Global Editions

اب چین مارک زکربرگ کے ہدف پر۔۔۔

امریکی انٹرنیٹ کاروبار کیلئے چین کی سرزمین کوئی بہتر ثابت نہیں ہوئی۔ بہت سے لوگ مغربی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو چین کے بارے میں معلومات کی ترسیل پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ یاہو کے عملے کو تو جمہوریت کے سرگرم کارکنوں کے بارے میں معلومات دینے پر جیل جانا پڑا۔ مائیکروسافٹ کے میڈیا کی آزادی کے ممتاز سرگرم کارکن مائیکل اینٹی کے بلاگ کو بندکردیا گیا۔گوگل سرچ میں چین کے بارے میں حساس معلومات کو سنسر کردیا گیا۔ گوگل کے سرچ انجن کو 2010ء میں چین میں سائبر سیکورٹی کی شکایات پر سنسرشپ عائد کی گئی پھر اسے بند کردیا گیا۔ چین میں فیس بک کو 2009ء کے بعد سے بلاک کردیا گیا جبکہ انسٹاگرام فوٹو شیئرنگ کی سروس کو 2014ء میں بلاک کردیا گیا۔ اب مارک زکر برگ نے ایک بار پھر چین میں فیس بک شروع کرنے کا اشارہ دیاہے۔ جو لوگ کمپنی کو جانتے ہیں انہیں معلوم ہے کہ ایسا ہو جائے گا۔ مارک زکر برگ نے گزشتہ سال کہا تھا کہ آپ ساری دنیا سے منسلک ہو کر صرف ایک بڑے ملک کو چھوڑ دیں تو اس سے مقصد حاصل نہیں ہوتا۔ چین میں انٹر نیٹ صارفین کی تعداد 700ملین تک بڑھ چکی ہے اسی لئے امریکی انٹر نیٹ کمپنیوں کی کوشش ہے کہ چین میں کاروباری خدمات فراہم کی جائیں۔

امریکی کمپنیوں کو اپنے ملک میں تو بہت سخت مقابلے کا سامنا ہے لیکن چین کی کمیونسٹ پارٹی معلومات کی ترسیل پر سخت کنٹرول رکھنا چاہتی ہے۔ اس مقصد کیلئے چین نے غیر ملکی ویب سائٹس تک رسائی روکنے کیلئے انسانی سنسر ، پولیس نگرانی اور سوشل نیٹ ورک کے جم غفیر کی عظیم فائر وال بنا رکھی ہے۔ امریکی کمپنی کو اب چین کی اپنی انٹرنیٹ کی بڑی کمپنیوں سے مقابلہ کرنا پڑے گا۔ مثلاً چینی کمپنی ٹینسینٹ کی پیغام رسانی کی ایپلی کیشن وی چیٹ (WeChat)کے لاکھوں کروڑوں کی تعداد میں صارفین ہیں۔ زکربرگ 2016ء کے شروع میں چین میں پراپیگنڈہ کے سربراہ لیو ینشان (Liu Yunshan)سےملے۔ لیو نےبتایا کہ فیس بک کا چینی ورژن ضرور سینسر کیا جائے گا۔

بروکنگز انسٹی ٹیوٹ کے جان ایل تھارنٹن کے چائنہ سینٹر کے ڈائریکٹر چیانگ لی کہتے ہیں کہ چینی قیادت ذاتی تعلقات کو اہمیت دیتی ہے ۔ چینی قیادت سوچتی ہے کہ مارک زکربرگ کو چین کا دوست سمجھتے ہیں،وہ کامیاب انسان ہیں، وہ چین کے بارے میں اچھا سوچتے ہیں، ان کی بیوی چینی ہے، وہ چینی بولتے ہیں ۔ اس سے زیادہ آپکو کیا درکار ہے۔

