانے والی کمپنیاں عرصہ دراز سے تنگ تھیں۔ جب انسانی جسم میں کسی بھی قسم کی ناواقف چیز نصب کی جاتی ہے، تو وہ یہی سمجھتا ہے کہ اس سے ہمیں نقصان ہوگا اور اس کے اطراف ریشوں کی ایک دیوار کھڑی کردیتا ہے تاکہ ہمیں اس کے اثرات سے محفوظ رکھا جاسکے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم طبی آلات سے بھرپور فائدہ اٹھانے سے قاصر رہتے ہيں۔

ایمیئر ڈولن اس وقت نیشنل یونیورسٹی آف آئرلینڈ گیلوے میں بائیومیڈیکل انجنیئر کے عہدے پر فائز ہيں اور ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس مسئلے کا حل ڈھونڈ نکالا ہے۔ ایم آئی ٹی اور ڈولن کی یونیورسٹی کے درمیان تعاون کے نتیجے میں ایک نرم مواد سے بنا ایسا روبوٹک آلہ سامنے آیا ہے جو جسم کے اندر حرکت کرسکتا ہے۔ اس سے کسی بھی امپلانٹ کے اطراف موجود ماحول تبدیل ہو گا، جس کے باعث حفاظتی ریشے کی دیوار کھڑی نہيں ہوگی۔

ماضی میں ریسرچرز اس مقصد کے لیے ادویات کا سہارا لیتے تھے۔ تاہم ڈولن اور ان کی ٹیم کی کوششوں کی بدولت پہلی دفعہ اس مسئلے کے حل کے لیے کوئی آلہ سامنے آیا ہے۔ ان کی یہ ٹیکنالوجی چوہوں میں بہت کامیاب ثابت ہوئی ہے اور ڈولن بتاتی ہیں کہ اس سے کسی بھی قسم کی ادویات کی ضرورت بالکل ختم ہوگئی ہے۔

ڈولن اور ان کی ٹیم اب اس آلے کی مدد سے ٹائپ 1 ذیابیطس کے شکار افراد کے جسم میں انسولن پیدا کرنے والے مصنوعی اعضاء پر کام کررہی ہیں۔ ماضی میں اس قسم کے آلات کی ناکامی کی شرح بہت زيادہ تھی، لیکن ڈولن امید کرتی ہیں کہ ان کی ٹیم کی کوششوں سے یہ صورتحال تبدیل کی جاسکے گی۔ اگر ایسا ہوجائے تو مستقبل میں دوسرے امپلانٹس کی کامیابی کے امکانات میں بہت زیادہ اضافہ ہوگا۔

تحریر: جوناتھن ڈبلیو روزن (Jonathan W. Rosen)

تصویر: للی پیکٹ (Lillie Paquette)

Read in English

Authors

*

Top