Global Editions

پریسیشن میڈيسن میں اب تک کتنی پیش رفت ہوچکی ہے؟

ناقدین کا کہنا ہے کہ جینیاتی آگاہی پر مشتمل ادویات کی کارکردگی توقعات پر پوری نہيں اتریں۔ لیکن اگر آپ نظر دوڑائيں تو یہ ادویات ہر جگہ موجود ہيں۔

ذاتی یا مخصوص ادویات کی بڑھتی ہوئی تعداد میں وہ ادویات بھی شامل ہيں جن کے لیبل پر کسی شخص کی جینیاتی بناوٹ کی وجہ سے کسی دوا کے ردعمل کے متعلق معلومات درج ہے۔ اس سال، شیشی میں تھوکنے کے بعد اینسیسٹری (Ancestry) اور 23andMe جیسی بڑی ڈی این اے کی ٹیسٹنگ کمپنیوں کو اپنا ڈی این اے بھجوانے والے افراد کی تعداد دو کروڑ سے تجاوز کرجائے گی۔ اب تک اس فہرست میں آپ کے دوست احباب بھی شامل ہوچکے ہوں گے۔ اگر آپ کو آج سے پہلے جینیاتی ادویات کے بارے میں کچھ نہيں معلوم تھا، تو آپ کو یہ اعداد پڑھ کر حیرت ضرور ہوئی ہوگی اور آپ یقیناً سوچ میں پڑ گئے ہوں گے کہ اتنے سارے لوگوں نے اچانک اپنا ڈی این اے ٹیسٹ کروانا کیسے شروع کردیا؟

اس کا جواب یہی ہے کہ یہ سب کچھ اچانک نہيں ہوا۔ 2010ء سے اب تک، ڈی این اے کی رپورٹس حاصل کرنے والے افراد کی تعداد میں ہر سال دو گنا اضافہ اور ہر مہینے اس تعداد میں مزید دو لاکھ افراد کا اضافہ ہورہا ہے، ڈی این اے کے ذخیروں میں اس قدر زيادہ ڈیٹا موجود ہے کہ اب اسے حیرت انگیز نت نئے طریقوں سے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ صارفین کو اپنے گنجے ہونے یا کینسر کا شکار ہونے کے متعلق سائنسی پیشگوئیاں فراہم کی جارہی ہیں۔ اس سال تفتیش کاروں نے صارفین کے ڈی این اے سے جرائم پیشہ افراد کی شناخت شروع کردی ہے۔ بے خوابی اور ذہانت کی وجوہات جاننے کے لیے متعلقہ جینز کی تلاش جاری ہے۔ اس کے علاوہ، 23andMe نے اسی سال گلیکسو سمتھ کلائن نامی دوا فروش کمپنی کے ساتھ ذاتی ادویات بنانے کے لیے 30 کروڑ ڈالر کا معاہدہ کرلیا ہے، جس کی ابتدا ء پارکنسنز کی ادویات سے کی جائے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ذاتی ادویات پارکنسنز کے شکار ان افراد کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہیں جن کے جینز میں ایک مخصوص قسم کی خامی ہے، جو 23andMe کے ڈیٹابیس میں بہت آسانی سے مل جائے گی۔

جینیاتی ادویات

پچھلی دہائی میں امریکی مارکیٹ میں ’’ذاتی‘‘ ادویات کی تعداد میں بہت تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

انسانی جینیاتی کوڈ سمجھنے کی تیرہ سالہ اور تین ارب ڈالر کی لاگت کی کوشش انسانی جینوم پراجیکٹ کی ابتداء کے وقت سے ہی ریسرچرز اور ڈاکٹز ’’پریسیشن میڈیسن‘‘ کی آمد کی پیشگوئی کررہے ہیں۔ اب تک اس اصطلاح کی تعریف پر اتفاق رائے قائم نہيں ہوسکا ہے، لیکن اس سے ان ادویات کی طرف اشارہ ضرور ملتا ہے جن پر گلیکسو اور 23andMe جیسی کمپنیاں کام کررہی ہیں، یعنی زيادہ موثر اور بیماریوں کو بہتر طور پر نشانہ بنانے والی ادویات جو کسی انسان کی مخصوص جینیاتی تشکیل کو مدنظر رکھتے ہوئے بنائی گئی ہیں۔ جون 2000ء میں جینوم کے پہلے مسودے کے لانچ کے وقت صدر بل کلنٹن نے بیان دیا تھا کہ یہ ڈیٹا زیادہ تر انسانی امراض کی تشخیص، روک تھام، اور علاج میں انقلاب لے کر آئے گا۔

