Global Editions

اونچا بولنے سے کرونا وائرس 14 منٹ تک ہوا میں رہ سکتا ہے

تفصیلات: ایک نئی تحقیق کے مطابق اونچا بولنے والے افراد کے منہ سے نکلے ہوئے بخارات ہوا میں آٹھ سے 14 منٹ کے درمیان قائم رہتے ہیں۔ امریکی نیشنل انسٹی ٹیوٹس آف ہیلتھ کی طرف سے منعقد ہونے والی یہ تحقیق پچھلے ہفتے PNAS میں شائع ہوئی، اور اس سے covid-19 کی ترسیل کے متعلق ہماری سمجھ بوجھ میں بہت تبدیلی آسکتی ہے۔

اس سے کیا فائدہ ہوگا؟ SARS-CoV-2 جیسے وائرسز کسی متاثرہ شخص کے ہوا میں بخارات خارج کرنے سے پھیلتے ہيں۔ اسی لیے ایسے افراد کو کھانستے اور چھینکتے وقت احتیاط برتنی چاہیے تاکہ دوسرے لوگ اس وائرس سے محفوظ رہ سکیں۔ تاہم بات کرتے وقت بھی ہوا میں چھوٹے چھوٹے بخارات خارج ہوتے ہیں اور اس تحقیق کے ریسرچرز یہ دیکھنا چاہ رہے تھے کہ کتنے بخارات پیدا ہوتے ہيں اور وہ کتنے عرصے تک ہوا میں قائم رہتے ہيں۔

نتائج: ریسرچرز نے لوگوں کو کچھ فقرے دہرانے کی درخواست کی اور لیزرز کی مدد سے جاننے کی کوشش کی کہ ایک بند کمرے میں ان کے پیدا کردہ بخارات کو ختم ہونے میں کتنی دیر لگتی ہے۔ کرونا وائرس کے شکار افراد پر پہلے سے کیے جانے والے مطالعوں کی بنیاد پر ریسرچرز نے اندازہ لگایا کہ ایک منٹ تک اونچا بولنے سے کم از کم ایک ہزار وائرس زدہ بخارات پیدا ہوتے ہيں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ بخارات آٹھ سے چودہ منٹ تک ہوا میں ہی رہتے ہيں۔

اس تحقیق کی خامیاں: یہ تحقیق اس مفروضے پر کھڑی تھی کہ ہوا میں خارج کردہ تمام بخارات انفیکشن کی وجہ بنیں گے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس وقت ہم یقین سے نہيں کہہ سکتے کہ کتنے بخارات covid-19 پھیلا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، یہ مطالعہ ایک بند کمرے میں کیا گیا تھا، جس میں حقیقی دنیا میں موجود ہوا کی گردش اور درجہ حرارت میں اونچ نیج کو مدنظر نہيں رکھا گیا تھا۔

اس تحقیق سے کیا فائدہ ہوگا؟ ان خامیوں کے باوجود بھی یہ تحقیق بہت اہم ہے۔ سب سے پہلے تو یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ کرونا وائرس سے متاثرہ کوئی بھی شخص محض بات کرنے سے بھی دوسروں کو بیمار کرسکتا ہے۔ ریسرچرز اعتراف کرتے ہيں کہ کچھ مریضوں میں اس وائرس کی تعداد دوسروں سے زیادہ ہے، جس کی وجہ سے وہ ”فی منٹ ایک لاکھ سے زیادہ وائرس کے بخارات پیدا کرسکتے ہیں۔“ اس کا مطلب یہ ہوا کہ دوسروں کو بیماری سے محفوظ رکھنے کے لیے متاثرہ افراد کو گھر سے نکلتے وقت ہمہ وقت ماسک پہن کر رکھنے کی ضرورت ہوگی۔

تحریر: نیل وی پٹیل (Neel V. Patel)

Read in English

Authors

*

Top