Global Editions

اس پروگرام سے میڈیکل امیجز سے ایسی چیزیں معلوم کی جاسکتی ہیں جو انسان کے بس کی بات نہيں

نام: شنجنی کنڈو (Shinjini Kundu)
عمر: 27 سال
ادارہ: کارنیگی میلن یونیورسٹی

میڈیکل امیجز میں اس قدر تفصیل شامل ہے کہ انہيں سمجھنا بہت مشکل ثابت ہوسکتا ہے۔ لیکن شنجنی کنڈو کے اس پروگرام سے اب ان امیجز کی تشریح کرنا بہت آسان ہوجائے گی۔

میڈیکل امیجز کسی بھی مرض کی تشخیص میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہيں، لیکن ان میں جتنی تفصیل شامل کی جائے، ان کی تشریح اتنی ہی زیادہ مشکل ثابت ہوتی ہے۔ شنجنی کنڈو نے ایک ایسا مصنوعی ذہانت کا نظام تیار کیا ہے جو ان امیجز کا تجزیہ کرکے ایسے پیٹرنز ڈھونڈ نکالتا ہے جو کسی انسان کے لیے بہت مشکل ہے۔ اس انوویشن سے کئی امراض کی نشاندہی اور علاج میں انقلاب آجائے گا۔

وہ کہتی ہيں "اگر پوشیدہ تبدیلیوں کی نشاندہی کا کوئی طریقہ سامنے آجائے تو مکمن ہے کہ ہمارے لیے علامات پیدا ہونے سے پہلے ہی کئی امراض کی تشخیص ممکن ہوجائے۔"

اس وقت مصنوعی ذہانت کے ایسے الگارتھمز موجود ہيں جن کے ذریعے پیٹرنز کی نشاندہی ممکن ہے، لیکن وہ اپنی سوچ کے طریقہ کار کی وضاحت کرنے سے قاصر ہے۔ اس سے طبی تشخیص میں بہت بڑا مسئلہ پیش آتا ہے۔ کسی بھی مرض کی پیش رفت اور اس کی وجہ معلوم کیے بغیر اس کا حل ناممکن ہے۔

کنڈو کے سسٹم کے ذریعے انسان کمپیوٹر کی آنکھ سے دیکھ کر ایسے پیٹرنز نکال سکتے ہیں جن کے ذریعے کسی مرض کی ابتدائی پیش رفت واضح ہوسکے۔ اس کے علاوہ انہوں نے مصنوعی ذہانت کے پروگرام کو تصویر سے بیماری کے علامات کو اجاگر کرنے کی بھی تربیت کی، تاکہ انہيں علیحدہ سے بھی دیکھا جاسکے۔ اس کے ذریعے انسان بیماری شروع ہونے سے کئی ماہ، بلکہ کئی سال پہلے ہی ان علامات کی نشاندہی کرپائيں گے۔

تحریر: ایریکا بیراس (Erika Beras)

Read in English

Authors
Top