بہتر ادویات کی تلاش

اب دو دہائیاں گزر چکی ہیں، اور ہر کوئی سوال اٹھا رہا ہے کہ پریسیشن میڈیسن کے نتائج اب تک سامنے کیوں نہيں آئے ہیں؟ نیو یارک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں، جس میں یہ بات اجاگر کی گئی تھی کہ کینسر سے جان کی بازی ہارنے والوں کی تعداد اب بھی زندہ بچنے والوں کی تعداد سے کہیں زيادہ ہے، پریسیشن میڈیسن کو ایک بہت بڑا دھوکا قرار دے دیا گیا۔ اس سست پیش رفت کی ایک وجہ یہ ہے کہ تمام اقسام کی پریسیشن میڈیسن کا ادویات سے کوئی تعلق نہيں ہے۔ جینز کی تلاش کا دائرہ کار وسیع ہوتا جارہا ہے، اور اب لاکھوں لوگوں کے ڈی این اے اور ہیلتھ ریکارڈز کا موازنہ کیا جارہا ہے، اور اب یہ معلوم ہوا ہے کہ کئی عام امراض کی صرف ایک وجہ نہيں ہوتی۔ حقیقت یہ ہے کہ ان امراض میں سینکڑوں جینز کردار ادا کرتے ہيں، اور یہ بات اب تک واضح نہيں ہوپائی ہے کہ دوا کا استعمال کس مرحلے پر کرنا چاہیے۔

لہٰذا اب ادویات کی بجائے، پیشگوئی پر مبنی ایک نئی قسم کی سائنس ابھر رہی ہے جس میں جینیاتی خطرات کی پروفائلز کو دیکھ کر اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کن لوگوں کو اپنے فشار خون میں کمی لانے کی ضرورت ہے، کن افراد کو الزائرز کا خطرہ ہے، اور کن افراد کو کیموتھراپی سے کوئی فائدہ نہیں پہنچنے والا۔ اس قسم کی پیشگوئیوں کو وسیع پیمانے پر تسلیم نہيں کیا جاتا، اور لوگوں کو اپنی عادات تبدیل کرنے کے لیے آمادہ کرنا بہت مشکل ہے۔ تاہم یہ پیشگوئیاں کئی لوگوں کے لیے پریسیشن ہیلتھ تک کا راستہ ثابت ہوسکتی ہيں اور اپنے جسم کے متعلق معلومات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہيں۔

جینیاتی معلومات کی مقدار میں اچانک اضافہ

کینسر کے علاوہ اگر دوسرے امراض کو دیکھا جائے تو کئی علاج سامنے آچکے ہیں۔ بلکہ ان کی تعداد میں اس قدر تیزی سے اضافہ ہوا ہے کہ آپ حیران رہ جائيں گے۔ صرف دو مثالیں لے لیں۔ ایک دوا ہیپاٹائٹس سی کے شکار 90 فیصد افراد میں اس بیماری کا مکمل طور پر خاتمہ کرنے میں کامیاب ثابت ہوئی ہے، اور ایک تجرباتی جین تھیراپی سپائنل مسکیولر ایٹروفی نامی نایاب اور جان لیوہ مرض کا علاج فراہم کرہی ہے جسے ایک زمانے میں ناقابل علاج سمجھا جاتا تھا۔ ان دو مختلف ادویات کی ابتداء مختلف تھی، لیکن دونوں ہی جینیاتی معلومات کے متعلق تفصیلی سمجھ بوجھ سے فائدہ اٹھارہی ہیں۔

