Global Editions

سٹارٹ اپ سے ٹیکنالوجی ’یونی کارن‘ تک کا سفر

مدثر شیخا نمایاں رائيڈ ہیلنگ کمپنی کریم کے شریک بانی اور مینیجنگ ڈائریکٹر ہيں۔ شیخا سٹین فورڈ یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا سے کمپیوٹر سائنس اور اکنامکس میں گریجویشن مکمل کرنے کے بعد ایک دہائی تک سیلیکون ویلی میں ٹیکنالوجی کی سٹارٹ اپ کمپنیوں کو آگے بڑھاتے رہے۔ کریم کی بنیاد رکھنے سے پہلے وہ میک کینزی اینڈ کمپنی (McKinsey & Company) میں کلائنٹس کو حکمت عملی اور کاروبار کو آگے بڑھانے کے متعلق مشاورت فراہم کرتے تھے۔

دبئی میں قائم کی جانے والی کمپنی کریم مشرق وسطیٰ، افریقہ اور جنوبی ایشیاء میں 14 ممالک کے 100 سے زائد شہروں میں سہولیات فراہم کررہی ہے۔ اس سال ان کے سب سے بڑے حریف اوبر نے انہيں تین ارب 10 کروڑ ڈالر کے عوض خرید لیا جس کے نتیجے میں کریم اس خطے کی سب سے پہلی ٹیکنالوجی کی ‘یونی کارن’ کمپنی بن گئی۔ ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو نے کمپنیوں کی علاقائی تبدیلی کی صلاحیت اور اربوں ڈالر کی مالیت رکھنے والی کمپنی کھڑا کرنے کے متعلق شیخا کی رائے جاننے کے لیے ان کے ساتھ ایک نشست کی۔

آپ کو کریم بنانے کا خیال کس طرح آیا؟

جب کریم کے دوسرے شریک بانی میگنس (Magnus) اور میں میک کینزی میں کام کررہے تھے اس وقت کمپنی کارپوریٹ نقل و حمل کے حوالے سے کافی مشکلات کا شکار تھی۔ مختلف مارکیٹس میں کئی مختلف کمپنیوں کی سہولیات حاصل کرنے کے باوجود بھی انہيں نقل و حمل کا قابل اعتماد طریقہ نہيں مل پارہا تھا۔ اس پورے پراسیس میں کہیں بھی ٹیکنالوجی کا استعمال نہيں کیا جارہا تھا، جس کے باعث تمام رسیدیں کاغذی شکل میں تیار کی جاتی تھیں اور اخراجات کی زمرہ بندی کرنے کا کوئی طریقہ نہيں تھا۔ اس کے علاوہ، ہمیں ہر بار ڈرائیور کو پیسے دینے کے لیے اے ٹی ایم جانا ہوتا تھا۔ ہم کبھی سوچتے تھے کہ اکیسویں صدی ميں رہتے ہوئے ایسے کس طرح کام ہوسکتا ہے؟

ہمیں پہلی دفعہ کریم کا خیال اس مسئلے کے حل کی تلاش کے دوران آیا۔ ہم نے اس پر کام کرنا شروع کردیا لیکن جلد ہی ہمیں نقل و حمل کو بہتر بنانے کے ساتھ ہی لوگوں کی آمدنی میں بھی اضافہ کرنے کا موقع ملا۔ ہم نے اسی وقت لوگوں کی زندگیوں کو آسان اور بہتر بنانے اور ان کی زندگیوں کو مثبت طریقے سے متاثر کرنے والی تنظیم بنانے کا ارادہ کرلیا جو آج بھی کریم کا بنیادی اصول ہے۔

 کریم قائم کرنے کے دوران میک کینزی اینڈ کمپنی اور سیلیکون ویلی کا تجربہ آپ کے کس طرح کام آیا؟

کریم کے قیام کے بعد ہمارے پہلے کلائنٹ ہماری سابقہ کمپنی میک کینزی ہی تھی۔ ہم نے نقل و حمل کے علاوہ بلنگ (billing) کے کاروبار کے بارے میں بہت جلد بہت کچھ سیکھ لیا۔

میں نے ماضی میں برینس (Brience) نامی سٹارٹ اپ کمپنی میں اور پھر وینچر فنانس گروپ (Venture Finance Group) میں کچھ عرصے کے لیے بطور ایسوسیٹ کام کیا تھا۔ اسی لیے مجھے سافٹ ویئر اور کنزیومر انٹرنیٹ کی صنعت کی کمپنیوں کے ابتدائی مراحل کا تجربہ تھا۔ مجھے یقین تھا کہ ان کاغذی پراسیسز کو بذریعہ ٹیکنالوجی آسان بنانے کا کوئی نہ کوئی طریقہ ضرور ہوگا۔

