Global Editions

جین تھراپی کے ذریعے دماغی امراض کا علاج

دماغی مرض پارکنسن کے لئے حال ہی میں ایک دوا تیار کی گئی تھی اور اس کا نام Levodopa ہے جسے L-Dopa بھی کہا جاتا ہے۔ اس دوا کے مریضوں پر اثرات ابتدا میں کافی نمایاں رہتے ہیں اور اس کی مدد سے مریضوں میں رعشہ اور توازن کے مسائل کافی حد تک کم ہوجاتے ہیں تاہم جیسے جیسے وقت گزرتا رہتا ہے اس دوا کے اثرات کم ہوتے جاتے ہیں اور پھر ایک وقت آتا ہے کہ جب یہ دوا اپنے اثرات کھو دیتی ہے۔ اس دوا کو جاری کرتے وقت اسے رعشہ کے مریضوں کے لئے اچھے اثرات کی حامل دوا قرار دیا گیا تھا۔ تاہم مریضوں پر اس دوا کے اثرات میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کھو دینے کی شکایات سامنے آئی ہیں جس کے بعد اب اس دوا کے استعمال میں کمی متوقع ہے۔ دوسری جانب ایک بائیو ٹیک کمپنی Voyager تھراپسٹس نے دوا L-Dopa کے اثرات کو بڑھانے کے لئے ایک حیران کن تکنیک استعمال کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ میساچوٹس کیمبرج کی اس کمپنی نے پارکنسن کے علاج کے لئے دماغ کے آپریشن اور ڈی این اے کو انجیکشن کے ذریعے مریض کے جسم میں داخل کرنے کا طریقہ علاج تجویز کیا ہے۔ اس حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ اس طریقہ کو صرف ان مریضوں پر آزمایا جائیگا جو اس طریقہء علاج پر آمادہ ہوں۔ رعشہ یا پارکنسن کا مرض ان افراد کو لاحق ہوتا ہے جب Dopamine (ایڈرینل میڈولا اور دماغ میں پایا جانے والا مرکب جو عصبی ترسیل میں اہم کردار ادا کرتا ہے ۔ یہ خون میں موجود ایک اینزائم بھی ہے جو خون کے دبائو میں اضافے پر بڑھ جاتا ہے) سے بنے دماغی عصبی خلیے آہستہ آہستہ غیرفعال یا مرنے لگتے ہیں تو انسانی جسم کے بعض حصوں یا تمام نیورونز تھرتھرانے لگتے ہیں۔ یاد رہے کہ ماضی کے عظیم باکسر محمد علی بھی اس مرض کا شکار تھے۔ ابھی تک پارکنسن کے مرض کے لاحق ہونے کی حقیقی وجوہات کا تعین نہیں ہو سکا تاہم یہ ضرور ہے کہ یہ مرض دماغی خلیوں کی فعالیت میں کمی سے لاحق ہوتا ہے۔ اب Voyager کی جانب سے متعارف کرائے جانیوالے طریقہ علاج کے تحت مریض میں AADC کی حامل جین کو دماغ میں انجیکشن کے ذریعے داخل کیا جائیگا اور اس سے مریضوں کے اعصاب میں پائی جانیوالی تھرتھراہٹ میں نسبتاً کمی آ جاتی ہے۔ اس حوالے سے یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے سائنٹسٹ اور کمپنی Voyager کے شریک بانی کرسٹوف بانکیویچ (Krystof Bankiewicz) کا کہنا ہے کہ مجوزہ جین تھراپی کے ذریعے اس انزائم کو بحال کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جسے عصبی تھرتھراہٹ میں کمی آئے۔ اس طریقہ علاج پر ابھی مزید تجربات ہونا باقی ہیں جس کے بعد اس طریقہ علاج کے موثر ہونے کا تعین کیا جا سکے گا تاہم دماغی امراض کے علاج کے لئے تحقیق کاروں کی کوششیں جاری ہیں۔

تحریر: انٹونیو ریگالڈو (Antonio Regalado)

Read in English

Authors

*

Top