فیس بک کو اب بھی چینی قیادت کے شبہات کو دور کرنا ہونگے کہ امریکی انٹرنیٹ کمپنیاں کمیونسٹ پارٹی کی حکومت کو غیر مستحکم کر سکتی ہیں۔ چینی میڈیا عرب ممالک میں حکومت مخالف احتجاج کو فیس بک انقلاب کہتا ہے جو کمپنی کے حق میں نہیں ہے۔ سابق انٹیلی جنس کنٹریکٹر ایڈورڈسنوڈن کی لیکس بھی چینی قیادت کے شبہات کو ہوا دیتی ہے۔ امریکی ٹیکنالوجی کمپنیاں درپردہ امریکی حکومت کے مفادات کیلئے کام کرتی ہیں۔ لیکن فیس بک چینی کاروباری اداروں کو عالمی سطح پر متعارف کروانے کی صلاحیت کی وجہ سے چینی قیادت کے اس کے بارے میں خیالات مثبت ہو سکتے ہیں۔ فیس بک کی کمپنی پہلے ہی چینی کمپنیوں کو اشتہارات ملک سے باہر شائع کرتی ہے۔ اور اب چینی زبان میں فیس بک ورژن کے اجراء سے چینی کمپنیوں اور غیر ملکی گاہکوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط ہو سکتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ چین کا اپنا بڑا سوشل میڈیا ہے جس کی وجہ سے حکومت فیس بک کے بارے میں محتاط رویہ رکھے ہوئے ہے۔ کمپنی کو چین میں ہر جگہ موجود وی چیٹ کا مقابلہ کرنا ہو گا جس کی سارے چین میں مضبوط گرفت ہے۔ لوگ وی چیٹ کو نہ صرف ابلاغ کیلئے استعمال کرتے ہیں بلکہ اس پر خریداری بھی کرتےہیں، ڈاکٹر سے رابطہ کرتے ہیں حتیٰ کہ سفر پر جانے کیلئے ٹیکسی بھی بلاتےہیں۔ چین میں وی چیٹ کا مقابلہ کرنا مشکل ہے۔ اسی لئے فیس بک وی چیٹ کی جگہ نہیں لینا چاہتی بلکہ یہ کہنا درست ہو گا کہ چین کی بہت بڑی انٹرنیٹ مارکیٹ کے چھوٹے سے حصے کا حصول بڑی آمدن دے سکتا ہے۔ امریکی کمپنی کو وی چیٹ سے فرق پیدا کرنے کیلئے وسیع تر دنیا اور چین کے درمیان پُل کا کام کرنا ہو گا۔ دی بروکنگز انسٹیٹیوٹ کے چینگ کہتے ہیں کہ وی چیٹ چینی کمپنی کی حیثیت سے وسیع تر دنیا تک رسائی کیلئے فیس بک کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔

گوگل بھی چین میں کاروبار کرنے کیلئے اس طرح کے دلائل دے سکتا ہے۔ گوگل 2010ء میں چین میں اپنا سرچ انجن بند کرنے کے باوجود چینی کمپنیوں کے اشتہارات چلا رہاہے۔ ایشیا اور پیسفک کیلئے گوگل کے سابق سربراہ اور اب ہانگ کانگ میں چینی یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر لوکمان تسوئی (Lokman Tsui)کہتے ہیں کہ چینی کمپنیوں کیلئے عالمی سطح پر متعارف ہونے کیلئے گوگل ایک اچھا ذریعہ ہے۔ گوگل کے سی ای او سندر پچائی نے کوڈ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم چین میں صارفین کو اپنی خدمات فراہم کرنا چاہتے ہیں۔ تسوئی کہتے ہیں کہ گوگل کے پلے سٹور کے چین میں کام کرنے کی افواہ ہےتاہم کمپنی نے اس خبر پر تبصرہ کرنے سے انکار کردیا ہے۔ گوگل کا اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم چین میں بہت مقبول ہے۔ لیکن گوگل پلے سٹور دستیاب نہ ہونے کی صورت میں کمپنی کی آمدن بہت محدود ہوجائے گی۔چین کے سرچ انجن بیدو کے سابق ڈائریکٹر کیسرکوو کہتے ہیں کہ چین میں فیس بک کے امکانات روشن ہیں۔

فیس بک کے ساتھ معاہدہ

اگر فیس بک کو چین کی طرف سے اجازت مل جاتی ہے تب بھی کچھ سوالات کے جوابات باقی رہ جاتے ہیں۔ کیا فیس بک چینی پارٹنر کے ساتھ کام کرنے پر آمادہ ہو جائے گا۔ کیا حکام فیس بک ڈیٹا کو چین میں ذخیرہ کرنا چاہیں گے تاکہ حکام کی اس تک آسان رسائی ہو سکے۔ فیس بک ہر ایک کو عالمی نیٹ ورک میں لانا چاہتی ہے۔ لیکن فیس بک اپنے چینی صارفین کو دوسرے ممالک میں اپنے دوستوں سے رابطے کیلئے کچھ مختلف پیش کرے گا۔ فیس بک کے سابق ڈائریکٹر سپاراپانی کہتے ہیں کہ ایسا کرنا کچھ مشکل نہیں ہونا چاہئے۔

تحریر: ایملی پارکر (Emily Parker)

Read in English

Authors
Top