ہماری سوچ کے مطابق یہ ادویات صحیح معنوں میں درستی کا مظاہرہ کرتی ہيں۔ ہیپاٹائٹس سی کے علاج کے لیے تیار کردہ دوا میں، جس کا نام سووالڈی (Sovaldi) ہے، ایک ایسا کیمیائی مادہ شامل ہے جو خود کی نقل بنانے والے وائرس کے خلاف مدافعت رکھتا ہے، لیکن جب اسے وائرس کے جینوم کے پاس لایا جاتا ہے، تو یہ نقل بنانے کا عمل خودبخود رک جاتا ہے۔ دوسری طرف سپائنل مسکولر ٹرافی کا علاج جینیاتی تبدیلی کی مدد سے کیا جاتا ہے۔ جین تھراپی استعمال کرنے والے ڈاکٹرز بچے کے اعصابی سیلز میں تازہ ڈی این اے کی ہدایات داخل کرتے ہیں۔ اب تک ایک درجن کے قریب بچوں کو کم عمری میں یہ تھراپی فراہم کی گئی ہے، اور وہ آگے چل کر اس مرض کا شکار نہيں ہوتے۔

اس کی ابتداء کی کہانی انسانی جینوم پراجیکٹ سے بھی پرانی ہے۔ اپنا دماغ چالیس سال پہلے دوڑائيں جب بائیوٹیکنالوجی کی صنعت کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ 6 ستمبر 1978ء کو جینن ٹیک نامی کمپنی نے ’’لیب میں انسانی انسولین کی کامیاب تخلیق‘‘ کا اعلان کیا تھا۔ اس زمانے میں ذیابیطس کے علاج کے لیے سوروں سے انسولین حاصل کیا جاتا تھا اور صرف آٹھ اونس خالص انسولین حاصل کرنے کے لیے دو ٹن سور استعمال کرنے کی ضرورت پیش آتی تھی۔ لیکن جینن ٹیک نے انسانی انسولین پیدا کرنے والے جین کو ای کولی بیکٹیریا میں داخل کرنے کا طریقہ ڈھونڈ نکالا، جس کے بعد یہ بیکٹیریا انسولین کی تخلیق شروع کردیتا تھا۔ آج بھی جینن ٹیک اس چالیس سال پرانی پریس ریلیز کو بڑے فخر سے انٹرنیٹ پر پیشں کرتے ہیں۔

بیسویں صدی کی دوا ساز کمپنیوں کے نزدیک، جو ماضی میں تجارتی رنگ اور مصنوعی کیمیا پر کام کیا کرتی تھیں، ان نئی بائیوٹیک کی ادویات کی کوئی اہمیت نہيں تھی۔ انہیں بنانا بہت مشکل تھا، اور مریضوں کو دینا اس سے بھی زيادہ کٹھن۔ اس وقت کی دوا بنانے والی کمپنیاں دوسری کمپنیوں کو حقارت سے دیکھا کرتی تھیں، اور ان کے پاس اس کا جواز بھی موجود تھا۔ 1990ء کی دہائی تک مرک نامی ایک کمپنی کی مالیت اس وقت کی تمام بائیوٹیک کمپنیوں کی مجموعی مالیت سے کہیں زيادہ تھی۔ یوں لگتا تھا جیسے بائیوٹیک کبھی کامیاب ثابت نہيں ہوگا، لیکن ایک دن ایسا ہی کچھ ہوا۔ 2017ء میں امریکہ میں دس سب سے زيادہ فروخت والی ادویات میں سے سات (جن میں سب سے زيادہ فروخت ہونے والی دوا، یعنی آرتھرائٹس کا علاج کرنے والی دوا حمیرا شامل ہے) اینٹی باڈیز استعمال کرنے والی بائیوٹیک کی ادویات ہیں۔ اینٹی باڈیز میں بھی حیاتیاتی پریسیشن کا استعمال کیا جاتا ہے۔ خون میں پائے جانے والے چھوٹے پروٹینز ایک چابی کی طرح دوسرے مالیکیولز سے جڑ جاہتے ہیں، اور انسولین کی طرح انہيں عام طور پر ہمارے جسم سے حاصل کردہ ڈی این اے کوڈ استعمال کرتے ہوئے ہی تخلیق کیا جاتا ہے۔