کریم میں ہر خطے کے لحاظ سے کونسی تبدیلیاں کی گئی ہیں؟

مشرق وسطیٰ کئی مختلف ممالک پر مشتمل ہے جو ایک دوسرے سے بہت مختلف ہیں۔ مثال کے طور پر، دبئی کی مارکیٹ کی ضروریات اور کراچی کی مارکیٹ کی ضروریات میں بہت فرق ہے۔ کریم کی کامیابی میں مقامی مارکیٹ کے مطابق خود کو ڈھالنے کی صلاحیت کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔

بعض دفعہ ہمارے سامنے راستے، ٹریفک، ٹیکنالوجی اور ایسے کئی غیرمتوقع مسئلے کھڑے ہوئے اور ہم نے شروع میں بہت غلطیاں بھی کیں۔ اگر آپ کو آگے بڑھنا ہے تو آپ کو اپنی مصنوعات اور سہولیات پر توجہ دینے اور انہیں بہتر سے بہتر بنانے کی ہر ممکنہ کوشش کرنی چاہیے۔

ہمارے ٹیکنالوجی کے انفراسٹرکچر میں کئی اقسام کی گاڑیوں کی گنجائش ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم اپنی تمام مارکیٹس میں صارفین کو نقل و حمل کے مختلف طریقے پیش کرتے ہیں۔

مثال کے طور پر جب ہم نے قاہرہ میں اپنی سہولت متعارف کی تو اس وقت ہمارے پاس صرف 10 گاڑیاں تھی لیکن اب ہمارے پاس ہزاروں گاڑیاں ہیں اور ہمارے صارفین کے پاس تین سے چار منٹ کے اندر گاڑی پہنچ جاتی ہے۔ اس کے بعد ہم نے ٹریفک جام سے نمٹنے اور سفر کے اخراجات میں کمی لانے کے لیے موٹرسائیکلیں متعارف کیں، جس سے گاڑی کے مقابلے میں سفر کی قیمت میں 25 سے 35 فیصد کمی ممکن ہوئی۔ اب مصر اور پاکستان کے بڑے شہروں میں 15 سے 20 فیصد رائيڈز موٹرسائیکلوں کی ہی ہیں۔

پاکستان میں گاڑی کے مقابلے میں رکشے کا سفر 40 فیصد زیادہ سستا پڑتا ہے اور یہاں روزانہ 10 سے 15 فیصد صارفین رکشہ رائيڈز بک کرتے ہيں۔ اسی طرح کارپولنگ سے سفر کے کرایے میں 25 سے 30 فیصد کی کمی ممکن ہے اور عمان میں 10 فیصد صارفین اسی سہولت کا انتخاب کرتے ہيں۔

مصر کی 40 فیصد آبادی کو پبلک ٹرانسپورٹ کی سہولت میسر نہيں ہے اور ہم نے اسی وجہ سے قاہرہ میں بس کی سہولت بھی متعارف کی ہے۔ عالمی بینک کے مطابق ٹریفک جام کی وجہ سے قاہرہ کو آٹھ ارب ڈالر کا نقصان ہوتا ہے اور ہماری بس کی سہولت کے ذریعے اس مسئلے کا حل ممکن ہے۔

مختلف برانڈ امیج اور شناخت رکھنے کے باوجود کریم کا شمار مشرق وسطیٰ میں اوبر کے سب سے بڑے حریفوں میں ہوتا تھا۔ اوبر کے ساتھ شراکت داری کے پیچھے کیا وجہ تھی؟

اوبر کے ساتھ شراکت داری ہمارے مقصد کے حصول میں معاون ثابت ہوتی ہے۔ ہم پہلے سے زیادہ وسیع پیمانے پر کام کرسکتے ہيں اور ہمیں زیادہ وسائل تک رسائی حاصل ہے، جس سے نہ صرف زیادہ لوگوں کو نقل و حمل کی سہولیات فراہم کی جاسکتی ہیں بلکہ ان کی زندگیوں کو بھی زیادہ بہتر بنایا جاسکتا ہے۔

ہمیں اس خطے میں ڈیجیٹل سہولیات کے انقلاب کی بنیاد رکھنے کا بہت نایاب موقع ملا ہے اور ہم اس میں اپنا کردار ادا کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ اوبر کا بھی یہی نقطہ نظر ہے اور ان کی اس خطے کی مارکیٹوں میں گہری سرمایہ کاری کرنے والی پہلی عالمی ٹیک کمپنیوں کی فہرست میں شمولیت اس خطے میں ان کی عہدبستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

