Global Editions

دماغی امراض کے علاج کے لیے جین ایڈٹنگ ٹیکنالوجی کو زیادہ لچک دار بنایا جا رہا ہے

نام: پیٹرک سو (Patrick Hsu)
عمر: 27 سال
ادارہ: سالک انسٹیٹیوٹ فار بائیولوجیکل سٹڈیز (Salk Institute for Biological Studies)
جائے پیدائش: تائیوان  

جین ایڈٹنگ کی ٹیکنالوجی کرسپر (CRISPR) نے ہماری ڈی این اے (DNA) کو تبدیل کرنے کی اہلیت میں انقلاب برپا کر دیا ہے۔ پیٹرک سو اب اس ٹیکنالوجی میں ڈی این اے کے نقوش کو پروٹین میں تبدیل کرنے کے لیے ذمہ دار مالیکیول آر این اے (RNA) شامل کر کے اسے دماغی امراض سے نمٹنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

بچپن میں سو نے، جو اب سالک انسٹیٹیوٹ فار بائیولوجیکل سٹڈیز ان کیلیفورنیا میں ایک لیب کی سربراہی کر رہے ہیں، اپنے دادا میں زوال عقل کا آغاز ہوتے ہوئے دیکھا۔ ”وہ آدھی رات کو بے ہوش و حواس میرے بستر میں آ جاتے تھے اور ان کو یہ معلوم نہ ہوتا تھا کہ وہ کہاں ہیں۔ ان کی اس حالت نے مجھے یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ میں کس طرح سے ان کی مدد کر سکتا ہوں۔“

ہارورڈ (Harvard) یونیورسٹی میں ایک گریجویٹ طالب علم کی حیثیت سے انہوں نے کرسپر کے موجد فینگ زانگ (Feng Zhang) کے ساتھ مل کر اس ٹیکنالوجی کی بنیادی حصوں پر کام کیا۔  لیکن بعد میں ان کو یہ احساس ہوا کہ وارثی رموز میں مستقل اور کبھی کبھار کی جانے والی غیرارادی تبدیلیوں کی نسبت آر این اے کی جوڑ توڑ  شاید زیادہ لچک دار طریقہ ثابت ہو۔

سالک میں اپنی لیب شروع کرنے کے بعد انہوں نے ایک ایسا کمپیوٹر پروگرام بنایا جو عوامی سطح پر موجود جینوم کی معلومات کو کھنگال کر نئے پروٹین تلاش کرتا ہے۔ انہوں نے کرسپر انزائمز کے ایک بہت موثر اور مخصوص خاندان کو دریافت کیا جو آر این اے کو نشانہ بناتے ہیں۔

انہوں نے اپنی ٹیکنالوجی کی ایک نہایت پرکشش جھلک پیش کی ہے جو ایک دن دماغی امراض کا علاج کر سکتی ہے۔ انہوں نے دکھایا ہے کہ جب اس کو لیب میں اگائے جانے والے انسانی اعصابی خلیات پر استعمال کیا جائے تو یہ آر این اے کی پروسیسنگ کے ان نقائص کو درست کر سکتی ہے جو فرونٹو ٹمپورل ڈیمنشیا (fronto-temporal dementia)  کی وجہ بنتے ہيں، جو ایک ایسی اعصابی بیماری ہے جو الزائمرز (Alzheimer’s) کی طرح کوگنیٹیو (cognitive) کردار میں بتدریج زوال کی طرف لے جاتی ہے۔

تحریر: ایڈ گینٹ (Edd Gent)
مترجم: ماہم مقصود

Read in English

Authors

*

Top