ڈی این اے استعمال کرنے والی ادویات

انسولین اور اینٹی باڈیز کو ہر کسی پر یکساں طریقے سے کام کرنا چاہیے، لیکن حقیقت بالکل مختلف ہے۔ ہرکسی کے جینومز ایک دوسرے سے مختلف ہیں اور ہر دو افراد کے ڈی این اے کے حروف کے درمیان تقریباً ایک فیصد کا فرق ہے۔ اسی فرق کی وجہ سے کچھ لوگ بیمار ہوجاتے ہیں اور کچھ لوگ بچ جاتے ہيں۔ جینیاتی معلومات کے درمیان اس فرق کا فائدہ اٹھانے والی ادویات کو ’’مخصوص‘‘ ادویات کہا جاتا ہے۔

1998ء میں مارکیٹ میں کینسر کا علاج کرنے کے لیے متعارف ہونے والی اینٹی باڈی کا، جسے ہرسیپٹن (Herceptin) کا نام دیا گیا تھا، شمار ان ادویات میں ہوتا تھا۔ یہ موثر تو ثابت ہوئی ، لیکن صرف انہی افراد میں جن میں ایک مخصوص قسم کی جینیاتی خامی کی وجہ سے حال ہی میں تشخیص کردہ چھاتی کا کینسر بڑھ رہا تھا، یعنی صرف 20 فیصد مریضوں میں۔ اس شرح کا تعلق ٹیومر کے جینوم سے تھا۔ جب ہیرسیپٹن مارکیٹ میں لانچ کی گئی، تو وہ صارفین کو یہ بھی تنبیہہ کرتے تھے کہ انہیں یہ دوا صرف اسی وقت فراہم کی جائے گی اگر وہ پہلے ایک ٹیسٹ کروا کر دیکھیں کہ انہیں اس سے فائدہ بھی ہوگا یا نہيں۔ امریکی نیشنل کینسر انسٹی ٹیوٹ کے مطابق، اب مارکیٹ میں کینسر کے علاج کے لیے 80 سے زيادہ مخصوص ادویات موجود ہیں۔

ناقدین کے مطابق ان ادویات کی قیمتوں کے لحاظ سے (جو اکثر 10,000 ڈالر ماہانہ کے قریب ہوتی ہے) ابھی بھی بہت کم لوگوں کو فائدہ پہنچایا جارہا ہے۔ ان کا کہنا غلط نہيں ہے۔بلکہ مجموعی طور پر کینسر سے زندہ بچنے والوں کے علاج میں مخصوص ادویات کا کردار زیادہ اہم نہيں ہے۔ بڈن کینسر انیشی ٹیو (Biden Cancer Initiative) کی سربراہی کرنے والے گریگ سائمن (Greg Simon) کے مطابق ’’کینسر کے علاج کی کامیابی کا تعلق جینیاتی خامیوں کے مطابق تیار کردہ ادویات سے نہيں بلکہ اس بات سے ہے کہ کس کی جیب کتنی بھاری ہے۔ ‘‘کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ ہم جینیاتی ٹولز سے کچھ زيادہ ہی متاثر ہیں۔ پلٹزر پرائز جیتنے والے کینسر کے ماہر ڈاکٹر سدھارتھ مکھرجی لکھتے ہیں ’’شاید ہماری آنکھیں جین سیکوینسنگ کے جادو سے چندھیا گئی ہيں۔‘‘

