Global Editions

پہلے سے تیار شدہ الیکٹرانکس کو آپ کے جسم کے مطابق ڈھالنا

اب ایسے الیکٹرانکس سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں جن میں الیکٹریکل اور میکانیکی کارکردگی کے درمیان انتخاب کرنے کی ضرورت نہيں رہے گی، اور اس کا سہرا شینگ شو (Sheng Xu) کے سر جاتا ہے۔

بے لچک الیکٹرانک پرزوں اور لچک دار مواد کا انضمام کافی پیچیدہ ثابت ہوسکتا ہے۔ ان کی میکانیکی خصوصیات میں بے آہنگی کی وجہ سے دباؤ پیدا ہوتا ہے، جس کے باعث شکل بگڑنے کی صورت میں دونوں علیحدہ ہوجاتے ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ ماضی میں لچک دار الیکٹرانکس کے متعلق تحقیق نرم اور لچک دار اجزا کی تخلیق پر مرکوز تھی۔ تاہم شو کا خیال تھا کہ الیکٹرانکس کی تمام سابقہ ترقی کو رد کرنے کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔ ان کا کہنا تھا "کیوں نہ ایسی چیز استعمال کی جائے جو کئی دہائیوں سے چلتی آرہی ہے؟" اس حکمت عملی کی وجہ سے پہلے سے تیار شدہ اجزا کو لچک دار مواد کے ساتھ استعمال کرکے لچک دار الیکٹرانکس بنائے جاسکتے ہیں جو نہایت پائیدار ثابت ہوسکتے ہيں۔

شو نے نے ان پرزوں کے چھوٹے حصوں کو لچک دار مواد سے جوڑ کر انہیں ایک فلوئيڈ سے بھرے ہوئے کیپسول سے سہارا دینا کی کوشش کی۔ اس کے بعد ان پرزوں کو بل دار تاروں سے جوڑا گیا جو کھینچنے پر سیدھی ہوجاتی ہے۔ انہوں سے اس طریقے کی مدد سے 300 فیصد سے زيادہ لمبی ہونے والی لیتھیم آئن کی بیٹری اور جسم کے مطابق ڈھلنے والا صحت کا مانیٹر تیار کیے ہیں۔ اس مانیٹر کو MC10 نامی ایک سٹارٹ اپ کمپنی نے ایک ویئرایبل سنسر میں استعمال کیا ہے جس کا نام بائیو سٹیمپ (BioStamp) ہے۔

تحریر: ایڈ جینٹ (Edd Gent)

Authors
Top