اس معاہدے سے اس خطے کو دوسرے طریقوں سے بھی بہت فائدہ پہنچے گا۔ کریم کی فروخت اس خطے کا اب تک کا سب سے بڑا معاہدہ تھا جس کے باعث یہاں کا ابھرتا ہوا ٹیکنالوجی انفراسٹرکچر علاقائی اور بیرون ملک سرمایہ کاروں کی نظر میں آچکا ہے۔ اس سے مقامی انٹرپرنیوئرز کے لیے معاونت اور فنڈنگ کے مواقع میں تیزی سے اضافہ ہوگا۔

پاکستان میں صارفین کے تحفظ کے لیے کریم نے کس قسم کے اقدامات کیے ہيں؟

ہمارے صارفین اور کپتانوں کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے۔ پاکستان میں ہم نے ہر رائيڈ کو ہر ممکنہ حد تک محفوظ بنانے کے لیے متعدد بیک گراؤنڈ چیکس، اندرون ایپ خصوصیات اور کسٹمر سپورٹ کی سہولیات متعارف کی ہیں۔

جیسے ہی ہمارے پلیٹ فارم پر کوئی بھی شخص بطور کپتان رجسٹر ہوتا ہے، بیک گراؤنڈ چیکس کا عمل شروع کردیا جاتا ہے۔ ہم اپنے صارفین کو کال ماسکنگ کی بھی سہولت پیش کرتے ہیں تاکہ وہ اپنا موبائل نمبر ظاہر کیے بغیر کپتان سے رابطہ کرسکیں۔ اس کے علاوہ، ہمارے صارفین اپنے دوستوں یا گھر والوں کے ساتھ اپنی لوکیشن بھی شیئر کرسکتے ہيں۔

کسی بھی حادثے یا دوسری ایمرجنسی کی صورت میں ہمارے صارفین اور کپتان دوران سفر کسی بھی وقت تحفظ کے سپیشلسٹس سے رابطہ کرسکتے ہیں اور انہیں اپنی رائيڈ کے دوران ہمہ وقت ایک بیمہ پالیسی کے تحت کوریج حاصل ہوگی۔

آپ انٹراپرینیورز کو سرمایہ کاروں سے فنڈنگ حاصل کرنے یا اپنی کمپنی کی ضروریات کے لحاظ سے فنانسنگ کے حصول کے متعلق کیا مشورہ دیں گے؟

اپنے تجربے کے مطابق میں انٹراپرینیورز کو سب سے پہلے تو یہی مشورہ دوں گا کہ وہ اپنے موجودہ وسائل کا بھرپور استعمال کریں اور اپنی توجہ اپنے کام پر مرکوز کريں تاکہ مصنوعات اور سہولیات کو زيادہ جلدی متعارف کرنا اور اپنی غلطیوں سے سبق سیکھ کر آگے بڑھنا ممکن ہوسکے۔ جب سرمایہ کاروں کی تلاش میں نکلنے کا وقت آئے تو ایسے سرمایہ کار تلاش کريں جنہيں آپ کے کاروبار میں اتنی ہی دلچسپی ہو جتنی آپ کو ہے۔

یاد رکھیں کہ فنڈنگ کے حصول کے لیے دوسروں کے ساتھ تعلقات قائم کرنا بہت ضروری ہے۔ فنڈنگ کی ضرورت پڑنے سے پہلے ہی سرمایہ کاروں کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنا شروع کریں، جس سے آپ کا کاروبار بھی بہتر ہو اور انہیں آپ کا کام دیکھنے کا موقع بھی مل سکے۔

جب آپ نے کریم کی بنیاد رکھی تھی تو کیا آپ کو معلوم تھا کہ یہ کمپنی اس قدر کامیاب ثابت ہوگی؟ کیا آپ آگے چل کر مزيد چیلنجز کا سامنا کرنے کی توقع رکھتے ہیں؟

نوے  فیصد سٹارٹ اپ کمپنیاں ناکام ثابت ہوتی ہیں، اور ہم اس بات سے اچھی طرح واقف تھے کہ اس کی کامیابی کی کوئی ضمانت نہيں تھی۔ ہم نے پچھلے سات سالوں میں بہت کامیابی حاصل کی ہے لیکن ابھی کئی چیلنجز کا سامنا کرنا باقی ہے۔

ہمارا اگلا ہدف اس خطے کی روزمرہ کی سپر ایپ (Super App) بننا ہے ۔ اس طرح ہم ایک ہی آسان استعمال ایپ میں کئی مختلف روزمرہ کی سہولیات فراہم کرکے اپنے صارفین کی زندگیوں میں مزید آسانیاں پیدا کرسکتے ہيں۔

تحریر: ماہ رخ سرور

مترجم: صوفیہ ضمیر

Read in English

Authors

*

Top