Global Editions

سافٹ ویئر جو طاقتور مصنوعی ذہانت کے پروگرامز کو چلانا مزید آسان کردیتا ہے

نام: سونگ ہان (Song Han)
عمر: 30 سال
ادارہ : ایم آئی ٹی
جائے پیدائش: چین

مصنوعی ذہانت کا پروگرام ایلفا گو (AlphaGo)، جس نے گو (Go) کے بہترین انسانی کھلاڑی کو2016   میں ہرایا تھا، کو کام کرنے کے لیے لگ بھگ   2000سینٹرل پروسیسنگ یونٹس (Central Processing Units) اور 300  گرافکس پروسیسنگ یونٹس (Graphics Processing Units) درکار تھے۔ اس کے نتیجے میں اس کے بجلی کے بل 3000  ڈالر فی گیم آئے۔ سونگ ہان نے ایسے سافٹ ویئر اور ہارڈ ویئر تیار کیے ہیں جن کے ذریعے طاقتور مصنوعی ذہانت کے پروگرامز، جیسے ایلفا گو، کو کم طاقت رکھنے والے موبائل آلات میں تعینات کیا جاسکے۔

ہان کی ایجاد کردہ ”ڈیپ کمپریشن“ (deep compression) کی تکنیک اس بات کو ممکن بناتی ہے کہ ریئل ٹائم میں اسمارٹ فون پر ایسے اے آئی (AI) کے ایلگارتھمز چلائے جائیں جو چیزوں کو پہچانیں، منظر کشی کریں، اور انسانی زبان کو سمجھ سکیں۔ مختلف کمپنیاں جیسے فیس بک، ہان کے سافٹ وئیر ڈیزائن کو چیزوں کی ضروریات کو پہچاننے والے اے آئی ایلگارتھم کے لیے درکار کیلکولیشن کو کم کرنے کیلیے استعمال کرتی ہیں۔ اس کے ذریعے لوگ اپنے اسمارٹ فون کیمرہ سے اصل دنیا میں چیزوں کو پہچان کر پھر بصری اثرات بھی شامل کر سکتے ہیں۔

اپنی اختراع کی بنیاد پر2016   میں ہان نے اے آئی چپ کی کمپنی ڈی فائے ٹیک (DeePhi Tech) کی بنیاد رکھی، جس کو امریکی سیمی کنڈکٹر کمپنی ذیلینکس (Xilinx) نے پچھلے سال خرید لیا۔

ایم آئی ٹی میں نئے اسسٹنٹ پروفیسر کی حیثیت سے ہان اے آئی ایلگارتھمز کے ڈیزائین کو خودکار بنا رہے ہیں۔ ان کے مطابق مقصد یہ ہے کہ ”عام آدمی ایک بٹن دبائے اور ایک مضبوط عصبی جالکار تیار کرلے“۔ انہوں نے ان کمپیوٹر سسٹمز کا حوالہ دیا جو اے آئی کے کام میں مرکزی کردار رکھتے ہیں اور جنہيں انسانی دماغ کے مطابق تشکیل کیا گيا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ سافٹ ویئر ڈویلپرز جن کو اے آئی کی مہارت نہیں ہے اس طرح کے نیورل نیٹورکس کے ذریعے چیزوں کی درجہ بندی، تصویروں کی ریزولوشن میں بہتری، اور ویڈیوز کا مؤثر طریقے سے تجزیہ کر سکیں گے۔

تحریر: یٹینگ سن (Yiting Sun)
مترجم: ماہم مقصود

Read in English

Authors

*

Top