اہم سوالات کے لیے وافر مقدار میں ڈیٹا کی ضرورت ہے

ان کا کہنا کچھ حد تک درست ہے۔ لاگت کے قطع نظر پریسیشن میڈیسن کی طرف کھنچے چلے جانے کا تعلق نئی ٹیکنالوجی میں دلچسپی سے ہے۔ آگے چل کر اور بھی پرسنلائزیشن دیکھنے کو ملے گی۔ ہرسیپٹن بنانے والی کمپنی جینن ٹیک ’’کینسر کے خلاف ٹیکوں‘‘ کا خواب دیکھ رہی جنہيں نہ صرف لوگوں کی ذیلی اقسام بلکہ ان کے ٹیومر کی منفرد شکل کے مطابق تشکیل کیا گيا ہے۔ اس نئے طریقے میں تیز رفتار جینوم سیکوینسنگ کے ذریعے کسی شخص کے کینسر کی خصوصیات کے متعلق معلومات حاصل کرنا، سافٹ ویئر کے ذریعے ذاتی حیاتیاتی دوا کی تشکیل کی پیشگوئی کے لیے سافٹ ویئر کا استعمال، اور پھر اس کی فوری تخلیق شامل ہیں۔ ان میں سے ہر ایک ٹیکہ مختلف ہوگا۔ یہ بات جاننا بھی ضروری ہے کہ اگر کبھی بھی ان ٹیکوں کو امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمینیسٹریشن کی جانب سے منظوری حاصل ہوجائے تو دوا کو نہيں بلکہ ڈی این اے کی معلومات کو ادویات کی شکل میں تبدیل کرنے والے کمپیوٹرائزڈ طریقے کو منظوری دی جائے گی۔

تو کیا اس کا مطلب ہے کہ طبی شعبے کو بھی ایک کمپیوٹر کی طرف پروگرام کرنا ممکن ہوگا؟ سیلیکون ویلی میں اس سلسلے میں کافی دلچسپی پیدا ہوچکی ہے۔ مارک آنڈریسن (Marc Andreessen) جو پوری دنیا میں ویب براؤزر ایجاد کرنے کی وجہ سے مشہور ہیں، بھی انہی پروگرامرز میں شامل ہیں۔ وہ آنڈریسن ہورووٹز (Andreessen Horowitz) نامی وینچر فنڈ کے شریک بانی ہیں، جسے a16z بھی کہا جاتا ہے، اور اس کمپنی نے 2015ء سے اب تک بائیوٹیک پراجیکٹس کے لیے 65 کروڑ ڈالر کی رقم وقف کر رکھی ہے۔ اس کمپنی کے بلاگ میں لکھا گيا ہے ’’بائیولوجی کا کوڈ پڑھا نہيں جاتا، اس کے ساتھ لکھا اور ڈیزائن کیا جاتا ہے۔‘‘

A16z، آپ کو بائیوٹیک کی دنیا میں خوش آمدید۔ لیکن وہ بالکل صحیح راہ پر نکل پڑے ہیں۔ جینن ٹیک کی انسولین کے متعلق پریس ریلیز کے 40 سال بعد بھی جینیاتی انجنیئرنگ کی دنیا ابھی بھی اتنی ہی حسین ہے جتنی اس وقت تھی۔ انسانی جینز اور ان کے پروٹینز دیکھنے، سمجھنے اور حرکت دینے کی صلاحیت کی پیچیدگی چار دہائیوں بعد بھی کھل کر سامنے نہيں آئی ہے۔ بائیولوجی کسی کمپیوٹر پروگرام کی طرح صاف ستھری تو نہيں ہے لیکن ہم آہستہ آہستہ اسے کنٹرول کرنا سیکھ رہے ہیں۔ ہم نے پہلے اینزائمز اور اینٹی باڈیز دریافت کیے تھے اور اب ہم جین تھراپی اور جین کی ترمیم کی طرف نکل پڑے ہیں۔ ہم نے ایک نہيں بلکہ لاکھوں جینومز کی سیکوینسنگ کی ہے۔ ہم نے واقعی بہت ترقی کرلی ہے۔

تحریر: انٹونیو ریگالیڈو

مترجم: صوفیہ ضمیر

Read in English

Authors

*

Top